تنبیہ نمبر58

خانہ کعبہ کی تعمیر

سوال: روئے زمین پر سب سے پہلے اللہ رب العزت کا گھر بنا ہے جس کی خبر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں دی ہے

الجواب باسمه تعالی

ان اول بیت وضع للناس للذي ببکة مبارکا وهدی للعالمین
اس گھر کو بیت اللہ،  کعبہ شریف بھی کہتے ہیں.
کعبہ کی وجہ تسمیہ:

اس گھر کو کعبہ کہنے کی وجہ کے بارے میں اقوال:

  ١.   اسکو کعبہ اس کے چوکور ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں.

وقال القُونوي (أنيس الفقهاء ص127): “الكعبة: البيت الحرام، يُقال سميت بذلك لتربيعه، والتربيع جعل الشيء مربّعاً”.

٢.     ہر چوکور گھر کو کعبہ کہتے ہیں.

وقال الراغب (المفردات، ص 712): “الكعبة: كل بيت على هيئة التربيع، وبها سميت الكعبة”.

٣.     ہر وہ چیز جو اونچی ہو اس کو کعب کہتے ہیں اور کعبہ بھی اونچے مقام کی وجہ سے کعبہ کہلاتا ہے.

 وقال ابن الأثير (النهاية، ص: 804): “كل شيء علا وارتفع فهو كعب، ومنه سميت   الكعبة، للبيت الحرام. وقيل: سميت بها لتكعيبها، أي تربيعها”.

٤.     چونکہ یہ دنیا کا وسط ہے اسلئے اسکو “کعبہ” کہا جاتا ہے.

وكل شئ علا وارتفع فهو كعب، وقيل: وبه سميت الكعبة كعبة، وقيل: إنما سميت كعبة لانها وسط الدنيا، أو لانها مربعة. (مجمع البحرين – الطريحي ج: 4 ص: 48)

٥.     اس کو  “بیت العتيق”  بھی کہتے ہیں کیونکہ اللہ رب العزت نے اسکو ہر جابر سے آزاد رکھا ہے.

– ایک قول یہ ہے کہ عتیق کا معنی قدیم ہے.

– ایک قول کے مطابق عتیق کا معنی یہ ہے کہ کوئی اس کا مالک نہیں بنا ہے.

– ایک اور قول کے مطابق عتیق کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو غرق ہونے سے محفوظ رکھا ہے.

(معجم لغة الفقهاء- محمد قلعجي ص 112):
البيت العتيق: لقب الكعبة، وقيل سميت الكعبة بذلك لان الله اعتقها من الجبابرة، وقيل: العتيق بمعنى القديم، وقيل: لانه لم يملك قط، وقيل: لانه اعتق من الغرق.
بیت اللہ کی تعمیر:

اس سلسلے میں مشہور اور غیر مشہور ہر قسم کے اقوال موجود ہیں.

مشہور اقوال میں پانچ یا چھ مرتبہ اور غیر مشہور اقوال میں دس سے زائد مرتبہ بیت اللہ کی تعمیر کا ہونا مذکور ہے.

المرَّات التي أُعِيد فيها بناء الكعبة:
في هذا السِّياق ذكَر الأزرقي: بأنَّ الكعبة بُنِيَتْ عشر مرَّات:
(الأولى) بناية الملائكة.
(الثانية) بناية آدم
(الثَّالثة) بناية شيث ابن آدم
(الرَّابعة) بناية ابراہیموإسماعيل
(الخامسة) بناية العمالقة
( السادسة) بناية جُرهُم
(السابعة) بناية قصي
(الثامنة) بناية قريش
(التاسعة) بناية ابن الزبير
(العاشرة) بناية الحجَّاج
ممَّا يجدر ذكرُه في هذا السِّياق أنَّ الكعبة بُنِيَتْ للمرَّة الحاديةَ عشرةَ عام (1039هـ/1629م) في عهد السلْطان العثماني مراد الرَّابع (1032 – 105هـ/1623- 1640م)، وللمرَّة الثانية عشرة عام (1417هـ/1996م) في عهد خادم الحرَمَين الشَّريفين الملك فهد بن عبدالعزيز (1402- 1436هـ/1982 – 2005م)؛ أي: بعد مرور حوالي 375 عامًا على بِناء السلطان العثماني مراد الرَّابع.

 ☆یہاں پر زیادہ مشہور اقوال ہی ذکر کئے جائینگے:

١  . پہلی مرتبہ اس کی تعمیر فرشتوں نے کی اور آسمان میں جس جگہ “بیت المعمور” واقع ہے اس کے عین نیچے زمین پر   کعبة اللہ  کی تعمیر کی گئی.

٢  . دوسری مرتبہ اس گھر کی تعمیر حضرت  آدم علیہ السلام نے کی ہے.

حضرت آدم ؑ  کی تعمیر:

امام نووی نے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ خانہ کعبہ وہ پہلا گھر ہے جسے حضرت آدم ؑ نے زمین پر تعمیر کیا۔ اسی طرح امام بیہقی نے “دلائل النبوہ” میں سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے مرفوعاً یہ روایت ذکر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کے پاس جبرئیل امین ؑ کو بھیج کر کعبة اللہ کی تعمیر اور پھر اس کے طواف کا حکم دیا۔ حضرت آدم ؑ کا تعمیر کردہ بیت اللہ طوفانِ نوح تک اس زمین پر اسی جگہ موجود رہا۔ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ طوفانِ نوح کے زمانے میں اسے اُوپر (آسمان پر) اُٹھا لیا گیا اور وہاں فرشتوں کے ذریعے وہ آباد ہوگیا۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے تک یہ جگہ خالی رہی اور اس مقام پر کوئی تعمیر نہیں ہوئی۔ البتہ یہ جگہ زمین سے اُونچی تھی اور ایک ٹیلے کی شکل میں تھی، اس لیے بارش اور سیلاب کا پانی اس تک نہ پہنچتا تھا.

٣   .طوفان نوح کے بعد اللہ تعالی کے حکم سے اس گھر کی تعمیر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیهما السلام نے کی ہے. جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کی بنیادوں کی نشاندہی کی اور ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے ساتھ اس گھر کی تعمیر کی ہے.

الثالثة: بناه ابراہیموإسماعيل علیهما السلام، قال تعالی: { وَإِذْ يَرْفَعُ ابراہیمالْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ } (البقرة: 127). ابراہیموإسماعيل عليهما السلام وقال يرفع ابراہیموإسماعيل عليهما السلام. وقال يرفع القواعد من البيت، رفعه أي أنه كان موجوداً لأنه كان ردما السيول تجوب من حوله، كان كالردم أي مكان مرتفع، وتهدم مع السنين وصارت الرابية والسيول تجوب من حوله من جميع نواحيه، فلما جاء إسماعيل أشار الله تعالى على ابراہیمبهذا البيت، لما جاء معه جبريل وبين له مكان البيت حتى قال لهاجر: ان هذا الموضع سيبنيه ابراہیموهذا الولد هو إسماعيل.
تعمیر ابراہیمی کی صورت:

  • قتادہ کی ایک روایت (جو کہ اسرائیلی روایات پر مبنی ہے) میں مذکور ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر میں پانچ پہاڑوں کے پتھر           استعمال ہوئے ہیں: طور سیناء، طور زیتا، جبل أحد، جبل لبنان اور ثبیر، اور اسکی بنیادیں حراء پہاڑ سے بنائی گئی ہیں.

وعن قتادة: بنيت الكعبة من خمسة جبال: من طور سيناء وطور زيتا وأحد ولبنان وثبير وجعلت قواعدها من حراء.

  • اس کی اونچائی سات گز رکھی گئی اور چوڑائی حجر اسود سے رکن شامی کی طرف بتیس گز، رکن شامی سے رکن عراقی تک بتیس گز، رکن عراقی سے رکن یمانی تک اکتیس گز، اور رکن یمانی سے حجر اسود تک بیس گز رکھی گئی اور دروازہ زمین کے ساتھ بنایا، لیکن اس میں چوکھٹ نہیں لگائی یہانتک کہ “تبع الحمیری” نے اس میں دروازے کے کھواڑ لگائے اور اس میں تالا لگایا اور کعبے کو مکمل غلاف پہنایا.

وجعل ابراہیمطولها في السماء سبعة أذرع وعرضها في الارض اثنين وثلاثين ذراعا من الركن الاسود إلى الركن الشمالي الذي عند الحجر، وجعل ما بين الركن الشامي إلى الركن الذي فيه الحجر اثنين وثلاثين ذراعا، وجعل طول ظهرها من الركن العراقي إلى الركن اليماني أحدا وثلاثين ذراعا، وجعل عرض شقها اليماني من الركن الاسود إلى الركن اليماني عشرين ذراعا، وجعل بابها في الارض غير مبوب حتى كان تبع الحميري هو الذي بوبها وجعل عليها غلقا فارسيا وكساها كسوة تامة.

٤.   چوتھی مرتبہ اس کی تعمیر نبوت سے پانچ سال پہلے قریش نے کی.

المرة الرابعة لبناء البيت: لما بنته قريش في الجاهلية واشترك في ذلك النبي صلی اللہ علیه وسلم كان عنده خمس وثلاثون سنة، قبل المبعث بخمس سنين.

اسکی وجہ یہ بنی کہ ایک عورت خانہ کعبہ کو دھونی دے رہی تھی کہ بیت اللہ میں آگ لگ گئی، جبکہ ایک روایت میں ہے کہ سیلاب کی وجہ سے کعبہ کی دیواریں کمزور ہوگئی تھیں تو قریش مکہ نے بیت اللہ کو بنانے کا ارادہ کیا اور اس کیلئے کعبہ کو ڈھانے کی نیت سے جب بھی اس کے قریب جاتے تو ایک اژدھا نکل آتا، پھر اللہ رب العزت نے ایک پرندے کو بھیجا جو اس اژدھے کو دور پھینک آیا.* اہل مکہ بیت اللہ کو گرانے سے ڈر رہے تھے تو ولید نے کہا کہ جو اصلاح کی نیت رکھتا ہے اللہ تعالی اس کو ہلاک نہیں کرتے اور عباس کو لےکر بیت اللہ کو ڈھانا شروع کردیا اور اسکو پتھروں اور لکڑی سے چھت والا بنایا اور اس کی اونچائی بیس گز رکھی، البتہ اس سے پہلے بیت اللہ کی چوڑائی ستائیس گز تھی، قریش نے اسکو اٹھارہ گز کرکے بقیہ کو حطیم بنادیا. جس شخص نے بیت اللہ کی لکڑی کا کام کیا وہ “باقوم” نامی ایک نصرانی تھا.

● عورت والی روایت:
أَجْمَرَتْ اِمْرَأَة الْكَعْبَة فَطَارَتْ شَرَارَة مِنْ مِجْمَرهَا فِي ثِيَاب الْكَعْبَة فَاحْتَرَقَتْ، فَتَشَاوَرَتْ قُرَيْش فِي هَدْمهَا وَهَابُوهُ، فَقَالَ الْوَلِيد: إِنَّ اللَّه لَا يُهْلِك مَنْ يُرِيد الْإِصْلَاح، فَارْتَقَى عَلَى ظَاهِر الْبَيْت وَمَعَهُ الْعَبَّاس فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا نُرِيد إِلَّا الْإِصْلَاح، ثُمَّ هَدَمَ. فَلَمَّا رَأَوْهُ سَالِمًا تَابَعُوهُ”.
● سیلاب والا قول:
 قَالَ عَبْدالرَّزَّاق وَأَخْبَرَنَا اِبْن جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ مُجَاهِد: “كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ الْمَبْعَث بِخَمْسَ عَشْرَة سَنَة.
وَذَكَرَ اِبْن إِسْحَاق: “أَنَّ السَّيْل كَانَ يَأْتِي فَيُصِيب الْكَعْبَة فَيَتَسَاقَط مِنْ بِنَائِهَا، وَكَانَ رَضْمًا فَوْق الْقَامَة، فَأَرَادَتْ قُرَيْش رَفْعهَا وَتَسْقِيفهَا، وَذَلِكَ أَنَّ نَفَرًا سَرَقُوا كَنْز الْكَعْبَة”.
● اژدھے والی روایت:
فَكَانُوا كُلَّمَا أَرَادُوا الْقُرْب مِنْهُ لِهَدْمِهِ بَدَتْ لَهُمْ حَيَّة فَاتِحَة فَاهَا، فَبَعَثَ اللَّه طَيْرًا أَعْظَمَ مِنْ النَّسْر فَغَرَزَ مَخَالِبه فِيهَا فَأَلْقَاهَا نَحْو أَجْيَاد، فَهَدَمَتْ قُرَيْش الْكَعْبَة وَبَنَوْهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي، فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاء عِشْرِينَ ذِرَاعًا.
● باقوم والی روایت:
وَرَوَى سُفْيَان بْن عُيَيْنَةَ فِي جَامِعه عَنْ عَمْرو بْن دِينَار أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْد بْن عُمَيْر يَقُول: “اِسْم الَّذِي بَنَى الْكَعْبَة لِقُرَيْشٍ بَاقُوم، وَكَانَ رُومِيًّا”. وَقَالَ الْأَزْرَقِی: كَانَ طُولهَا سَبْعَة وَعِشْرِينَ ذِرَاعًا، فَاقْتَصَرَتْ قُرَيْش مِنْهَا عَلَى ثَمَانِيَة عَشْر، وَنَقَصُوا مِنْ عَرْضهَا أَذْرُعًا أَدْخَلُوهَا فِي الْحِجْر”.

٥.   پانچویں مرتبہ اس کی تعمیر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین کی شہادت کے بعد کی، انہوں نے خلافت کا اعلان کیا اور مکہ کو دارالخلافہ بنایا، ان کے زمانے میں خانہ کعبہ میں جب آگ لگ گئی تو انہوں نے اس کو بلکل منہدم کیا اور اس کی اصل بنیاد تک پہنچ کر پھر وہاں سے خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور اسکو بلکل زمین سے لگا کر بنایا اور اس کا ایک دروازہ اندر داخل ہونے کیلئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کیلئے بنایا، یہی ابراہیم علیہ السلام کی سنت اور حضور علیہ السلام کی چاہت تھی.

المرة الخامسة: التي بناها عبدالله بن الزبير، فبعد مقتل الحسين بن علي بويع بالخلافة وبايعته الحجاز كلها وهو أمير مؤمنين كان اسمه أمير المؤمنين، وكانت مکة عاصمة الخلافة، ولذلك نقض الكعبة وسبب نقضها أو بنائها أنه طارت شرارة من جبل أبي قبيس فحرقت الكعبة، فهدمتها، وفی بعض الروايات: أن امرأة كانت تبخر الكعبة بالبخور، فطار البخور وحرق الكعبة، فلما وجد بناءها تصدع قال: لو أن بيتا لأحدكم فعل به ذلك ما تركه هكذا، هيا نبني البيت، فخافوا وهربوا إلى منى، لأنهم خائفين يحدث شيء، وقفوا بعيد فنقضها حجرا حجر رضي الله تعالى عنه، حتى وصل إلى أسس البيت أو الحجارة الأساسية في أصل البيت من أسفل كان أسنان، حجار مسننة، فوضع عتلة بين حجرين فاهتزت مكة وجبالها، فكان هذا هو أساس البيت فعرف أنه الأساس فبنى عليه، فلما لم يجدوا أنه لم يحدث له شيء، فأعانوه على ذلك فبناه وأدخل حجر إسماعيل وأتم البيت، وجعل له بابا شرقيا وباب غربيا، وأصل الكعبة له بابان، باب يدخلوا منه، وباب يخرجوا منه، والصق الباب بالأصل، كي يدخل القائد ويخرج ويصلي في الكعبة، وهذا سنة النبي صلی اللہ علیه وسلم وسنة إبراهيم.

٦.   آخری مرتبہ اسکی تعمیر حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کے زمانے میں کی جو کہ موجودہ تعمیر ہے، اگرچہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ معمولی تبدیلیاں کی گئیں لیکن اس وقت کعبہ کی موجودہ تعمیر کی اصل بنیاد حجاج بن یوسف کی تعمیر پر ہی ہے.

 المرة السادسة: بناها الحجاج بن يوسف في خلافة عبدالملك بن مروان، أو نقول عبدالملك بن مروان أرجع البيت إلى الحال الذي تراه الآن.
خلاصہ کلام

اگرچہ بیت اللہ کی تعمیر کے متعلق اقوال بہت زیادہ ہیں لیکن مشھور اقوال ہماری نظر میں یہی چھ اقوال ہیں. البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب بھی تعمیر کعبہ کی بات ہوتی ہے تو اس سے مراد مکمل تعمیر بمعہ بنیادوں کے ہوتی ہے .موجودہ تعمیر کی بنیاد اور نقشہ حجاج بن یوسف کے زمانے کا ہے،  البتہ مکمل دیواروں اور چھت سمیت اس کی تعمیر دو مرتبہ ہوئی ہے:

١. تعمیر سلطان عثمانی:

حجاج بن یوسف کی تعمیر کے تقریبا نو سو(٩٠٠) سال بعد عثمانی سلطان مراد رابع کے زمانے میں ١٩ شعبان ١٠٣٩ ہجری کو صبح ٨  بجے مکہ اور اس کے اطراف میں شدید بارش ہوئی۔ بارش کی وجہ سے سیلاب حرم شریف میں داخل ہوگیا اور کعبہ شریف کے دروازے کی چوکھٹ سے بھی بلند ہوگیا۔ دوسرے دن جمعرات کو عصر کے وقت کعبہ کی شامی دیوار دونوں طرف سے گر گئی اور اس کے ساتھ مشرقی دیوار کا کچھ حصہ بھی۔ مغربی دیوار بھی دونوں طرف سے چھٹے حصے کے بقدر گر گئی، چھت کا کچھ حصہ بھی گر گیا، چنانچہ سلطان مراد نے دوبارہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔ ایک سال میں یہ تعمیر اسی طرح مکمل ہوگئی جس طرح حجاج نے بنوائی تھی۔ سلطان مراد کی تعمیر ہمارے اس دور تک باقی ہے.

٢. آل سعود کی تعمیر:

خادم حرمین شریفین فھد بن عبدالعزیز کی تعمیر:

خانہ کعبہ کے متولی طه الشیبی نے اپنے بیٹے عبدالملك الشیبی کے ساتھ مدینہ منورہ میں خادم حرمین فہد بن عبدالعزیز سے ملاقات کی اور بتایا کہ کعبہ کی عمارت کمزور ہوتی جارہی ہے،  لہذا اس کی مرمت کی ضرورت ہے۔ ابتداء میں یہ خیال تھا کہ محض مرمت کردی جائے، لیکن جب یہ محسوس کیا گیا کہ لکڑی بالکل خراب ہوگئی ہے تو مکمل عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔  بن لادن کمپنی نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے برما کے جنگلات سے بہترین لکڑی  BURMA TEAK) جس میں کسی قسم کی گٹھان نہیں تھی)  حاصل کی۔  اس لکڑی کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو دیمک نہیں لگتی۔  اس کے علاوہ ایسے رنگ کا انتخاب کیا گیا جس میں کسی قسم کی بُو شامل نہیں تھی،  کیونکہ خانہ کعبہ عموماً سال میں دو دفعہ کھلتا ہے۔  “غالب”  بن لادن کمپنی کی طرف سے خانہ کعبہ کی تعمیر کے کام کے نگران مقرر ہوئے،  جنھوں نے بہت احتیاط سے کام کا آغاز کیا اور جہاں بھی مشکل پیش آئی استخارے سے مدد لی۔  شرک یا بدعات سے بچنے کے لئے عملے کے کسی بھی رکن کو عمارت کا کوئی پتھر یا مٹی لے جانے کی اجازت نہ دی۔ اس سے قبل خانہ کعبہ کے مطاف کی تعمیر و مرمت کا کام بھی بن لادن کمپنی کو دیا گیا تھا جنھوں نے یونان کے مشہور تھوسس آئیرلینڈ سے سفید کرسٹالینو منگوا کر مطاف میں لگایا جوکہ ہر قسم کی گرمی میں ٹھنڈا رہتا ہے۔  ۱۹۷۹ء میں احمد بن ابراہیم نے شاہ خالد بن عبدالعزیز کی خواہش پر خانہ کعبہ کے دروازے کو ۳۰۰ کلوگرام سونے سے بنوا کر لگایا تھا۔  اس لئے اسے جوں کا توں رکھا گیا۔  خانہ کعبہ کے اندر بھی ایک دروازہ ہے جسے بابِ توبہ کہتے ہیں۔  اس دروازے سے چھت پر جایا جاتا ہے۔  چھت پر جانے والی سیڑھی ترکی سے بنوائی گئی ہے جس کے قدمچے کرسٹل کے بنے ہوئے ہیں،  البتہ باقی فریم عمدہ اسٹیل سے بنایا گیا ہے۔ فرش پر سفید ماربل استعمال کیا گیا ہے اور فرش کے درمیان ہرے ماربل سے نقش بنائے گئے ہیں۔ دیوار کے نچلے حصے میں ہرا ماربل استعمال کیا گیا ہے،  جب کہ اُوپر کے حصے میں ہلکے سفید رنگ کا ماربل استعمال کیا گیا ہے۔  آدھی دیوار ماربل کی ہے اور اُوپر والے حصے میں کڑھا ہوا ہرا کپڑا لگایا گیا ہے جو کہ خادم حرمین شریفین خالد بن عبدالعزیز کا عطا کردہ ہے۔ ماضی کی طرح دو چھتیں رکھی گئی ہیں۔  پہلی چھت لکڑی کی ہے اور دوسری چھت بھی لکڑی کی ہے لیکن وہ واٹر پروف ہے اور اس پر ماربل لگا دیا گیا ہے.

لیکن ان دونوں کو تعمیر سے زیادہ ترمیم اور تجدید کہا جاسکتا ہے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں