تنبیہ نمبر45

حصہ اول

جمعۃالوداع کے موقعہ پر چند مشہور غیر مستند اعمال کی تحقیق:
١. جمعۃالوداع  کا حکم

شریعت میں “جمعۃالوداع” کے نام سے  کوئی اصطلاح نہیں پائی جاتی بلکہ یہ ایک نیا نام اور نئی اصطلاح ہے اور اس میں جو مخصوص نمازیں یا مخصوص امور انجام دئے جاتے ہیں یہ سب بے بنیاد ہیں.

قرآن و سنت اور سلف صالحین کے آثار اور اہل علم کے اقوال کی روشنی میں جو بات صحیح ثابت ہوتی ہے وه یہ کہ اللہ تعالی نے جن عبادات کو فرض قرار دیا ہے جیسے صوم و صلاۃ وغیرہ ان کی پابندی کی جائے اور اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ نے جن نوافل کو سنت و مستحب قرار دیا ہے ان کا اہتمام کیا جائے.

اس کے علاوہ لوگوں نے دین کے اندر عبادت کے نام پر جو نئی نئی چیزیں ایجاد کر لی ہیں وه بدعت ہیں اور بدعتی عمل اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوتا.

علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
قال العلامۃ عبد الحی اللکھنوی:

 خطبہ وداع کا اہتمام کرنا جیسا کہ اس زمانے میں مروج ہے اور اس کو حد التزام تک پہنچانا ابتداع سے خالی نہیں.علمائے معتمدین کو لازم ہے کہ اس طریقے کے التزام کو چهوڑدیں تا کہ عوام اس کے مستحب اور سنت بلکہ ضروری ہونے کے اعتقاد سے نجات پائیں۔ 

(مجموعۃ الفتاویٰ ص۱۷۹ جلد۲ کتاب الحظر والاباحۃ)
مولانا یوسف لدہیانوی صاحب فرماتے ہیں

عوام میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ بڑی اہمیت کے ساتھ مشہور ہے ، اور اس کو ”جمعۃالوداع“ کا نام دیا جاتا ہے. لیکن احادیثِ شریفہ میں ”آخری جمعہ“ کی کوئی الگ خصوصی فضیلت ذکر نہیں کی گئی، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آخری جمعہ یا جمعۃالوداع کا جو تصوّر ہمارے یہاں رائج ہے، حدیث شریف میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ رمضان کے آخری جمعہ کا نام ”آخری جمعہ“ یا ”جمعۃالوداع“ کب سے جاری ہوا؟ اور یہ نام کیوں رکھا گیا؟ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ مشکوٰة شریف کی ایک حدیث میں آتا ہے کہ: ”رمضان المبارک کے ختم ہونے کے بعد سے (یعنی عید کے دن سے) اگلے رمضان المبارک کے لئے جنت کو آراستہ کرنا شروع کردیا جاتا ہے۔“

یہ روایت کمزور ہے، لیکن اس حدیث کے مطابق گویا جنت اور اہلِ جنت کا نیا سال عیدالفطر کے دن سے شروع ہوتا ہے، اور رمضان المبارک پر ختم ہوتا ہے، اس لئے گویا جنت کی تقویم کے مطابق ماہِ رمضان المبارک سال کا آخری مہینہ ہے، اور اس کا آخری جمعہ سال کا آخری جمعہ ہے۔ (واللہ اعلم!) اور یہ بهى ممکن ہے کہ آخری جمعہ کے بعد رمضان المبارک کے ختم ہونے میں ہفتے سے کم دنوں کا وقفہ رہ جاتا ہے، اس لئے آخری جمعہ گویا ماہِ مبارک کے فراق و وداع کی علامت ہے، اور یہ کچھ خبر نہیں کہ آئندہ یہ سعید گھڑیاں کس کو نصیب ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں کی عادت ہے کہ وہ آخری جمعہ کے خطبہ میں رمضان المبارک کے فراق و وداع کے مضامین بڑے رقت آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں.لیکن حضراتِ فقہاء نے آخری جمعہ میں فراق و وداع کے مضامین بیان کرنے کو مکروہ لکھا ہے.مولانا زوّار حسین صاحب  اپنی کتاب ”زبدة الفقہ“ میں لکھتے ہیں:

”رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے خطبہ میں وداع و فراق کے مضامین پڑھنا آنحضرت ﷺ و اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم و سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے.اگرچہ فی نفسہ مباح ہے، لیکن اس کے پڑھنے کو ضروری سمجھنا اور نہ پڑھنے والے کو مطعون کرنا بُرا ہے. اور بهى کئی بُرائیاں ہیں، ان خرابیوں کی وجہ سے ان کلمات کا ترک لازمی ہے، تاکہ ان خرابیوں کی اصلاح ہوجائے۔“ (زبدة الفقہ ج:۲ ص:۲۰۶)

 ۲. قضائے عمری کا حکم

رمضان کے آخری جمعے کو نمازوں کی قضا کرنے کو  تمام عمر کی قضا نمازوں کا کفارہ قرار دیا جاتا ہے اور اس متعلق ایک روایت پیش کیجاتی ہے.

یہ روایت اور نماز درست نہیں.
حديث : من قضى صلوات من الفرائض في آخر جمعة من رمضان كان ذلك جابرا لكل صلاة فائتة من عمره إلى سبعين سنة.

ملاعلی قاری صاحب فرماتے ہیں کہ یہ نماز با لکل باطل ہے اور کسی کتاب میں نقل ہونا اسکی صحت کی علامت نہیں.

 قال علي القاري في (موضوعاته الصغرى والكبرى) : باطل قطعيا ، لأنه مناقض للإجماع على أن شيئا من العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات ، ثم لا عبرة بنقل صاحب (النهاية) ولا بقية شراح (الهداية) لأنهم ليسوا من المحدثين ولا أسندوا الحديث إلى أحد من المخرجين . انتهى

علامہ شوکانی اپنی کتاب فوائد المجموعہ فی الاحادیث  الموضوعہ میں اس روایت  کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ روایت من گھڑت ہے.

وذكره الشوكاني في (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة) بلفظ : من صلى في آخر جمعة من رمضان الخمس صلوات المفروضة في اليوم والليلة قضت عنه ما أخل به من صلاة سنة .
وقال : هذا موضوع بلا شك ولم أجده في شيء من الكتب التي جمع مصنفوها فيها الأحاديث الموضوعة ، ولكن اشتهر عند جماعة من المتفقهة بمدينة صنعاء في عصرنا هذا ، وصار كثير منهم يفعلون ذلك، ولا أدري من وضع لهم ، فقبح الله الكذابين انتهى.

علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت مختلف دعاؤں کی کتابوں میں لکھی گئی ہے لیکن یہ روایت من گھڑت ہے

قال اللكنوي : وقد ألفت لإثبات وضع هذا الحديث الذي يوجد في كتب الأوراد والوظائف بألفاظ مختلفة مختصرة ومطولة بالدلائل العقلية والنقلية رسالة مسماة ب(ردع الأخوان عن محدثات آخر جمعة رمضان) وأدرجت
فيها فوائد تنشط بها الأذهان وتصغي إليها الآذان فلتطالع فإنها نفيسة في بابها رفيعة الشأن.
٣.  جمعہ الوداع کے موقع کی دعا

سوال : سوشل میڈیا پہ جمعہ الوداع کو پڑہى جانے والی دعا کے نام سے ایک دعا گردش کر رہی ہےکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا ،وہ دن رمضان کا آخری جمعہ تھا.اللہ کے رسول کی نگاہ مجھ پر پڑی تو فرمایا کہ اے جابر یہ ماہ رمضان کا آخری جمعہ ہے، پس رمضان کو الوداع کرو اور کہو:

اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ صِيَامِنَا إِيَّاهُ، فَإِنْ جَعَلْتَهُ فَاجْعَلْنِي‏ مَرْحُوماً وَ لَا تَجْعَلْنِي مَحْرُوماً “. الخ.

اس کی کیا حقیقت ہے؟

مفتی عارف محمود گلگتی صاحب کا جواب:

مذکورہ دعا من گھڑت ہے، احادیث مبارکہ کی کسی بهى کتاب میں اس کا تذکرہ نہیں، لہذا اس کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا اور نقل کرنا جائز نہیں.

البتہ روافض کی بعض کتابوں میں یہ دعا نقل کی گئی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :

خبر وداع شہر رمضان

قال محمد بن علي بن الحسين بن موسى بن بابويه القمي الشيخ الصدوق الرافضي حدثنا أحمد بن محمد بن السعيد الهمداني مولى بني هاشم عن جابر بن يزيد عن أبي الزبير المكي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِي
قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ( صلَّى الله عليه و آله و سلم ) فِي آخِرِ جُمُعَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا بَصُرَ بِي قَالَ لِي: “يَا جَابِرُ، هَذَا آخِرُ جُمُعَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَوَدِّعْهُ وَقُلِ:
” اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ صِيَامِنَا إِيَّاهُ، فَإِنْ جَعَلْتَهُ فَاجْعَلْنِي‏ مَرْحُوماً وَ لَا تَجْعَلْنِي مَحْرُوماً “
فَإِنَّهُ مَنْ قَالَ ذَلِكَ ظَفِرَ بِإِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ، إِمَّا بِبُلُوغِ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَ إِمَّا بِغُفْرَانِ اللَّهِ وَ رَحْمَتِهِ”.
( فضائل الأشهر الثلاثة، ص:  139،رقم:149).
ونقله أيضا ابن طاووس الحسني الرافضي إقبال الأعمال 2/202، و ميرزا حسين الطبرسي الرافضي في مستدرك الوسائل، رقم: 8702،
ومحمد بن حسن الحر العاملي في وسائل الشيعة، رقم : 13620)

حصہ دوم

٤. عید کے موقعہ پر چند مشہور غیر مستند اعمال
عید کی صبح  100 بار استغفار کرنے سے تمام گناہوں کی معافی.

یہ روایت بھی من گھڑت ہے.

استغفر في يوم عيد بعد صلاة الصبح مائة مرة لا يبقى في ديوانه شيء من الذنوب إلا مُحي عنه ، ويكون يوم القيامة آمنا من عذاب الله . 
عید کے دن 300 بار سبحان اللہ وبحمدہ پڑھ کر مردوں کو بخشنا.

یہ روایت بھی ثابت نہیں ہے.

وقال الفشني في تحفة الأخوان عن أنس رضي الله تعالى عنه ، عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال ” ( زينوا العيدين بالتهليل والتقديس والتحميد  والتكبير ) وعن النبي صلى الله عليه وسلم ( من قال سبحان الله وبحمده ثلاثمائة مرة وأهداها لأموات المسلمين دخل في كل قبر ألف نور ، ويجعل الله تعالى في قبرة إذا مات ألف نور ( .
لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ 400 بار پڑھنا

یہ روایت بھی ثابت نہیں.

وقال الزهري : قال أنس : قال النبي صلى الله عليه وسلم ( من قال في كل واحد من العيدين : لا إله إلا الله وحده لاشريك له ، له الملك وله  الحمد يحي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير ، وهو على كل شيء قدير( أربعمائة مرة ) قبل صلاة العيد زوجه الله تعالى أربعمائة حوراء ،  وكأنما أعتق أربعمائة رقبة ، ووكل الله تعالى به الملائكة يبنون له المدائن ، ويغرسون له الأشجار إلى يوم القيامة ) قال الزهري : ماتركتها منذ  سمعتها من أنس . وقال أنس رضي الله تعالى عنه ماتركتها منذ سمعتها من النبي صلى الله  عليه وسلم
الجواب : ذكره الصفوي
 في الكتاب : نزهة المجالس ومنتخب النفائس لم يذكر سنده
ولهذا أجمع العلماء أن الحديث لا يثبت إلا إذا صحّ سندهأحياناً يقولون في بعض الأحاديث: «لا أصل له» بمعنى: أنَّه لا إسناد له يُرفع إلى النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم، وقد يكون موقوفاً أو مقطوعاً أو حكاية، وقد يكون بمعنى لا إسناد له أصلاً، إنّما عرف في الكتب، واشتهر على ألسنة الأطباء، أو ألسنة القصاصين، أو على ألسنة العباد والوعَّاظ، وقد يكون بمعنى لا أصل له.
خلاصہ کلام

اس پوسٹ میں لکھی گئی تمام باتیں سندا درست اور ثابت نہیں لہذا تمام اہل ایمان ایسی چیزوں کو پھیلانے سے اجتناب کریں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
2 شوال 1438

اپنا تبصرہ بھیجیں