تنبیہ نمبر154

اَلصَّلَاةُ خَیرٌ مِّنَ النَّوْم کا جواب

سوال: کچھ عرب ساتھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے کہ اذان کا جواب وہی دو جو مؤذن کہے، لیکن وہیں پر ہمیں اذان کے دوران “حي على الصلاة” اور “حي علي الفلاح” کے جواب میں “لا حول ولا قوة الا باللہ” کا پڑھنا اور اقامت کے دوران جب مؤذن “قد قامت الصلاۃ” تک پہنچے تو اس وقت “اقامها اللہ وأدامها” کا پڑھنا اور فجر کی اذان میں “الصلاۃ خیر من النوم” کے جواب میں “صدقت وبررت وبالحق نطقت” کا پڑھنا کتابوں میں لکھا ہوا ملتا ہے…
کیا یہ تمام کلمات صحیح ہیں اور ان کا اذان کے جواب میں پڑھنا درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

اذان کا جواب دینا ایک سنت عمل ہے اور صحیح روایات میں یہی مضمون ہے کہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے.

“إِذَا سَمِعتُمُ المُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثلَ مَا يَقُولُ”. (رواه البخاري:611، ومسلم:318)
اذان کے کلمات کے علاوہ کچھ کلمات کہنا:

سوال: کیا اذان کے کلمات کے علاوہ کچھ اور بھی کہا جاسکتا ہے؟

جواب: اس بارے جمہور علمائے کرام کی یہی رائے ہے کہ کبھی کبار کچھ اور کلمات بھی اذان کے جواب میں کہے جاسکتے ہیں، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو اذان کے کلمات کے علاوہ کلمات ادا کئے.

واستدل الجمهور بِحَدِيثٍ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَغَيْرُهُ أَنَّهُ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ مُؤَذِّنًا؛ فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ؛ فَلَمَّا تَشَهَّدَ قَالَ: خَرَجَ مِنَ النَّارِ.
● “لا حول ولا قوة الا باللہ” کا پڑھنا:

صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام نے “حي على الصلاة” اور “حي علي الفلاح” کے جواب میں “لا حول ولا قوة الا باللہ” پڑھا.

لظاهر حديث عمر رضي الله عنه قال‏:‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم‏:‏ ‏”‏إذا قال المؤذن‏:‏ الله أكبر الله أكبر، فقال أحدكم‏:‏ الله أكبر الله أكبر‏.‏ ثم قال‏:‏ أشهد أن لا إله إلا الله، قال‏:‏ أشهد أن لا إله إلا الله‏.‏ ثم قال‏:‏ أشهد أن محمداً رسول الله، قال‏:‏ أشهد أن محمداً رسول الله‏.‏ ثم قال‏:‏ حي على الصلاة، قال‏:‏ لاحول ولا قوة إلا بالله‏.‏ ثم قال‏:‏ حي على الفلاح، قال‏:‏ لاحول ولا قوة إلا بالله‏.‏ ثم قال‏:‏ الله أكبر الله أكبر، قال‏:‏ الله أكبر الله أكبر‏.‏ ثم قال‏:‏ لا إله إلا الله، قال‏:‏ لا إله إلا الله، من قلبه دخل الجنة‏”‏. (مسلم، رقم:385، وأبوداود:523، ج:2، ص:228‏)
● “اقامها اللہ وادامها” کا پڑھنا:

اقامت کے دوران جب مؤذن “قد قامت الصلاۃ” تک پہنچے تو اس وقت “اقامها اللہ وأدامها” کا پڑھنا روایات سے ثابت ہے جیسا کہ سنن ابی داود میں روایت ہے:

وأما الحديث الذي رواه أبوداود (528) ‏عَنْ ‏أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه ‏أَوْ ‏عَنْ ‏‏بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‏‏صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ‏أَنَّ ‏بِلَالًا ‏أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ: قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ، قَالَ النَّبِيُّ ‏‏صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “أَقَامَهَا اللہ وَأَدَامَهَا”.
● “الصلاة خير من النوم” کا اذان میں اضافہ:

جب اذان کی ابتداء ہوئی تو بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے، ایک دن بلال رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کو جگانے آئے تو پتہ چلا کہ آپ علیہ السلام آرام فرما رہے ہیں تو بلال رضی اللہ عنہ نے اونچی آواز سے پکارا الصلاۃ خیر من النوم تو آپ علیہ السلام نے اس کلمے کو اذان کا حصہ بنانے کا حکم دیا اور اسی پر امت کا تعامل رہا ہے۔

فأما حديث بلال فرواه الإمام أحمد من حديث سعيد بن المسيب عن عبدالله بن زيد بن عبد ربه وفيه أن بلالاً دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة إلى الفجر فقيل: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نائم، قال: فصرخ بلال بأعلى صوته: “الصلاة خير من النوم”، قال سعيد بن المسيب: فأدخلت هذه الكلمة في التأذين إلى صلاة افجر.
● “الصلاۃ خیر من النوم” کا جواب:

فجر کی اذان میں جب موذن “الصلاة خير من النوم” کہے تو جواب میں “صدقت وبررت وبالحق نطقت” کا کہنا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں، البتہ فقہائےکرام نے اس کو بہتر جانا ہے کہ مؤذن کو یہ جواب دیا جائے.

محدثین کرام کی رائے:
قول: صدقت وبررت عقب قول المؤذن: الصلاة خير من النوم

١. ملا علی قاری کہتے ہیں کہ اذان کے جواب میں صدق رسول اللہ اور صدقت وبررت وبالحق نطقت کی کوئی اصل نہیں.

قال القاري: (صدق رسول الله) ليس له أصل، وكذا قولهم عند قول المؤذن: (الصلاة خير من النوم): صدقت وبررت وبالحق نطقت.

٢. علامہ دمیری کہتے ہیں کہ جو روایت اس قول کے ثبوت میں وارد ہے اس کی کوئی اصل نہیں.

قال الدميري: وادعى ابن الرفعة أن خبرا ورد فيه لا يعرف قائله.

٣. ابن ملقن کہتے ہیں کہ یہ روایت (جس میں “صدقت وبررت وبالحق نطقت” کا تذکرہ ہے) ہمیں کسی بھی حدیث کی کتاب میں نہیں ملی.

وقال ابن الملقن في تخريج أحاديث الرافعي: لم أقف عليه في كتب الحديث.

٤. صنعانی کہتے ہیں کہ “صدقت وبررت وبالحق نطقت” کہنے والے کی اپنے طرف سے نیکی ہے، ورنہ سنت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں.

وقال الصنعاني في سبل السلام (1/127): وقيل يقول في جواب التثويب: صدقت وبررت! وهذا استحسان من قائله، وإلا فليس فيه سنة تُعتمد.

٥. علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ اس عمل کی کوئی اصل نہیں.

. حسن اور قتادہ کہتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام کی اولاد زندہ کردی گئی اور اتنی اولاد اور دی گئی.

ابن حجر في التلخيص الحبير (1/222 أو 211) يقول: لا أصل لما ذكروه في الصلاة خير من النوم.
فقہائےکرام کی رائے:

١. احناف، شوافع اور حنابلہ کے نزدیک “الصلاۃ خیر من النوم” کے جواب میں “صدقت وبررت وبالحق نطقت” کہنا زیادہ بہتر ہے.

فإن مذهب الحنابلة والشافعية والأحناف أن المجيب يقول عند قول المؤذن (الصلاة خير من النوم): صدقت وبررت.

٢. علامہ نَوَوِی نے بھی اسی کو مشہور مذہب قرار دیا ہے.

ذكر ذلك النووي في المجموع، فقال رحمه الله: ويقول إذا سمع المؤذن الصلاة خير من النوم: صدقت وبررت، هذا هو المشهور، وحكى الرافعي وجها أن يقول: صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم، الصلاة خير من النوم.

٣. علامہ کاسانی کہتے ہیں کہ “الصلاۃ خیر من النوم” کے جواب میں “صدقت وبررت وبالحق نطقت” کہنا زیادہ بہتر ہے.

وقال الكاساني الحنفي في بدائع الصنائع: وكذا إذا قال المؤذن الصلاة خير من النوم: لا يعيد السامع لما قلنا، ولكنه يقول: صدقت وبررت أو ما يؤجر عليه.

٤. علامہ مرداوی حنبلی کہتے ہیں کہ “صدقت وبررت وبالحق نطقت” ہی بہتر جواب ہے، جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دونوں جواب دے یعنی کہ مؤذن کا کہا ہوا جملہ بھی دہرائے اور “صدقت…..” بھی کہے.

وقال المرداوي الحنبلي في الإنصاف: الخامس: أن يقول عند التثويب: صدقت وبررت فقط، على الصحيح من المذهب، وقيل يجمع بينهما.
خلاصہ کلام

فجر کی اذان میں “الصلاة خير من النوم” کے جواب میں “صَدَقْتَ وَبَرَرتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْتَ” کا کہنا کسی روایت یا سنت سے ثابت نہیں ہے، البتہ فقہائےکرام نے اس کے پڑھنے کو پسند کیا ہے جس کی بظاہر یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ “الصلاۃ خیر من النوم” کا کلمہ جو کہ (پہلے اذان میں نہیں تھا اور) بعد میں آپ علیہ السلام کی تائید سے اذان میں شامل کیا گیا تھا، لہذا سننے والا یوں کہے کہ “صَدَقَ رَسُولُ اللہِ” اور پھر مؤذن سے کہے “صَدَقْتَ وَبَرَرتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْتَ” (واللہ اعلم) لیکن اگر وہی الفاظ دہرائے جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢ دسمبر ٢٠١٨ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں