تنبیہ نمبر210

حضرت عیسی علیہ السلام کی تدفین

سوال: ایک بات سنی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا انتقال مدینے میں ہوگا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ قبر میں دفن ہونگے اور یہ جو شروع کی جالی ہے اسی میں دفن ہونگے…
کیا یہ بات درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

حضرت عیسی علیہ السلام کا دنیا میں آنا اور یہاں شادی کرنا اور اولاد کا ہونا صحیح روایات سے ثابت ہے.

● ١. پہلی روایت:

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، پھر ان کا انتقال ہوگا اور مسلمان ان کو دفن کرینگے.

□ وهو حديث أَبِي هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
يَلْبَثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُتَوَفَّى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ.
– أخرجه أبوداود في سننه (4324)، وأحمد في المسند (9270)، وإسناده صحيح.
¤ قال ابن كثير في “البداية والنهاية” (19/224): وَهَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ قَوِيٌّ. وصحح إسناده ابن حجر في “الفتح” (6/493).

البتہ ان کی تدفین مدینہ منورہ میں روضہ رسول میں ہونے کے متعلق مختلف روایات منقول ہیں:

● ٢. دوسری روایت:

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، شادی کرینگے، اولاد ہوگی اور پینتالیس(٤٥) سال زندہ رہیں گے، پھر انتقال ہوگا اور میرے ساتھ قبر میں دفن ہونگے اور میرے ساتھ ایک قبر سے اٹھیں گے.

□ عبدالله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “ينزل عيسى ابن مريم إلى الأرض، فيتزوج، ويولد له، ويمكث خمسا وأربعين سنة، ثم يموت فيدفن معي في قبري، فأقوم أنا وعيسى ابن مريم من قبر واحد بين أبي بكر وعمر”.
رواه ابن أبي الدنيا [كما عزاه إليه الذهبي في “ميزان الاعتدال” (2/562)]، وابن الجوزي في “العلل المتناهية” (2/915) وفي “المنتظم” (1/126)، وفي “الوفا” (2/714) أيضا: من طريق عبدالرحمن بن زياد بن أنعم الإفريقي.
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

١- ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں اور عبدالرحمن بن زیاد إفریقی انتہائی کمزور راوی ہے.

¤ قال ابن الجوزي: هذا حديث لا يصح، والإفريقي ضعيف بمرة.

٢- امام ذہبی نے بھی إفریقی کی کمزور روایات میں سے اس کو ذکر کیا اور فرمایا کہ اس کی روایات برداشت کے قابل نہیں.

¤ وأورده الذهبي في “ميزان الاعتدال” في سياق المناكير التي رواها هذا الراوي، وقال: فهذه مناكير غير محتملة.

٣- شیخ البانی نے بھی اس روایت کو منکر قرار دیا ہے

¤ وقال الشيخ الألباني في “السلسلة الضعيفة” برقم (6562): منكر.
٣. تیسری روایت:

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ علیہ السلام سے حجرے میں تدفین کی اجازت مانگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے حجرے میں تو چار قبروں کی جگہ ہے جو میری، ابوبکر، عمر اور عیسی کی ہوگی

□ رواه ابن عساكر (47/522) من طریق عبدالرحمن بن أبي بكر، عن أبي بكر، عن عائشة، قالت: قلت: يارسول الله! إني أرى أن أعيش من بعدك، فتأذن لي أن أدفن إلى جنبك؟ فقال: وأنَّى لي بذلك الموضع؟ ما فيه إلا موضع قبري وقبر أبي بكر وقبر عمر، وقبر عيسى بن مریم.
*■ اس روایت کی اسنادی حیثیت:*

اس روایت کی دو سندیں ہیں:

 پہلی سند میں صالح اور ابی بکر کے درمیان سند كا انقطاع ہے.

اور دوسری سند میں شعیب بن طلحہ ہیں جن کے بارے میں دارقطنی کی رائے یہ ہے کہ یہ متروک ہے

١. جب ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کیا تو فرمایا کہ اس کی سند درست نہیں

¤ وهذا الحديث أورده ابن كثير في تاريخه (2/527 دار هجر)، وقال: لا يصح إسناده.

٢. ابن حجر نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ روایت سند کے لحاظ سے ثابت نہیں.

¤ وقال ابن حجر في الفتح (6/77): لا يثبت.
● ٤. چوتھی روایت:

عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ تورات میں آپ علیہ السلام کی صفت اور عیسی علیہ السلام کی صفت یہ لکھی ہے کہ ساتھ دفن ہونگے.

□ قال عبدالله بن سلام رضي الله عنه: مكتوب في التوراة صفة محمد، وصفة عيسى بن مريم، يدفن معه. رواه البخاري في “التاريخ الكبير” (6/229)، والترمذي في “السنن” (رقم:3617)
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن ضحاک ہے جس کو تقریبا تمام محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے.

امام بخاری نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ روایت میری نظر میں درست نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی متابع موجود ہے.

¤ قال البخاري رحمه الله بعد إخراجه الحديث في التاريخ الكبير في ترجمته: هذا لا يصح عندي، ولا يتابع عليه.
● ٥. پانچویں روایت:

بن المسیب کہتے ہیں کہ روضہ شریف میں تین قبریں ہیں اور ایک قبر کی جگہ خالی ہے جو عیسی علیہ السلام کی قبر ہوگی.

□ عن سعيد بن المسيب قال: إن قبور الثلاثة في صُفَّة بيت عائشة، وهناك موضع قبر يدفن فيه عيسى عليه السلام.

حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے

¤ قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: من وجه ضعيف. (فتح الباري:7/66).
● ٦. چھٹی روایت:

امام قرطبی کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کا انتقال ہوگا اور آپ علیہ السلام کے روضے میں تدفین ہوگی. ایک قول یہ ہے کہ شام میں تدفین ہوگی.

□ قال الإمام القرطبي رحمه الله: ثم يقبض الله روح عيسى عليه السلام ويذوق الموت، ويدفن إلى جانب النبي صلى الله عليه وسلم في الحجرة، وقد قيل إنه يدفن بالأرض المقدسة مدفن الأنبياء. (التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة. ص:1301) وذكر نحوه ابن عساكر.
● ٧. ساتویں روایت:

علامہ عینی نے عمدةالقاری میں یہ قول نقل کیا ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ روضہ رسول میں تدفین ہوگی. دوسری روایت میں ہے کہ ملک شام میں تدفین ہوگی.

□ قال العيني في عمدة القاري (16/40): ويدفن مع النبي في قبره، وقيل: يدفن في الأرض المقدسة، وهو غريب.
خلاصہ کلام

حضرت عیسی علیہ السلام کا انتقال ہوگا اور مسلمان ان کو دفن کرینگے یہ بات تو صحیح روایات سے ثابت ہے، البتہ ان کی تدفین کی جگہ کے متعلق کوئی بھی صحیح مستند روایت موجود نہیں، اور جن روایات میں یہ بات موجود ہے وہ روایات یا تو انتہائی کمزور ہیں یا پھر اسرائیلیات سے منقول غیرمعتبر باتیں ہیں، لہذا نہ تو اس بات سے صاف انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کی جاسکتی ہے، اللہ تبارك وتعالی ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
  23 جولائی ٢٠١٩

اپنا تبصرہ بھیجیں