تنبیہ نمبر135

حضرت معاویہ کا ابن زبیر کو جواب

سوال: ایک واقعہ بیان میں سنا ہے کہ حضرت زبیر اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان کسی بات پر تنازعہ ہوا جس میں خطوط کا تبادلہ بھی ہوا۔ برائے مہربانی یہ پورا واقعہ اور اس کی اسنادی حیثیت واضح فرمادیجئے۔
الجواب باسمه تعالی

دراصل یہ واقعہ حضرت معاویہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان پیش آیا ہے۔

واقعہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت معاویہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی زمینیں ایک ساتھ تھیں تو حضرت معاویہ کے غلام ابن زبیر کی زمین کی طرف بار بار نکل آتے تھے، ایک دن ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:

یہ خط ابن زبیر کی طرف سے معاویہ بن ہند کی طرف (وہ ہند جو کلیجہ چبانے والی ہے)

آپ کے خادم میرے کھیتوں میں نکل آتے ہیں، لہذا ان کو منع کردو ورنہ میرا اور آپ کا معاملہ بہتر نہ ہوگا۔ جب یہ خط معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ ابن زبیر مجھے دھمکی دے رہا ہے، تمہارا کیا خیال ہے؟  تو یزید نے کہا کہ آپ ایک لشکر بھیجیں جس کا ابتدائی حصہ ابن زبیر کے پاس اور انتہائی حصہ آپ کے پاس ہو اور وہ لشکر ابن زبیر کا سر لے کر آجائے۔ تو حضرت معاویہ نے فرمایا کہ رشتے کو جوڑنا اور صدقہ کرنا اس سے بہتر ہے۔

پھر حضرت معاویہ نے ابن زبیر کو خط لکھا:

یہ خط معاویہ کی طرف سے ابن زبیر کی طرف (جو اسماء ذات النطاقین کا بیٹا) ہے۔

اگر میرے اور تمہارے درمیان دنیا سبب بن رہی ہے تو ساری دنیا آپ کے حوالے کردونگا اور اگر میرے کھیت دمشق سے مدینہ منورہ تک ہوتے تو وہ سب بھی آپ کے حوالے کردیتا۔ جب میرا خط آپ کو پہنچے تو میرے کھیت اور سارے خادم آپ کے ہیں اسلئے کہ جنت کی چوڑائی زمین اور آسمان کے بقدر ہے. جب ابن زبیر نے یہ خط پڑھا تو بہت روئے اور معافی کیلئے حضرت معاویہ کے پاس چلے گئے.

كان لعبدالله بن الزبير رضي الله عنه مزرعة في المدينة مجاورة لمزرعة يملكها معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما خليفة المسلمين في دمشق… وفي ذات يوم دخل عمّال مزرعة معاوية إلى مزرعة ابن الزبير، وقد تكرر منهم ذلك في أيام سابقة؛ فغضب ابن الزبير وكتب لمعاوية في دمشق وقد كان بينهما عداوة قائلاً في كتابه: من عبدالله ابن الزبير إلى معاوية (ابن هند آكلة الأكباد) أمّا بعد! فإنّ عمالك دخلوا إلى مزرعتي، فمرهم بالخروج منها، أو فوالذي لا إله إلا هو ليكوننّ لي معك شأن… فوصلت الرسالة لمعاوية، وكان من أحلم الناس، فقرأها… ثم قال لابنه يزيد: ما رأيك في ابن الزبير أرسل لي يهددني؟ فقال له ابنه يزيد: أرسل له جيشاً أوله عنده وآخره عندك يأتيك برأسه…
فقال معاوية: بل خيرٌ من ذلك…
“زكاةً وأقربَ رُحماً”۔
فكتب رسالة إلى عبدالله بن الزبير يقول فيها: من معاوية بن أبي سفيان إلى عبدالله بن الزبير (ابن أسماء ذات النطاقين): أما بعد! فوالله لو كانت الدنيا بيني وبينك لسلّمتها إليك؛ ولو كانت مزرعتي من المدينة إلى دمشق لدفعتها إليك، فإذا وصلك كتابي هذا فخذ مزرعتي إلى مزرعتك وعمّالي إلى عمّالك؛ فإن جنّة الله عرضها السموات والأرض. فلمّا قرأ الزبير الرسالة بكى حتى بلّ لحيته بالدموع، وسافر إلى معاوية في دمشق وقبّل رأسه، وقال له: لا أعدمك الله حُلماً أحلّك في قريش هذا المحل۔
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

یہ واقعہ کسی بھی مستند (صحیح یا ضعیف) روایت یا تاریخ کی مستند کتابوں میں موجود نہیں ہے،  اسی لئے مختلف احادیث کی تحقیق کرنے والے مستند اداروں سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ہے کہ یہ قصہ کہیں بھی منقول نہیں، البتہ روایات اور واقعات کی صحت کا علم نہ رکھنے والے بعض لوگوں نے اس کو نقل کردیا ہے۔

أمّا القصّة المذكور في السّؤال، فلا أصل لها في شيء من الكتب الّتي وقفت عليها.
وإنّما جرى ذكرها على ألسنة بعض المحاضرين ممّن ليس لهم عناية بالتّحقيق والتّدقيق في نقل الآثار۔

بلکہ بعض علمائےکرام نے اس کو شیعوں کی کارستانی قرار دیا ہے.

نجزم أنّ القصّة المذكورة في السّؤال إنّما حاك نسيجها الرّافضة (قبّحهم الله)؛ فإنّهم لا همّ لهم إلا نسبة الفظائع والمفاجع إلى معاوية رضي الله عنه وابنه يزيد رحمه الله، فما أحرصَهم على أن يصوّروا يزيد على أنّه لا سبيل لديه إلاّ إرسال الجيوش لمعاتبة بين رجلين
خلاصہ کلام

یہ واقعہ چونکہ دو ایسے جلیل القدر صحابہ کے درمیان پیش آیا ہے جن کی عمروں میں بھی کافی فرق ہے اور ایک صحابی اس وقت امیر بھی ہیں،  لہذا کسی کم عمر صحابی سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ محض زمین کے معاملات پر ایسی سخت گفتگو کریں، لہذا اس واقعے کو بیان کرنا اور اس کی نسبت صحابہ کرام کی طرف کرنا درست نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢١ محرم الحرام ١٤٤٠
٢ اکتوبر ٢٠١٨

3 تبصرے “تنبیہ نمبر135

  1. ما شاء اللہ بہت ہی عمدہ کام ہوا جس کی تمنا بہت دنوں سے تھی اور بندے نے حضرت مفتی عبد الباقی صاحب مد ظلہ سے عرض بھی کیا تھا۔
    جس لفظ کو تلاش کیا جاۓ تو جو نتائج آئینگے وہ اگر ہائی لائٹ ہو جائیں تو مناسب رہیگا
    کیونکہ مثلا کسی راوی کے بارے میں تلاش کیا گیا تو جرح و تعدیل کے احکام مختلف تنبیہات میں کیا ہے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ اور بھی فوائد ہیں

    1. جزاک ﷲ خیر
      دوران تلاش ہائی لائٹ کی آپشن لگا دی ہے۔ نتائج پربھی ہو جاے گا ۱۔۲ روز میں انشا اللہ

    2. اب تلاش کے بعد نتائج والے پیج اور اس پیج سے کسی تنبیہ پر جانےکے بعد جس لفظ کو تلاش کیا گیا وہ ہائی لائٹ ہو گا

      بہت مفید مشورہ تھا آئیندہ بھی اپنی آراء سے نوازئیے گا

Leave a Reply to hassaan Cancel reply