تنبیہ نمبر 270

حضرت علی کا قرآن سے فیصلہ

سوال
مندرجہ ذیل واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے:
یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس وقت پیش آیا، جب آپ کے دورِ خلافت میں دو عورتوں کی ایک ہی رات میں ایک ہی جگہ پر زچگی ہوئی۔ ایک کا لڑکا پیدا ہوا اور دوسری کی لڑکی تھی، لڑکی کی والدہ نے اپنی لڑکی کو لڑکے والے جھولے میں ڈال کر لڑکے کو لے لیا۔ لڑکے کی والدہ نے کہا کہ لڑکا میرا ہے، پس اس بات پر جھگڑا شروع ہوگیا، اب یہ مقدمہ حضرت عمر کے دربار میں لایا گیا، حضرت عمر کے سامنے جب دونوں عورتیں پیش ہوئیں تو ایک کہنے لگی کہ یہ بیٹا میرا ہے، بیٹی میری نہیں ہے، دوسری کہنے لگی کہ یہ بیٹا میرا ہے، بیٹی کی ماں یہ ہے۔۔۔۔
اب منبر نشین خلیفہ دوئم کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس پر کیا فیصلہ کیا جائے۔ تب منبر پر بیٹھے خلیفہ نے وارث ممبر کی طرف پیغام بهیجا کہ یا علی! دربار میں مسئلہ درپیش ہے، برائے مہربانی آپ آکر سائل کی مدد کریں۔۔۔۔۔
مولا علی(ع) بادشاہ شہنشاہ ہر دور کے مشکل کشا بن کر دربار میں تشریف لے کر آئے.. جیسے ہی میرے مولا(ع) تشریف لائے تو دربار میں کچھ لوگوں نے ایک دوسرے کو بغضِ علی(ع) میں کہنا شروع کر دیا کہ کہ آج پتہ چلےگا علی کا… مولا علی نے ان دونوں عورتوں کی طرف دیکھا ہی تھا کہ دونوں نے شور مچا دیا کہ بیٹا میرا ہے، بیٹا میرا ہے، بیٹا میرا ہے۔۔۔۔مولا(ع) نے حکم دیا کہ ان دونوں عورتوں کو پردے میں لے کر جاو اور دو ہم وزن برتنوں میں ان دونوں کا دودھ لے کر ان کا وزن کرو، جس کا دودھ وزنی ہوگا لڑکا اس کا ہوگا۔
مولائے کائنات علی(ع) کے حکم کے مطابق اسی طرح کیا گیا، اور جس کے دودھ کا وزن زیادہ تھا اس کو بیٹا دے دیا گیا اور جس کا کم وزن دودھ تھا اس کو بیٹی دے دی گئی اور ایک عورت جو سچی تھی وہ مطمئن اور دوسری جو جھوٹی تھی وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو کر دربار سے واپس چلی گئیں۔ سارے کا سارا دربار حیران ہو گیا اور اسی حیرانی کے عالم میں حضرت عمر نے مولا علی(ع) سے سوال کیا کہ اے علی! یہ آپ نے کیسے کیا؟ مولا علی(ع) نے مسکرا کر فرمایا کہ اے عمر! تم نے قرآن کی وہ آیات نہیں پڑھیں کہ مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہوتا ہے…
کیا یہ واقعہ درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعہ کسی بھی مستند کتاب میں کسی بھی معتبر سند سے منقول نہیں، البتہ شیعوں کے قصوں کی کتابوں میں یہ واقعہ بغیر کسی سند کے نقل کیا جاتا ہے.

□ حضر إلى أمير المؤمنين وهم متخاصمون في قضية امرأتان لرجل واحد كل امرأة لقبيلة ولدتا في نفس اليوم وفي نفس الساعة فأنجبتا إحداهم ولد والأخرى فتاة وتخاصموا كل من النساء تدعي أن الولد ولدها وأنها لم تلد فتاة وكان أمير المؤمنين (ع) يزرع فسيل عندما أخبروه القضية قبض قبضة بيده الشريفة من تراب الأرض وقال لهم: إن هذه القضية أسهل من حمل هذا، وأمرهم بأن يجلبوا له ميزان صيرفي ووعائين صغيرين ومتساويين فجلبوا ما طلب ووزن الوعائين وتأكد من تساوي الوزن وأمر النساء المتخاصمات أن تحلب كل واحدة من حليبها في أحد الإنائين بحيث تكون كمية الحليب متساوية في الحجم لكل الإنائين ووزنهما فوجد أن أحد الإنائين أثقل من الثاني. فقال لصاحبة الإناء الثقيل: أنت أم الولد، والثانية أم البنت، فاستغرب القوم إلى هذا الحكم.
فقال أمير المؤمنين عليه السلام: إن الله سبحانه وتعالى عادل في كل شي وقد قال في كتابه الكريم: {للذكر مثل حظ الانثيين} وهذا القول ينطبق في كل شيء ولهذا يكون حليب الأم التي تلد الولد أكثر كثافة من حليب الأم التي تلد فتاة، ولهذا رغم تساوي كمية الحليب في الإنائين إلى أن الكثافة تختلف في كل حليب مما يجعل حليب الأم التي تلد ولد أثقل من الفتاة فاعترفت صاحبة الفتاة بفتاتها وذهبت.
قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: يا علي! ما عرف اللهَ إلا أنا وأنت، وما عرفني إلا الله وأنت، وما عرفك إلا الله وأنا.
○ علمی خیانت:

جن کتب میں یہ واقعہ موجود ہے وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں، لیکن کسی متعصب رافضی نے حضرت عمر کا درجہ کم کرنے کیلئے اور حضرت علی کی شان میں مبالغے کیلئے اپنی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے.

خلاصہ کلام

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علم اور مقام تمام امت مسلمہ کے ہاں مُسَلَّم (مانا ہوا) ہے، لہذا اس مقام کو ثابت کرنے کیلئے اس قسم کے من گھڑت واقعات بنانے اور انکو پھیلانے کی ہرگز ضرورت نہیں.

سوال میں مذکور واقعہ بلکل من گھڑت ہے، لہذا اس کو بیان کرنے اور پھیلانے سے اجتناب کرنا چاہیئے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٢ فروری ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں