تنبیہ نمبر93

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کافر کا تھوکنا

سوال: ایک واقعہ بچپن سے سنتے ہوئے آرہے ہیں کہ ایک جنگ کے موقعے پر ایک کافر سے لڑتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو گرایا تو اس نے ان کے منہ پر تھوک دیا جس پر حضرت علی نے اسکو چھوڑ دیا کہ پہلے اللہ کیلئے قتل کررہا تھا اب اپنی ذات کیلئے قتل کرنا شمار ہوگا….. اس واقعے کی تحقیق مطلوب ہے.
الجواب باسمه تعالی

یہ واقعہ باوجود اپنی بےپناہ شہرت کے کسی بھی صحیح یا ضعیف سند سے اہل سنت والجماعة کی کتابوں میں موجود نہیں، البتہ شیعوں کی کتابوں میں اس واقعے کو مختلف طریقوں سے نقل کیا گیا ہے. اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کا اگلا حصہ جو کہ کتب شیعہ میں موجود بھی ہے لیکن نقل نہیں کیا جاتا ہے کہ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس کافر کو قتل کردیا.

کتب شیعہ میں اس واقعے کا ذکر:
ذکر ابْنُ شَهْرَآشُوبَ فِي الْمَنَاقِبِ، عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: لَمَّا أَدْرَكَ عَمْرَو بْنَ عَبْد وُدٍّ لَمْ يَضْرِبْهُ فَوَقَعُوا فِي عَلِيٍّ فَرَدَّ عَنْهُ حُذَيْفَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیه وسلم: مَهْ يَاحُذَيْفَةُ! فَإِنَّ عَلِيّاً سَيَذْكُرُ سَبَبَ وَقْفَتِهِ ثُمَّ إِنَّهُ ضَرَبَهُ، فَلَمَّا جَاءَ سَأَلَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیه وسلم عَنْ ذَلِكَ قَالَ: قَدْ كَانَ شَتَمَ أُمِّي وَتَفَلَ فِي وَجْهِي فَخَشِيتُ أَنْ أَضْرِبَهُ لِحَظِّ نَفْسِي فَتَرَكْتُهُ حَتَّى سَكَنَ مَا بِي ثُمَّ قَتَلْتُهُ فِي اللہِ. (مستدرك ‏الوسائل ج:18، ص:28).
وخلاصة الحدث: أن علياً عليه السّلام يطرح بطل الأبطال على الأرض ويجلس على صدره ليحتز رأسه وهنا بصق عمرو في وجه علي عليه السّلام، فيقوم الإمام عليه السّلام من فوق صدره، ويأخذ بالسير بهدوء بالقرب منه وبعد فترة يعود فيجلس مرة أخرى على صدره ويهم بقطع رأسه فيسأله عمر عن سبب قيامه عليه السّلام أولاً ثم عودته ثانية؟ فماذا كان جواب الإمام عليه السّلام؟ لقد غضب الإمام عندما بصق اللعين في وجهه الشريف، وهنا تركه خشية من أنه إن قتله وهو غاضب فقد يحتمل أن يكون ذلك غضباً لنفسه لا لله، فقام عنه حتى هدأ عليه السّلام وعاد فقتله لله تعالى لا لغيره.
(من محاضرات “الهجره والجهاد” للشهيد مطهري مع الاختصار والتصرف).
اصل واقعہ اور اس کی اسنادی حیثیت:

اس واقعے کی اصل فقط اتنی ہے کہ غزوہ خندق کے موقعے پر جب مشرکین خندق کی وجہ سے مسلمانوں کی طرف حملے کیلئے نہیں آسکتے تھے اس وقت چند مشرکین (جن میں عکرمہ بن ابی جہل اور عمرو بن عبد ود العامري اور دیگر کچھ مشرکین بھی تھے جنہوں) نے ایک جگہ سے خندق پار کرکے مسلمانوں سے مقابلہ کیا جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبد ود کو قتل کیا.

وثبت المشركون محاصرين رسول الله صلى الله عليه وسلم شهراً، ولم يكن بينهم قتال لأجل ما حال الله به من الخندق بينه وبينهم، إلا أن فوارس من قريش منهم عمرو بن عبد ود العامري وجماعة معه أقبلوا نحو الخندق، فلما وقفوا عليه قالوا: إن هذه لمكيدة ما كانت العرب تعرفها، ثم يمموا مكاناً ضيقاً من الخندق فاقتحموه وجازوه، وجالت بهم خيلهم في السبخة بين الخندق وسلع ودعوا للبراز، فانتدب لعمرو بن عبد ود علي بن أبي طالب رضي الله عنه فبارزه فقتله الله على يديه. (فصل: غزوة الخندق، الجزء:1، الصفحة :163)

یہ واقعہ بھی سند کے لحاظ سے اگرچہ ضعیف ہے لیکن یہ ضعف اس قدر شدید نہیں جس کی وجہ سے یہ واقعہ ناقابل اعتبار قرار دیا جائے.  البتہ اس واقعے پر شیعوں کی خرافات اور من گھڑت روایات کیلئے شیعوں کی کتب کا مطالعہ کیا جائے… نمونے کے طور پر ایک آدھ روایت نقل کی جاتی ہے.

جھوٹی روایات

١.  پہلی جھوٹی روایت:

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ خندق کے دن علی کا عمرو سے مقابلہ میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے افضل ہے.

١- لمبارزة علي بن أبى طالب لعمرو بن عبد ود يوم الخندق أفضل من أعمال أمتي إلى  يوم القيامة.

یہ روایت سند کے لحاظ سے درست نہیں اس لئے کہ اس کا راوی جھوٹا ہے.

‏أخرجه الحاكم في “المستدرك” (3/32) من طريق أحمد بن عيسى الخشاب بـ “تنيس” حدثنا عمرو بن أبي سلمة: حدثنا سفيان الثوري عن بهز بن حكيم، عن أبيه عن جده مرفوعا سكت عنه الحاكم.
وقال الذهبي في تلخيصه: قبح الله رافضيا افتراه.
قلت: وعلته الخشاب هذا فإنه كذاب، كما قال ابن طاهر وغيره، ولعله سرقه من كذاب مثله، فقد أخرجه الخطيب (13/19) من طريق إسحاق بن بشر القرشي عن بهز به، وإسحاق هذا هو الكاهلي الكوفي؛ وهو كذاب أيضا وقد سبقت له أحاديث موضوعة.
٢.  دوسری جھوٹی روایت:

حضرت علی رضی اللہ عنہ جب عمرو کو قتل کرنے کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ  اے اللہ!  علی کو ایسی فضیلت عطا فرما جو نہ کسی اگلے کو دی ہے نہ کسی پچھلے کو…..الخ

٢- قتل عليُّ بنُ أبي طالبٍ عليه السَّلامُ عمرَو بنَ عبدِ وُدٍّ ودخل على النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، فلمَّا رآه النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كبَّر، وكبَّر المسلمون فقال النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: اللَّهمَّ أعْطِ عليَّ بنَ أبي طالبٍ فضيلةً لم تُعطِها أحدًا قبلَه ولا تعطِها أحدًا بعدَه، فهبط جبريلُ عليه السَّلامُ ومعه أُترُجَّةٌ من الجنَّةِ، فقال: إنَّ اللهَ عزَّوجلَّ يقرأُ عليك السَّلامَ ويقولُ لك: حيِّ بهذه عليَّ بنَ أبي طالبٍ، فدفعها إليه، فانفَلَقت في يدِه فَلْقتَيْن، فإذا فيها حريرةٌ بيضاءُ مكتوبٌ فيها سطرَيْن بصفراءَ: تحيَّةٌ من الطَّالبِ الغالبِ إلى عليِّ بنِ أبي طالبٍ.
– الراوي: عبدالله بن عباس.
– المحدث: ابن الجوزي.
– المصدر: موضوعات ابن الجوزي.
– الصفحة أو الرقم: 2/172.
– خلاصة حكم المحدث: لا يشك في وضعه.
روایات میں اس واقعے کی کچھ اصل:

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسی کافر پر قابو پانے کے باوجود اسکو قتل نہ کیا،  ایسا ایک واقعہ غزوہ احد کے موقعے پر پیش آیا کہ ابوسعید بن ابی طلحہ اور حضرت علی کے درمیان مقابلہ ہوا اور حضرت علی نے باوجود قابو پالینے کے اس کو قتل نہیں کیا.

جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ جب میں نے اس کو قابو کرلیا تو اس نے اپنا ستر کھول دیا تو میں سمجھ گیا کہ اس کو اللہ تعالٰی نے مار ڈالا تو میں نے اس کو چھوڑ دیا.

الحافظ ابن كثير رحمه الله: قال ابن هشام: وحدثني مسلمة بن علقمة المازني، قال: لما اشتد القتال يوم أحد جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت راية الأنصار، وأرسل علي أن قدم الراية، فقدم علي وهو يقول: أنا أبوالقُصَم، فناداه أبوسعد بن أبي طلحة (وهو صاحب لواء المشركين): هل لك يا أبا القُصَم في البراز من حاجة؟ قال: نعم، فبرزا بين الصفين فاختلفا ضربتي، فضربه علي فصرعه، ثم انصرف ولم يجهز عليه. فقال له بعض أصحابه: أفلا أجهزت عليه؟ فقال: إنه استقبلني بعورته، فعطفتني عليه الرحم وعرفت أن الله قد قتله.
اس روایت میں شیعوں کی خیانت:

غزوہ احد میں جو واقعہ پیش آیا اسکو شیعوں نے جنگ صفین کے موقع پر حضرت علی کے دو مخالف صحابہ حضرت عمرو بن العاص اور بسر بن ارطاۃ پر منطبق کردیا کہ ان دونوں نے بھی جان بچانے کیلئے اپنا ستر دکھایا تھا،  حالانکہ یہ جھوٹ اور صحابہ کرام پر بہتان تراشی ہے،  اور مشکل یہ ہے کہ بسر بن ارطاۃ والا واقعہ ہماری تاریخ میں بھی نقل کیا گیا ہے.

علي رضي الله عنه يوم صفين مع بسر بن أبي أرطأة لما حمل عليه ليقتله أبدى له عورته؛ فرجع عنه. (البداية والنهاية:4/22). وذكر هذه القصة غير واحد من المؤرخين.

صحابہ کرام کے متعلق یہ بات شیعوں کی کارستانی ہے.  روایات کی تحقیق کرنے والے حضرات کا اس واقعے کے متعلق یہ کہنا ہے کہ مؤرخین نے طبری پر اعتماد کرکے نقل کیا ہے.

أكثر الروايات الشيعية التى فى تاريخ الطبري ضعيفة جداً، ومنها ما يتناول ذكر هذا الرجل “بسر بن ارطاۃ” بالسوء، وابن كثير فى البداية والنهاية، وغيره ينقلون فى كثير من الأحيان عن الطبري دون تمحيص.
طبری کی اپنی کتاب کے بارے میں وضاحت:

امام طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ میری کتاب میں اگر کوئی ایسی بات ماضی کے بارے میں ملے جو عجیب لگے یا صحیح نہ ہو یا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو تو قاری کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ہماری طرف سے نہیں لکھا گیا بلکہ ماقبل کے لوگوں نے جو ہمیں بتایا ہم نے ویسا ہی لکھ دیا.

قال الإمام الطبريُّ:
{فَمَـا يَكُنْ فِي كِتَابِي هَذَا مِنْ خَبَرٍ ذَكَرْنَاهُ عَنْ بَعْضِ الْـمَـاضِينَ، مِمَّا يَسْتَنْكِرُهُ قَارِئُهُ، أَوْ يَسْتَشْنِعُهُ سَامِعُهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لَمْ يَعْرِفْ لَهُ وَجْهاً فِي الصِّحَّةِ وَلَا مَعْنَى فِي الْـحَقِيقَةِ، فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يُؤْتَ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِنَا، وَإِنَّمَـا أُتِىَ مِنْ قَبَلِ بَعْضِ نَاقِلِيهِ إِلَيْنَا، وَإِنَّا إِنَّمـَا أَدَّيْنَا ذَلِكَ عَلَى نَحْوِ مَا أُدِّيَ إِلَيْنَا }.(9)
 تاريخ الرسل والملوك للإمام محمد بن جرير الطبري ج1ص8، ط دار المعارف-القاهرة, ت: محمد أبو الفضل إبراهيم.

عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے متعلق جو روایات مذکور ہیں ان میں دو جھوٹے راوی ہیں.

قصة كشف عمرو بن العاص عورته امام علي رضي الله عنهما قصة واهية.
جاءت بطريقين: احدهما عن نصر بن مزاحم الكوفي الرافضي، والطريق الآخر عن ابن الكلبي، وکلاھما كذابان كبيران.
خلاصہ کلام

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہادری اور اخلاق کے اعلی درجے پر فائز ہیں، نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری اور اخلاق کا بلند معیار اس بات کا محتاج نہیں کہ کسی من گھڑت واقعے سے اس کو ثابت کیا جائے.

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کافر کو تھوکنے کے بعد چھوڑ دینا (شیعہ کی روایات کے علاوہ) حدیث کی کسی بھی مستند کتاب میں موجود نہیں، لہذا اس واقعے کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی طرف کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں