تنبیہ نمبر 336

پھٹے ہوئے جینز پہننا

سوال
محترم مفتی صاحب!
میرا گارمنٹس کا کام ہے، ہمارے ہاں ایسا آرڈر بھی آتا ہے کہ جس میں پھٹے ہوئے جینز کی مانگ ہوتی ہے، ہمارے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ میں نے ایک روایت سنی تھی کہ قیامت کی علامات میں سے یہ ہے لوگ پھٹے ہوئے کپڑے پہنے گے۔
    کیا ایسی کوئی روایت موجود ہے؟
(سائل: صادق حسین کراچی)

الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت تو کسی کتاب میں نہیں ملی، البتہ اس کے قریب ایک روایت ملی ہے:

 میری امت پر ایک زمانہ آئےگا کہ مالدار لوگ فقیروں کا لباس مہنگے داموں خریدیں گے.

   حديث:  “سيأتي على أمتي زمن يلبس فيه الأغنياء ملابس الفقراء بأغلى الأثمان”.
   اس روایت کی اسنادی حیثیت:

یہ روایت کسی بھی مستند کتاب میں کسی بھی سند سے منقول نہیں.

   لباس کے متعلق شریعت کا حکم:

واضح رہے کہ لباس کے معاملہ میں شریعت مطہرہ نے مرد وعورت کو کسی خاص وضع اور تراش کا پابند نہیں کیا، البتہ کچھ حدود وقیود رکھی ہیں جن سے تجاوز کی اجازت نہیں، ان حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی وضع کو اختیار کرنے کی اجازت ہے، جن کا خلاصہ یہ ہے:

 ١.  لباس اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو کہ جسم کے جن اعضاء کا چھپانا واجب ہے وہ یا ان کی ساخت ظاہر ہوجائے.

 ٢.  لباس میں مرد عورتوں کی یا عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار نہ کریں.

 ٣.  کفار وفساق کی نقالی اور مشابہت نہ ہو.

 ٤.  مرد شلوار، پائجامہ یا تہبند وغیرہ اتنا نیچے نہ پہنیں کہ ٹخنے یا ٹخنوں کا کچھ حصہ چھپ جائے اور نہ ہی خواتین شلوار وغیرہ اتنی اونچی پہنیں کہ ان کے ٹخنے ظاہر ہو جائیں.

 ٥.  لباس میں سادگی ہو، تصنع، بناوٹ یا نمائش مقصود نہ ہو.

 ٦.  مالدار شخص نہ تو فاخرانہ لباس پہنے اور نہ ہی ایسا لباس پہنے کہ اس سے مفلسی جھلکتی ہو.

 ٧.  اپنی مالی استطاعت کے مطابق ہی لباس کا اہتمام ہونا چاہیئے.

 ٨.  مرد کے لئے خالص ریشم پہننا حرام ہے.

 ٩.  مرد کے لئے خالص سرخ رنگ مکروہ ہے، البتہ سرخ کے ساتھ کسی اور رنگ کی بھی آمیزش ہو تو جائز ہے.

 ١٠-  لباس صاف ستھرا ہو، نیز مردوں کے لئے سفید رنگ پسندیدہ ہے. (واللہ اعلم، فتویٰ جامعہ بنوری ٹاؤن، کراچی)

    پھٹی جینز یا اس طرح کا لباس جس میں پیوند لگے ہوئے ہوں، یہ فی زمانہ شرفاء کا لباس شمار نہیں کیا جاسکتا، لہذا اس کے پہننے اور فروخت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے.

خلاصہ کلام

اگرچہ سوال میں مذکور روایت کہیں بھی موجود نہیں، اور نہ ہی اس مضمون کی کوئی روایت ثابت ہے، البتہ اس قسم کا لباس بنانا، منگوانا اور پہننا اسلامی معاشرے کے مطابق درست عمل قرار نہیں دیا جا سکتا ہے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٩ جون ٢٠٢١ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں