تنبیہ نمبر 335

ننھا اور معصوم مجاھد

سوال
مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:
حضرت ابو قدامہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حرم مدنی میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابو قدامہ! تم نے اللہ کی راہ میں اک عمر گذاری ہے، جہاد و قتال کے اس سفر کا سب سے حیرت انگیز واقعہ سناؤ!!
میں نے سنانا شروع کیا کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ صلیبیوں سے لڑنے کیلئے محاذ کی طرف روانہ ہوا، راستے میں رقہ شہر سے گذرے تو وہاں کی مساجد میں وعظ و نصیحت کی اور لوگوں کو اللہ کی راہ میں جہاد اور انفاق پر ابھارا، جب رات نے ڈیرے ڈال لئے تو میں نے رات گذارنے کیلئے کرائے پر ایک جگہ لی، رات کا کچھ حصہ ہی گذرا ہوگا کہ دروازہ کھٹکھایا گیا، میں نے دروازہ کھولا تو ایک خاتون کو چادر میں لپٹا ہوا پایا.. میں نے پوچھا: کیا چاہتی ہو؟ سوال کرتی ہے کہ کیا تم ابو قدامہ ہو؟ میں نے جواب دیا: ہاں! دوبارہ گویا ہوئی کہ تم نے محاذ کیلئے مال جمع کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! اس نے ایک رقعہ اور بالوں سے بنی ہوئی مضبوط رسی دی اور روتی ہوئی لوٹ گئی، میں نے رقعے کو پڑھا تو لکھا ہوا تھا: تم نے ہمیں جہاد کی طرف بلایا، مگر میں عورت ہوں، جہاد کی قدرت نہیں رکھتی، ہاں! مگر اپنی بہترین شے تمہارے سپرد کرتی ہوں، یہ میری چٹیا کے بالوں سے بنی رسی ہے، اسے گھوڑے کی لگام بنا لو، کیا خبر کہ اللہ تعالی میرے بالوں کو اپنی راہ میں تیرے گھوڑے کی رسی بنے دیکھے تو مجھے بخش دے.. میں اس خاتون کی حرص اور مغفرت و جنت کے شوق پر حیران رہ گیا..
جب صبح ہوئی تو میں اور میرے ساتھی رقہ سے نکلے، کچھ ہی آگے گئے ہوں گے کہ پیچھے سے ایک گھڑ سوار نے آواز لگائی: اے ابو قدامہ! رک جائیں اللہ آپ پر رحم کرے.. میں نے ساتھیوں سے کہا کہ تم چلو! میں ذرا اس کا پتا لگا کر آتا ہوں، میں اس گھڑ سوار کے پاس آیا، تو وہ گویا ہوا: اللہ کا شکر ہے کہ آپ مجھے مل گئے اور میں نامراد نہیں لوٹا.. میں نے حیرت سے اسے دیکھا، تو وہ کہنے لگا: میں آپ کے ساتھ لڑائی کیلئے نکلنا چاہتا ہوں.. میں نے جواب دیا کہ اچھا! مگر اپنا نقاب تو ہٹاؤ تاکہ میں تجھے دیکھ سکوں، اگر لڑنے کے قابل ہوئے تو چلے چلنا، اور چھوٹے ہوئے تو تمہیں واپس بھیجنا پڑےگا.. اس نے نقاب ہٹایا تو گویا چہرہ نہیں چاند تھا، سترہ برس کے لگ بھگ معلوم ہوتا تھا… میں نے پوچھا: بیٹا تمہارا باپ کدھر ہے؟ وہ بولا: صلیبیوں کے ہاتھوں شہید ہو چکا، میں اس کا بدلہ لونگا… میں نے دوبارہ پوچھا: اور ماں تیری زندہ ہے؟ اس نے جواباً کہا: ہاں! میں نے اسے کہا: تو بیٹا! اس کے پاس جاؤ اور اس سے اچھا معاملہ کرو کیونکہ جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے… کہنے لگا: کیا آپ میری ماں سے واقف نہیں ہیں؟ میں نے جواب دیا: نہیں تو! وہ گویا ہوا: جس نے آپ کو امانت سپرد کی؟ میں نے پوچھا: کیسی امانت اور کون سی امانت؟ وہ بولا: ارے وہی رسی والی! میں نے پھر پوچھا: کون سی؟ وہ بولا: بڑی جلدی بھول گئے ہو چچا! کیا کل آپ کے پاس کوئی عورت رقعہ اور رسی لیکر نہیں آئی تھی؟ میں نے جواب دیا: ہاں ہاں!! وہ بولا: وہ میری ماں ہے، اسی نے حکم دیا ہے کہ جہاد پر نکلوں، اور قسم بھی دی ہے کہ واپس مت آنا اور اس نے مجھے کہا: اے بیٹے! جب کفار سے ملو تو پیٹھ مت پھیرنا.. اپنی جان اللہ کے سپرد کرو اور اسی سے رفیقِ اعلیٰ کی ہمسائیگی طلب کرو.. جاؤ اپنے باپ اور مامؤوں کے ساتھ جنت میں رہو.. بیٹا! اللہ نے تجھے شہادت دی تو میری شفاعت بھی کرنا.. پھر اس نے مجھے سینے سے لگایا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: الہی!! یہ میرا بیٹا ہے، میرے دل کی ٹھنڈک، میرے جگر کا ٹکڑا تجھے سونپتی ہوں، پس اسے اس کے باپ اور مامؤوں سے ملا دے… پھر وہ لڑکا کہنے لگا: آپ کو خدا کا واسطہ ہے مجھے اپنے ساتھ جانے سے مت روکیں، میں ان شاءاللہ شہید بن شہید (شہید کا بيٹا شہید) ہوں.. میں اللہ کی کتاب کا حافظ ہوں، گھڑ سواری اور تیر اندازی جانتا ہوں، کم عمر سمجھ کر کمتر مت سمجھیئے!
میں نے جب اس کے جذبات دیکھے تو اسے ساتھ لے لیا، خدا کی قسم وہ سواری میں سب سے تیز رفتار تھا، اور پڑاؤ کے وقت سب سے چاق و چوبند! ہر وقت ذکرِ الہی اس کی زبان پر جاری رہتا… سفر کے دوران ہم ایک جگہ اترے، ہمارا روزہ تھا، لڑکے نے اصرار کیا کہ میں افطاری بناؤں گا… وہ افطاری بنانے چل پڑا، کافی دیر ہو گئی مگر آیا نہیں.. میرے ساتھی نے کہا: ابو قدامہ! ذرا جا کر دیکھو تو سہی تمہارے دوست کا کیا معاملہ ہے؟ میں گیا تو دیکھا کہ لڑکے نے لکڑیاں جلا کر دیگچا چڑھا رکھا ہے، مگر تھکاوٹ اور نیند کے مارے پتھر پر سر رکھے سو چکا ہے، میں نے اسے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا، مگر خالی ہاتھ لوٹنا بھی درست نہیں تھا، سو میں کھانا تیار کرنے لگا اور لڑکے کو دیکھتا رہا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ لڑکا مسکرا رہا ہے، پھر اس کی مسکراہٹ شدید تر ہو گئی، حتی کہ کھل کر ہنسنے لگا… پھر یکدم اٹھ بیٹھا، جب مجھے دیکھا تو گھبرا گیا اور کہنے لگا: اوہو! آپ کو لیٹ کر دیا، مجھے کھانا بنانے دیجیئے، میں جہادی سفر میں آپ کا خادم ہوں… میں نے کہا: اللہ کی قسم تجھے کچھ نہیں بنانے دوں گا حتی کہ تو مجھے بتائے کہ کس چیز نے تجھے ہنسایا؟ کہنے لگا کہ یہ تو بس ایک خواب تھا، چھوڑیئے! میں نے اللہ کی قسم دی کہ تو مجھے لازمی بتا…
کہنے لگا: چچا جان! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، اس کا حسن و جمال ایسا ہے جیسے اللہ کی کتاب بتلاتی ہے، میں حیرت کے مارے چلتا جا رہا تھا کہ میں نے ایک جگمگاتا محل دیکھا جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی، چھت موتیوں، یاقوت اور جواہر سے بنی اور دروازے سونے کے تھے، اور لڑکیاں دروازوں کے پردے اٹھا رہی تھیں، ان کے چہرے چاند تھے… میں ان کے حسن و جمال پر حیران تھا کہ ایک لڑکی میری طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی سہیلی سے کہنے لگی کہ یہ مرضیہ کا خاوند ہے اور وہ اس کی بیوی مرضیہ ہے.. میں نے لڑکی سے کہا کہ: تم ہو مرضیہ؟ کہنے لگی: میں اس کی ایک ادنی سی خادمہ ہوں، مرضیہ محل میں ہے، جاؤ اندر… میں داخل ہوا تو محل کے اوپر والی منزل میں سرخ سونے سے بنا کمرہ دیکھا، جس پر سبز زبرجد کا کام تھا، اس کے ستون چمکتی چاندی کے تھے، اس میں ایک لڑکی تھی، جس کا چہرہ سورج کی مانند چمک رہا تھا.. اگر اللہ میری بصارت قائم نہ رکھتا تو وہ گل ہو جاتی اور میرے حواس معطل ہو جاتے.. لڑکی نے مجھے دیکھا تو کہنے لگی: اللہ کے دوست اور حبیب کو خوش آمدید! میں آپ کیلئے اور آپ میرے لئے ہیں… میں اس سے قریب ہونے لگا تو وہ بولی: اے میرے سرتاج اور میرے پیارے! ابھی نہیں.. ہم سے کل ظہر کا وعدہ کیا گیا ہے… اس بات پر میں مسکرایا اور خوش ہوا.. میں نے اس لڑکے سے کہا: اچھا خواب ہے ان شاء اللہ… پھر ہم نے روزہ کھولا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ محاذ کی طرف روانہ ہو گئے، اگلے دن جب دشمن سامنے آگیا اور جہاد کی صفیں بنا لی گئیں، تو میں اس لڑکے کو ڈھونڈنے لگا اور اسے اگلی صفوں میں پایا.. میں اس کے پاس گیا اور کہا: بیٹا! کیا تجھے امورِ جہاد کا تجربہ ہے؟
کہنے لگا: نہیں! یہ میرا پہلا معرکہ ہے.. میں نے کہا: بیٹا! جیسا تم سمجھتے ہو ویسے نہیں ہے، یہ لڑائی کا معاملہ ہے، اس میں خون بہتا ہے، پس تم پیچھے آجاؤ.. اللہ نے فتح دی تو تم بھی فاتحین میں سے ہونگے اور اگر معاملہ برعکس ہوا تو کم از کم سب سے پہلے نہیں مارے جاؤ گے… وہ بولا:  یہ آپ کہہ رہے ہیں…؟  میں نے جواب دیا: ہاں! بیٹا میں ہی کہہ رہا ہوں… جواب میں اس نے استفسار کیا کہ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں اہل جہنم میں سے ہو جاؤں..؟ میں نے جواب دیا: معاذ اللہ! بیٹے ایسا قطعا نہیں ہے… ہم جہنم سے بچنے کیلئے تو جہاد کرنے نکلے ہیں، تو وہ بولا کہ: پھر اللہ کا یہ فرمان سنیئے: {ومن يولهم يومئذ دبره إلا متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة فقد باء بغضب من الله ومأواه جهنم} تو چچا جان! کیا میں سب سے پہلے پیٹھ پھیر کر اہل جہنم میں سے ہو جاؤں…؟ میں اس کی حرص اور آیات پر اس کی گرفت سے بہت حیران ہوا.. میں نے اس سے کہا کہ بیٹے یہ آیت کا محل نہیں ہے، لیکن وہ لوٹنے سے انکاری رہا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زبرستی لے جانا چاہا، مگر وہ ڈٹ گیا، اسی اثناء میں لڑائی شروع ہو گئی اور وہ میرے سے چھوٹ گیا.. شہسوار ٹکرا گئے.. نیزے بلند ہونے لگے.. تلواریں چمکنے لگیں.. کھوپڑیاں کٹنے لگیں.. ہاتھ پاؤں اڑتے رہے.. گھمسان کا وہ رن پڑا کہ ہر بندہ اپنی لڑائی لڑنے لگا.. دوست کو دوست کی خبر نہ رہی.. ظہر کا وقت داخل ہوا تو اللہ نے صلیبیوں کو شکست دی.. فتح کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا، ظہر ادا کی اور ہم میں سے ہر کوئی اپنے پیاروں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، مگر اس لڑکے کا کوئی عزیز نہ تھا، اس کا پوچھنے والا کوئی نہ تھا، میں ہی اس کی تلاش میں نکلا تو ایک آواز آئی: اے لوگو! میرے چچا ابو قدامہ کو بلاؤ میرے چچا ابو قدامہ کو بلاؤ!! میں آواز کا پیچھا کرتے ہوئے گیا تو لڑکے کو زخمی حالت میں پایا، نیزہ اس کے جسم سے پار ہو چکا تھا، گھوڑے اس کے جسد کو روند چکے تھے، ہڈیاں ٹوٹی ہوئی، گوشت باہر نکلا ہوا اور اعضاء الگ الگ.. جیسے کوئی یتیم بچہ صحرائی طوفان کی نذر ہو گیا ہو، میں اس کے قریب گیا، ہاتھوں سے اس کو سیدھا کیا اور چیخا کہ یہ رہا تیرا چچا ابو قدامہ، بولو بیٹا! وہ لڑکا کہنے لگا: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے وصیت سنانے کیلئے زندہ رکھا، پس غور سے سنیں… میں اس کی حالت پر رو پڑا، مجھے اس کی خوبیاں اور اس کا حسن و جمال یاد آیا، اس کی ماں کی یاد آئی کہ جس نے اپنے خاوند اور بھائیوں کا غم کاٹا اور اب اس جگر گوشے کا کاٹےگی.. میں اپنے کپڑے سے اس کے چہرے کا خون صاف کرنے لگا، کہنے لگا: چچا! اپنے کپڑے کیوں گندے کرتے ہو؟ میرے کپڑے سے پونچھو.. میرے پاس کوئی جواب نہ تھا! پھر وہ کہنے لگا: میں نے آپ سے وعدہ لیا تھا کہ میری شہادت کے بعد رقہ جائیں گے اور میری ماں کو خوشخبری دیں گے کہ اللہ نے اس کا بھیجا ہوا تحفہ قبول کر لیا ہے، اور اس کا بیٹا اللہ کی راہ میں آگے بڑھتا ہوا مارا گیا، نہ کہ پیٹھ پھیرتے ہوئے.. اگر اللہ نے میری شہادت قبول کی تو میں اپنی ماں کا سلام اپنے باپ اور اپنے مامؤوں کو پہنچاؤں گا… پھر کہنے لگا: چچا جان! مجھے ڈر ہے کہ میری ماں کو یقین نہ آئے.. آپ میرا خون آلود کپڑا ساتھ لے جانا تاکہ اسے یقین آجائے… اور اس سے کہنا کہ اب جنت میں ملیں گے… اور اے چچا جان! جب آپ میرے گھر جائیں تو میری نو سال کی ایک بہن ہے، میرے گھر آنے پر وہ خوش ہوا کرتی تھی اور نکلنے پر غمگین.. اس نے اپنے باپ کا غم دیکھا اور اب میرا دیکھے گی.. اس نے نکلتے وقت مجھ سے کہا تھا: بھیا دیر مت کرنا!
پس آپ اسے دلاسہ دیجیئےگا اور اس سے کہنا کہ میں آپ کا بھائی ہوں، پھر اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں.. اور وہ کہہ رہا تھا: چچا جان! کعبہ کے رب کی قسم! خواب سچا ہوا.. مرضیہ میرے سرہانے کھڑی ہے اور میں اس کی مہک محسوس کر رہا ہوں، پھر اس نے حرکت کی اور اس کی رگ بہہ پڑی اور اس نے جان اللہ کے سپرد کر دی، میں نے اس کے کپڑے کا ایک حصہ رکھ لیا، جب اسے دفنا چکا تو میرا سب سے بڑا کام اس کی وصیت پر عمل درآمد تھا، سو میں رقہ لوٹ گیا.. مجھے اس کی ماں کا نام اور مکان کا کچھ اتہ پتہ نہ تھا، گھومتے پھرتے میں ایک گھر کے سامنے پہنچا جس کے دروازے پر ایک بچی کھڑی تھی جو ہر گذرنے والے سے پوچھتی: چچا جان کہاں سے آرہے ہیں؟ اگر وہ کہتا جہاد سے تو اپنے بھائی کا پوچھتی، مگر کسی کو اس کے بھائی کا علم نہیں تھا، حتی کہ وہ رو پڑی.. کہنے لگی: کیا ہو گیا ہے کہ سارے لوگ آرہے ہیں مگر بھیا نہیں آرہا… میں نے اس کا حال دیکھا تو اس کے پاس گیا، مجھ سے بھی اس نے وہی پوچھا. میں نے کہا: بیٹی آپ کی والدہ کہاں ہیں؟ وہ اندر سے والدہ کو بلا لائی، اس کی والدہ آئی تو مجھے پہچان گئی اور بولی: ابو قدامہ! تعزیت کرنے آئے ہو یا خوشخبری دینے؟ میں نے پوچھا: کیا مطلب؟ وہ بولی: اگر تم مجھے بتاؤ گے کہ میرا بیٹا آگے بڑھتے ہوئے مارا گیا تو خوشخبری ہے کہ اللہ نے وہ تحفہ قبول کیا جسے میں نے سترہ سال سے تیار کر رکھا تھا، اور اگر بتاؤ گے کہ وہ صحیح سالم مال غنیمت لے کر لوٹ آیا ہے تو تعزیت ہے کہ میرا تحفہ قبول نہ ہو سکا، میں نے جواب دیا کہ: اللہ کی قسم خوشخبری لے کر آیا ہوں، میرے سامان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی: میرا نہیں خیال کہ سچ کہتے ہو، مگر سامان کھولا تو پکار اٹھی: یہ وہی کپڑا ہے جو میں نے خود اپنے لخت جگر کو پہنایا تھا، اور اللہ اکبر پکار اٹھی، اس کی خوشی دیدنی تھی، مگر نو سال کی بچی رو پڑی اور نڈھال ہو کر گر پڑی، اس کی ماں اسے اٹھا کر لے گئی اور پانی کے چھينٹے مارنے لگی، میں اس کے سرہانے بیٹھ کر قرآن پڑھنے لگا، مگر وہ اپنے بابا اور بھیا کا نام لے لے کر روتی رہی حتی کہ وہ ننھی اور معصوم بچی اپنے بھائی کا غم برداشت نہ کر سکی اور اسکی بھی روح پرواز کرگٸی.
ابو قدامہ رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ یہ ہے میرے جہادی اسفار کا سب سے حیرت انگیز واقعہ.
      کیا یہ پورا واقعہ درست ہے…

الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعہ کس زمانے کا ہے، اس کا تعین موجود نہیں، یہ واقعہ ابن جوزی رحمه اللہ کے صفوة الصفوة اور ابن نحاس کی مشارع الاشواق نامی کتابوں میں منقول ہے، ایک تاریخی واقعہ ہونے کی وجہ سے انکار کی ضرورت نہیں، البتہ کتابوں میں یہ واقعہ اس قدر تفصیل سے موجود نہیں.

  هذه القصة ذكرها بعض المؤرخين، كابن الجوزي رحمه الله في كتابه “صفوة الصفوة” (2/363)، قال: بلغنا عن أبي قدامة الشامي قال: كنت أميراً على الجيش في بعض الغزوات، فدخلت بعض البلدان فدعوت الناس إلى الغزو ورغبتهم في الثواب، وذكرت فضل الشهادة وما لأهلها، ثم تفرق الناس وركبت فرسي وسرت إلى منزلي، فإذا أنا بامرأة من أحسن الناس تنادي: يا أبا قدامة، فقلت: هذه مكيدة من الشيطان، فمضيت ولم أجب، ما هكذا كان الصالحون، فوقفت، فجاءت ودفعت إلي رقعة وخرقة مشدودة وانصرفت باكية، فنظرت إلى الرقعة فإذا فيها مكتوب: إنك دعوتنا إلى الجهاد ورغبتنا في الثواب، ولا قدرة لي على ذلك، فقطعت أحسن ما فيّ، وهما ضفيرتاي، وأنفذتهما إليك لتجعلهما قيد فرسك، لعل الله يرى شعري قيد فرسك في سبيله فيغفر لي.
فلما كانت صبيحة القتال فإذا بغلام بين يدي الصفوف يقاتل فتقدمت إليه وقلت: يا فتى أنت غلام غر راجل، ولا آمن أن تجول الخيل فتطأك بأرجلها، فارجع عن موضعك هذا.
فقال: أتأمرني بالرجوع؟ وقد قال الله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفاً فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ  وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفاً لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزاً إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ} (الأنفال:15-16).
فحملته على هجين كان معي فقال: يا أبا قدامة أقرضني ثلاثة أسهم فقلت: أهذا وقت قرض؟ فما زال يلح علي حتى قلت بشرط: إن منّ الله بالشهادة أكون في شفاعتك، قال: نعم، فأعطيته ثلاثة أسهم فوضع سهماً في قوسه وقال: السلام عليك يا أبا قدامة، ورمى به فقتل رومياً. ثم رمى بالآخر وقال: السلام عليك يا أبا قدامة فقتل رومياً، ثم رمى بالآخر وقال: السلام عليك سلام مودع.
فجاءه سهم فوقع بين عينيه فوضع رأسه على قربوس سرجه، فتقدمت إليه وقلت: لا تنسها. فقال: نعم، ولكن لي إليك حاجة: إذا دخلت المدينة فأت والدتي وسلم خرجي إليها وأخبرها، فهي التي أعطتك شعرها لتقيد به فرسك، وسلم عليها فإنها العام الأول أصيبت بوالدي، وفي هذا العام بي، ثم مات.
خلاصہ کلام

تاریخی واقعات کا انکار، یا اس کے متضاد کوئی واقعہ منقول نہ ہو، تو اس کا انکار نہیں کیا جاتا، البتہ بعض واقعات میں غیر ضروری مواد کو شامل کرکے اس میں جو ڈرامائی کیفیت پیدا کی جاتی ہے اس سے اجتناب کرنا چاہيئے.

سوال میں مذکور واقعہ فی نفسه ترغیب کیلئے بیان کیا جاسکتا ہے، البتہ بےجا طوالت سے اجتناب کیا جائے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٦جون ٢٠٢١ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں