تنبیہ نمبر 337

عرفہ کا روزہ اگلے سال زندگی کی گارنٹی

سوال
مندرجہ ذیل بات کی تحقیق مطلوب ہے:
مولانا منظور مینگل صاحب اپنے ایک بیان میں فرماتے ہیں کہ جس نے نو ذی الحجہ کا روزہ رکھا وہ اگلا سال ضرور جیئےگا، اور جو مرگیا اس کے رشتہ دار آکر مجھ سے پوچھ لیں…
       کیا یہ بات درست ہے؟
(سائل: محمد عمران)

الجواب باسمه تعالی

نو ذی الحجہ کے روزے کی فضیلت کے بارے میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے یہ بات وارد ہے کہ اس روزے کے رکھنے والے کیلئے ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہوگا.

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “صيامُ يومِ عرفةَ أحتسب على الله أن يُكفِّرَ السنةَ التي قبلَه، والسنةَ التي بعدَه”. (رواه مسلم(
   اگلے سال کے گناہوں کے کفارے کا مطلب:
 ١. پہلا قول:

ایک وہ سال جو گذر چکا اور ایک وہ سال جو آئندہ ہے، ان دونوں کے گناہ معاف ہونگے. علامہ نووی کہتے ہیں کہ مراد صغیرہ گناہ ہیں.

  )من صام يوم عرفة غفر الله له سنتين سنة أمامه وسنة خلفه) وفي رواية لمسلم: يكفر السنة التي قبله أي التي هو فيها، والسنة التي بعده أي التي بعدها، أي الذنوب الصادرة في العامين.
قال النووي: والمراد غير الكبائر.
 ٢. دوسرا قول:

اس بارے میں علمائےکرام کا اختلاف ہے:

 ١.  کچھ کہتے ہیں کہ اگر آئندہ سال گناہ کیا بھی تو گذشتہ روزہ کفارہ بن جائےگا.

 ٢.  اللہ تعالیٰ اگلے سال گناہوں سے محفوظ رکھینگے.

  فيض القدير (6/162) فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ «صِيَامُ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى الله أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ»، اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي مَعْنَى تَكْفِيرِ السَّنَةِ الْمُسْتَقْبَلَةِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إذَا ارْتَكَبَ فِيهَا مَعْصِيَةً جَعَلَ الله تَعَالَى صَوْمَ عَرَفَةَ الْمَاضِي كَفَّارَةً لَهَا كَمَا جَعَلَهُ مُكَفِّرًا لِمَا قَبْلَهُ فِي السَّنَةِ الْمَاضِيَةِ.. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعْنَاهُ أَنَّ الله تَعَالَى يَعْصِمُهُ فِي السَّنَةِ الْمُسْتَقْبَلَةِ عَنْ ارْتِكَابِ مَا يُحْوِجُهُ إلَى كَفَّارَةٍ.
 ٣. تیسرا قول:

اللہ تعالیٰ اس روزے سے گذشتہ دو سالوں کے گناہ معاف کردینگے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ دو سال تک گناہ سے اس کی حفاظت فرمائیں گے.

  وَأَطْلَقَ الْمَاوَرْدِيُّ فِي الْحَاوِي فِي السَّنَتَيْنِ مَعًا تَأْوِيلَيْنِ (أَحَدُهُمَا) أَنَّ الله تَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ ذُنُوبَ سَنَتَيْنِ.(وَالثَّانِي) أَنَّهُ يَعْصِمُهُ فِي هَاتَيْنِ السَّنَتَيْنِ فَلَا يَعْصِي فِيهِمَا، وَقَالَ صَاحِبُ الْعِدَّةِ فِي تَكْفِيرِ السَّنَةِ الْأُخْرَى يَحْتَمِلُ مَعْنَيَيْنِ.
 ٤. چوتھا قول:

جیسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی خاصیت تھی کہ اگلے پچھلے گناہ معاف ہوئے تھے، ایسے ہی اس روزے میں اگلے پچھلے گناہ معاف ہونگے.

  أَنَّهُ أَرَادَ سَنَةً مَاضِيَةً وَسَنَةً مُسْتَقْبَلَةً قَالَ وَهَذَا لَا يُوجَدُ مِثْلُهُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْعِبَادَاتِ أَنَّهُ يُكَفِّرُ الزَّمَانَ الْمُسْتَقْبَلَ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ خَاصٌّ بِرَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَفَرَ الله لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ بِنَصِّ الْقُرْآنِ الْعَزِيزِ. (ذَكَرَ ذَلِكَ كُلَّهُ النَّوَوِيُّ فِي شَرْحِ الْمُهَذَّبِ(
 ٥. پانچواں قول:

یہ اس روزے کی خاصیت ہے کہ گناہ ہونے سے پہلے معافی کا بندوست ہوگیا.

  وَإِمَّا أَنْ يُرَادَ بِهِ تَكْفِيرُهَا وَلَوْ وَقَعَ فِيهَا وَيَكُونُ الْمُكَفِّرُ مُتَقَدِّمًا عَلَى الْمُكَفَّرِ.. وَاَلله أَعْلَمُ. (طرح التثريب في شرح التقريب: 4/163(
 ٦. چھٹا قول:

علامہ مناوی کہتے ہیں کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ ایسا ہوجائے کہ دو سال کے گناہ معاف ہوں.

  وقال المناوي رحمه الله تعالى: (صيام يوم عرفة إني أحتسب على الله) أي أرجو منه.. قال ابن الأثير: الاحتساب على الله البدار إلى طلب الأجر وتحصيله باستعمال أنواع البر.
قال الطيبي: وكان القياس أرجو من الله فوضع محله أحتسب وعداه بعلى التي للوجوب على سبيل الوعد مبالغة في تحقق حصوله (أن يكفر السنة التي قبله) يعني يكفر الصغائر أي المكتسبة فيها (والسنة التي بعده) بمعنى أنه تعالى يحفظه أن يذنب فيها أو يعطي من الثواب ما يكون كفارة لذنوبها أو يكفرها حقيقة ولو وقع فيها ويكون المكفر مقدما على المكفر. قال صاحب العدة: وذا لا يوجد شيء مثله في شيء من العبادات. (فيض القدير: 4/230(
   اگلے سال نہ مرنے کے اقوال:

ایسی بات کسی بھی مستند حدیث کی کتاب میں سند کے ساتھ یا کسی مستند محدث سے اس حدیث کی تشریح میں منقول نہیں، بلکہ بعض کتب کے حواشی میں یہ قول نقل کیا گیا ہے، جیسے جلالین کے حاشیہ میں، اسی طرح بذل المجهود کے حاشیہ میں، اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف کی جارہی ہے، کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اگلے سال کے گناہوں کا تذکرہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خوشخبری دی گئی ہے روزہ رکھنے والے کو، کیونکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کوئی بھی بات وحی کے بغیر نہیں کرتے تھے.

  قال الشيخ أبوبكر (المشهور بالبكري) عثمان بن محمد شطا الدمياطي الشافعي رحمه الله تعالى (المتوفى: 1310هـ) في حاشية إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعين لشرح قرة العين بمهمات الدين:
وقد نقل ذلك المدابغي عن ابن عباس وعبارته (فائدة) قال ابن عباس رضي الله عنهما: وهذه بشرى بحياة سنة مستقبلة لمن صامه إذ هو صلى الله عليه وسلم بشر بكفارتها فدل لصائمه على الحياة فيها إذ هو صلى الله عليه وسلم لا ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى.

 علامہ ابن عماد نے اس قول کی نسبت بعض علماء کی طرف کی ہے کہ بعض علماء یوں فرماتے ہیں.

  قال ابن العماد: قال بعض العلماء: وفيه إشارة إلى أن من صام يوم عرفة لا يموت في ذلك العام. (المرجع: التيسير بشرح الجامع الصغير، للمناوى: 2/186( 
خلاصہ کلام

عرفے کے دن کا روزہ اور اس کی فضیلت ثابت اور یقینی ہے، لیکن قطعی طور پر اس بات کا دعویٰ کرنا کہ روزہ رکھنے والا نہیں مرےگا اور یہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے، یہ دونوں دعوے بظاہر درست معلوم نہیں ہوتے، کیونکہ سیاق حدیث میں کہیں بھی زندہ رہنے یا نہ رہنے کا کوئی تذکرہ یا اشارہ موجود نہیں.

مولانا نے بیان کے جذبات میں یہ الفاظ بیان کر لئے ہیں، ان کو احتیاط کرنی چاہیئے تھی.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

٩ ذوالحجہ ١٤٢٢

٢٠ جولائی ٢٠٢١ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں