تنبیہ نمبر55

جیسے اعمال ویسے حکمران

سوال:
کہا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں لوگ جب صبح کو بیدار ہوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی تو یہ پوچھتے: “گذشتہ رات کون کون قتل کیا گیا؟ کس کس کو کوڑے لگے؟” ولید بن عبدالملك مال، جائیداد اور عمارتوں کا شوقین تھا، اس کے زمانے میں لوگ صبح ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کے بارے میں پوچھتے تھے. سلیمان بن عبدالملك کھانے، پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا، اس کے دور میں لوگ ایکدوسرے سے اچھے کھانے، رقص وسرود اور ناچنے والیوں کا پوچھتے تھے. جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمه اللہ کا دور آیا تو لوگوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی تھی:
“تم نے قرآن کتنا یاد کیا؟ ہر رات کتنا ورد کرتے ہو؟ رات کو کتنے نوافل پڑہے؟”
اس سب سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ عوام اپنے حکمرانوں کےنقش قدم پر چلتے ہیں. ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:  “غالناس علی دین ملوکہم“. کیا یہ سب مضمون درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

اس مضمون میں دو  چیزیں ہیں: ایک وہ روایت جس میں حکمرانوں کے اعمال کا عوام پر اثر انداز ہونا بتایا گیا ہے اور دوسرا مختلف حکمرانوں کے زمانے کے حالات بتائے گئے ہیں.

روایت کی تحقیق:
١.   “النَّاسُ على دينِ مَليكِهِم”.
– المحدث: السخاوي.
– المصدر: المقاصد الحسنة.
– الصفحة أو الرقم: 517
– خلاصة حكم المحدث: لا أعرفه حديثا.
٢.  “الناسُ على دينِ ملوكِهمْ أوْ ملكِهمْ”.
– المحدث: ملا علي قاري.
– المصدر: الأسرار المرفوعة.
– الصفحة أو الرقم: 352
– خلاصة حكم المحدث: قيل لا أصل له أو بأصله موضوع.
٣.  “الناسُ على دينِ مليكِهِمْ أوْ ملوكِهِم”.
– المحدث: محمد بن محمد الغزي.
– المصدر: إتقان ما يحسن.
– الصفحة أو الرقم: 2/660
– خلاصة حكم المحدث: ليس بحديث.

اس روایت میں “ابن زبالة”  نامی ایک راوی ہے جس کو محدثین نے انتہائی کمزور ناقابل قبول قرار دیا ہے.

من طريق ابن زبالة وهو متروك الحديث، وهو معروف بمحمد بن الحسن بن زبالة، وهو متروك متهم.
مضمون کے واقعے کی تحقیق:

● حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ کی کتاب میں یوں نقل کیا ہے:

ولید کو تعمیرات کا شوق تھا  تو لوگوں میں تعمیرات کا شوق پیدا ہوا.

قال الحافظ ابن كثير رحمه الله في البداية والنهاية:
قالوا: وكانت همة الوليد في البناء وكان الناس كذلك، يلقى الرجل الرجل فيقول: ماذا بنيت، ماذا عمرت.

●  سلیمان بن عبدالملک میں عورتوں کا شوق زیادہ تھا تو لوگوں میں نکاح اور باندیوں کا چرچا ہونے لگا.

وكانت همة أخيه سليمان في النساء وكان الناس كذلك، يلقى الرجل الرجل فيقول: كم تزوجت، ماذا عندك من السرارى.

●  عمر بن عبدالعزيز رحمه اللہ کا جذبہ عبادت کا تھا تو لوگوں میں وہی جذبہ پیدا ہوا.

وكانت همة عمر بن عبدالعزيز في قراءة القرآن وفي الصلاة والعبادة؛ وكان الناس كذلك، يلقى الرجل الرجل فيقول: كم وردك، كم نقرأ كل يوم، ماذا صليت البارحة؟

●  ابن کثیر رحمه اللہ لکھتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ بادشاہ جس مزاج کا ہوگا لوگوں میں وہی مزاج پیدا ہوگا، یہ بات چند لوگوں کی حد تک تو درست ہے لیکن عمومی نہیں ہے.

والناس يقولون: الناس على دين مليكهم؛ إن كان خمارا كثر الخمر وإن كان لوطيا فكذلك، وإن كان شحيحا حريصا كان الناس كذلك، وإن كان جوادا كريما شجاعا كان الناس كذلك، وإن كان طماعا ظلوما غشوما فكذلك، وإن كان ذا دين وتقوى وبر وإحسان كان الناس كذلك، وهذا يوجد في بعض الأزمان وبعض الأشخاص… والله أعلم.

اس قول کی نسبت کس کی طرف کی جاسکتی ہے

●  فضیل بن عياض کہتے ہیں کہ اگر میری ایک دعا یقینی قبول ہوتی تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ حکمران زیادہ حقدار ہیں کہ ان کیلئے مانگی جائے، کیونکہ ان کے بگڑنے سے نظام بگڑتا ہے اور ان کے سنورنے سے نظام بہتر ہوتا ہے.

وروينا عن الفضيل أنه قال: لو كانت لي دعوة صالحة لرأيت السلطان أحق بها إذ بصلاحه صلاح الرعية وبفساده فسادهم.
ويتأيد بما للطبراني في الكبير والأوسط عن أبي أمامة مرفوعا: لا تسبوا الأئمة وادعوا لهم بالصلاح، فإن صلاحهم لكم صلاح.
ھذا ضعیف

●  بیہقی نے کعب أحبار سے نقل کیا ہے کہ ہر زمانے کے بادشاہ کو اللہ تعالی اس زمانے کے لوگوں کے حالات کے مطابق بناتے ہیں، اگر اللہ تعالی نے خیر کا فیصلہ فرمادیا تو اچھے حکمران بھیج دینگے اور اگر اللہ تعالی نے ان کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو اللہ تعالی سرکش حکمران مسلط کردیتے ہیں.

وللبيهقي عن كعب الأحبار قال: إن لكل زمان ملكا يبعثه الله على نحو قلوب أهله، فإذا أراد صلاحهم بعث عليهم مصلحا وإذا أراد هلكتهم بعث فيهم مترفيهم.

●  قاسم بن مخيمرة کہتے ہیں کہ تمھارا زمانہ تمھارا بادشاہ ہے، اگر بادشاہ درست ہوا تو زمانہ درست ہوگا اور اگر بادشاہ بگڑ گیا تو زمانہ بگڑ جائیگا.

ومنه قول القاسم بن مخيمرة: إنما زمانكم سلطانكم، فإذا صلح سلطانكم صلح زمانكم وإذا فسد سلطانكم فسد زمانكم.

●  شیخ نجم فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے بادشاہ کی طبیعت پر آجاتے ہیں، اگر بادشاہ علم دوست ہوگا تو لوگوں میں علم کا شوق پیدا ہوجائیگا اور اگر کسی اور چیز کا شوق ہوگا تو لوگوں میں وہ پیدا ہوگا.

قال النجم: قلت والأظهر في معنى الترجمة أن الناس يميلون إلى هوى السلطان، فإن رغب السلطان في نوع من العلم مال الناس إليه أو في نوع من الآداب والعلاجات كالفروسية والرمي صاروا إليه.
●  عمر بن عبدالعزیز رحمه اللہ فرماتے تھے کہ بادشاہ اپنی رعایا کیلئے بازار کی طرح ہے، جو بازار میں ملتا ہے وہی گھروں میں جاتا ہے، ایسے ہی جو بادشاہ کے پاس ہوگا وہی رعایا میں منتقل ہوگا.
قول عمر بن عبدالعزيز: إنما السلطان سوق، فما راج عنده حمل إليه.

● علامہ سخاوی نے نقل کیا ہے کہ جب کسری کا تاج حضرت عمر کے سامنے لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کسی امین شخص  نے  جمع کرایا ہے، تو کسی نے عرض کیا کہ آپ امین ہیں اسلئے لوگوں میں امانتداری ہے، اگر آپ خائن ہوتے تو لوگوں میں خیانت آجاتی.

ونقل السخاوي عن ثالث المجالسة أن عمر بن الخطاب لما جیء بتاج كسرى وسواريه جعل يقلبه بعود في يده ويقول: والله إن الذي أدى هذا لأمين، فقال له رجل: ياأمير المؤمنين! أنت أمين الله يؤدن إليك ما أديت إلى الله فإن خنت خانوا. 

● علامہ طرطوشی فرماتے ہیں کہ میں لوگوں سے سنتا رہتا تھا کہ تمھارے اعمال تمھارے بادشاہ ہیں، جیسے تم ہوگے ویسے ہی تمھارے بادشاہ ہونگے، پھر مجھے قرآن مجید میں یہ مضمون ملا کہ اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کرتے ہیں.

قال الطرطوشي في سراج الملوك (ص: 197): الباب الحادي والأربعون في (كما تكونوا يولى عليكم). لم أزل أسمع الناس يقولون: “أعمالكم عمالكم، كما تكونوا يولى عليكم” إلى أن ظفرت بهذا المعنى في القرآن قال الله تعالى: {وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا  ((الأنعام: 129).

● اسی طرح بعض بزرگوں نے کہا کہ جب تم زمانے میں کچھ برا دیکھو تو تمھارے اعمال کی وجہ سے ہی ہے.

وكان يقال: ما أنكرت من زمانك فإنما أفسده عليك عملك.

● عبدالملک بن مروان کہتا تھا کہ اے لوگوں! تم ہم سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی سیرت مانگتے ہو اور خود کچھ عمل نہیں کرتے

.وقال عبدالملك بن مروان: ما أنصفتمونا يا معشر الرعية، تريدونا منا سيرة أبي بكر وعمر ولا تسيرون فينا ولا في أنفسكم.
خلاصہ کلام

یہ مضمون مکمل اگرچہ کسی  سے ثابت نہیں لیکن ایک روایت میں ہے فان صلاحہم لکم صلاح کہ بادشاہوں کا ٹھیک ہونا تمھارا ٹھیک ہونا ہے یہ بات ثابت ہے لہذا اس مکمل مضمون کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں البتہ امت کے اکابرین کے اقوال ضرور ہے 



واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں