تنبیہ نمبر17

یوسف علیہ السلام اور زلیخا کی شادی

سوال: قرآن حکیم نے سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ذکر فرمایا ہے وہیں پر *”امرأة العزيز”* کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن یہ خاتون کون تھی، اس کا نام کیا تھا اور اس کا یوسف علیہ السلام سے جو رشتہ ذکر کیا جاتا ہے اس کے متعلق قرآن وحدیث میں کیا ملتا ہے؟ جبکہ اس متعلق مختلف تفاسیر اور کتابوں میں اس قدر واقعات ملتے ہیں کہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے… برائے مہربانی تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں…
الجواب باسمه تعالی

قرآن مجید اور احادیث مطہرہ میں جس قدر بیان موجود ہے اس کو ماننا اور اس کی تصدیق کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور جو باتیں قرآن و حدیث میں موجود نہیں اس کا تسلیم کرنا بھی ضروری نہیں بلکہ اس کا صحیح ہونا بھی سند کے درست ہونے پر موقوف ہوتا ہے۔

ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یااللہ! میں آپ کی عبادت کرنا چاہتا ہوں، اللہ پاک نے فرمایا کرلو، انہوں نے دو رکعت نماز کی نیّت باندھی اور اس اہتمام کے ساتھ نماز ادا کی کہ چالیس ہزار(٤٠,٠٠٠) سال کے بعد سلام پھیرا، اللہ پاک نے فرمایا: تم نے بہت اچھی نماز پڑھی ہے، لیکن ایک امّت آنے والی ہے جس کی فجر کی دو سنتیں تیری ان دو رکعتوں سے بڑھ جائینگی جو وہ لوگ اپنی فکروں اور سوچوں سمیت ادا کرینگے کیونکہ ان کی نماز میرے حکم سے ہوگی اور تمہاری نماز تمہاری چاہت سے ہے. جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یااللہ! آپ ان کو ان کی عبادت پر کیا دینگے؟ تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جنت المأوى دونگا، تو جبریل نے اللہ تعالی سے اس جنت کو دیکھنے کی اجازت مانگی تو اللہ تعالی نے اجازت دے دی تو جبریل علیہ السلام نے اپنے سارے پر کھول دیئے (حالانکہ جبریل جب صرف دو پر کھولتے ہیں تو ہر بار پر کھولنے اور بند کرنے پر  تین ہزار سال کا سفر طے کرلیتے ہیں) اور جبریل علیہ السلام تین سو سال اڑتے رہے اور تھک کر سجدے میں گر گئے اور عرض کیا
کہ میں اس جنت کے آدھے یا ایک تہائی تک پہنچ گیا ہوں یا نہیں؟ تو جواب ملا کہ اے جبریل! اگر تجھے دوگنی قوت اور پر دیئے جائیں اور تو ہزاروں سال اڑتا رہے تب بھی امت محمدیہ کو دو رکعت پر دیئے جانے والے اجر کے دسویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتا.

تاریخی کتب میں زلیخا کا تذکرہ:زلیخا کا نام

“زلیخا” عزیز مصر توطیفار یا پوتیفار کی زوجہ کا نام ہے جو مصر کی ساکنہ تھی، اور روایات کے مطابق بےاولاد تھی اس لئے کہ شوہر نامرد تھا، اور مصر کے ملک میں چونکہ اس وقت بت پرستی کا دور دورہ تھا یہ بھی بت پرست تھی۔

بائبل میں اس شخص کا نام فوطیقار لکھا ہے جس نے یوسف کو خریدا تھا۔ قرآن مجید نے آگے چل کر عزیز کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ شاہی خزانے کا یا باڈی گارڈوں کا افسر تھا۔ تلمود میں اس کی بیوی کا نام زلیخا لکھا ہے۔  (زلیخا یا راعیل). عزیز مصر کی بیوی کا نام راعیل تھا، کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں.

(ماخوذ از )

١.    “تفسیر عثمانی”  مفسر مولانا شبیر احمد عثمانی رحمه اللہ

٢.  “تفسیر ابن کثیر”  حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر

گویا قرآن وحدیث میں اس کے نام کے متعلق کوئی واضح بات موجود نہیں بلکہ اسرائیلی روایات کی بنیاد پر اس کا نام “راعیل”* اور لقب “زلیخا” بیان کیا جاتا ہے.

یوسف علیہ السلام سے شادی:

جس طرح قرآن و حدیث ان کے نام کے بارے میں خاموش ہیں اسی طرح ان کی شادی كے متعلق بھی خاموش ہیں، البتہ تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں نے اسرائیلیات سے اس بات کو نقل کیا ہے کہ وزیر خزانہ بننے کے بعد یوسف علیہ السلام کی زلیخا سے شادی ہوئی تھی.

محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ جب یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے وزیر خزانہ بننے کی فرمائش کی تو بادشاہ نے ان کو وزیر بنادیا،  اس کے بعد زلیخا کا شوہر مرگیا تو بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کی شادی زلیخا سے کرادی اور جب یوسف علیہ السلام اس کے پاس گئے تو فرمایا کہ کیا یہ اس عمل سے بہتر نہیں جس کی تم مجھے دعوت دے رہی تھی؟ تو زلیخا نے کہا کہ اے دوست! سابقہ کاموں پر مجھے ملامت نہ کرو۔۔۔۔۔۔ پھر اللہ تعالی نے ان کو اولاد نصیب فرمائی، دو بیٹے ہوئے: ایک کا نام افرائیم اور دوسرے کا نام میشا بن یوسف، پھر افرائیم کا بیٹا نون ہوا اور نون کا بیٹا یوشع (عليهم السلام).

وورد في زواج يوسف عليه السلام من “راعيل” خبرٌ عن إمام السير والتاريخ محمد بن إسحاق رحمه الله حيث يقول: لما قال يوسف للملك: {اِجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ} قال الملك: قد فعلت! فولاه فيما يذكرون عمل إطفير، وعزل إطفير عما كان عليه، يقول الله: {وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاء} الآية.
قال: فذكر لي (والله أعلم) أن إطفير هَلَك في تلك الليالي، وأن الملك الرَّيان بن الوليد، زوَّج يوسف امرأة إطفير “راعيل”، وأنها حين دخلت عليه قال: أليس هذا خيرًا مما كنت تريدين؟ قال: فيزعمون أنها قالت: أيُّها الصديق! لا تلمني، فإني كنت امرأة كما ترى حسنًا وجمالاً، ناعمةً في ملك ودنيا، وكان صاحبي لا يأتي النساء، وكنتَ كما جعلكَ الله في حسنك وهيئتك، فغلبتني نفسي على ما رأيت. فيزعمون أنه وجدَها عذراء، فأصابها، فولدت له رجلين: أفرائيم بن يوسف، وميشا بن يوسف، وولد لأفرائيم نون، والد يوشع بن نون، ورحمة امرأة أيوب عليه السلام.
– رواه ابن أبي حاتم في “التفسير” (7/2161)
– والطبري في “جامع البيان” (16/151).
وورد نحوه عن زيد بن أسلم التابعي الجليل، وعن وهب بن منبه المعروف بالرواية عن الإسرائيليات. [نقل ذلك السيوطي في “الدر المنثور” (4/553)].

علامہ سمرقندی نے اپنی تفسیر میں واقعہ نقل کیا ہے کہ جب زلیخا کے شوہر کا انتقال ہوگیا تو زلیخا راستے میں بیٹھ گئی اور جب یوسف علیہ السلام اپنے جاہ وجلال کے ساتھ وہاں سے گذرے تو زلیخا نے کہا کہ اللہ کی عجیب شان ہے جس نے غلام کو بادشاہ اور بادشاہ کو غلام بنادیا اور پھر یوسف علیہ السلام نے اس سے شادی کرلی۔

ذكَره السمرقندي في تفسيره بصيغة التضعيف، فقال: ورُوي في الخبر أن زوج زليخا مات، وبقيت امرأته زليخا، فجلست يوما على الطريق، فَمَرّ عليها يوسف في حَشَمِه، فقالت زليخا: الحمد لله الذي جعل العبد مَلِكا بِطاعته، وجعل الملك مملوكا بمعصيته، وتزوجها يوسف فوجدها عذراء، وأخْبَرَت أن زوجها كان عِنِّينًا لم يَصِل إليها…

علامہ سمرقندی کہتے ہیں کہ مجھے یہ واقعہ درست معلوم نہیں ہوتا.

خلاصہ کلام

زلیخا کا نام یا ان کی حضرت یوسف علیہ السلام سے شادی کے متعلق کوئی بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، البتہ اسرائیلیات سے کچھ باتوں کا ثبوت ملتا ہے لیکن وہ باتیں صرف اس حد تک ہیں کہ نہ ان کو سچا کہا جاسکتا ہے اور نہ جھوٹا.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں