Skip to content
Menu
تنبیہات
  • تعارف
  • تنبیہات
  • تحقیقی پوسٹ
  • کتابیات
  • مختصر نصیحت
  • ویڈیوز
  • PDF
  • جواہرالقرآن
  • بیٹھک
  • رابطہ
  • سبسکرائب
تنبیہات

تنبیہ نمبر 339

Posted on 17/08/2021 by Sikander Parvez

بابا یوسف الہروی (تین سو سالہ) کی سند

سوال
محترم مفتی صاحب!
گذشتہ کچھ دنوں سے ایک سند کی بڑی گونج ہے جس میں سولہ سترہ واسطوں سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام تک سلسلہ پہنچتا ہے، اس کی اجازات دی اور لی جارہی ہیں، آپ سے درخواست ہے کہ اس پر تحقیقی نظر فرمائیں….

الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور سند  کے چند  طرق ملے ہیں،

   پاکستانی سند:
 قال شيخ شريف الله الباكستاني اجازني الشيخ خير محمد بن محمد علي فوري ثم البهاولفوري الباكستاني ثم المكي قال الشيخ خير محمد اجازني العالم المغربي المعروف الشيخ محمد عبدالحي الكتاني بالمدينة المنورة قال اجازني الشيخ الشهاب احمد بن صالح البغدادي بالمكة المكرمة قال اجازني الحافظ محمد مرتضي الزبيدي الحسني قال اجازني محمد بن سِنّه الفلاني قال اجازني احمد بن العَجِل عن القطب اليمني النهروالي عن احمد بن ابي الفتوح الطاوسي عن بابا يوسف الهروي الذي يقال انه عاش ثلاثمأة سنة عن محمد بن شاذ بخت الفاسي الفرغاني عن يحيي بن شاهان الختلاني عن محمد يوسف الفربري عن محمد بن اسماعيل البخاری.
   مدنی سند:
وأرويه عاليا عن والدي رحمه الله تعالى عن السيد نذير حسين بالإجازة العامة عن شيخه عبدالرحمن الكزبري بالإجازة العامة، عن صالح العمري الفلاني عن شيخه ابن سنة عن المعمر أبي الوفاء أحمد بن محمد بن العجل اليماني عن قطب الدين محمد بن أحمد المكي عن الحافظ أبي الفتوح نور الدين أحمد بن عبدالله بن أبي الفتوح الطاؤسي عن المعمر ثلاث مئة سنة بابا يوسف الهروي (المعروف بسهسالة) عن المعمر مئة وثلاثة وأربعين سنة محمد بن شاذ بخت الفارس الفرغاني عن أبي لقمان يحيي بن عمار بن مقبل بن شاهان الفارسي الختلاني عن الفربري عن البخاري قال: حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ جِدَارُ الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ مَا كَادَتْ الشَّاةُ تَجُوزُهَا
وهذا الإسناد أعلى الأسانيد إلى صحيح البخاري في القرون المتأخرة على غرابة فيه.
   تیونس کی سند:
الإجازات المشهورة في تونس إجازة الأستاذ الإمام العلامة المرحوم الشيخ محمد الطاهر عاشور المتوفى سنة 1394 في صحيح البخاري ومسلم عن طريق الحافظ  الجليل الشيخ محمد صالح الرضوي البخاري السمرقندي وعن عمر بن عبدالكريم عن محمد بن سنة عن أحمد بن موسى بن عجين اليفاني عن محمد الرهواني عن محمد الطاوسي عن بابا يوسف الهروي عن محمد بن شاذ بخت الفرغاني عن يحيى الختلاني عن محمد بن يوسف الفربوي عن الإمام محمد بن إسماعيل البخاري وعن الإمام مسلم الحجاج القشيري بما في صحيحهما. ولا يعرف سند غير هذا السند يتصل بالإمامين البخاري ومسلم رضي الله عنهما.
وبهذا السند يكون بين الشيوخ محمد الطاهر ابن عاشور وبين رسول الله خمسة عشر راويا. وقد أجاز الشيخ بسنده هذا مئات من علماء تونس والجزائر والمغرب الأقصى وهي عادة العلماء عندنا في تونس.
   ایک اور پاکستانی سند:
عبدالمنان النورفوری نا حافظ محمد الکوندلوی، نا عبدالمنان الوزیر آبادی، عن عبدالحق البنارسی، عن الامام الشوکانی، عن السید عبدالقادر بن أحمد عن محمد بن الطیب عن محمد بن احمد الفاسی عن احمد بن محمد العجل عن القطب النهروالی عن أبی الفتوح عن بابا یوسف الهروی عن محمد بن شاذبخت عن یحیی بن عمار عن الفربری عن الإمام البخاری۔

(چونکہ شیخ کا تعلق مسلک اہل حدیث سے تھا تو ان کے شاگرد اس سند پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں)

اس سند کے اعتبار سے شیخ نوپوری رحمه اللہ اور امام بخاری کے درمیان صرف چودہ واسطے تھے اور انکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درميان ثلاثیات بخاری کے اعتبار سے اٹھارہ وسائط بنتے ہیں. لیکن یہ سند انتہائی ضعیف، مسلسل بالعلل ہے کیونکہ یہ صوفیاء ومجاہیل سے بھری پڑی ہے. اسی وجہ سے حافظ صاحب نے علم ہوتے ہی اسے بیان کرنا ترک فرما دیا تھا.

 ان کے علاوہ بھی مختلف طرق اس سند کے ذکر کئے جاتے ہیں، جن میں بعض میں شاہ ولی رحمه اللہ کو بھی ذکر کیا جاتا ہے، یہ شیخ فادانی کا سلسلہ ہے جن کا 1410 میں انتقال ہوا ہے.

   ان اسناد پر اعتراضات:

 ١. پہلا اعتراض:

اس سند کا گیارہویں یا بارہویں صدی سے قبل نہ کوئی تذکرہ تھا نہ کوئی وجود.

 ٢. دوسرا اعتراض:

ان تمام اسانید کی لڑی اور کڑی جن تین اشخاص پر جا کر جمع ہوتی ہے، وہ تینوں مجہول الحال اور محدثین کے اسماء الرجال کی کتابوں میں کہیں موجود ہی نہیں.

 ٣. تیسرا اعتراض:

ان اسانید میں تاریخی اعتبار سے اس قدر انقطاع ہے کہ جس کو کسی طرح بھی ختم کرنا ممکن نہیں، لہذا یہ اسانید منقطعہ ہیں نہ کہ متصلہ.

 ٤. چوتھا اعتراض:

ان اسانید میں اجازات عامہ لأهل زمان کی صورتیں زیادہ ہیں، بنسبت اجازات خاصہ کے.

 دوسرے اعتراض کی تفصیل:

تین راوی ایسے ہیں کہ جن کے احوال اور حالات کچھ بھی معلوم نہیں، یہ مجہول الحال راوی ہیں، اور صوفیاء کی کتب میں ان کا تذکرہ ملتا ہے.

 ١.  شیخ المعمر بابا یوسف الهروی المعروف بہ سہ صد سالہ.

 ٢.  المعمر محمد بن شاد بخت الفرغانی الفارسی.

 ٣.  ابی لقمان یحیي بن عمار بن مقبل بن شاهان الختلانی.

              ١. الختلانی:

ان کے متعلق کسی بھی مستند کتاب میں کوئی حالات نہیں ملتے، بس سند بیان کرنے والے کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کی عمر 143 سال تھی، اور انہوں نے 320 ہجری میں شیخ الفربری سے ان کی وفات کے سال میں سماع کیا، اس اعتبار سے ان کی وفات 458 ہجری بنتی ہے، کیونکہ کم از کم سماع پانچ سال کی تو ہوگی، اور اہل زمان کی اجازت میں شامل کیا جائے تو 463 ہجری وفات کا سال ہے.

          ٢. الفرغانی:

یہ بھی مجہول الحال شخصیت ہیں، ان کی عمر 140 سال تھی، انہوں نے 458 ہجری میں شیخ الختلانی سے سماع کیا، تو گویا ان کی وفات تقریبا 600 ہجری میں ہوئی.

 ان دونوں راویوں کا بخاری کے رواة میں کسی بھی محدث یا مؤرخ نے تذکرہ نہیں کیا جیسے ابن حجر عسقلانی کی فتح الباری کا مقدمہ، یا معجم المفہرس، ابن نقطہ کی التقیید اور فارسی کی ذیل التقیید جیسی کتب میں ان کا تذکرہ موجود نہیں.

         ٣. بابا یوسف الہروی:

انہوں نے 600 ہجری میں شیخ الفرغانی سے اجازت عامہ لی، اور پھر 300 سال زندہ رہے، گویا 900 ہجری تک موجود رہے.

ان کے متعلق امام سخاوی کی عبارت ملتی ہے کہ طاووسی نے ان سے 822 ہجری میں ہرات میں ان کے گھر ملاقات کی، اور وہ کہتے ہیں کہ ان کی عمر 300 سال سے زائد تھی، اور ان سے طاووسی نے اجازت عامہ لی.

   بابا یوسف الہروی کا کتب میں تذکرہ:

صوفیاء کرام کی کتب میں خرقہ پوشی کے تذکرے میں ان کا تذکرہ آتا ہے، طاوسی کہتے ہیں کہ میں نے بابا یوسف الہروی کے ہاتھوں سے خرقہ پہنا، اسی طرح شیخ ابو الفتوح نے بابا یوسف سے خرقہ پہنا.

  وفي “عقد الجوهر الثمين في الذكر وطرق الإلباس والتلقين” للحافظ مرتضى لدى حرف الجيم أنه يروي الطريقة الجامية من طريق قطب الدين النهروالي عن أبيه عن أبي الفتوح الطاوسي، قال: لبستها أي خرقتها من يد المعمر بابا يوسف الهروي، وهو من يد صاحب الطريقة يعني شيخ الإسلام قطب الدين أحمد النامقي الجامي. قال الحافظ المذكور: وهو أعلى ما يوجد الآن، وكذا ذكر لدى كلامه على الطريقة الكبروية من حرف الكاف أن أبا الفتوح لبس خرقتها من يد المعمر بابا يوسف الهروي، وهو عن صاحبها الإمام أبي الجناب نجم الدين أحمد بن عمر الخوارزمي المعروف بالطامة الكبر.

 حافظ مرتضی زبیدی نے تاج العروس میں یحیى بن شاہان الختلانی کا تذکرہ کیا کہ ان سے تین سو سالہ بابا یوسف الہروی نے اور ان سے طاوسی نے بخاری روایت کی ہے.

  الحافظ الزبيدي في مادة “شوه” من تاج العروس (9/396) يحيى بن شاهان الختلاني قال: وعنه الشيخ المعمر ثلاثمائة سنة بابا يوسف الهروي وذكره الشيخ أبو الفتوح الطاوسي ومن طريقه روينا البخاري عالياً.

 امام زبیدی نے اس علو اسناد کو علو غریب قرار دیا ہے.

  علق الإمام الزبيدي على هذا السند بقوله: ومن طريق شيخنا هذا؛ نروي صحيح البخاري بعلو غريب.

 ابن بطوطہ لکھتے ہیں کہ وہ اپنے سفر کے دوران 757 میں ہرات سے ہند جاتے ہوئے  ایک پہاڑ پر پہنچے، وہاں ایک زاویہ بنا تھا جہاں ایک شخصیت تھی جن کو اولیاء کا باپ کہا جاتا تھا، اور ان کی عمر 350 سال مشہور تھی، لوگ ان کے بارے میں اچھا اعتقاد رکھتے تھے اور دور دراز سے بادشاہ اور خوانین ان کی زیارت کو آتے تھے.

 ہم جب ان سے ملے تو ان کا جسم بہت نرم ملائم تھا، ان کی عمر پچاس سال سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی، مشہور تھا کہ ہر سو سال کے بعد ان کے بال اور دانت نکل آتے ہیں.

 ہم نے ان سے روایات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کچھ قصے سنائے، جن سے مجھے ان کے بارے میں شک پیدا ہوا.

  رحلة ابن بطوطة التي فرغ من إملائها سنة 757 أن ابن بطوطة وصل في سفره من هراة إلى الهند إلى جبل يشاء ووجد به زاوية الشيخ الصالح أطا أولياء، ومعناه بالتركية الأب وأولياء باللسان العربي، معناه أبو الأولياء، ويسمى أيضاً بسيصد صاله، ومعناه بالفارسية ثلاثمائة سنة، وهم يذكرون أن عمره ثلاثمائة وخمسون عاماً، ولهم فيه اعتقاد حسن ويأتون لزيارته من البلاد والقرى، ويقصده السلاطين (والخوانين) وأكرمنا ونزلنا على نهر عند زاويته، ودخلنا إليه فسلمت عليه وعانقني، وجسمه رطب لم أر ألين منه، ويظن رائيه أن عمره خمسون سنة، وذكر لي أنه في كل مائة سنة ينبت له الشعر والأسنان، وسألته عن رواية الحديث فأخبرنا بحكايات، وشككت في حاله.. والله أعلم بصدقه.
 طاوسی اور ابن بطوطہ جن سے ملے وہ ایک ہی شخص ہے یا الگ الگ:

طاوسی کا دعویٰ ہے کہ وہ 822 ہجری میں بابا یوسف سے ملا تھا، جبکہ ابن بطوطہ نے 757 ہجری میں ان سے ملاقات کے احوال ذکر کئے، اور انہوں نے لکھا کہ لوگ یہ دعویٰ کررہے تھے کہ ان کی عمر 350 سال تھی، ان کے تقریبا ستر سال کے بعد طاوسی کی ملاقات ہوئی ہے، گویا اس وقت ان کی عمر 400 سال سے زائد ہوگئی، لیکن اس کا تذکرہ کسی نے نہیں کیا، اب یہ ایک ہی شخصیت تھی یا دو شخصیات یہ بھی تاریخی معمہ ہے.

   اسناد میں انقطاع اور اجازت لاہل زمان کی صورتیں:

احمد بن العجل الیمنی قطب الدین النہروالی سے سات سال کی عمر میں اجازہ عامہ لاہل زمان کی صورت میں نقل کرتے ہیں، کیونکہ یمنی کی پیدائش 983 ہجری کی ہے، اور نہروالی رحمه اللہ کا انتقال 990 ہجری میں ہوا ہے.

  ١.  أحمد بن العجل اليمني المولود سنة (983 هـ) والمتوفى سنة (1074 هـ) كما في ترجمته من خلاصة الأثر 1/346 – 347)، يروي عن قطب الدين النهروالي (المتوفى سنة:990 هـ) بالإجازة العامة لأهل العصر لا بالخاصة، كما بينه الكتاني في فهرس الفهارس (2/853)، وفي منح المنة (ص:9)، وفيها من الضعف ما لا يخفى.

 نہروالی اور طاووسی کے درمیان انقطاع ہے کہ نہروالی کی پیدائش 917 ہجری میں ہوئی، جبکہ طاووسی کا انتقال 871 میں ہوا، گویا نہروالی اور طاووسی کے درمیان 46 سال کا عرصہ ہے.  

 ٢.  قطب الدين محمد بن علاء الدين النهروالي المكي المولود سنة (917 هـ) والمتوفى سنة (990 هـ) كما في فهرس الفهارس (2/948) لا يمكن أن تكون له رواية عن أبي الفتوح الطاووسي، لأن الطاووسي توفي نحو سنة (871 هـ) كما في الضوء اللامع (1/360 – 361)، فيكون قطب الدين النهروالي قد ولد بعد وفاة الطاووسي بنحو ست وأربعين عاماً.

 اسی طرح نہروالی نے جب اپنی متصل سند طاووسی سے ذکر کی ہے اس میں دونوں کے درمیان دو واسطے ہیں، نہروالی کے والد علاء الدین النہروالی اور ابی یزید بن محی الدین الانصاری کا.

  ومن ناحية أخرى فإن قطب الدين النهروالي نفسه روى في ثبته عن والده علاء الدين النهروالي عن قطب الدين أبي يزيد بن محي الدين الأنصاري عن أبي الفتوح الطاووسي، كما في فهرس الفهارس (2/949)

 طاووسی نے بابا یوسف الہروی سے اجازت عامہ کے ذریعے سے ہی اجازت لی ہے، جو کہ بابا یوسف نے تین سو سال قبل فرغانی سے اجازت عامہ کے ذریعے حاصل کی.

  المعمر بابا يوسف الهروي، يقول الحافظ السخاوي في ترجمته في الضوء اللامع (10/319) ما نصه: (يوسف بن عبدالله الضياء بن الجمال الهروي، ويعرف ببابا يوسف، لقيه الطاووسي في سنة اثنتين وعشرين وثمانمائة بمنزله في ظاهر هراة، وذكر له أنه زاد سنه على ثلاثمائة بسبع سنين، استظهر الطاووسي لذلك بأن عدة من شيوخ بلده قالوا: نحن رأيناه في طفولتنا على هيئته الآن، وأخبرنا آباؤنا بمثل ذلك، وحينئذٍ قرأ عليه الطاووسي شيئاً بالإجازة العامة) فيستفاد من كلام السخاوي هذا أن الهروي المذكور ليس من أهل العلم والرواية في شيء، وإنما روى عنه الطاووسي بروايته عمن أدرك حياتهم ممن أجازوا لأهل عصرهم، وقد أشار الكتاني في منح المنة (ص:9) إلى أن رواية الهروي عن الفرغاني هي بالعامة لأهل العصر.
   خلاصہ سلسلہ السند:

 ١.  شیخ کتانی ولادت 1302 ہجری، وفات 1382.

 ٢.  الشیخ الشہاب احمد بن صالح البغدادی غالبا 1215 کے بعد ہی پیدائش ہے.

 ٣.  حافظ مرتضی الزبیدی  1145، وفات 1205.

 ٤.  محمد بن سنة ولادت 1042، وفات 1067.

 ٥.  محمد بن العجل الیمنی ولادت 983، وفات 1074.

 ٦.  قطب الدین النہروالی، ولادت 917، وفات 990.

 ٧.  الطاووسی ولادت، وفات 871.

 ٨.  بابا یوسف الہروی ولادت تخمینہ 515 ہجری، وفات 822 ہجری.

 ٩.  الفرغانی ولادت تخمینہ 450، انتقال 590 تقریبا.

 ١٠.  الختلانی ولادت اندازاً 315، وفات 458.

 ١١.  الفربری ولادت 231، وفات 320.

 اس سند میں انقطاع در انقطاع ہے.

 ١. پہلا انقطاع:

شہاب احمد بن صالح البغدادی کی پیدائش ہی زبیدی رحمه الله کے انتقال کے بعد ہوئی ہے.

 ٢. دوسرا انقطاع:

حافظ مرتضی زبیدی اور محمد بن سنہ کے درمیان انقطاع.

 ٣. تیسرا انقطاع:

محمد بن سنہ اور محمد بن العجل الیمنی کے درمیان انقطاع.

 ٤. چوتھا انقطاع:

نہروالی اور طاووسی کے درمیان انقطاع.

 ٥. پانچواں انقطاع:

طاووسی اور فربری کے درمیان 600 سال کے زمانے کو تین مجہول الحال شخصیات کے ذریعے ختم کیا گیا ہے.

خلاصہ کلام

 ہماری تحقیق کے مطابق اس سند میں انقطاع اور مجاہیل کی موجودگی میں اس سند کو کسی طور بھی عالی سند نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ علم الرجال کا علم رکھنے والا شخص معمولی سی کوشش سے یہ جان سکتا ہے کہ اس سند میں کس قدر سقم ہے، لہذا اس سند کی بنیاد پر اجازات کی تقسیم کسی طور بھی درست معلوم نہیں ہوتی.

باقی ہمارے زمانے میں سند کو عالی کرنے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں اس پر اگلے مضمون میں کلام کرینگے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

١٦ اگست ٢٠٢١ کراچی


Share on:
WhatsApp
fb-share-icon
Tweet
جلد7

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تلاش کریں

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

حالیہ تنبیہات

  • تنبیہ نمبر 390
  • تنبیہ نمبر 389
  • تنبیہ نمبر 388

شئیر کریں

Facebook
Facebook
fb-share-icon
Twitter
Post on X
YouTube
Telegram
©2025 تنبیہات | Powered by Superb Themes