تنبیہ نمبر66

دوران طواف ایک عجیب مکالمہ

سوال: کیا یہ واقعہ درست ہے؟
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سیدالانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے.  ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر “یاکریم یاکریم” کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے “یاکریم” پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کی طرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے “یاکریم”۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے یاکریم پڑھتے۔
اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے! اے حسین قد والے! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں.
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔
وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر اور نذیر بناکر بھیجا ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئے اور عرض کیا کہ اللہ جل جلاله  نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یارسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لےگا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لےگا۔ عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لےگا تو میں اسکا حساب لونگا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لےگا؟ اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لےگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا کہ میرے گناہ زیادہ ہیں یا اسکی بخشش؟ اگر اس نے میری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔ اگر اس نے میرے بخل کا حساب لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تھلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں کہ نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں کہ یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔
– کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ان  خاک نشینوں  کی ٹھوکر  میں  زمانہ  ہے.
(کتاب: مسند احمد بن حنبل) کیا یہ پورا واقعہ درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

یہ واقعہ باوجود شہرت پانے کے کسی بھی مستند یا غیرمستند روایات میں موجود نہیں اور باوجود تلاش بسیار کے کسی بھی مصادر حدیث میں بھی نہیں مل سکا.

بينما النبي صلى الله عليه وسلم في الطواف، إذ سمع أعرابياً يقول: ياكريم! فقال النبي صلى الله عليه وسلم خلفه: ياكريم، فمضى الأعرابي إلى جهة الميزاب، وقال: ياكريم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم خلفه: ياکريم، فالتفت الأعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وقال: يا صبيح الوجه، يا رشيق القد، أتهزأ بي لكوني أعرابياً؟ والله لولا صباحة وجهك، ورشاقة قدك لشكوتكم إلى حبيبي محمد صلى الله عليه وسلم؛ تبسم النبي صلى الله عليه وسلم وقال: أما تعرف نبيك يا أخا العرب؟ قال الأعرابي: لا، قال النبي صلى الله عليه وسلم: فما إيمانك به؟ قال: آمنت بنبوته ولم أره، وصدَّقت برسالته ولم ألقه، قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا أعرابي! اعلم أني نبيك في الدنيا، وشفيعك في الآخرة، فأقبل الأعرابي يقبل يد النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: مه يا أخا العرب! لا تفعل بي كما تفعل الأعاجم بملوكها، فإن الله سبحانه وتعالى بعثني لا متكبراً ولا متجبراً، بل بعثني بالحق بشيراً ونذيراً، فهبط جبريل على النبي صلى الله عليه وسلم، وقال له: يامحمد! السلام يقرئك السلام، ويخصك بالتحية والإكرام، ويقول لك: قل للأعرابي، لا يغرنه حلمنا ولا كرمنا، فغداً نحاسبه على القليل والكثير، والفتيل والقطمير، فقال الأعرابي: أو يحاسبني ربي يارسول الله؟ قال: نعم يحاسبك إن شاء، فقال الأعرابي: وعزته وجلاله إن حاسبني لأحاسبنه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وعلى ماذا تحاسب ربك يا أخا العرب؟ قال الأعرابي: إن حاسبني ربي على ذنبي حاسبته على مغفرته، وإن حاسبني على معصيتي حاسبته على عفوه، وإن حاسبني على بخلي حاسبته على كرمه، فبكى النبي صلى الله عليه وسلم حتى ابتلت لحيته، فهبط جبريل عليه السلام على النبي صلى الله عليه وسلم، وقال: يامحمد! السلام يقرئك السلام، ويقول لك: يامحمد! قلل من بكائك، فقد ألهيت حملة العرش عن تسبيحهم. قل لأخيك الأعرابي: لا يحاسبنا ولا نحاسبه، فإنه رفيقك في الجنة.
کتب میں موجود واقعہ:

کتاب “احیاء علوم الدین” میں امام غزالی رحمه اللہ نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک دیہاتی نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ مخلوق کا حساب کون لےگا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ رب العزت خود لینگے، یہ سن کر دیہاتی ہنس پڑا، آپ علیہ السلام نے اس سے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو دیہاتی نے کہا کہ کریم ذات جب قدرت پالیتی ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں تو ہمیں بھی مغفرت مل جائےگی.

واقعے کی تحقیق:

یہ واقعہ اگرچہ مختلف کتابوں میں پایا جاتا ہے لیکن  اس کی سند پر محدثین کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی سند کے لحاظ سے درست نہیں ہے.

حديث أنس الطويل: قال أعرابي: يارسول الله من يلي حساب الخلق؟ فقال “الله تبارك وتعالى” قال: هو بنفسه؟ قال “نعم” فتبسم الأعرابي، فقال صلى الله عليه وسلم “مم ضحكت يا أعرابي؟ ” فقال: إن الكريم إذا قدر عفا، وإذا حاسب سامح، فقال النبي صلى الله عليه وسلم “صدق الأعرابي، ألا لا كريم أكرم من الله تعالى، هو أكرم الأكرمين”، ثم قال: “فقه الأعرابي”.
امام سخاوی رحمه اللہ کا قول:

اس روایت کی کوئی اصل نہیں.

لم أجد له أصلا.
[المقاصد الحسنة للإمام السخاوي (متن الكتاب) (الباب الأول: الأحاديث بحسب ترتيب الأحرف) حرف الكاف]
حديث: “الكريم إذا قدر عفا”. [البيهقي في الشعب (ص 316) من حديث ربيعة بن أبي عبدالرحمن عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال: قال أعرابي: يارسول اللہ! من يحاسب الخلق يوم القيامة؟ قال: اللہ، قال: اللہ؟ قال: اللہ، قال: نجونا ورب الكعبة، قال: وكيف؟ قال: لأن الكريم… وذكره.
بیہقی کی سند میں “غلابی” نامی راوی متروک ہے جس کی وجہ سے اس روایت پر موضوع ہونے کا شبہ ہوا ہے.
وقال: إن محمد بن زكريا الغلابي تفرد به عن عبيداللہ بن محمد بن عائشة، والغلابي متروك، ويشبه أن يكون موضوعاً.

زین الدین العراقی رحمه اللہ کا قول:

علامہ عراقی رحمه اللہ نے جب احیاء علوم الدین کی تحقیق کی تو فرمایا کہ مجھے اس کی اصل نہ مل سکی.

(إحياء علوم الدين 4/130)
وقد قال العراقي عن هذا الحديث: “لم أجد له أصلاً”.

علامہ سبکی رحمه اللہ نے اس روایت کو ان روایات میں شامل کیا ہے جس کی کوئی سند موجود نہیں.

وذكره السبكي فی ضمن الأحاديث التي لم يجد لها إسناداً. (تخريج أحاديث الإحياء: رقم 3466، وطبقات الشافعيـة الكبرى: 6/364)



خلاصہ کلام


اللہ رب العزت کی رحمت اور مغفرت تو محض بہانے کی متلاشی رہتی ہے اور اس کے متعلق قرآن وحدیث میں بےشمار آیات اور احادیث موجود ہیں، لہذا اس کیلئے کسی بےسند اور کمزور دلیل کو پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں.

البتہ اس مضمون کے کچھ اقوال بزرگان امت سے ضرور ثابت ہیں:

جیسے ابوالسیف الزاہد سے منقول ہے کہ ہمیں بلکل منظور نہیں کہ ہمارا حساب ہمارے کریم رب کے سوا کوئی اور لے.

امام ثوری رحمه اللہ سے منقول ہے کہ مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میرا حساب میرے والدین لیں، میرا رب میرے لئے میرے والدین سے بھی بہتر ہے. بہرحال یہ واقعہ اور اللہ تعالی کا خود حساب لینے والا واقعہ سند کے لحاظ سے بلکل بھی درست اور ثابت نہیں، لہذا اس کو پھیلانے اور بیان کرنے سے اجتناب ضروری ہے.



واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں