تنبیہ نمبر57

حضور علیہ السلام کا جبہ اور رومال

سوال:
جبے کی روایت:
ایک روایت  بیان کی جاتی ہے کہ کسی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کو ایک جبہ ہدیہ کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھا ہوا تھا. ایک بار ایک بھکاری نے دروازہ کھٹکھٹایا اور صدقے کا سوال کیا. آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ عائشہ اس سائل کو یہ جبہ دے دو. سائل کو جب حضور علیہ علیہ السلام کا جبہ ملا تو وہ بہت خوش ہوا اور وہ بازار گیا اور آواز لگائی کہ کون حضور علیہ السلام کا جبہ خریدنے کو تیار ہے؟ لوگوں کی بھیڑ لگ گئی، ہر شخص اس جبے کو خریدنا چاہتا تھا. ایک نابینا شخص نے یہ آواز سنی اور اپنے غلام سے کہا کہ جاؤ یہ جبہ میرے لئے خرید کر لاؤ چاہے کتنی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، اگر تم نے ایسا کیا تو تم آزاد ہو، غلام بازار گیا اور جبہ خرید کر لایا. اس نابینا شخص نے جبہ لیا اور دعا کی کہ اے اللہ! اس پاک اور مبارک جبے کے بدلے میری آنکھیں لوٹادے، اتنا کہنا تھا کہ اس شخص کی بینائی لوٹ آئی، وہ شخص خوشی کے مارے دوڑتا ہوا حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ سنایا اور وہ جبہ آپ علیہ السلام کو ہدیہ کردیا.
آپ علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا کہ عائشہ اس جبے کو دیکھو اس نے فقیر کو مالدار، اندھے کو بینا،  غلام کو آزاد کروایا  اور لوٹ کر ہمارے پاس ہی آگیا ہے.

الجواب باسمه تعالی

روي أنه أهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم عباءة، احتفظت بها السيدة عائشة رضي الله عنها. دق الباب سائل يسأل رسول الله صدقة فقال: ياعائشة! أعطي السائل العباءة. أخذها السائل فرحا، وذهب إلى السوق وهو ينادي: من يشتري عباءة رسول الله … تجمع الناس حوله كل يريد شراءها. سمع النداء رجل أعمى، فقال لغلامه: اذهب وأحضر العباءة مهما غلا ثمنها، فإن فعلت فأنت حر لوجه الله. أحضر الغلام العباءة، فأمسكها الأعمى وقال: يا رب! بحق الله عليك وبركة عباءته الطاهرة بين يدي أعد إلي بصري. فما لبث أن عاد بصره. خرج إلى رسول الله فرحاً وهو يقول: يارسول الله! عاد بصري، وإليك العباءة هدية مني، وقص عليه ما حدث. فضحك رسول الله حتى بانت نواجذه ثم قال: انظري ياعائشة إلى تلك العباءة، فقد أغنت فقيراً، وشفت مريضاً، وأعتقت عبداً، ثم عادت إلينا.
روایت کی تحقیق:

احادیث کی کسی مستند کتاب میں اس روایت کا وجود نہیں ہے، البتہ شیعوں کی کتابوں میں یہ روایت ملتی ہے.

حديث موضوع مختلق لا أصل له بكتب أهل السنة ولا وجود. وهو من وضع الرافضة (قاتلهم الله) يتداولونه هم ومن لفّ لفهم.
وقد جاءت الرواية في كتابهم “بحار الأنوار” عن عقد لُفّ بعباءة أو بردة.
رومال کی روایات:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رومال جس کو آگ نہ چھو سکی:

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا رومال تھا کہ جب وہ میلا ہوجاتا تو اسکو آگ میں ڈال دیتے تھے تو وہ دودھ کی طرح سفید ہوجاتا لیکن جلتا نہیں تھا اسلئے کہ اس رومال سے آپ علیہ السلام منہ پونچھا کرتے تھے.

أخرج أبونعيم عن عباد بن عبدالصمد قال: أتينا أنس بن مالك نسلم عليه، فقال: ياجارية! هلمي المائدة نتغدى، فأتت بها فتغدينا، ثم قال: ياجارية! هلمي المنديل، فأتت بمنديل وسخ، فقال: ياجارية! اسجري التنور، فأوقدته، فأمر بالمنديل فطرح فيه فخرج أبيض كأنه اللبَن الحَلِيب. فقلت: يا أباحمزة! ما هذا؟ قال: هذا منديل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح به وجهه، فإذا اتسخ صنعنا به هكذا، لأن النار لا تأكل شيئا مر على وجوه الأنبياء.

یہ روایت حافظ ابونعیم نے  دلائل النبوة”  میں طبرانی کے حوالے سے نقل کی ہے.

اس روایت کی تحقیق:

اس روایت کی سند میں ایک راوی “عبداللہ بن محمد بن المغيرة الکوفی”  ہیں.

عبدالله بن محمد بن المُغيرة الكوفي.
ان کے بارے میں علماء کے اقوال:

ابن حجر کہتے ہیں کہ ابوحاتم اس کو قوی نہیں کہتے تھے.

قال ابن حجر العسقلاني في “لسان الميزان” (4/554)  قال أبوحاتم: ليس بقوي.

ابن یونس کہتے کہ یہ “منکر الحدیث” ہے.

وقال ابن يونس: منكر الحديث.

ابن عدي کہتے تھے کہ اس کی عام روایات کہیں اور نقل نہ ہوتی تھیں.

وقال ابن عَدِي: عامة ما يرويه لا يتابع عليه.

عقیلی نے ان کا شمار ضعفاء میں کیا ہے اور فرمایا کہ اس کی روایت زیادہ تر بےاصل ہوتی ہے.*

وذكره العقيلي في “الضعفاء” فقال: سكن مصر يخالف في بعض حديثه، ويحدث بما لا أصل له.
اس روایت کی سند میں دوسرا  راوی “ابومَعمَر عباد بن عبدالصمد” ہے.
أبو مَعمَر عباد بن عبدالصمد.
 ☆ ان کے بارے میں علماء کے اقوال:

ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد نے ان کو ” منکر”  اور  “ضعیف جدا”  قرار دیا اور فرمایا کہ اسکی کوئی صحیح روایت میرے علم میں نہیں.

قال ابن أبي حاتم في “الجرح والتعديل” (6/82): سألت أبي عنه فقال: ضعيف الحديث جدا، منكر الحديث، لا أعرف له حديثا صحيحا.

ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے نام پر کچھ اور نقل کیا کرتا تھا.

وقال ابن حبان في “المجروحين من المحدثين” (2/170) : منكر الحديث جدا، يروي عن أنس ما ليس من حديثه، وما أراه سمع منه شيئا، فلا يجوز الاحتجاج به فيما وافق الثقات فكيف إذا انفرد بأوابد.

ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ غالی شیعہ تھا اور کمزور ناقابل اعتبار روایات نقل کرتا تھا.

وقال ابن الجوزي في “الضعفاء والمتروكين” (2/75) : يروي عن أنس نسخة عامتها مناكير، وعامة ما يروي في فضائل علي، وهو غال في التشيع.
وقال ابن حجر في “لسان الميزان” (3/232): واه.
اس روایت کی دوسری سند:
أخرجها أبوبكر الخطيب البغدادي في “تاريخ بغداد “((590 ,11/589
قَال حَدَّثَنَا دِينَارٌ مَوْلَى أَنَسٍ، قَالَ: صَنَعَ أَنَسٌ لأَصْحَابِهِ طَعَامًا فَلَمَّا طَعِمُوا، قَالَ: يَاجَارِيَةُ! هَاتِي الْمِنْدِيلَ، فَجَاءَتْ بِمِنْدِيلٍ دَرِنٍ، فَقَالَ اسْجُرِي التَّنُّورَ وَاطْرحِيهِ فِيهِ، فَفَعَلَتْ فَابْيَضَّ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ النَّارَ لا تَحْرِقُ شَيْئًا مَسَّتْهُ أَيْدِي الأَنْبِيَاءِ.

اس میں اس بات کا بیان ہے کہ آگ اس چیز کو نہیں جلاتی جسکو انبیاء علیهم السلام چھو لیں.

روایت کی (دوسری سند کی) تحقیق:

ڈاکٹر بشار عواد کہتے ہیں کہ یہ روایت “ضعیف السند ” اور “منکر المتن  “ہے، ابوعمیر الانسی اور ان کے استاد دینار دونوں مجہول ہیں.

قال محقق التاريخ الدكتور بشار عواد: إسناده ضعيف ومتنه منكر، أبوعمير الأنسي وشيخه دينار مجهولان لا يعرفان.
دينار: هو أبومِكْيَس دينار بن عبدالله الحَبَشي.

خطیب بغدادی رحمه اللہ اس راوی یعنی  “دینار  “کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث  ہے.

قال الخطيب البغدادي في  “تاريخ بغداد” ترجمة” (4489): دينار بن عبدالله، أخبرنا عبدالله بن عدي الحافظ قال: دينار بن عبدالله يقال: كنيته أبومكيس، مولى أنس بن مالك، منكر الحديث، ضعيف ذاهب، شبه المجهول.

ابن جوزی کہتے ہیں کہ ابن عدی اور ابن حبان نے ان کو من گھڑت روایات بیان کرنے والا بتایا ہے.

وقال ابن الجوزي في “الضعفاء والمتروكين” (1/273): دينار بن عبدالله أبومكيس مولى أنس.
قال ابن عدي: ضعيف ذاهب.
وقال ابن حبان: دينار بن عبدالله، شيخ يروي عن أنس أشياء موضوعة، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه.

امام ذھبی کہتے ہیں یہ حد اعتبار سے گرا ہوا راوی ہے.

وقال الذهبي في “المغني في الضعفاء (1/224):   “دينار “أبومكيس” ساقط.

امام حاکم کہتے ہیں کہ اس نے ایک سو(١٠٠) من گھڑت روایات کی نسبت حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے.

وقال الحاكم: روى عن أنس قريبا من مئة حديث موضوعة.
خلاصہ کلام


یہ دونوں روایات سند کے لحاظ سے درست نہیں اور نہ ہی انکا کوئی ثبوت ہے، لہذا اس کو پھیلانا بلکل ناجائز عمل ہے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں