تنبیہ نمبر 249

آپ علیہ السلام کا دورانِ نماز انتظار کرنا

سوال
ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے جس میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ آپ علیہ السلام دورانِ نماز رکوع میں گئے اور رکوع کافی لمبا ہوگیا، نماز کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ علی کہاں ہیں؟ اور فرمایا کہ اے علی! آپ کے انتظار میں اسرافیل علیہ السلام نے میرے ہاتھوں کو روکے رکھا تھا…
اس واقعے کی تحقیق مطلوب ہے…
قاضی سعید الحسن فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی
الجواب باسمه تعالی

یہ واقعہ مختلف کتب میں منقول ہے، لیکن زیادہ تر یہ شیعوں کی کتب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ذکر کیا جاتا ہے.

□ عن أنس بن مالك قال: صلّى النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلاة العصر، وأبطأ في ركوعه في الركعة الأولى، حتى ظننا أنه سها، ثم رفع رأسه، وأوجز في صلاته، ثم أقبل علينا فنادى: يا علي! أدن مني، فما زال يتخطى الصفوف من الصف الآخر، حتى دنا فقال له: ما الذي خلفك عن الصف الأول؟ قال: كنت على غير وضوء، فأتيت بيتي فلم أجد فيه ماء فناديت يا حسن! يا حسين! فلم يجبني أحد، فإذا هاتف يهتف يا أبا الحسن! فإذا أنا بسطل من ذهب فيه ماء وعليه منديل، فتوضأت بالماء وهو أطيب من المسك، فلا أدري من أتى بهما، ومن أخذهما مني. فتبسم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وضمه الى صدره وقبّل ما بين عينيه ثم قال: إنّ السطل والماء والمنديل من الجنة، أتاك بالسطل وبالماء جبرائيل، والذي أتاك بالمنديل ميكائيل، والذي نَفسُ محمدٍ بيدِهِ ما زالَ إسرافيلُ قابضاً بِيدِهِ على رُكبَتي حتى لحِقتَ بي في الصّلاة، وإن اللهَ وملائكتَهُ يُحبونَكَ. (رواہ الحافظ القندوزي الحنفي في ينابيع المودة، ج:1، ص:169)
■ اس روایت کی اسنادی حیثیت:

اہل سنت کی کتب میں اس روایت کو علامہ ابن جوزی نے کتاب الموضوعات میں اور علامہ سیوطی نے اللآلی المصنوعہ میں اس روایت کو نقل کیا ہے.

□ کتاب الموضوعات لابن جوزی:

علامہ ابن جوزی اس واقعے کو دو مختلف سندوں سے نقل کرتے ہیں:

١. پہلی سند:

اس سند کے ساتھ یہ واقعہ ان ہی الفاظ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل میں ذکر کرتے ہیں اور پھر اس پر حکم لگاتے ہیں.

بلاشبہ یہ روایت من گھڑت ہے، اور اس میں محمد بن زیاد المیمونی جھوٹا ہے.

¤ هذا حديث موضوع بلاشك والمتهم محمد بن زياد.
اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال:

١. احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ کذاب خبیث ہے.

◇ قال أحمد بن حنبل: هو كذاب خبيث يضع الحديث.

٢. یحیی بن معین کہتے ہیں کہ یہ جھوٹاخبیث آدمی ہے.

◇ قال يحيی: كذاب خبيث.

٣. دارقطنی کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا آدمی ہے.

◇ قال الدارقطني: كذاب.

٤. امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ متروک راوی ہے

◇ قال البخاري: متروك الحديث.

اس روایت کو الٹ پھیر کرکے حضرت علی کی فضیلت میں نقل کیا گیا.

¤ وقد قلبوا هذا فجعلوه لعلي بن أبي طالب.

حضرت علی کی فضیلت والی روایت بالسند نقل کرکے کہتے ہیں کہ یہ روایت من گھڑت ہے، کیونکہ اس میں مجہول اور جھوٹے راوی ہیں.

¤ هذا حديث موضوع ايضا من حميد الى شيخنا بين مجهول وكذاب.
□ اللآلی المصنوعة للسیوطی:

علامہ سیوطی نے بھی اولا حضرت ابوبکر صدیق والی روایت نقل کی کہ فجر کی نماز میں آپ علیہ السلام نے انتظار کیا، اور پھر لکھتے ہیں کہ یہ روایت من گھڑت ہے.

اور لکھتے ہیں کہ میزان میں منقول ہے کہ علی بن داود نے محمد بن زیاد المیمونی سے اور اس سے جعفر بن عثمان نے منکر روایت نقل کی.

اور آگے لکھتے ہیں کہ اس روایت کو الٹ پھیر کرکے حضرت علی کی فضیلت میں نقل کیا گیا اور پھر اس روایت کو سند کے ساتھ نقل کرکے لکھتے ہیں کہ یہ موضوع ہے.

ھناد ومَن فوقہ الی حمید من بین مجهول وکذاب..

ہناد سے لے کر حمید تک کے راویوں میں سے کچھ مجہول اور کچھ جھوٹے ہیں.

خلاصہ کلام

سوال میں مذکور واقعہ شیعوں کی تمام معتبر کتب، مثلا: بحار الانوار وغیرہ میں منقول ہے، لیکن محدثین کرام نے اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے، لہذا اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
 ٣٠ دسمبر ٢٠١٩ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں