تنبیہ نمبر97

رمضان المبارک کی مبارکباد

سوال: ایک روایت بہت گردش کررہی ہے کہ جو شخص رمضان المبارک یا کسی اور مہینے کی مبارکباد دےگا اور اس خبر کو اتنے لوگوں تک پہنچائےگا تو آپ علیہ السلام نے ایسے شخص کیلئے جنت کی خوشخبری سنائی ہے. اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے.
الجواب باسمه تعالی

واضح رہے کہ کسی بھی مہینے کی خوشخبری یا مبارکباد دینے پر کسی بھی قسم کے ثواب یا اجر کا ذکر کسی بھی صحیح یا ضعیف روایت میں تو درکنار کسی موضوع من گھڑت روایت میں بھی اس کا تذکرہ موجود نہیں، اسی لئے احادیث کی تحقیقات کرنے والے تمام مستند اداروں نے ایسی تمام روایات کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے.

ربیع الاول کی مبارکباد:

ان ہی شہرت حاصل کرنے والی روایات میں سے ربیع الاول کی مبارکباد دینے والی روایات بھی بہت مشہور کی گئی ہیں جن کے بارے میں موجودہ زمانے کے محدثین فرماتے ہیں کہ یہ آپ علیہ السلام کی ذات پر جھوٹ ہے.

وقد أورده الشيخ علوي السقاف في موقع الدرر السنية تحت الأحاديث المنتشرة في الإنترنت بلفظ: مَن يبارك الـناس بهذا الشهر الفضيل (يعني ربيع الأول) تحرم عليه النار”.
وحكم عليه بأنه مكذوب على النبي صلى الله عليه وسلم.
موضوع اور من گھڑت روایات کی پہچان:

علامہ ابن قیم رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ من گھڑت روایات کی اپنی ایک مخصوص ظلمت اور الفاظ میں ایسی رکاکت ہوتی ہے جو خود یہ خبر دے رہی ہوتی ہے کہ میں جھوٹی روایت ہوں.

قال ابن القيم رحمه الله: والأحاديث الموضوعة عليها ظلمة وركاكة ومجازفات باردة تنادي على وضعها واختلاقها على رسول الله صلى الله عليه وسلم. المنار المنيف، ص:50.
خلاصہ کلام

رمضان المبارک ہو یا کوئی بھی مہینہ، اللہ کو راضی کرنے والے اعمال اور عبادت کیلئے اس مہینے کی آمد سے پہلے اسکی تیاری اور اہتمام کرنا مقصود اور مطلوب ہے،  اور آپ علیہ السلام نے صحابہ کرام کو پہلے سے تیار بھی کیا اور ان اعمال پر جنت کا وعدہ بھی فرمایا،  لیکن محض خبر دینے پر یا اس کے پھیلانے پر کسی قسم کے اجر کا کوئی وعدہ نہیں بلکہ جھوٹی روایات بیان کرنے پر تو وعیدیں موجود ہیں، لہذا ان باتوں سے اجتناب کیا جائے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں