تنبیہ نمبر92

مردہ لڑکی کا مجرم

سوال: ایک واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک خطیب صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک صحابی نے مردہ عورت کے ساتھ زنا کیا،  بعد میں ندامت ہوئی اور بہت روئے.  حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے راستہ میں ملاقات ہوئی، وجہ پوچھنے پر بتایا کہ گناہ ہو گیا ہے،  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر اس شخص کی صورت حال بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بلاؤ…..  مختصر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گناہ پوچھا تو اس نےاپنے زنا کا واقعہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتنا بڑا گناہ!!  وہ ناامید ہو کر چل پڑا، چالیس دن تک رونے کے بعد جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ اللہ نے اس بندہ کا گناہ معاف کردیا ہے…  یہ واقعہ مختصراً نقل کیا ہے جس کی مکمل تفصیل  “تنبیه الغافلین”  میں مذکور ہے…
اس واقعے کی تحقیق مطلوب ہے. (سائل:  عمار یاسر شاہ، صادق آباد)
الجواب باسمه تعالی

مذکورہ واقعہ ابواللیث سمرقندی نے تنبیه الغافلين اور ثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے.

اس میں یہ تفصیل ہے کہ یہ ایک کفن چور تھا اور اس مردہ لڑکی سے بدکاری کرنے کے بعد جب وہ جانے لگا تو اس لڑکی نے آواز دی کہ تو نے یہ کیا کردیا؟  مجھے مردوں کے درمیان بےلباس چھوڑ دیا،  تو قیامت کے دن کیا حساب دےگا؟ یہ نوجوان جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اپنا گناہ بیان کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جاؤ،  پھر اس شخص نے چالیس دن سچی توبہ کی یہاں تک کہ جبريل علیہ السلام اس کی توبہ کی قبولیت لے کر آسمان سے اترے.

اس واقعے کی اسنادی حیثیت:

یہ واقعہ تنبیه الغافلين میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے جبکہ بعض کتب میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا گیا ہے اور حضرت معاذ والی روایت میں اس صحابی کا نام بہلول ذکر کیا گیا ہے.

یہ واقعہ اپنے دونوں سندوں کے اعتبار سے درست نہیں ہے.

حضرت معاذ والی روایت اس لئے درست نہیں کہ ایک تو اس کی سند متصل نہیں اور نامعلوم راوی ساقط ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ بہلول نامی کسی صحابی کا تذکرہ اس واقعے کے علاوہ نہیں ملتا اور اس واقعے کو محدثین نے من گھڑت قرار دیا ہے.

[‏750‏]‏ بهلول بن ذؤيب النباش
جاء ذكره في حديث لم يثبت ذكر أبو موسى أنه روى بإسناد غير متصل عن محمد بن زياد عن أبي هريرة قال دخل معاذ بن جبل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال‏:‏ إن بالباب شابًا يبكي على شبابه وهو يستأذن فدخل فقال ما يبكيك قال إني ركبت ذنوبا إن أخذت ببعضها خلدت في جهنم فذكر الحديث في اعترافه بأنه كان ينبش القبور وفيه فجعل ينادي يا سيدي ومولاي هذا بهلول بن ذؤيب مغلولًا مسلسلًا معترفًا بذنوبه قال فذكره بطوله في نحو ورقتين قلت حكم عليه بعض الحفاظ بالوضع
اسد الغابہ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی روایت:
هذا الخبر عند أبي الليث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراهيم السمرقندي، رواه بسنده: حدثني أبي رحمه الله تعالى، حدثنا أبوالحسن الفراء، حدثنا أبوبكر الجرجاني، عن محمد بن إسحاق، عمن حدثه عن معمر، عن الزهري، قال: دخل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنه…..
اس روایت کی سند پر کلام:

اس سند میں دو بنیادی کمزوریاں ہیں:

 (١)  ابوبکر الجرجانی:

اس راوی کا نام احمد بن یعقوب بن عبدالجبار الأموي المرواني ہے.

اس کے متعلق محدثین کا کلام کافی سخت ہے:

١.  امام بیہقی کہتے ہیں کہ یہ من گھڑت روایات نقل کرتا ہے، لہذا اس سے روایت نقل کرنا درست نہیں.

قال البيهقي: له أحاديث موضوعة لا أستحل رواية شيء منها.

٢.  امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ روایات گھڑتا تھا اور اس کی اکثر روایات نامعلوم لوگوں سے ہوتی تھیں.

وقال الحاكم: كان يضع الحديث، قدم علينا سنة 367، وكان يحدث عن أبي خليفة وغيره من الأئمة بالمناكير، وأكثر حديثه عن قوم لا يعرفون.
احمد بن يعقوب بن عبدالجبار الاموي المرواني الجرجاني المتوفى (367): كان يضع الحديث، روى احاديث موضوعة لا يستحل رواية شيء منها. [ميزان الاعتدال (1/77)، اسنى المطالب (ص:84)].
 (٢)  اس سند میں محمد بن اسحاق کے بعد عمن حدثه مجہول ہے.
جهالة الرجل الذي بعد ابن إسحاق لقوله (عمن حدثه) فلا ندري من هو.
کتاب “تنبیه الغافلین” کے بارے میں بعض علماء کی رائے:

علامہ ذہبی نے فرمایا کہ اس کتاب پر موضوعات کا غلبہ ہوا ہے.

قال الذهبي في سير أعلام النبلاء:
أبوالليث، الإمام الفقيه المحدث الزاهد، أبوالليث، نصر بن محمد بن إبراهيم السمرقندي الحنفي، صاحب كتاب “تنبيه الغافلين” وله كتاب “الفتاوى”. يروي عن: محمد بن الفضل بن أنيف البخاري وجماعة. وتروج عليه الأحاديث الموضوعة. روى عنه أبوبكر محمد بن عبدالرحمن الترمذي، وغيره. نقلت وفاته من خط القاضي شهاب الدين أحمد بن علي بن عبدالحق أيده الله في جمادى الآخرة سنة خمس وسبعين وثلاثمائة
خلاصہ کلام

تنبیہ الغافلين نامی کتاب میں چونکہ ہر طرح کی روایات موجود ہیں،  لہذا اس کتاب کی کسی بھی روایت کا مطلقاً بغیر تحقیق کے بیان کرنا درست نہیں. سوال میں مذکور روایت بھی ان ہی کمزور روایات میں سے ہے جس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں