تنبیہ نمبر91

رسول اللہ ﷺ تمھارے باپ اور عائیشہ رضی اللہ عنہا تمھاری ماں

سوال: ایک واقعہ سنا ہے کہ عید کے دن آپ علیہ السلام نے کچھ بچوں کو کھیلتے دیکھا جبکہ وہیں پر ایک بچہ پرانے کپڑوں میں کھڑا ہوا رورہا تھا. آپ علیہ السلام نے اس سے رونے کا سبب پوچھا تو اس بچے نے کہا کہ میرے والد ایک غزوہ میں شہید ہوگئے ہیں اور میری ماں نے دوسری شادی کرلی اور وہ لوگ میرا سارا مال کھا گئے اور مجھے گھر سے نکال دیا،  اب میرا نہ کوئی ٹھکانہ ہے اور نہ کوئی خبرگیری کرنے والا،  اس لئے جب ان بچوں کو خوشی میں دیکھا تو آنسو نکل پڑے. آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا تو اس بات سے راضی ہے کہ رسول اللہﷺ تمھارے باپ، عائشہ رضی اللہ عنہا تمھاری ماں،  فاطمہ رضی اللہ عنہا تمھاری بہن اور حسن حسین رضی اللہ عنہم تمھارے بھائی ہوں؟
 اس واقعے کی تحقیق مطلوب ہے
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعہ کسی بھی مستند کتاب میں صحیح یا ضعیف سند سے موجود نہیں،  البتہ بعض متاخرین کی کتابوں میں بغیر سند کے مذکور ہے اور حدیث کی تحقیقات کرنے والے موجودہ زمانے کے تمام حضرات نے اس واقعے کو بےسند قرار دیا ہے،  اس واقعے کو  التحفة المرضیة  میں ذکر کیا گیا ہے.

خرج الرسول يوما لأداء صلاة العيد فرأى أطفالا يلعبون ويمرحون ولكنه رأى بينهم طفلا يبكي وعليه ثوب ممزق فاقترب منه وقال: مالكَ تبكي ولا تلعب مع الصبيان؟ فأجابه الصبي: أيها الرجل! دعني وشأني، لقد قتل أبي في إحدى الحروب وتزوجت أمي فأكلوا مالي وأخرجوني من بيتي فليس عندي مأكل ولا مشرب ولا ملبس ولا بيت آوي إليه. فعندما رايت الصبيان يلعبون بسرور تجدد حزني فبكيت على مصيبتي. فأخذ الرسول بيد الصبي وقال له: اما ترضى ان اكون لك ابا وفاطمة اختا وعلي عما والحسن والحسين اخوين؟ فعرف الصبي الرسول وقال: كيف لا ارضى بذلك يارسول الله! فاخذه الرسول صلى الله عليه وسلم الى بيته وكساه ثوبا جديدا واطعمه وبعث في قلبه السرور. فركض الصبي الى الزقاق ليلعب مع الصبيان. فقال له الصبية: لقد كنت تبكي؛ فما الذي جعلك ان تكون فرحا ومسرورا؟ فقال اليتيم: كنت جائعا فشبعت وكنت عاريا فكُسيت وكنت يتيما فأصبح رسول الله ابي وفاطمة الزهراء اختي وعلي عمي والحسن والحسين اخوتي. (وهي تنسب إلى كتاب التحفة المرضية).

یہ واقعہ سندا ثابت نہیں ہے

اس عنوان کا صحیح واقعہ:

بشیر بن عقربة الجہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ احد کے دن آپ علیہ السلام سے ملا اور میں نے اپنے والد کے بارے میں پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ شہید ہوگئے تو میں رونے لگا. آپ علیہ السلام نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا:  کیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ میں تیرا والد اور عائشہ صدیقہ تیری ماں ہو.

قال الإمام البزار رحمه الله في مسندہ عَنْ بَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ أَبِي؟ فَقَالَ: “اسْتُشْهِدَ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ”، فَبَكَيْتُ، فَأَخَذَنِي فَمَسَحَ رَأْسِي وَحَمَلَنِي مَعَهُ، وَقَالَ: “أَمَا تَرْضَى أَنْ أَكُونَ أَنَا أَباكَ وَتَكُون عَائِشَةُ أُمَّكَ”؟… قَالَ الْبَزَّارُ: لا نَعْلَمُهُ يُرْوَى إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ.

اس واقعہ کو محدثین کی ایک بہت بڑی جماعت نے نقل کیا ہے.

– الطبقات الكبرى لابن سعد: (7/429).
– أسدالغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير: (1/188).
– الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر: (1/254-255)، رقم: (668).
 وقال ابن حجر: رواه أحمد.

إمام بخاری نے تاریخ کبیر میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور جہاں جہاں آپ علیہ السلام کا ہاتھ لگا اس جگہ باوجود بڑھاپے کے اب بھی بال کالے ہیں،  اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟  میں نے عرض کیا کہ بحیر،  آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا نام بشیر ہے ….


الحديث: عن بشير بن عقربة قال: لما قتل أبي عقربة يوم أحد أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، وأنا أبكي، فقال: ياحبيب! ما يبكيك؟ أما ترضى أن أكون أنا أباك وعائشة أمك؟ قلت: بلى يارسول الله بأبي أنت وأمي! فمسح على رأسي فكان أثر يده من رأسي أسود وسائره أبيض، وكانت لي رتة فتفل فيها فانحلت، وقال لي: ما اسمك؟ قلت: بحير، قال: بل أنت بشير. (رواه البخاري في الكبير).
اس روایت کی سندی حیثیت:

اس سند میں دو راویوں پر کلام ہے:

 (١)  حُجر بن الحارث الغساني أبوخلف الفلسطيني الرملي:

١.  ابن ابی حاتم نے اس کو ذکر کرنے کے بعد نہ جرح کی نہ تعدیل.

أورده ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل (3/267) ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا.

٢.  عراقی نے ابن حبان کی نسبت سے اس کے بارے میں ثقہ ہونے کو نقل کیا.

وقال العراقي في ذيل الكاشف (ص:72) وقال: وثقه ابن حبان.

٣.  حافظ ابن حجر نے بھی اس کی توثیق کی.

 وقال الحافظ ابن حـجـر في “تعجيل المنفعة” (1/758): عن بشير بن عقربة الجهني وغيره، وعنه الزهري وحُجر بن الحارث وغيرهما: وثقه ابن حبان.

٤.  ابن عساکر کے کلام سے بھی اس راوی کا قابل اعتبار ہونا معلوم ہوتا ہے.

قلت (ای الحافظ): قال ابن عساكر:  رأى عثمان واستعمله عمر بن عبدالعزيز على خراج فلسطين.
        وفي رواية حُجر بن الحارث عنه أنه كان عامل عمر على الرملة، وذكره ابن سميع في الطبقة الثالثة من تابعي الشاميين.
(٢)  عبدالله بن عوف الكِنَاني أبوالقاسم القاري:

١.  اس کے بارے میں بھی ابن ابی حاتم نے سکوت اختیار کیا ہے.

ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل (5/125) ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا.

٢.  علامہ عراقی نے ان کی توثیق نقل کی ہے.

وقال العراقي في “ذيل الكاشف” (ص:162): ذكره ابن حبان في “الثقات”.

٣.  ابن حجر رحمه اللہ نے بھی اس کی توثیق کی ہے.

وقال الحافظ ابن حـجـر في “تعجيل المنفعة” (1/437): عن عبدالله بن عوف الكناني عامل عمر بن عبدالعزيز على الرملة، وعنه سعيد بن منصور، ومحمد بن المبارك، وغيرهما: محله الصدق.

 الغرض واقعہ کا اتنا حصہ (جس میں آپ علیہ السلام نے بشیر رضی اللہ عنہ کو بیٹا کہا)  درست سند سے ثابت ہے اور اسی حصے کو آپ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جائے.

خلاصہ کلام

سوال میں مذکور واقعہ اور بشیر بن عقربہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ایک ہی معلوم ہوتا ہے،  لیکن قصہ گو راویوں نے اس پر اپنی طرف سے غیرثابت شدہ اضافہ کرکے مشہور کیا ہے جو کہ بلکل درست نہیں،  لہذا اس واقعے میں سے صرف اتنا ہی حصہ آپ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جائے جو ثابت ہے اور اس پر زیادتی سے احتراز کیا جائے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں