جواہرالقرآن

مولانا عبداللہ اسلم کے قلم سے

قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت
تمہیدوپس منظر

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک جگہ قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت پر بیان کیا ۔اور قرآن مجید کے اس چیلنج کا تذکرہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو دیا تھا جن کو اپنی زبان دانی اور قوت کلام پر ناز تھا جن کے ہاں شعروادب ہی بزرگی وفضیلت کا معیار تھا ۔
تقریر کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ سامعین اس چیلنج کی قوت کو محسوس نہیں کرپارہے کیونکہ وہ اس دور کے حالات اور عربوں میں شعر وبیان کی قیمت سے ناواقف ہیں ۔تو گفتگو کا موضوع بلا قصد عربی زبان کی فصاحت وبلاغت اہل عرب کی زباندانی ،عرب معاشرے پر شعراء کے اثرات ،اور اس کے تناظر میں قرآن مجید کے اس چیلنج پر ہوگیا۔
رمضان المبارک کا مہینہ تھا ۔طبیعت میں عجیب جوش تھا ۔مضامین کی گویا قلب پر بارش ہورہی تھی ۔الفاظ کا دامن مافی الضمیر کے اظہار کے لئے تنگ پڑرہا تھا ۔
آج کل سامعین عموما بیان کی طوالت سے اکتا جاتے ہیں اس لئے طویل بیان کی مجھے کبھی عادت نہیں رہی لیکن اس دن مجلس پر عجیب کیفیت طاری تھی جب بیان ختم ہوا تو اندازہ ہوا کہ اچھا خاصا وقت گذر چکا ۔
گھر واپس آکر میں نے ان مضامین کو لکھنا شروع کیا کہ اگر مضمون کو لکھ لیاجائے تو وہ محفوظ ہوجاتا ہے ۔
اب اس بات کو سالہاسال گذر چکے ۔ارادہ یہ تھا کہ کتب سے تحقیق کرکے کوئی مضبوط تحریر لکھوں گا ۔لیکن اعذار ومصروفیات میں وہ بات رہ گئی ۔اب یہ سوچ کر لکھنا شروع کیا کہ جولکھا ہے اسی کو کچھ کمی بیشی کے ساتھ مرتب انداز میں تحریر کردیا جائے ۔
تاکہ کتاب اللہ کے ادنی خدمتگاروں کی کسی صف میں میرا بھی شمار ہوجائے ۔اللہ تعالی اس کو قبول فرمائے اور آخرت میں نجات وکامیابی کا باعث بنادے ۔آمین۔

عربی زبان کی فصاحت وبلاغت

عجیب بات ہے کہ کسی بھی زبان کی فصاحت وبلاغت کو دیکھنا ہو تو اس زبان کے اہل علم کا کلام دیکھا جاتا ہے ۔ان کے ادباء اور اساتذہ کے کلام کو جانچا جاتا ہے ۔لیکن اہل عرب کے ہاں یہ صلاحیت کسی ظاہری تعلیم کی محتاج نہ تھی ۔
ان کے عام دیہاتی بھی فصاحت وبلاغت کے اس درجے پر فائز تھے کہ دیگر اقوام کو عجم یعنی قوت کلام سے عاجز قرار دیتے تھے ۔
یہ حارث بن حلّزہ ہے ۔برص یعنی کوڑھ پن کا مریض ہے بادشاہ کے دربار میں اس حال میں کھڑا ہے کہ بادشاہ نے اس کے مرض سے کراھت کی وجہ سے اس کے اور اپنے درمیان پردہ ڈال رکھا ہے ۔
اور دوسری قوم کی طرف اس کا میلان ہے ۔اس شخص کے پاس اپنی قوم کا حق ثابت کرنے کے لئے قوت بیان کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو یہ نیزے پر ٹیک لگا کر کھڑا ہوتا ہے اور بغیر کسی پیشگی تیاری کے فی البدیہہ ساٹھ ستر اشعار پر مشتمل قصیدہ کہتا ہے ۔قصیدہ کہتے وقت اس کی حمیّت اسقدر جوش میں ہے کہ وہ نیزہ جس پر ٹیک لگائی تھی ہاتھ سے پار ہوجاتا ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوتا ۔قصیدہ فصاحت وبلاغت کے اس معیار پر ہے کہ آج چودہ صدیوں سے زائد عرصہ گذر جانے پر بھی عربی زبان کے تدریسی نصاب کا حصہ ہے ۔اور ان قصائد میں شامل ہے جن کو معلّقات کہا جاتا تھا کہ انہیں سونے کے پانی سے لکھ کر کعبے کی دیواروں سے لٹکاتے تھے کہ یہ کلام بے مثال ہے ۔اس کی نظیر پیش کرنا مشکل ہے ۔
بادشاہ اور اس کے درباری دنگ رہ جاتے ہیں اور وہی بادشاہ جو کراھت کی وجہ سے پردہ لٹکائے ہوئے تھا اب اپنے تخت پر بٹھا کر اپنے ساتھ کھانا کھلارہا ہے ۔
اہل عرب کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔ان کے ہاں فی البدیہہ ایسا کلام کہنا جو شعر وادب کے اعلی معیارات پر پورا اترتا ہو معمولی بات تھی ۔
عرب شاعر فرزدق مسجد الحرام میں کھڑا ہے وقت کا ولیعھد ھشام بن عبدالملک طواف کے لئے آتا ہے اور حجر اسود تک پہنچ کر اسے بوسہ دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن لوگوں کا اژدحام ہے اسے کامیابی نہیں ہوتی ۔اسی اثنا میں حضرت زین العابدین علی بن حسین بن علی رضی الله عنہم تشریف لاتے ہیں اور مجمع احترام میں چھٹ جاتا ہے وہ اطمینان سے بوسہ لیتے ہیں ۔ھشام کے رفقاء حیرانگی سے پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جس کی لوگوں کے دلوں میں یہ قدر ومنزلت ہے تو ھشام اس خوف سے کہ لوگ ان کی طرف مائل نہ ہوجائیں کہتا ہے مجھے معلوم نہیں ۔فرزدق نے کہا لیکن مجھے معلوم ہے ۔
پھر تقریبا 33 اشعار پر مشتمل ایسا بے مثال قصیدہ کہا کہ اہل بیت کی مدحت میں اس کی نظیر پیش کرنا آج تک مشکل ہے ۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ تو ان کے شعراء وادباءکے حالات ہیں ۔تو حقیقت یہ ہے کہ عام لوگوں کی مہارت لسانی بھی کچھ کم نہ تھی ۔ایک دیہاتی ہاتھ اٹھائے دعاء مانگ رہا ہے اور دعاء میں اس کا کلام اس قدر پرشکوہ ہے ۔الفاظ ایسے شاندار ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اس کو بلاتے ہیں اور گائے کے سر کے برابر سونا انعام میں دیتے ہیں ۔اور پوچھتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ کس چیز کا صلہ ہے وہ کہتا ہے اس لئے کہ ہماری آپ سے قرابت داری ہے اور قرابت داری کا حق ہوتا ہے ۔فرمایا کہ درست کہا قرابت داری کا حق ہوتا ہے لیکن یہ تمہاری حسن ثناء کا انعام ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

پھر یہ فصاحت اور بلاغت اہل عرب کے بچوں میں بھی بدرجہ اتم موجود تھی ۔
مشہور ادیب اصمعی کا واقعہ ہے کہ اس نے ایک بچی کو دیکھا جو کھیلتے ہوئے بڑی فصاحت سے اشعار پڑھ رہی تھی ۔اصمعی رح نے اس کی فصاحت پر تعجب کیا تو کہنے لگی کہ اصمعی کیا قرآن کے بعد بھی کچھ فصاحت بچی ہے؟ کہ قرآن کی ایک ہی آیت میں دو امر دو نہی دو خبریں اور دو بشارتیں ہیں (یہ واقعہ آگے مفصل ذکر ہوگا ) اصمعی اس پر دنگ رہ گئے کہ نہ صرف خود فصیح کلام پر قادر ہے بلکہ قرآن کی فصاحت کو بھی پہچانتی ہے ۔
انہی اصمعی رح کے بارے میں ابن جوزی رحمہ اللہ نے اخبار الظراف والمتماجنین میں اور ابن عبدربہ اندلسی نے العقد الفرید میں لکھا ہے کہ ایک دن انہوں نے ایک بچے کو دیکھا جو ایک مشکیزے میں پانی بھر رہا تھا ۔مشکیزہ بڑا تھا اور بچے کے لئے وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے سنبھالنا دشوار ہورہا تھا تو اس نے اپنے باپ کو آواز دے کر کہا

یا ابتِ ادرک فاھا غلبنی فوھا لاطاقۃ لی بفیھا

یعنی ابا جان اس مشکیزے کا منہ پکڑلیں مجھ پر تو یہ غالب آگیا ہے اور اسے سنبھالنے کی مجھ میں طاقت نہیں رہی ۔
اصمعی کہتے ہیں کہ میں اس فصاحت پر دنگ رہ گیا ۔اور اسے کہا اللہ کی قسم تم نے تو ساری عربیت کو ایک جملے میں جمع کردیا ہے ۔
اصل میں فو یعنی منہ کے لفظ کو اس نے اس جملے میں تین طرح سے استعمال کیا ہے اور عربی زبان میں اعراب کی تین ہی حالتیں ہوتی ہیں ۔
علامہ ذھبی رح نے سیر اعلام النبلاء میں ھشام بن عمرو الفوطی کے بچپن کا قصہ ذکر کیا ہے کہ کسی آدمی نے اس سے پوچھا ۔

کم تعّد من السنین؟

تم سالوں میں سے کتنے شمار کرتے ہو؟ عرب یہ سؤال عمر پوچھنے کے لئے کیا کرتے تھے ۔لیکن اس کا ایک مطلب یہ بھی بن سکتا ہے کہ تم کتنی گنتی کرسکتے ہو تو انہوں نے جواب دیا

من واحد الی اکثر من الف

کہ میں ایک سے لے کر ھزار سے اوپر تک گن سکتا ہوں ۔اب اس نے انداز سؤال بدلا اور کہا

لم ارد ھذا کم لک من السن؟

کہ میرا ارادہ یہ نہیں تھا بلکہ آپ کا سِن کتنا ہے ۔اب اس سؤال میں خرابی یہ تھی کہ سِن عربی زبان میں دانت کو بھی کہتے ہیں تو انہوں نے یہ معنی مراد لیتے ہوئے کہا

اثنان وثلاثون سنا

بتیس دانت ہیں ۔سائل:

کم لک من السنین

تمہارے کتنے سال ہیں؟
ہشام :

ماھی لی کلھا للہ

سب سال اللہ ہی کے ہیں ۔
سائل:

فماسّنک

اس کا بھی ایک مطلب یہ بنتا ہے کہ عمر کے اعتبار سے تمہارا سن کونسا ہے؟ اور دوسرا تمہارا دانت کیا چیز ہے؟ ھشام دوسرا معنی مراد لیتے ہوئے عظم ھڈی ہے ۔
سائل :

ابن کم انت

یہ جملہ بھی عرب عمر معلوم کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم کتنے سال کے ہو؟ لیکن ابن کا مطلب بیٹا زیادہ معروف ہے اور اس صورت میں ترجمہ ہوگا تم کتنے لوگوں کے بیٹے ہو ۔ھشام اسی دوسرے معنی کو لیتے ہوئے

ابن ام واب

میں ایک ماں اور ایک باپ کا بیٹا ہوں ۔
سائل :

فکم اتی علیک

تم پر کتنے گذرچکے ہیں ۔سال مراد ہیں ۔لیکن یہاں دشمن بھی مراد لیا جاسکتا ہے ۔تو ھشام اسی دوسرے معنی کو لیتے ہوئے

لو اتی علی شئی لقتلنی

اگر مجھ پر کچھ دشمن گذرے ہوتے تو مجھے قتل کرچکے ہوتے ۔
اس آدمی نے انتہائی زچ ہوکر کہا

ویحک فکیف اقول

کہ تم پر افسوس (تم ہی بتاؤ) میں کیسے کہوں؟
اس پر ھشام نے کہا یوں کہنا چاہیئے کم

مضی من عمرک

آپ کی عمر کتنی گذرچکی ہے ؟
اب عربی زبان کی چند خصوصیات پر نظر ڈالتے ہیں جو اس فصاحت وبلاغت کا سبب ہیں ۔

عربی زبان کی خصوصیات
1 ذخیرہ الفاظ کی وسعت اور ترادف

عربی زبان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں الفاظ کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جو کسی معنی ومفھوم کو مختلف اسالیب میں بیان کرنے کی قدرت دیتا ہے ۔اسے ترادف سے تعبیر کرتے ہیں اس سے مافی الضمیر کو مختلف اندازوں سے اور باریک باریک اوصاف کا لحاظ رکھتے ہوئے بیان کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے ۔
عام زبانوں میں کسی مفھوم کو اداء کرنے کے لئے عموما دو چار لفظ ہی پائے جاتے ہیں ۔مثلا شھد کے لئے اردو زبان میں شھد کے علاوہ اور کوئی لفظ استعمال نہیں ہوتا لیکن عربی زبان میں اس کے لئے اسّی (80 )لفظ پائے جاتے ہیں ۔علامہ مجدالدین شیرازی رح کی اس پر باقاعدہ تصنیف ہے ۔اسی طرح سانپ کے لئے دوسو اور شیر کے لئے پانچ سو لفظ پائے جاتے ہیں ۔اونٹ اور تلوار کے لئے ایک ھزار اور مصیبت کے لئے تقریبا چار ھزار الفاظ پائے جاتے ہیں ۔
اور الفاظ کی یہ کثرت بلاوجہ نہیں ہے بلکہ ان میں باریک باریک معانی کا لحاظ رکھا جاتا ہے مثلا اردو میں پانی نکالنے والے ڈول کو ڈول ہی کہا جاتا ہے چاہے وہ خالی ہو یا پانی سے بھرا ہوا ہو مگر عرب خالی ڈول کو دَلْو اور بھرے ہوئے ڈول کو ذَنُوب کہتے ہیں اسی طرح دسترخوان پر اگر کھانا لگا ہو تو اسے مائدہ اور اگر خالی ہو تو خوان یا سمّاط کہتے ہیں ۔
ہمارے نزدیک بال کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے چاہے وہ انسان کے بال ہوں یا کسی جانور کے ۔پھر انسان کے بال ہوں تو سر، داڑھی ،مونچھ یا جسم کے کسی بھی حصے کے بال ہوں ان کے لئے بال کا لفظ ہی مستعمل ہے ۔
پر عرب انسان کے بالوں کے لئے الشَعر اونٹ کے بالوں کے لئے الوَبر گدھے کے بالوں کے لئے اَلعَفا بکری کے بالوں کے لئے المِرعزا پرندے کے بالوں کے لئے الریش چوزے کے بالوں کے لئے الزغب شتر مرغ کے بالوں کو الزِف اور خنزیر کے بالوں کے لئے الھُلب کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔
پھر انسان کے بال بھی سر پر ہوں تو اور نام چہرے ،داڑھی ،سینے مختلف جگہ کے بالوں کے لئے مختلف نام ہیں ۔
پھر سر کے بال اگر درمیانی حصے کے ہیں تو اور نام پیشانی پر لٹک رہے ہیں تو اور نام کندھوں پر بکھرے ہیں تو اور نام استعمال ہوتا ہے ۔
پھر بالوں کے رنگوں کے اعتبار سے مختلف نام ہیں اسی طرح ان کے اوصاف کے اعتبار سے کہ سیدھے ہیں گھنگھریالے ہیں ۔گھنے ہیں یا چھدرے مختلف نام ہیں ۔
پھر گھنے ہیں تو کتنے گھنے؟ گھنگریالے ہیں تو کس قدر؟ لمبے ہیں تو کتنے لمبے؟ کانوں تک یا گردن یا پشت تک؟ ان کے درجات ہیں اور ہر درجے کے علیحدہ نام ہیں ۔
گویا اردو زبان میں کوئی شخص بال کا لفظ استعمال کرے تو سیاق وسباق کے بغیر جاننا دشوار ہے کہ انسان کے بال مراد ہیں یا کسی جانور کے اور اگر انسان کے بال مراد ہیں تو سر کے بالوں پر گفتگو ہورہی ہے یا جسم کے کسی اور حصہ کے بال زیر بحث ہیں ۔پھر وہ بال خوبصورت ہیں یا بدصورت ؟لمبے ہیں یا چھوٹے ؟ سیدھے ہیں یا گھونگریالے؟ نرم وملائم ہیں یا سخت وکھردرے؟ ایک لفظ سے بات واضح نہ ہوگی ۔لیکن عرب ایک لفظ استعمال کرے گا اور ان تمام باتوں کی وضاحت ہوجائے گی ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

ایک اور مثال دیکھتے ہیں ۔
ہم لوگ ہوا کے لئے صرف ہوا کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا تیز چلے تو آندھی کہتے ہیں یا ایک مخصوص کیفیت ہو تو بگولا کہہ دیتے ہیں ۔
لیکن اھل عرب کے ہاں مختلف جہات مشرق ،مغرب،شمال، جنوب سے چلنے والی ہواؤں کے الگ الگ نام ہیں ۔پھر صبح سویرے چلنے والی ہوا کا اور نام دوپہر کو چلنے والی ہوا کا مختلف نام، شام کو چلنے والی ہوا اور نام اور رات کو چلنے والی اور نام سے جانی جاتی ہے ۔پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ رات کے کس حصہ میں چلی؟ ۔گرم تھی یا سرد؟ گرمی یاسردی کی شدت کتنی تھی ؟ خشک تھی یا شبنم آلود ؟بادلوں کے جلو میں تھی یا غبار آلود؟ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی تھی یا بارش کے قطرات سے الجھ رہی تھی ؟اس کی رفتار کتنی تھی؟ صرف رفتار میں نرمی اور شدت کے اعتبار سے تقریبا دس درجات ہیں ۔
اسی طرح چوبیس گھنٹوں میں سے ہر ایک کا علیحدہ نام ہے ۔بچے کی پیدائش سے لے کر جوان ہونے تک سترہ درجات ہیں پھر جوانی کے اور پھر بڑھاپے کے بھی درجات ہیں جن کے علیحدہ علیحدہ نام ہیں ۔
ایک زمانے میں مجھے یہ درجات اور فروق جاننے کا بڑا شوق تھا ۔فروق اللغویہ اور چند دیگر فروق کی کتابیں میرے پاس تھیں ۔لیکن اس فن کی مشہور کتاب علامہ ثعالبی رح کی فقہ اللغۃ کے نام سے ہے وہ اب تو پاکستان میں چھپ گئی ہے اور عام مل جاتی ہے اس دور میں پاکستان میں نہ چھپی تھی تو میں ایک عرصے تک اس کی تلاش میں بیروت کی کتب کے مکتبات چھانتا رہا اور پشاور سے کراچی تک کے کتب خانے دیکھے ۔پشاور والوں سے تو بارہا درخواست کی کہ آپ بیروت سے منگوا دیں ۔آخر ایک دن ایک مکتبہ پر کتاب مل گئی لیکن خریدنے کو جیب میں رقم نہ تھی۔مولانا عبدالرحمن صاحب حالا استاذ مدرسہ احیاء العلوم لاہور کے پاس دوڑا ہوا گیا اور ان کی جیب سے خریداری کی ۔مولانا کے مجھ پر بے شمار احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی تعاون سے انکار نہیں کیا۔
خیر تو ترادف کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک مفہوم کو مختلف انداز سے بیان کرنے پر قادر ہوجاتا ہے اور چند الفاظ میں مفاہیم کے سمندر سمو دیتا ہے ۔اس جے علاوہ ایک ہی لفظ کو باربار دھرانے کی ضرورت پیش نہیں آتی جس کی وجہ سے کلام کے تکرار کے عیب سے پاک ہونے کی وجہ سے اس میں ایک حسن پیدا ہوجاتا ہے ۔سحبان وائل عرب کا مشہور خطیب ہے ایک دفعہ اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک خطبہ دیا۔تقریبا چارگھنٹے کے اس خطبے میں نہ وہ کہیں رکا نہ جھجکا نہ اٹکا اور نہ ہی کسی لفظ یا جملے کو دوبارہ استعمال کیا ۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حاضرین دنگ رہ گئے ۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم تو عرب کے سب سے بڑے خطیب ہو اس پر اس نے جواب دیا صرف عرب کا نہیں بلکہ عرب وعجم جن وانس کا سب سے بڑا خطیب ہوں ۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے درست کہا تم ایسے ہی ہو ۔
اندلس کے ایک قاضی صاحب کی بیٹی فوت ہو گئی ۔لوگ تعزیت کو آنے لگے تقریبا دوسو افراد نے تعزیت کی اور قاضی صاحب نے ہر ایک کو مختلف الفاظ سے جواب دیا اور کوئی بھی جملہ دوبارہ نہیں دھرایا ۔اب غورکیجئے کہ یہ غم کا موقع تھا کوئی ادب و انشاء کی محفل نہ تھی ۔مگر قاضی صاحب کی فصاحت اور قدرت کلام کا یہ عالم تھا کہ دوسو مختلف جملے استعمال کئےاور دوبارہ کوئی جملہ استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی ۔
اس موضوع پر کہ ایک مفھوم کو مختلف جملوں میں کیسے اداء کیا جاتا ہے عبدالرحمن الھمدانی کی ایک کتاب ہے الکتابۃ کے نام سے۔ جس میں ایک معنی کو بیس بیس جملوں سے تعبیر کرکے دکھایا گیا ہے ۔

اشتراک

عربی زبان کی ایک اور بڑی خصوصیت اشتراک ہے ۔ترادف میں تو ایک معنی کے لئے کئی الفاظ استعمال ہوتے تھے اشتراک میں ایک لفظ کے کئی معانی ہوتے ہیں ۔کہا جاتا ہے تقریبا ہر لفظ ہی متعدد معنی رکھتا ہے ۔مثلا لفظ عین عربی میں ستر کے قریب معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔اسی طرح عجوز کا لفظ ساٹھ سے زائد معنوں میں مستعمل ہے ۔بعض لوگوں نے لفظ عجوز کے مختلف معانی کو لے کر قصائد لکھے ہیں جن میں ہر شعر میں یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔
اصول بلاغت میں ایک وصف ہے تجنیس جس میں ایک ہی لفظ کو مختلف معنوں میں استعمال کرکے کلام میں حسن پیدا کیا جاتا ہے۔اردو شعراء اس کو ضلع سے تعبیر کرتے ہیں مگر اس کے استعمال کے لئے ایسی زبان ہونا ضروری ہے جو کثیر المعنی ہو ۔مثلا اردو میں ایک مثال دیکھیں

شانے سے بل نکال دئیے زلف یار کے
اک مار ہم نےزیر کیا مار مار کے

یہاں پہلا مار سانپ کے معنی میں ہے اور دوسرا پٹائی کے معنی میں ۔مگر اردو کا دامن تنگ ہے اس لئے فارسی سے مدد لینی پڑی کہ مار بمعنی سانپ درحقیقت فارسی کا لفظ ہے ۔
عربی زبان میں اس حوالے سے بہت وسعت ہے ۔اس لئے شعراء کثرت سے تجنیس کے ذریعے کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں ۔مقامات حریری میں جگہ جگہ یہ وصف استعمال ہوا ہے ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

عربی زبان کی جامعیت

عربی زبان کی ایک بہت بڑی خصوصیت اس کی جامعیت ہے ۔یعنی الفاظ تھوڑے ہوں اور ان میں معانی کے سمندر چھپے ہوئے ہوں ۔ بہت سے حضرات نے بلاغۃ کی تعریف میں یہ بات ذکر کی ہے قلیل اللفظ کثیر المعنی یعنی مختصر الفاظ میں وسیع ترین مفھوم کا سمودینا اور یہ عربی زبان کا خاصہ ہے ۔ کسی بھی دوسری زبان میں کوئی مضمون لکھیں اور وہی مضمون عربی زبان میں لکھا جائے تو عربی زبان کا مضمون کم الفاظ پر مشتمل ہو گا ۔
نبی کریم صلی الله عليه وسلم کو تو یہ وصف خاص طور پر عطاء کیا گیا تھا ۔کہ فرمایا اوتیت بجوامع الکلم پھر خود قرآن کی جامعیت کا تو کیا کہنا کہ ایک ایک آیت پر باقاعدہ کتب تفسیر لکھی گئی ہیں ۔اسی طرح جوامع الکلم کے عنوان سے بھی بہت سی کتب لکھی گئی ہیں ۔
لیکن قرآن وحدیث سے قطع نظر ایک زبان کی حیثیت سے عربی زبان میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ اس کے جملے دریا بکوزہ (کٹورے میں دریا) کا مصداق بن جائیں ۔
اسے ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں ۔
مثلا رات کی منظرکشی کرتے ہوئے میں اردو میں ایک پیراگراف استعمال کرتا ہوں ۔
سردی کا موسم تھا۔رات آدھی کے قریب گذرچکی تھی ۔چاند پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا مغرب کی جانب سے ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔شبنم کے قطرے سبزے کے فرش پر اتر رہے تھے ۔
اب اس پیراگراف میں مندرجہ ذیل چیزوں کا تذکرہ ہے ۔
1 رات کا وقت ہونا
2 رات کا روشن ہونا ۔
3 رات کا کونسا پہر اس کی تعیین
4 ہوا کا چلنا
5 ہوا کی سمت
6 ہوا کی رفتار یعنی اس کا نرمی سے چلنا
7 ہوا کی ٹھنڈک
8 شبنم کا گرنا
اب یہ فصیح اردو ہے ورنہ بات مزید طویل بھی ہوسکتی تھی ۔لیکن عربی زبان میں اسی مضمون کو تین یا چار لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔
جیسے

تھب البَلِیل فی اللیل المنیر

اس میں بھی زیادہ معانی پر مشتمل صرف ایک لفظ ہے یعنی البلیل یہ اس ٹھنڈی ہوا کو کہتے ہیں جو سردی کے موسم میں مغرب کی جانب سے آہستگی سے چلے اس حال میں کہ شبنم گررہی ہو ۔اور شبنم کے گرنے کاوقت عموما آدھی رات کے بعد ہوتا ہے ۔
ایسی مثالیں عربی زبان میں کثرت سے ملتی ہیں ۔مزید دیکھیں صفن کا لفظ اگر گھوڑے کے لئے استعمال ہو تو مطلب یہ کہ گھوڑا تین قدموں پر کھڑا ہوا اور چوتھا پاؤں نرمی سے زمین پر رکھ دیا ۔اور پرندے کے لئے استعمال ہو تو مطلب یہ کہ اس نے اپنے بچے کے لئے ایسا گھونسلہ بنایا جو تنکوں کیساتھ پروں سے بنا ہوا تھا ۔

صِلات ،اضداد ،اور دیگر خصوصیات

عربی زبان کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں فعل کو اسم سے ملانے کے لئے جو حرف استعمال ہوتے ہیں ان کے بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے ۔ان حروف کو صِلہ کہتے ہیں ۔مثلا ضربتہ کا معنی میں نے اسے مارا لیکن لام کے ساتھ استعمال ہو اور ضربت لہ کہا جائے تو مطلب میں نے اس کے لئے مثال بیان کی ۔اسی طرح ضربت عنہ میں نے اس سے منہ پھیر لیا ۔ضربت فی الارض میں نے سفرکیا ۔
اسی طرح رغب فیہ اس کی خواہش کی اور رغب عنہ اس سے اعراض کیا ۔
ان صلات کے بدلنے سے معانی کے تبدیل ہوجانے کی وجہ سے بھی عربی زبان میں بہت وسعت پیدا ہوگئی ہے ۔
اسی طرح اعراب کے بدلنے سے معنی کا بدلنا تو معروف بات ہے جیسے وُضوء
واؤ پر پیش کے ساتھ وضؤ کرنے کو کہتے ہیں اور وَضؤ واؤ پر زبر کیساتھ اس پانی کو کہتے ہیں جس سے وضوء کیا جائے ۔اسی طرح میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ وِضؤ واؤ کی زیر کیساتھ اس برتن کو کہتے ہیں جس سے وضؤ کیا جاتا ہے ۔لیکن یہ تیسری بات کتب لغات میں مجھے کہیں ملی نہیں ۔بہرحال عربی زبان میں باقاعدہ ایسی کتب موجود ہیں جو ایسے الفاظ پر مشتمل ہیں جو تین اعراب کیساتھ تین مختلف معانی دیتے ہیں ۔
اس کے علاوہ ایک ایسی خصوصیت عربی زبان میں پائی جاتی ہے جس کی نظیر کسی دوسری زبان میں ملنا مشکل ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ایک ہی لفظ کے دو بالکل الٹ معنی ہوتے ہیں ۔مثلا مولٰی کا لفظ آقا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور غلام کے لئے بھی اسی طرح صارخ فریاد کرنے والے کو بھی کہتے ہیں اور جو فریاد سن کر مدد کو آئے اسے بھی صارخ کہاجاتا ہے ۔رہوۃ بلندی کو بھی کہتے ہیں اور پستی کو بھی اس وصف کو صنعت اضداد کہتے ہیں اور اس سے بھی شعراء وادباء کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں ۔
علامہ ابن فارس کی فقہ اللغۃ اور علامہ سیوطی کی المزہر میں ایسے الفاظ کا تذکرہ بکثرت موجود ہے۔
عربی زبان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اسم آلہ اسم ظرف وغیرہ کے طے شدہ اوزان پائے جاتے ہیں اس لئے نئے الفاظ وضع کرنا دشوار نہیں ہے اسی وجہ سے عربی زبان جدید الفاظ میں دیگر زبانوں کی محتاج کبھی نہیں رہی ۔
اسی طرح تغیر وتبدل سے محفوظ رہنا بھی عربی زبان کی بڑی خاصیت ہے ورنہ ہر زبان رفتہ رفتہ اتنا بدل جاتی ہے کہ بعد میں آنے والوں کے لئے پرانی زبان کا سمجھنا بھی دشوار ہوجاتا ہے ۔اردو اور انگریزی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔اس حفاظت زبان کا بڑا سبب کتاب اللہ وسنت رسول کی منجانب اللہ حفاظت ہے ۔
عربی زبان میں اور بھی بہت سی خصوصیات ہیں جن کا احاطہ اس مختصر مضمون میں دشوار ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

عرب معاشرے پر شعراء کے اثرات

نیلی آنکھوں والی اس عورت کا اصل نام سُعاد تھا پر بسوس کے نام سے مشہور تھی یہ عورت زبردست شاعرہ تھی ۔ایک دفعہ یہ اپنی بہن کے پاس بطور مہمان گئی ایک پڑوسی بھی ہمراہ تھا جس کے پاس ایک اونٹنی تھی جسے سراب کہا جاتا تھا۔جب یہ لوگ وہاں جا کر ٹھہرے تو اونٹنی کھل گئی اور چرتے ہوئے کچھ فاصلے پر موجود ایک چراگاہ کی طرف چلی گئی یہ چراگاہ کلیب نامی شخص کی تھی یہ شخص قبیلہ تغلب کا سردار تھا اور بڑا معزز ومتکبر شخص تھا ۔عام خیال یہ تھا کہ کوئی اونٹ اس کے اونٹوں کے ساتھ نہیں چرسکتا اور کوئی شخص اس کی آگ کیساتھ آگ نہیں جلا سکتا ۔اھل عرب کے ہاں اس شخص کی اتنی عزت تھی کہ ان کے نزدیک کسی کو انتہائی معزز قرار دینا ہو تو اعزّ من کلیب کہتے تھے یعنی کلیب سے بھی زیادہ عزت والا ۔گویا اس کی عزت ضرب المثل تھی ۔اب اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی اونٹنی بلااجازت اس کی چراگاہ میں چر رہی ہے تو اس نے فورا اسے تیر مارا جو اس کے تھنوں میں لگا اور اونٹنی اس حال میں ڈکراتی ہوئی واپس آئی کہ اس کے تھنوں سے خون اور دودھ بہہ رہا تھا ۔اونٹنی کے مالک نے دیکھا تو فورا بسوس کو اطلاع دی اس پر بسوس نے کہا ہائے رسوائی ہائے مسافرت پھر چند شعر پڑھے عرب ان اشعار کو ابیات الفناء کہتے ہیں یعنی موت کے اشعار کہ ان اشعار نے ہزاروں لوگوں کی جان لے لی ۔
ان اشعار کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر میں اپنے علاقے میں ہوتی تو میرے پڑوسی کو تکلیف پہنچانے کی کسی کو جرآت نہ ہوتی ۔اب میں ایسی قوم میں ہوں جن کو پڑوسیوں کے حقوق کا کوئی خیال نہیں ہے وغیرہ یہ ایسے اشعار تھے جو اہل قبیلہ کی حمیت وغیرت پر ایک تازیانے کی حیثیت رکھتے تھے لہذا بسوس کے بھانجے جساس بن مرۃ نے جوش میں آکر کلیب کو قتل کرڈالا ۔اور کلیب کی قوم بدلے کی طالب ہوئی تو تغلب اور بکر بن وائل میں جنگ چھڑ گئی حرب البسوس نامی یہ جنگ چالیس سال تک چلتی رہی دونوں جانب کے شعراء اپنے کلام سے جنگ کو بھڑکاتے رہے اور اس دوران ہزاروں لوگ مارے گئے ۔گھرانے اجڑگئے مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہوگئے علاقے ویران ہوگئے ۔
یہ واقعہ عرب معاشرے پر شعراء کے کلام کے اثر کی ایک مثال ہے کہ ایک عورت کے اشعار پوری قوم کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں ۔
عربوں کے ہاں کسی قوم یا فرد کی عزت وذلت کا معیارہی شعراء کا کلام تھا ۔کسی قوم کے بارے میں شاعر تعریفی کلمات کہہ دیتا تو وہ قوم معزز شمار ہونے لگتی اور کسی قوم کی ہجو کردیتا تو وہ ذلیل سمجھی جانے لگتی ۔شعراء کے کلام کی وقعت ان کے ہاں وحی الہی سے کم نہ تھی اس لیے کسی قوم میں کسی اچھے شاعر کا ہونا انتہائی باعث فخر ہوتا تھا اور اگر کوئی شاعر نہ ہوتا تو قوم والے کوشش کرتے تھے کہ کس شاعر کو خوش کرکے کچھ تعریفی کلمات کہلوالیے جائیں تاکہ ہماری معاشرے میں عزت قائم رہے ۔گویا شعراء کو اس دور میں وہی حیثیت حاصل تھی جو آج کل میڈیا کو ہے ۔بلکہ اس سے بہت بڑھ کر کہ شاعر کے کلام کی تردید کی صرف ایک ہی صورت تھی اور وہ یہ کہ اس سے بڑا شاعر زیادہ فصیح الفاظ میں اس کے مقابلہ میں شعر کہہ دے ۔
عرب کا ایک قبیلہ بنوالانف نام کا تھا جس کا مطلب بنتا ہے ناک والے تو یہ لوگ اپنے قبیلے کا نام بتاتے ہوئے شرماتے تھے ۔ہماری زبان میں کہا جائے تو ناکو بنتا ہے تو اب کسی کا نام ناکو ہو تو ظاہر ہے وہ بتاتے ہوئے کوئی فخر محسوس نہیں کرے گا ۔یہ لوگ عربوں میں انتہائی کم درجے کے سمجھے جاتے تھے ۔ایک دفعہ ان کے قبیلے کے پاس سے مشہور شاعر عرب اعشیٰ کا گذر ہوا قبیلے والوں نے مشورہ کیا کہ کسی طرح اسے خوش کرکے کچھ شعر کہلوا لو تاکہ ہماری بھی کچھ عزت ہونے لگے ۔اہل قبیلہ اس کے پاس آئے اور بڑی لجاجت سے درخواست کی کہ وہ ان کے پاس کچھ دن مہمان کے طور پر ٹھہر جائے ۔جب اعشیٰ قبیلہ میں پہنچا تو سارے قبیلے نے اس کے اعزاز واکرام میں دن رات ایک کردیا یہاں تک کہ اعشیٰ نے ایک قصیدہ کہا جس میں اس قبیلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ھم الانف والاذناب غیرھم کہ یہ لوگ تو عرب کی ناک ہیں اور باقی تو ان کے مقابلے میں دم کی طرح ہیں ۔اب ناک کا لفظ عزت کی انتہاء کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کہ اردو میں بھی جب بے عزتی بتانا مقصود ہو تو کہتے ہیں میری تو ناک کٹ گئی تو شاعر نے عزت والے معنی مراد لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ تو اسقدر معزز ہیں کہ گویا عرب کی ناک کی حیثیت رکھتے ہیں اور باقی لوگ تو دم کی مانند ہیں ۔
اعشیٰ کوئی معمولی شاعر نہ تھا اس کا کلام جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا تھا ۔چند ہی دنوں میں عرب کے بچے بچے کی زبان پر تھا ھم الانف والاذناب غیرھم
اور یہ قبیلہ جو انتہائی کمتر سمجھا جاتا تھا اب انتہائی معزز شمار ہونے لگا جو لوگ اپنا نام بتاتے ہوئے شرماتے تھے اب وہ فخر سے کہتے کہ ہم بنو الانف ہیں جن کے بارے میں اعشی کہتا ہے ھم الانف والاذناب غیرھم.
اسی اعشی کا اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے جو بہت مشہور ہے اور تاریخ کی کتب میں کثرت سے ملتا ہے وہ یہ کہ محلقّ کلابی نام کا ایک شخص بہت فقیر آدمی تھا اس کی تین یا بعض کے بقول سات بیٹیاں تھیں اور غربت کی وجہ سے ان سے کوئی رشتہ کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا ۔اعشی عکاظ کے میلہ میں شرکت کے لئے آیا یہ عکاظ کا میلہ شعراء کے ایک طرح سے اجتماع کا موقع ہوتا تھا جس میں شعراء شرکت کرکے اپنا کلام پیش کرتے تھے اور مشہور شاعر عرب نابغہ ذبیانی اور دیگر بڑے شعراء فیصلہ کرتے تھے ۔
تو اس محلق کلابی کے قبیلے کے پاس ایک پانی تھا وہاں آکر ٹھہرا تو محلق کی پھوپھی اس کے پاس آئی اور اسے کہا موقع اچھا ہے اعشیٰ کی خدمت کرکے کچھ کہلوا لو عربوں میں معزز ہوجاؤ گے اس نے کہا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے سوائے دو عمدہ چادروں کے جو مجھے باپ کی میراث میں ملی ہیں اور اس اونٹنی کے جس کے دودھ کے میں اور میرے بچے بہت محتاج ہیں ۔اس کی پھوپھی نے اسے کہا اگر اعشیٰ نے تیری تعریف کردی تو عزت کیساتھ مال ودولت کی بھی بارش ہوگی ۔وہ آدمی شش وپنج میں رہا حتی کہ اعشیٰ وہاں سے کوچ کرگیا اس کی پھوپھی کو علم ہوا تو وہ انتہائی رنجیدہ ہوئی اور کہا یہ آخری موقع تھا جو تو نے ضائع کردیا اس پر محلق نے ایک تاجر سے شراب کا ایک مشکیزہ قرض لیا اور وہ اونٹنی اور چادریں دے کر ایک غلام کو اعشی کے پیچھے بھیجا کہ آپ ہمارے علاقے میں آئے تھے افسوس کہ میں اس وقت وہاں نہ تھا اس لئے مہمانوازی نہ کرسکا براہ کرم اب یہ قبول فرمالیجئے ۔
اعشیٰ نے کہا اسے کہنا تمہارا ہدیہ ہم تک پہنچ گیا اور جلد ہی ہماری توصیف وتعریف تم تک پہنچ جائے گی ۔یہ کہہ کر اعشیٰ اپنے وطن روانہ ہوگیا ۔محلق کلابی اب بالکل مفلس اور خالی ہاتھ تھا قرض اتارنے کے لئے رقم تک نہ تھی ۔کہ اچانک جیسے سیلاب کا پانی تیزی سے کسی جگہ داخل ہوتا ہے یا جنگل کی آگ علاقے کو گھیر لیتی ہے ایسے اس کی شہرت عرب کے کونے کونے تک پھیل گئی ۔اس کی مہمان نوازی کے ہر طرف چرچے تھے اس کی سخاوت ضرب المثل ہو گئی تھی ۔اگلے سال عکاظ کے میلے کا وقت آنے سے پہلے ہی اس کی تمام بیٹیوں کا رشتہ ہوچکا تھا اور کسی کا مہر بھی سو اونٹوں سے کم نہیں تھا ۔کہ اعشیٰ جسے لوگ صنّاجۃ العرب کہتے تھے اپنا وعدہ پورا کرچکا تھا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

حارث بن حلّزہ کا واقعہ پیچھے گذرا کہ کیسے اس نے فی البدیہہ قصیدہ کہہ کر بادشاہ اور اس کے درباریوں کی رائے اپنے حق میں کرلی تھی ۔
دوسرے قبیلے کا سردار بھی نامور شاعر عمرو بن کلثوم تھا وہ اس وقت تو کچھ نہ کرسکا اور غصہ میں وہاں سے چلا گیا
لیکن بعد میں اس نے ایک واقعہ پر مشتعل ہوکر بادشاہ کو مار ڈالا اور اس نے بھی اپنی قوم کی شان میں ایک زبردست قصیدہ کہا یہ قصیدہ قومی فخر میں عظیم الشان مقام رکھتا ہے یہ بھی سبع المعلقات میں شامل ہے ۔سبع المعلقات سے مراد وہ سات قصیدے ہیں جو بے نظیر سمجھے جاتے تھے اور سونے کے پانی سے لکھ کر کعبے کی دیواروں پر لٹکائے گئے تھے ۔عمرو بن کلثوم اس قصیدہ میں کہتا ہے ۔

اذا بلغ الفطام لنا صبی
تخر لہ الجبابر ساجدینا

یعنی ہم اتنے معزز اور شان وشوکت والے لوگ ہیں کہ جب ہمارا بچہ دودھ چھوڑنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو بڑے بڑے جابر لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے ہیں ۔
قیروانی نے اپنی کتاب العمدہ میں لکھا ہے کہ جب کسی عرب قبیلے میں کوئی شاعر ظاہر ہوتا تھا تو دیگر قبائل کے لوگ مبارکباد دینے کے لئے آتے تھے اور عورتیں ایسے جمع ہوکر خوشی مناتی تھیں جیسے شادیوں میں خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔کہ شاعر کسی بھی قبیلے کی زبان ہوتا تھا اس لئے مختلف قبائل کو اپنی ناموری اور شہرت کے لئے شعراء کی ضرورت رہتی تھی ۔کہ شعراء کی تعریف جہاں کسی کو معزز ومشہور کردیتی تھی وہاں ان کی ھجو ذلیل وخوار کردیا کرتی تھی مشہور شاعر طرفۃ بن العبد کے عین شباب میں قتل کی وجہ یہی تھی کہ اس نے بادشاہ کی ھجو کردی اور بادشاہ نے ذلت محسوس کی تو اسے قتل کروادیا ۔
بعض اوقات مختلف شعراء جب ایک دوسرے کے خلاف شعر کہتے تھے تو دونوں کا کلام اس قدر شاندار ہوتا تھا کہ یہ فیصلہ دشوار ہوجاتا تھا کہ کس کے کلام کو ترجیح دی جائے ۔اس کی سب سے بڑی مثال دور بنی امیہ کے شعراء میں سے جریر اور فرزدق کا ایک دوسرے کے مقابلے میں کلام ہے یہ دونوں ایک دوسرے کی ھجو اور اپنی قوم کی مدح میں تقریبا دس سال تک شعر کہتے رہے ان دونوں کا کلام اسقدر شاندار تھا کہ صدیاں گذر گئیں آج تک فیصلہ نہیں ہوسکا کہ جریر غالب رہا یا فرزدق ۔اس دور کے شعراء ادباء اور حتی کہ عوام بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئے جریر کے حمایتیوں کو جریری اور فرزدق کے حمایتیوں کو فرزدقی کہا جاتا تھا شیخ مصطفی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ لوگوں میں ان کے کلام کا اسقدر تذکرہ اور جنون تھا کہ آدھی رات کو جریر کا کوئی حمایتی اٹھتا اور خیموں کے درمیان آکر اس کا کلام پڑھتا ۔دوسری جانب کوئی فرزدقی اٹھتا اور شعروں میں جواب دیتا ۔صرف عوام ہی نہیں شعراء بھی ان دونوں کی حمایت میں برسرپیکار تھے مشہور شاعر اخطل فرزدق کا حامی تھا اسی طرح الاحوص وغیرہ ادھر بشار المرعث المفضل وغیرہ جریر کے طرفدار تھے ۔
ایک بڑے شاعر کو فیصلہ کے لئے بلایا گیا اس نے بہت غور وخوض کے بعد یہ کہا فرزدق کا کلام مضبوط چٹان کی طرح ہے اور جریر کا کلام بہتے ہوئے چشمے جیسا ہے ۔گویا وہ بھی کوئی حتمی فیصلہ نہ کرسکا اور دونوں کی ہی تعریف کرگیا ۔ان کی اس شاعری نے فن شعر میں ایک نئی صنف کی بنیاد رکھ دی جسے النقائض کہتے ہیں یہ آج کل باقاعدہ کتابی شکل میں چھپے ہوئے ملتے ہیں ۔میں نے اس پر محمد بن مثنی التمیمی کی ایک کتاب دیکھی تھی ۔
اس سارے کلام سے اصل میں یہ بتانا مقصود تھا کہ عرب معاشرے میں زبان وبیان کی کسقدر اہمیت ورواج تھااور ان میں کیسے کیسے ماہرین لسان پائے جاتے تھے جن کے کلام کی ایک دنیا میں شہرت تھی ۔جن کے شعروں پر لوگ سجدے میں گرپڑتے تھے جن کی عزت نفس کسی چیلنج کی رودار نہ تھی کہ ان کی نظر میں اور دنیا کی نظر میں بھی ان جیسا کوئی نہ تھا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

ربّ الشعراء کا چیلنج

اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جس زمانے میں جس چیز کا شہرہ رہا اور جس فن کے وہ لوگ ماہر تھے اسی مناسبت سے اس زمانے کے انبیاء کو معجزات دئیے گئے ۔تاکہ وہ اپنے فن کی مہارت کو کام میں لاکر پورے شرح صدر سے یہ سمجھ لیں کہ یہ معجزہ ہمارے فن کے دائرہ کار سے باہر ہے اور یہ کمال فن کا نتیجہ نہیں بلکہ کچھ اور ہے اور ہماری مہارت، سمجھ بوجھ، ادراک اس کے سامنے بے بس ہے ۔
موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں سحروجادو کا زور تھا تو اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو وہ معجزہ عطاء فرمایا کہ جادوگر دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں اور مشرف بایمان ہوئے ۔
عیسی علیہ السلام کے دور میں عقل پرست غالب تھے۔ افلاطون، ارسطو، سقراط وغیرہ کا شہرہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو وہ معجزات عطاء فرمائے جو عقل کے کسی پیمانے پر پورا نہیں اترتے تھے کہ عقل کہتی ہے بیمار کا علاج تو ممکن ہے لیکن جو ماں کے پیٹ سے اندھا یا کوڑھی پیدا ہوا اس کا کوئی علاج نہیں ۔اسی طرح مریض تو تندرست ہوسکتا ہے لیکن جو مرکر گل سڑ گیا اس کے دوبارہ زندہ ہونے کی کوئی صورت نہیں ۔جب عیسی علیہ السلام کے ہاتھ پر مادرزاد اندھوں کو شفاء ملی جب ان کےفرمانے پر نوح علیہ السلام کے دور کے لوگ زندہ ہونے لگے تو عقل پرستوں کے لئے یہ کہے بنا چارہ نہ رہا کہ یہ معجزات عقل کے دائرہ کار سے باہر ہیں ۔
نبی اکرم صلی الله عليه وسلم تشریف لاتے ہیں تو شعر وادب کا دور دورہ ہے زبان وبیان کے چرچے ہیں ۔اہل عرب کے نزدیک شاعری عزت وذلت کا معیار ہے بزرگی وفضل کا پیمانہ ہے ۔فصاحت وبلاغت کی قیمت سچے موتیوں سے زیادہ ہے ۔لوگ کلام کو سنتے ہی نہیں پوری گہرائی سے سمجھتے بھی ہیں اور عمدہ اور ردی کلام میں فرق پرقادر بھی ہیں ۔شعراء عرب کی نبیوں کی طرح قدرومنزلت ہے ان کا زعم یہ ہے کہ ان کے کلام جیسا کلام بنانا کسی کی قدرت میں نہیں ہے ۔
کہ اچانک عرب کے صحراؤں میں ایک شخصیت نمودار ہوتی ہے ۔عرب کے تپتے میدانوں سے ایک آواز اٹھتی ہے اور عرب دم بخود رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسا عجیب کلام ہے جس کی فصاحت کا ادراک ان کے لئے مشکل ہے اس کی مثل اور نظیر لانا ان کے لئے ناممکن ہے ۔
پھر اس کلام میں ان کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اس جیسا کلام تم پیش کرسکتے ہو تو پیش کرو ۔
علماء نے لکھا ہے کہ یہ چیلنج پانچ مرحلوں پر مشتمل ہے کہ پہلے پورے کلام کا کہا پھر دس سورتوں کا پھر ایک سورۃ کا پھر کہا اس جیسا ایک جملہ ہی بنالاؤ پھر کہا کہ تم سب انس وجن جمع ہو کر بھی نہیں بناسکتے ۔اور یہ چیز کہ درجات میں چیلنج کرنا کہ اچھا اتنا نہیں کرسکتے تو اتنا کرلو اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو اس سے کم کرلو یہ مخاطب کی عزت نفس پر انتہائی بھاری ہوتا ہے ۔پھر یہ کہنا کہ تم بالکل کرہی نہیں سکتے یہ تو آخری درجہ کا چیلنج ہے۔
:تو پہلے فرمایا

قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآَنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا  

یعنی صرف جزیرۃ العرب کے لوگ نہیں بلکہ انسان وجنات بھی جمع ہوجائیں ایک دوسری کی مدد کریں پھر بھی اس قرآن مجید جیسا کلام نہیں لاسکتے ۔اب اصولا تو اس چیلنج پر ہی تہلکہ مچ جانا چاہئے تھا ۔
کہ درحقیقت یہاں کہا جارہا ہے ۔
کہ اے عرب کے وہ لوگو! جنہیں اپنی قدرت کلام پر ناز ہے جن کی زندگیاں زبان وبیان پر صرف ہوئی ہیں ۔جن کا کلام ان کے زعم میں بے مثال اور لافانی ہے جن کی فصاحت وبلاغت کا ایک عالم میں چرچا ہے جن کی خوش بیانی اور قادر کلامی کے ڈنکے بج رہے ہیں ۔
اے وہ لوگو جن کا کلام قوموں کو عزت کی معراج تک پہنچا دیتا ہے جن کے الفاظ ذلت کی گہرائیوں میں اترنے کا سبب ہوجاتے ہیں ۔جن کے اشعار پر لوگ کٹ مرتے ہیں جن کے الفاظ کوسجدے کئے جاتے ہیں جن کی فصاحت وبلاغت پر جنگیں لڑی جاتی ہیں جن کے حسن خیال کی تصدیق پر معرکے ہوتے ہیں ۔
تم سب اگر اپنے دعؤوں میں سچے ہو تو اس کلام جیسا کلام بناکرلاؤ ۔
لیکن جواب میں خاموشی ہے کوئی مقابل نہیں ۔ اور کیسی خاموشی؟ اور کون خاموش ہے؟ شعراء خاموش ادباء خاموش وہ لوگ خاموش جن کی ادبی مہارت کی لوگ قسمیں کھاتے تھے ۔وہ لوگ خاموش جن کے کلام کو سونے کے پانی سے لکھ کر کعبے کی دیواروں سے لٹکایا جاتا تھا ۔وہ لوگ خاموش جن کا کلام بادشاہوں کے تخت الٹ دیتا تھا ۔وہ لوگ خاموش جن کے بارے میں دنیا کا دعوی تھا کہ ان کی مہارت کی کوئی نظیر نہیں ہے ۔
قرآن پھر کہتا ہے اچھا اگر انفرادی کوشش دشوار ہے ۔اگر فرد واحد کی طبیعت نہیں کھلتی اگر مضمون کی آمد وآورد کا مسئلہ ہے تو کوئی بات نہیں تم سب مل کر کلام بنالو کسی قوم کی قید نہیں کسی قبیلے کی قید نہیں کسی زمانے وعلاقے کی قید نہیں جسے چاہے بلالو ۔لبید کو پکارو جس کے شعروں پرلوگ سجدے کرتے ہیں اعشیٰ کو آواز دو جس کا کلام عزت کی معراج پرپہنچادیتا ہے یا ذلت کی پستیوں میں گرادیتا ہے ۔امرؤالقیس کے کلام سے مدد لو جو اشعرالعرب کہلاتا ہے ۔زھیر کو بلاؤجس کی فصاحت کی ایک دنیا قائل ہے عنترہ کو پکارو جس کی بداھت پردنیا دنگ ہے ۔
اچھا سارا کلام نہیں بناسکتے؟ تو دس سورتیں بنا لاؤ ۔دس سورتیں بھی نہیں بناسکتے تو ایک سورت ہی اس جیسی پیش کرو
ارے انسانوں کوجمع کرلو، جنات کوبلالو فرشتوں سے مدد طلب کرو کُہّان وعراف سے مدد مانگو ۔
پھر اپنی ساری قوتوں کوجمع کرو اپنی صلاحیتوں کو آواز دو ۔اپنی ساری توانائیاں صرف کردو زوربیان خرچ کردو، فصاحت وبلاغت کے دریا بہادو تمثیل وتشبیہ کی انتہاؤں کو چھو لو ۔

فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ

اس جیسا ایک جملہ ایک چھوٹا سا جملہ ہی بناکر لے آؤ ۔
پر تم سب اس سے عاجز ہو اورعاجز رہو گے ۔زمانے گذر جائیں گے دن پرانے ہوجائیں گے نسلیں کی نسلیں گذریں گی قومیں فنا کے گھاٹ اترجائیں پر تم اس جیسا کلام بنانے سے عاجز رہو گے ۔عاجز جیو گے اور عاجز مرو گے کہ شعراء کے کلام کے سامنے اب ربّ الشعراء کا کلام آچکا ہے ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

لازوال اور منفرد معجزہ

انبیاء کے ہاتھوں پر معجزات کا ظہور قوم کے سامنے ان کی حقانیت کی دلیل کے طور پر ہوتا تھا ۔پر کسی بھی نبی کی شریعت کو صبح قیامت تک دوام نہیں بخشا گیا تھا اس لئے کسی ایسے معجزے کی ضرورت نہ تھی جو دائمی ہو زمانے کے اثرات وحوادث کا اس پر کچھ اثر نہ ہو ۔لیکن جب سید المرسلین خاتم النبیین تشریف لائے تو آپ کی شریعت کا دائرہ کسی ملک یا اقلیم یا زمان ومکان تک محدود نہ تھا۔ہرقوم وفرد ہر زمانہ ومقام آپ کی نبوت کے تحت آتا تھا ۔اس لئے آپ کو دائمی معجزات بھی عطاء کئے گئے ۔علامہ سیوطی رحمہ الله نے لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو معجزے ایسے ہیں جو اب تک باقی ہیں ۔ایک تو یہ قرآن مجید کے اس میں کھلا چیلنج موجود ہے کہ اس جیسا کلام بنا کرلاسکتے ہو تو لے آؤ اور یہ چیلنج آج بھی موجود ہے پر دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔پھر اعجاز القرآن صرف اس کی فصاحت وبلاغت میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس کی تو ہر جہت ہی معجزہ ہے صاحب مناہل العرفان نے چوبیس وجوہ اعجاز ذکر کی ہیں ۔جن میں اس کی حفاظت بھی داخل ہے ۔تو بہرحال ایک دائمی معجزہ تو اللہ کا یہ کلام مقدس ہے اس کے علاوہ دوسرا معجزہ وہ فرماتے ہیں کہ جمرات پر جو کنکریاں ماری جاتی ہیں بمطابق حدیث جن لوگوں کا حج قبول ہوجاتا ہے ان کی کنکریاں اٹھا لی جاتی ہیں یہ معجزہ بھی ابھی تک باقی ہے کہ لاکھوں لوگ آج تک حج کرتے ہیں اور ان کی پھینکی گئیں کنکریوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچتی ہے اور یہ صدیوں کا تسلسل ہے لیکن جمرات پر کوئی پہاڑ قائم نہیں ہوتا ۔
قرآن مجید کے چیلنج پر عرب شعراء وادباء کی اکثریت تو ایسی تھی جنہوں نے اپنی مہارت فن کی بنیاد پر سمجھ لیا کہ اس کلام کا معارضہ ممکن نہیں بلکہ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید کے نزول کے بعد شعر کہنا ہی چھوڑ دیا کہ حقیقی ماہر فن کے سامنے جب کسی چیز کا اعلی درجہ آجاتا ہے تو اس سے کم درجہ کی چیز اس کی نگاہ میں جچتی نہیں ۔تو قرآن مجید جیسا کلام لانا جب ممکن نہ ہوا تو انہوں نے اپنے کلام کو ناقص مانتے ہوئے دوبارہ شعر ہی نہیں کہا ۔جیسے لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہ ان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے خلافت میں فرمایا کہ اپنا کچھ کلام سناؤ تو انہوں نے عرض کیا کہ جب سے قرآن مجید نازل ہوا ہے میں نے شعر کہنا چھوڑ دیا یہ لبید کوئی معمولی شاعر نہ تھے ان کا کلام ان سات قصائد میں شامل ہے جن کو شعراء نے بالاتفاق بے مثال تسلیم کیا تھا اور سونے کے پانی سے لکھ کر کعبے کی دیوار پر لٹکائے گئے تھے۔ان کے کلام میں ایسی فصاحت تھی کہ فرزدق جو خود انتہائی بڑا شاعر تھا اس نے کسی کو پڑھتے ہوئے سنا کہ وہ لبید رض کا یہ شعر پڑھ رہا ہے ۔

وجلاالسیول عن الطلول کانھا
زبر تجد متونھا اقلامھا

یعنی سیلاب کے پانی نے محبوبہ کے پرانے گھر کے کھنڈرات کو ایسے واضح کردیا ہے ۔جیسے کتاب کے دھندلے ہوجانے والے نقوش کو دوبارہ قلم پھیر کر تازہ کردیا گیا ہو ۔
فرزدق نے یہ سنا تو وہ سجدہ میں گرگیا کسی نے کہا اے ابوفراس یہ کیا کررہے ہو تو اس نے جواب دیا جیسے تم قرآن کی وہ آیات پہچانتے ہو جن پر سجدہ کیا جاتا ہے ایسے ہی میں وہ شعر پہچانتا ہوں جن کی فصاحت سجدے کے لائق ہے ۔(بظاہر شعر کی فصاحت وبلاغت سے خوش ہوکر سجدہ اس نے اللہ ہی کو کیا کہ مسلمان تھا )
تو لبید رض جیسا شاعر کہتا ہے کہ میں نے شعر کہنا چھوڑدیا کہ قرآن آچکا ہے ۔
البتہ بعض لوگوں کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے کچھ کوششیں اس ضمن میں کیں لیکن بالاخر عاجز ہوئے ۔
ان کوشش کرنے والوں میں ایک نام عبداللہ ابن مقفع کا ملتا ہے جو عباسی دور کے ادباء میں سے ہے ۔یہ شخص پہلے مجوسی تھا بعد میں اسلام لایا عربی زبان کا بہت بلندپایہ ادیب تھا ۔مشہور کتاب کلیلہ ودمنہ کا عربی میں ترجمہ اسی نے کیا ہے ۔اس کا خیال تھا کہ وہ قرآن مجید جیسی عبارت لکھ سکتا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زنادقہ کی ایک جماعت نے اس کو اس کام کے لئے ایک خطیر رقم بھی دی تھی ۔اس نے ایک سال کی مہلت مانگی ۔کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا انتظام کیا اور گوشہ تنہائی میں چلا گیا سال بھر غور وفکر اور محنت سے کچھ کلام تیار کیا ۔جب باہر نکلا تو ایک بچے کو سنا کہ وہ یہ آیت پڑھ رہا ہے

۔وقیل یاارض ابلعی ماءک ویاسماء اقلعی ۔۔۔الایۃ(ھود ا44)

بن مقفع اس کلام کی فصاحت پر دنگ رہ گیا اس نے جو لکھا تھا وہ پھاڑ ڈالا کہ اس کلام جیسا بنانا ممکن نہیں ۔
(اس آیت پر مفصل کلام آگے آئے گا ).
شیخ طنطاوی جوھری مصری عالم دین ہیں انہوں نے جواھر فی تفسیر القرآن کے نام سے پچیس جلدوں پر مشتمل ایک تفسیر لکھی ہے ۔اس کے مقدمہ میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک جرمن مستشرق سے ہماری کبھی کبھی ملاقات ہوتی تھی ۔یہ شخص عربی زبان کا بڑا ماہر اور بلند پایہ ادیب تھا ۔ایک دن اس نے مجھے سے کہا کہ کیا تم بھی قرآن کے اس دعوی پر یقین رکھتے ہو کہ اس جیسا کلام بنانا ممکن نہیں اور طنز سے ہنسا میں نے کہا کہ تجربہ کرلیتے ہہیں۔ہم ایک مضمون چنتے ہیں اور اس پر عربی میں فصیح جملے تیار کرتے ہیں پھر قرآن سے موازنہ کرتے ہیں کہ قرآن مجید اس مضمون میں کیا کہتا ہے ۔مشورہ سے طے ہوگیا کہ جہنم بہت وسیع ہے اس پر جملے بنائیں گے شیخ کہتے ہیں ہم نے پوری محنت صرف کرکے بیس جملے فصیح عربی کے تیار کئے جن میں جھنم کی وسعت کو بیان کیا گیا تھا ۔جب یہ جملے تیار ہوچکے تو وہ مستشرق کہنے لگا اب اس سے بہتر ممکن نہیں ۔اس پر میں نے کہا قرآن مجید کے سامنے ہم بالکل بچے ثابت ہوئے ہیں کہ قرآن کہتا ہے ۔

ویوم نقول لجھنم ھل امتلاءت وتقول ھل من مزید الآیۃ

اس پر وہ مستشرق دنگ رہ گیا اور کچھ جواب نہ بن پڑا کہ وہ کتنا ہی معاند سہی پر عربی ادب میں مہارت رکھتا تھا لہذا فورا سمجھ گیا اور اعتراف کرنے پرمجبور ہوگیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

غلطی کے سامنے آجانے کے بعد کسی بھی ماہر فن کا خاموش رہنا مشکل ہوتا ہے ۔تو اگر کسی چیز میں غلطی کی نشاندہی نہ کی جائے تو دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں ۔1 وہ چیز بے عیب ہے اور اس میں کسی طرح کی کوئی کمی ہے ہی نہیں ۔
2 اس فن کے ایسے ماہر دستیاب نہ ہوسکے جو خامی کی نشاندھی کرسکتے ۔تو نزول قرآن سے صبح قیامت تک کسی ماہر کا نہ ہونا تو ایسی بات ہے جس کا غلط ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے ۔تو پہلی صورت متعین ہے ۔
کہ عرب شعراء وادباء فصاحت کی معمولی سی غلطی بلکہ کمی پر بھی تنبیہ کردیا کرتے تھے ۔
نابغہ ذبیانی جو اشعر العرب شعراء میں شمار ہوتا ہے اس کے لیے عکاظ کے میلے میں چمڑے کا خیمہ لگایا جاتا تھا جس میں بیٹھ کر وہ شعراء کے کلام پر اپنی رائے دیتا تھا ایک دفعہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا جو عرب کی مشہور شاعرہ تھیں اس کے پاس پہنچیں تو اس نے کلام سن کر کہا اگر میں نے تجھ سے پہلے اعشی کا کلام نہ سن لیا ہوتا تو میں مان لیتا کہ تم عرب کی سب سے بڑی شاعرہ ہو اور اب بھی میرا خیال یہ ہے کہ تم عورتوں میں سب سے بڑی شاعرہ ہو ۔
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے انہوں نے کہا آپ نے میرا تذکرہ نہیں کیا حالانکہ میں خنساء رضی اللہ عنہا سے بڑا شاعر ہوں ۔اور دلیل میں کچھ شعر پڑھے جن میں اپنی قوم کی تعریف تھی ان میں سے پہلا شعر یہ تھا ۔

لَنا الجَفَناتُ الغُرُّ يَلمَعنَ بِالضُحى …
وَأَسيافُنا يَقطُرنَ مِن نَجـدَةٍ دَما

یعنی ہمارے ہاں سفید پیالے ہیں جو دن کے وقت چمکتے ہیں ۔
اور ہماری تلواروں سے دلیری کی بناء پر خون ٹپکتا ہے ۔

اس پر نابغہ نے کہا تم بھی شاعر بن سکتے تھے اگر اپنے پیالوں اور تلواروں کو خود ہی کم نہ کردیتے (حسان رض نے الجفنات اور اسیاف کا لفظ استعمال کیا جو جمع قلت یعنی دس سے کم کے لئے استعمال ہوتا ہے) تمہیں الجفان کہنا چاہئے تھا
اور یلمعن فی الضحی کے بجائے یبرقن فی الدجی (تاریکی میں چمکتے ہیں) کہنا چاہئے تھا کہ مہمانوں کی کثرت سے مدح کا قصد ہے اور مہمان رات کو زیادہ ہوتے ہیں (نیز برتنوں کی چمک اور خوبی سے مدح کا ارادہ ہے تو دن کو سورج کی روشنی میں ہر شئ چمکتی ہے اصل کمال تو رات کے اندھیرے میں چمکنا ہے) اور یقطرن کی جگہ یجرین کہتے تو بہتر تھا (یقطرن کا معنی قطرے ٹپکنا اور یجرین کا معنی جاری ہونا اور بہنا اب ظاہر ہے محض چند قطرے ٹپکنا کہنے سے کوئی بڑی تعریف نہیں پیدا ہوتی تعریف کے لئے تو خون کا بہنا ذکر کرنا ہی بہتر شمار ہوگا)
دوسرے شعر میں حسان رضی اللہ عنہ نے اپنے آباء کا فخریہ تذکرہ کیا تھا اس پر کہا بہتر ہوتا کہ اپنی اولاد پر فخر ظاہر کرتے ۔(یعنی کسی بڑے شخص کی اولاد میں ہونا کونسی خوبی کی بات ہے کہ آدمی کا اس میں کچھ اختیار اور ذاتی کمال نہیں ہے ہاں اس کی اولاد ترقی کرجائے تو یہ ضرور فخر کے لائق ہے کہ اس کی تربیت کا اس میں دخل ہے)
تو عرب اس باریک بینی سے کلام کو سمجھتے تھے ۔
ابن هرمة ادیب کی تعریف میں ایک شاعر نے کچھ شعر کہے اس میں اس محبوبہ کے دروازے پر کھڑے ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ۔

بالله ربك إن دخلت فقل لها … هذا ابن هرمة قائماً بالباب

یعنی اے مخاطب تجھے تیرے رب اللہ کی قسم جب تو اس (محبوبہ) کے پاس پہنچے تو اس سے کہنا۔۔۔۔ یہ ابن ھرمۃ دروازے پر کھڑا ہے ۔
ابن ھرمۃ نے سنا تو سخت ناراض ہوا اور کہا کیا میں دروازے پر چندہ مانگنے کے لئے کھڑا تھا (عرب جب فقیر آنے کی اطلاع دیتے تھے تو یوں کہتے رجل قائم بالباب تو اس لئے ناراض ہوا کہ تمھارے کلام کا مطلب تو یہ ہوا کہ محبوبہ کے انتظار میں نہیں بلکہ بھیک مانگنے کھڑا تھا ) اس شاعر نے گھبرا کر تبدیلی کی اور کہا قاعد علی الباب اس پر اور ناراض ہوا کہ کیا میں دروازے پر پیشاب کررہا تھا (اھل عرب کے ہاں قعود علی الباب پیشاب کرنے سے کنایہ ہے) اس نے عاجز ہوکر کہا آپ ہی بتائیے تو کہا کہ یوں کہو واقفا علی الباب ۔پھر کہا کاش تمہیں اندازہ ہوجاتا کے قائم اور واقف کے معنی میں کتنا فرق ہے ۔
قرآن مجید میں اس طرح کی تمام اخطاء سے پاک تھا اس لئے باوجود اس کے کہ ابتداءاسلام میں سارا عرب دشمن تھا اور کمی کوتاہی کی تلاش میں تھا ۔قرآن مجید کی فصاحت پر وہ لوگ انگلی نہ اٹھاسکے ۔
بو العلاء معرّی جس پر قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا الزام بھی ہےکہتا ہے: اس بات پر سبھی لو گ متفق ہیں (چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان) کہ حضرت محمد صلی الله عليه وسلم پر نازل ہونے والی کتاب نے لوگوں کی عقلوں کو مغلوب اور مبہوت کردیا ہے، اور ہر ایک اس کی مثل و مانند لانے سے قاصر ہے، اس کتاب کا طرز ِبیان عرب کے ماحول کے کسی بھی طرز بیان سے ذرہ برابر بھی مشابہت نہیں رکھتا ، نہ شعر سے مشابہ ہے، نہ خطابت سے، اور نہ کاہنوں کے مسجع کلام سے ،اس کتاب کی کشش اور اس کا امتیاز اس قدرعالی ہے کہ اگر اس کی ایک آیت کسی دوسرے کے کلام میں موجود ہو تو وہ اندھیری رات میں چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح روشن ہوگی!“۔
 ولید بن مغیرہ مخزومی یہ شخص عرب میں حسن تدبیر کے لئے شہرت رکھتا تھا اور دور جاہلیت میں مشکلات کو حل کرنے کے لئے اس کی فکر اور تدبیر سے استفادہ کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس کو ”ریحانۃ القریش“ یعنی قریش کا بہترین پھول کہا جاتا تھا، یہ شخص نبی اکرم صلی الله عليه وسلم سے سورہ غافر کی چند آیتوں کو سننے کے بعد قبیلہ ”بنی مخزوم“ کی ایک نشست میں اس طرح کہتا ہے:
” خدا کی قسم میں نے محمد  (ص) سے ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسان کے کلام سے شباہت رکھتا ہے اور نہ جنات کے کلام سے،

”إنَّ لَہُ لحلاوة، و إِنَّ علیہ لطلاوة و إنَّ اعلاہ لمُثمر و إنَّ اٴسفلہ لمغدِق، و اٴنَّہ یَعلو و لا یُعلی علیہ“

یعنی اس کے کلام میں ایک مخصوص مٹھاس ہے،اور اس میں زبردست خوبصورتی پائی جاتی ہے، اس کی شاخیں پُر ثمر ہیں اور اس کی جڑیں مضبوط ہیں، یہ وہ کلام ہے جو تمام چیزوں پر غالب ہے اور کوئی چیز اس پر غالب نہیں ہے۔
 کارلائل  یہ انگلینڈ کا مورخ اور محقق ہے جو قرآن کے حوالہ سے کہتا ہے: ”اگر اس مقدس کتاب پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس کے مضا مین بر جستہ حقائق اور موجودات کے اسراراس طرح موجزن ہیں جس سے قرآن مجید کی عظمت بہت زیادہ واضح ہوجاتی ہے، اور یہ خود ایک ایسی فضیلت ہے جو صرف اور صرف قرآن مجید سے مخصوص ہے، اور یہ چیز کسی دوسری علمی، سائنسی اور اقتصادی کتاب میں دیکھنے تک کو نہیں ملتی، اگرچہ بعض کتابوں کے پڑھنے سے انسان کے ذہن پر اثر ہوتا ہے لیکن قرآن کی تاثیر کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

لوگوں کی طبیعت پر فصاحت قرآن کے اثرات

قاضی عیاض رح مالکی عالم دین ہیں ۔قرطبہ جو اندلس کا مشہور شہر تھا اس کے قاضی تھے ۔بڑے صاحب علم اور نیک آدمی تھےبیس کے قریب کتب تصنیف کیں جن میں بخاری ومسلم کی شروحات بھی ہیں ۔انہوں نے ایک کتاب ایسی لکھی جس نے انہیں شہرت کے آسمان پر پہنچادیا ۔آج ان کی دیگر کتب کا وجود تلاش کرنا بھی ممکن ہے ۔لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو آج بھی دنیا کے ہر اس خطے میں دستیاب ہے جہاں عربی بولی یا سمجھی جاتی ہے ۔ان کی یہ کتاب نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی سیرت پر تھی گویا ایک عاشق کی زبان سے صاحب قرآن کا والہانہ تذکرہ تھا۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی نامی یہ کتاب واقعی مرض عشق کے مبتلاء دردمندوں کے لئے پیام شفاء تھی ۔
انہوں نے اس میں جب صاحب قرآن کا تذکرہ کیا تو قرآن کا تذکرہ لازمی تھا ۔جب فصاحت قرآن کی بات چلی تو انہوں نے چند عجیب واقعات تحریر کئے ۔لکھتے ہیں ۔
کہ ایک اعرابی (عرب کے دیہات کا رہنے والا) نے کسی کو پڑھتے ہوئے سنا فاصدع بما تؤمر یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کھول کر بیان کردیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ۔اس اعرابی نے یہ سنا تو وہ سجدے میں گرگیا اور کہا میں نے اس کلام کی فصاحت کو سجدہ کیا ہے۔ (آیت میں فصاحت کیا ہے اس کا قصہ میں تذکرہ نہیں ہے ۔پر میں بتاتا ہوں اصل میں بیان کرنے کے لئے عربی میں بہت سے لفظ استعمال ہوتے ہیں ۔تو اللہ تعالیٰ یوں فرما سکتے تھے بَیِّن بما تؤمر کہ جس بات کا حکم دیا گیا ہے اسے بیان فرما دیں ۔یا یوں کہہ سکتے تھے بَلِّغ بما تؤمر جیسا کہ دوسری جگہ کہا بھی ہے یاایّھا الرسول بلغّ ماانزل الیک من ربک کہ نبی کریم صلی الله عليه وسلم آپ پہنچا دیجئیے جو آپ پر آپ کے رب کی جانب سے نازل ہوا ۔اسی طرح اِکشف،اتضح، صَرِّح،اظھر بہت سے الفاظ تھے جو بیان کردیجئے پہنچادیجئے ،واضح کردیجئے کا معنی اداء کرتے ہیں ۔لیکن اللہ تعالیٰ ان تمام صریح الفاظ کو چھوڑ کر کنایہ استعمال کرتے ہیں ۔کہ صدع کے لفظ کا اصل معنی بیان کردینا یا پہنچادینا نہیں ہے ۔بلکہ اس کا معنی کسی چیز میں دراڑ کا پیدا ہونا جب شیشے میں دراڑ پڑجاتی ہے تو عرب کہتے ہیں صدع الزجاجۃ ۔قرآن مجید نے بھی اس معنی میں سورہ طارق میں استعمال کیا ہے والارض ذات الصدع یعنی قسم ہے اس زمین کی جو پھٹن (شگاف) والی ہے ۔تو چونکہ دراڑ پڑ جانے سے چیز کی دونوں جانبیں بالکل علیحدہ علیحدہ اور واضح ہوجاتی ہیں تو جب کسی چیز کو ایسے کھول کر بتانا ہو کہ حق وباطل میں فرق بالکل واضح نظر آئے کسی قسم کا التباس واختلاط باقی نہ رہے تو صدع کے لفظ کو عاریت لے کر واضح بیان کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔اور میرے علم کے مطابق قرآن سے پہلے کسی نے بھی اس معنی میں استعمال نہیں کیا ۔
بہرحال اب پس منظر پر بھی ذرا نظر ڈالیں حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء اسلام میں آپ صلی الله عليه وسلم زیادہ تر مخفی رہتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔تو آپ صلی الله عليه وسلم اور آپ کے صحابہ علی الاعلان دعوت دینے لگے ۔
تو یہاں صرف یہ کہنا مقصود نہ تھا کہ اے نبی صلی الله عليه وسلم آپ پہنچادیجئے ۔،آپ بتادیجئے یا آپ واضح کردیجئے ۔یہاں تو یہ کہا جارہا ہے ۔کہ آپ ایسا کھول کر بیان کردیں کہ حق اور باطل بالکل جدا ہوجائیں اور حق ایک کنارے پر ہو تو باطل دوسرے کنارے پر نظر آئے اور ان کے معبودان باطلہ کی نفی میں کسی مصلحت ورعایت سے کام نہ لیں ۔اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کے اس طرز دعوت سے تعلقات کے شیشے میں دراڑ آئے گی ۔وہ لوگ جو عزت ومحبت سے صادق وامین کہتے تھے اب نفرت وحقارت سے ساحر ودیوانہ کہیں گے جو لوگ حجر اسود کے نصب جیسے اھم فیصلے کراتے تھے اب وہ بات سننے کے رودار نہیں ہوں گے ۔اپنے پرائے ہوجائیں گے رشتہ دار اجنبی بن جائیں گے ۔کہ آپ کی دعوت ماننے والوں اور نافرمانوں میں ایسی دراڑ قائم کردے گی جسے پاٹا نہیں جاسکتا ۔تو اے نبی صلی الله عليه وسلم آپ اس کی پرواہ نہ کریں اور کھول کر واضح کرکے بیان فرمائیں ۔
اب اس سارے مفہوم کو میرا رب صرف ایک لفظ فاصدع سے بیان کررہا ہے ۔تو وہ اعرابی جو اس بات کی گہرائی کو فطری طور پر سمجھتا ہے اس کلام کی باریکیوں کا ادراک رکھتا ہے کیوں نہ اس کلام کی فصاحت پر سجدہ کرے ۔
جب سے میں نے یہ واقعہ پڑھا تھا میں اس تلاش میں تھا کہ اس آیت میں ایسی کونسی فصاحت چھپی ہے جو اعرابی سجدہ میں گر گیا ۔مفسرین نے مختصر لکھا ہے کہ یہاں استعارہ مکنیہ ہے ۔لیکن
اس آیت کی ایسے واضح اور مفصل تفسیر مجھے قدیم وجدید کسی تفسیر میں نہیں ملی یہ تو اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس کے مضامین کو ایسے کھول دیا جیسے رات کی گھٹاٹوپ تاریکی کے بعد صبح کا سورج طلوع ہو جائے یا خشک وبنجر زمین ہلکی ونرم بارش سے سیراب ہوجائے لیکن میں نے اس میں محض اپنی رائے پر اعتماد نہیں کیا بلکہ مختلف مفسرین نے ان باتوں کی طرف اشارات ذکرکئے ہیں جو میں نے تحریر کیں اور صاحب ذوق جب متعدد تفاسیر دیکھ لے گا تو وہ ان شاء الله اسی نتیجہ پر پہنچے گا ۔وللہ الحمد ۔)
قاضی عیاض رح ایک اور واقعہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک اعرابی نے سورہ یوسف کی یہ آیت سنی

فلما استیئسوا منه خلصوا نجيا

یعنی جب برادران یوسف بالکل مایوس ہو گئے تو علیحدہ ہو کر چپکے سے مشورہ کرنے لگے ۔
تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مخلوق کا کلام نہیں ہے ۔
مزید فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دن مسجد میں آرام فرمارہے تھے کہ اچانک ایک آدمی کو دیکھا کہ ان کے سر کے پاس کھڑا کلمہ شہادت پڑھ رہا ہے ۔اس پر اس سے احوال دریافت کئے تو اس نے کہا میں روم کے بڑے پادریوں میں سے ایک ہوں اور ہمارے پاس کچھ مسلمان قید ہوکر آئے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک قیدی کو ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو میں بہت غوروخوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام پر نازل کیا ہے وہ سب اس ایک آیت میں ذکر کردیا گیا ہے ۔اور وہ آیت یہ ہے ۔

ومن يُطِعِ الله ورسوله ويخش الله ويتقه

اصمعی رح کا قصہ پیچھے ذکر ہوا کہ انہوں نے ایک بچی کے شعر سنے تو کہا قاتلک اللہ ماافصحک یعنی اس کی فصاحت پر تعجب کا اظہار کیا تو اس نے کہا اے اصمعی کیا قرآن کے بعد بھی کچھ فصاحت بچی ہے ۔

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ. الآیۃ

اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو الہام کیا کہ : تم اس (بچے) کو دودھ پلاؤ، پھر جب تمہیں اس کے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، اور ڈرنا نہیں، اور نہ صدمہ کرنا، یقین رکھو ہم اسے واپس تمہارے پاس پہنچا کر رہیں گے، اور اس کو پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر بنائیں گے.
تو اس آیت میں دو امر ہیں یعنی ارضعیہ اور القیہ اور دو نہی ہیں لاتخافی اور لاتحزنی اور دوخبریں ہیں یعنی اوحینا اور اذا خفت علیہ (اس میں اشارہ ہے کہ یہ خوف کا عالم پیش آئے گا ۔اس اعتبار سے یہ خبر ہے) اور دو بشارتیں ہیں انا رادوہ الیک اور جاعلوہ من المرسلین
علامہ قرطبی رحمہ نے بھی اس آخری قصہ کا تذکرہ کیا ہےاور وہ اشعار بھی ذکر کئے ہیں جو وہ بچی پڑھ رہی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

وہ ایک ملاح تھا اس کے شب وروز پانیوں میں گذرتے تھے جب سورج طلوع ہوتا تھا تو بہتا سمندر اس کے سامنے ہوتا جب رات کا اندھیرا چھاتا تو آسمان کے تاروں اور سمندر کی موجیں مارتی لہروں کے علاوہ اور کوئی اس کا رفیق نہ ہوتا اس نے خطرناک طوفانوں کا مشاھدہ کیا تھا گھٹاٹوپ تاریکیوں میں برستی بارشوں میں موجوں کا قہر محسوس کیا تھا ایک دن اسے ایک کتاب ملی یہ مسلمانوں کی مذھبی کتاب قرآن مجید کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ تھا ۔
اس کے سامنے سورۃ نور کی ایک آیت کھلی تھی جس میں ایک منظر بیان کیا گیا تھا ۔
ان کی مثال ایسی ہے
جیسے کسی گہرے سمندر میں پھیلے ہوئے اندھیرے، کہ سمندر کو ایک موج نے ڈھانپ رکھا ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر بادل، غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے۔ اگر کوئی اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ اور جس شخص کو اللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میں کوئی نور نہیں۔(سورۃ النور 40)
وہ تمثیل کی عمدگی اور انداز بیان کی خوبی پر دنگ رہ گیا ۔اسے یقین تھا کہ محمد صلی الله عليه وسلم اس کی طرح ضرور ایک ایسے شخص ہوں گے جن کے دن ورات سمندری سفروں میں گذرتے ہوں گے ۔کہ اس منظرکو اتنی باریکی سے وہی بیان کرسکتا ہے جو اس کا بارہا مشاھدہ کرچکا ہو ۔پھر بھی وہ حیران تھا کہ یہ کس قدر فصیح کلام ہے کہ اس میں رات کے اندھیرے کا تذکرہ پھر بادلوں کی وجہ سے چھائی ہوئی اضافی تاریکی کا بیان پھر سمندر کی لہروں میں تہہ درتہہ ہونے کی وجہ سے مزید تاریکی اور پھر اس میں ڈوبتا ہوا بدحواس شخص ۔اس کا خیال تھا کہ سمندری خطرات کا کوئی بڑے سے بڑا ماہر بھی اتنے کم الفاظ میں اتنی کامیاب منظر کشی نہیں کرسکتا یہ تو کسی ایسے شخص کا بیان ہے جو خود جہاز کے عرشے پر کھڑا اس منظر کو دیکھ رہا ہو ۔پھر نہ ماننے والوں کی کوششوں کو اس ڈوبتے ہوئے پے درپے اندھیروں کی تہوں میں اترتے آدمی کی ناکام جدوجہد سے تشبیہ دینا بھی تو کمال تھا ۔اس نے انتہائی تاثر اور عقیدت سے جب محمد صلی الله عليه وسلم کے بارے میں معلومات کیں تو اس پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ محمد صلی الله عليه وسلم نے زندگی میں کبھی سمندر کا سفر نہیں کیا تھا ۔اور ان کا تعلق اس دور سے تھا جب سمندر کے تہہ در تہہ اندھیروں سے لوگ بالکل ناواقف تھے ۔
اس نے اسلام قبول کرلیا کہ وہ سمجھ گیا تھا یہ محمد صلی الله عليه وسلم کی آواز نہیں ہے ۔یہ تو اس علامّ الغیوب کی آواز ہے جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے ۔روشنی اور تاریکی اس کے لئے برابر ہے ۔زمان ومکان میں سے کوئی بھی اس کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں ہے ۔
موریس بوکائلے اسپین کے ایک بڑے ڈاکٹر تھے وہ اس پینل میں شامل تھے جس نے فرعون رعمیسس ثانی جس کا اصل نام منفتاح تھا کے حنوط شدہ جسم کا معائنہ کیا تھا ۔یہ وہ فرعون تھا جو موسی علیہ السلام کے مقابلے میں تھا ۔جب بحر قلزم میں یہ اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا تو سمندر نے اللہ کے حکم سے اس کی نعش کنارے پر ڈال دی تاکہ یہ بعد والوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے ۔بنی اسرائیل تو اس کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہوئے صحرائے سینا کی طرف بڑھ گئے ۔پیچھے مصریوں کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو پورے مصر میں سوگ طاری ہوگیا ۔ان کا وہ بادشاہ جو اپنے آپ کو رب کہتا تھا عبرتناک انجام کو پہنچ چکا تھا ۔مصریوں نے اس کی نعش کو اٹھایا حنوط کرنے والی ادویہ لگائیں اور خاموشی سے اسے ایک قدیم فرعون آمن ہیتب ثانی کے مقبرے میں دفن کردیا ۔
دیگر ممیوں کے ساتھی اس فرعون کی لاش بھی کئی سو سال تک اس مقبرے میں محفوظ رہی ۔یہاں تک کہ 18 71 ء آگیا اور پرانے مقابر سے چیزیں چرانے والے ایک شخص کو جس کا نام احمد عبدالرسول تھا ایک راستہ ملا جو فراعین کے مقبرے تک جاتا تھا ۔اس آدمی کی وہاں کھدائی کی کوششیں جلد حکومت کے علم میں آگئیں اور حکومت نے خود کھدائی شروع کی تو دیگر تیرہ ممیوں کے ساتھ لکڑی کا ایک تابوت برآمد ہوا جس پر لکھی عبارت سے معلوم ہوتا تھا یہ رعمسیس ثانی کا تابوت ہے ۔
۔ اس کے باوجود آثار قدیمہ کے بعض ماہرین کو اس میں شک ہوا کہ نعش واقعی فرعون کی ہے یا نہیں؟ آخر تابوت کا ڈھکنا الگ کیا گیا۔ اور نعش کے اوپر والے کپڑے کو ہٹایا گیا تو اصل کفن جس نے نعش کا سینہ ڈھانپ رکھا تھا، اس پر روشنائی سے نمایاں طور پر ’’رعمیسس دوم‘‘کا نام لکھا ہوا پایا گیا، اس موقع پر خدیو مصر توفیق پاشا موقع پر موجود تھا ۔اس طرح فرعون کی وہ لاش دوبارہ ظاہر ہوگئی جس کے جسم کی حفاظت کا قرآن نے تذکرہ کیا تھا ۔
مصری حکومت نے ممیوں کے معائنے کے لئے جن ڈاکٹرز کو مختلف ممالک سے بلایا ان میں موریس بوکائلے بھی شامل تھے ۔انہوں نے جب ان ممیوں کا معائنہ کیا تو ان پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ فرعون منفتاح کی ممی پر سمندری نمک کی تہہ جمی ہے اور پانی میں ڈوبنے کے نشانات ہیں ۔جبکہ دیگر ممیوں پر ایسا کوئی نشان نہ تھا ۔انہوں نے جب یہ رپورٹ دی کہ اس فرعون کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی ہے تو کسی نے بتایا کہ اس کا تذکرہ مسلمانوں کی کتاب قرآن مجید میں موجود ہے ۔وہ قرآن مجید میں یہ آیت دیکھ کر حیران رہ گئے .

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿٪۹۲﴾

ترجمہ:
لہذا آج ہم تیرے ( صرف) جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد کے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے۔ (٣٦) (کیونکہ) بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور بائبل سائنس اور قرآن کے نام سے ایک کتاب لکھی
کہ وہ فرعون جو اپنے آپ کو رب کہتا تھا آج بیچارگی کی تصویر بنا ان کے سامنے تھا ۔اس کی حالت پکار پکار کرکہہ رہی تھی کہ مجھے دیکھو اور میرے حال سے عبرت حاصل کرو ۔وہ میں ہی ہوں جس نے کہا تھا انا ربکم الاعلی لیکن دیکھ لو میں رب نہیں ہوں اور نہ کبھی تھا بلکہ رب تو وہ ذات ہے جس کا کلام میرے مجسم عبرت ہونے کا اعلان چودہ سو سال پہلے کرچکا ہے ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

قرآن مجید اللہ کا کلام تھا یہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ اس کا لازوال کلام ان کو دیا جارہا تھا اللہ سے عشق رکھنے والے کیسے اس سے متاثر نہ ہوتے کہ بقول شاعر ۔

دیدار گر نہ سہی گفتار ہی سہی
حسن وجمال یار کے آثار ہی سہی

سو قرآن مجید ان کے رگ وپے میں اترتا چلا گیا تیر پر تیر لگتے ہیں جسم لہولہان ہوجاتا ہے پر لذت قرآن میں فرق نہیں آتا حاکم وقت کوڑوں سے کھال ادھیڑ دیتا ہے پر قرآن پر عقیدہ متزلزل نہیں ہوتا خلیفہ وقت ہیں پر جان دیتے ہیں اس شان سے کہ قرآن ان کی زبان سے جدا نہیں ہوتا۔ عشق قرآن کی ایسی
بے شمار مثالیں تاریخ کے اوراق پر بکھری ہوئی ہیں۔
اھل عرب کا ذوق قرآن اس درجہ کو پہنچ گیا کہ ان میں ایسے لوگ پائے جانے لگے جن کی روزمرہ کی گفتگو قرآنی آیات کے ذریعے ہونے لگی ۔عربی ادب کی مشہور کتاب المستطرف میں اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مبارک رح اورایک ایسی خاتون کا واقعہ لکھا ہے جو ہر بات کا جواب قرآن سے دیتی تھیں ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ رح ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ۔
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔
ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮬﯿﺎ تھیں جنہوں ﻧﮯ ﺍﻭﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺯﯾﺐ ﺗﻦ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ
( ﻏﺎﻟﺒﺎً ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﭩﮏ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ ﮔﺌﯽ تھیں )
تو میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا تو درج ذیل گفتگو ہوئی ۔

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﻭﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺑﺮﮐﺎﺗﮧ

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﺳَﻼَﻡٌ ﻗَﻮْﻻً ﻣِﻦ ﺭَّﺏٍّ ﺭَّﺣِﻴﻢٍ

ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻼﻡ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺭﺏ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ۔
ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ۔
عبداللہ بن مبارک : آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻣَﻦ ﻳُﻀْﻠِﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻓَﻠَﺎ ﻫَﺎﺩِﻱَ ﻟَﻪُ ۔

ﺟﺴﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﮭﭩﮑﺎ ﺩﮮ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﺁﭖ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺃَﺳْﺮَﻯ ﺑِﻌَﺒْﺪِﻩِ ﻟَﻴْﻠًﺎ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤَﺴْﺠِﺪِ ﺍﻟْﺤَﺮَﺍﻡِ ﺇِﻟَﻰ ﺍﻟْﻤَﺴْﺠِﺪِ ﺍﻟْﺄَﻗْﺼَﻰ۔

ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻗﺼﯽ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ۔
ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻗﺼﯽ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺐ ﺳﮯ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﺛَﻼﺙَ ﻟَﻴَﺎﻝٍ ﺳَﻮِﻳًّﺎ ۔

ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺗﯿﻦ ﺭﺍﺕ ﺳﮯ
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : آپ کے ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﮯ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﺍﻟَّﺬﻱ ﻫُﻮَ ﻳُﻄْﻌِﻤُﻨﻲ ﻭَ ﻳَﺴْﻘﻴﻦِ ۔

ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﭘﻼﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﺯﻕ ﻣﮩﯿﺎ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﮐﯿﺎ ﻭﺿﻮ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ؟

ﺧﺎﺗﻮﻥ : ﻓَﻠَﻢْ ﺗَﺠِﺪُﻭﺍ ﻣَﺎﺀً ﻓَﺘَﻴَﻤَّﻤُﻮﺍ ﺻَﻌِﻴﺪًﺍ ﻃَﻴِّﺒًﺎ ۔

ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮧ ﭘﺎؤ ﺗﻮ ﭘﺎﮎ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﻤﻢ ﮐﺮﻭ۔
ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺳﻮ ﺗﯿﻤﻢ ﮐﺮﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺠﺌﮯ۔

ﺧﺎﺗﻮﻥ : ﺃَﺗِﻤُّﻮﺍ ﺍﻟﺼِّﻴَﺎﻡَ ﺇِﻟَﻰ ﺍﻟﻠَّﻴْﻞِ۔

ﺭﻭﺯﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﻭ۔
ﻣﺮﺍﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﮮ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﯾﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﻣَﻦ ﺗَﻄَﻮَّﻉَ ﺧَﻴﺮًﺍ ﻓَﺈِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺷﺎﻛِﺮٌ ﻋَﻠﻴﻢٌ۔

ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﺸﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺷﺎﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﯿﻢ ﮨﮯ۔
ﯾﻌﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻔﻠﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﺍَﻥْ ﺗَﺼُﻮْﻣُﻮْﺍ ﺧَﯿْﺮٌﻟَّﮑُﻢْ، ﺍِﻥْ ﮐُﻨْﺘُﻢْ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮْﻥَ۔

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ، ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﻮ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻣَﺎ ﻳَﻠْﻔِﻆُ ﻣِﻦْ ﻗَﻮْﻝٍ ﺇِﻟَّﺎ ﻟَﺪَﻳْﻪِ ﺭَﻗِﻴﺐٌ ﻋَﺘِﻴﺪٌ ۔

ﻭﮦ ﮐﻮﺉِ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺘﻌﺪ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﻌﻨﯽ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻟﻔﻆ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﻧﮕﮩﺒﺎﻧﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺭﺍﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﺮ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﮐﺲ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﻻ ﺗَﻘْﻒُ ﻣَﺎ ﻟَﻴْﺲَ ﻟَﻚَ ﺑِﻪِ ﻋِﻠْﻢٌ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺒَﺼَﺮَ ﻭَﺍﻟْﻔُﺆَﺍﺩَ ﻛُﻞُّ ﺃُﻭْﻟَﺌِﻚَ ﻛَﺎﻥَ ﻋَﻨْﻪُ ﻣَﺴْﺌُﻮﻟًﺎ۔

ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭﭘﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ۔
ﺑﯿﺸﮏ ﮐﺎﻥ، ﺁﻧﮑﮫ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺑﺪﮦ ﮨﯿﮟ۔
ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺲ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻭﺍﺳﻄﮧ ﮨﮯ،
ﺍﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﺗﻮﮞ ﮐﻮ کیوںﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﮟ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﯽ۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻟَﺎ ﺗَﺜْﺮِﻳﺐَ ﻋَﻠَﻴْﻜُﻢُ ﺍﻟْﻴَﻮْﻡَ ۖ ﻳَﻐْﻔِﺮُ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻟَﻜُﻢْ ۔

ﺁﺝ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮐﻮﺉِ ﻣﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻟﻠﮧ تعالیﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺨﺶ ﺩﮮ۔
——————–

ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻣﻠﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﻣَﺎ ﺗَﻔْﻌَﻠُﻮﺍ ﻣِﻦْ ﺧَﻴْﺮٍ ﻳَﻌْﻠَﻤْﻪُ ﺍﻟﻠَّﻪُ۔

ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺟﻮ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺍﻟﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﺟﺎنتا ﮨﮯ۔
ﯾﻌﻨﯽ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ۔
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯼ
( ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﻮﺍ ﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ )

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻗُﻞ ﻟِّﻠْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ ﻳَﻐُﻀُّﻮﺍ ﻣِﻦْ ﺃَﺑْﺼَﺎﺭِﻫِﻢْ۔

ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯﮐﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎ ﮨﯿﮟ ﻧﯿﭽﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔
——————–

ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ آپ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﺟﺎئیں
ﺟﺐ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﺑﺪﮎ ﺍﭨﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﭧ ﮔﺌﮯ

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﻣَﺎ ﺃَﺻَﺎﺑَﻜُﻢْ ﻣِﻦْ ﻣُﺼِﻴﺒَﺔٍ ﻓَﺒِﻤَﺎ ﻛَﺴَﺒَﺖْ ﺃَﻳْﺪِﻳﻜُﻢْ

ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﻮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﭘﻨﮯ ہی ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮨﮯ
( ﯾﻌﻨﯽ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺴﮯ ﻭﮦ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﻮ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍٓﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﻮﺍ ﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : آپ ﺻﺒﺮ ﮐﺮیں ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﺎ ﮔﮭﭩﻨﺎ ﺑﺎﻧﺪﮬﻮﮞ
( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎؒ ﮐﯽ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ )

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻓَﻔَﻬَّﻤْﻨَﺎﻫَﺎ ﺳُﻠَﻴْﻤَﺎﻥَ۔

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎدیا ( ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﭖ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﺎ ﭘﺎﺅﮞ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ آپ سوارﮨﻮﺟﺎئیں۔
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺍٓﯾﺖ ﭘﮍﮬﯽ :

ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺳَﺨَّﺮَ ﻟَﻨَﺎ ﻫَٰﺬَﺍ ﻭَﻣَﺎ ﻛُﻨَّﺎ ﻟَﻪُ ﻣُﻘْﺮِﻧِﻴﻦَ ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻟَﻰٰ ﺭَﺑِّﻨَﺎ ﻟَﻤُﻨﻘَﻠِﺒُﻮﻥَ۔

( ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﯽ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﯽ ﻣﮩﺎﺭ ﭘﮑﮍﯼ
ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ حدی پڑھنے لگا
( ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻭﻧﭧ ﮐﻮ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ اشعار وغیرہ پڑھے جاتے ہیں)

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﺍﻗْﺼِﺪْ ﻓِﻲ ﻣَﺸْﻴِﻚَ ﻭَﺍﻏْﻀُﺾْ ﻣِﻦْ ﺻَﻮْﺗِﻚَ ۔

ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺎﻧﮧ ﺭﻭﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺩﮬﯿﻤﯽ ﺭﮐﮭﻮ۔
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﻣﯿﮟ ﺍٓﮨﺴﺖ ﺍٓﮨﺴﺘﮧ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ دیگراشعار ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺌﮯ۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻓَﺎﻗْﺮَﺀُﻭﺍ ﻣَﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥِ ۔

ﭘﺲ ﻗﺮﺍٓﻥ ﭘﮍﮬﻮ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯﺟﺘﻨﺎ ﺍٓﺳﺎﻥ ہو
( ﯾﻌﻨﯽ ﺷﻌﺮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻗﺮﺍٓﻥ ﭘﮍﮬﻮ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﻣَﺎ ﻳَﺬَّﻛَّﺮُ ﺇِﻟَّﺎ ﺃُﻭﻟُﻮ ﺍﻟْﺄَﻟْﺒَﺎﺏِ۔

ﻧﮩﯿﮟ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﭘﮑﮍﺗﮯ ﻣﮕﺮ ﻋﻘﻞ ﻭﺍﻟﮯ
( ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺫﮨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﮨﯿﮟ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍٓﮔﮯ ﭼﻼ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﮯ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍْ ﻻَ ﺗَﺴْﺄَﻟُﻮﺍْ ﻋَﻦْ ﺃَﺷْﻴَﺎﺀ ﺇِﻥ ﺗُﺒْﺪَ ﻟَﻜُﻢْ ﺗَﺴُﺆْﻛُﻢْ۔

ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ ﺍﻥ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ
ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺩﯼ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮ
( ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺯﻧﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ نے ﻗﺎﻓﻠﮧ ﮐﻮ ﭘﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﮨﮯ۔ آپ کا ﻗﺎﻓﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﮯ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﺍﻟْﻤَﺎﻝُ ﻭَﺍﻟْﺒَﻨُﻮﻥَ ﺯِﻳﻨَﺔُ ﺍﻟْﺤَﻴَﺎﺓِ ﺍﻟﺪُّﻧْﻴَﺎ

ﻣﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻻﺩ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﮨﯿﮟ
( ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻝ ﮨﮯ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﻋﻼﻣﺎﺕٍ ﻭَ ﺑﺎﻟﻨَّﺠﻢِ ﻫﻢ ﻳَﻬﺘﺪﻭﻥَ۔

ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ وہ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮتے ﮨﯿﮟ
( ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﮨﺒﺮ ﯾﺎ ﮔﺎﺋﯿﮉ ﮨﯿﮟ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﻤﺎﺭﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﯿﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺧﯿﻤﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ۔
( ﯾﻌﻨﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﻼﺅﮞ )

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻭَﺍﺗّﺨﺬ ﺍﻟﻠﮧُ ﺍِﺑﺮﺍﮬﯿﻢَ ﺧﻠﯿﻼً۔ ﻭﮐﻠَّﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﻮﺳٰﯽ ﺗﮑﻠﯿﻤﺎً۔ ﯾﺎ ﯾحییﺧﺬِﺍﻟﮑﺘﺎﺏ ﺑﻘﻮۃٍ۔

ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﻮﺳٰﯽؑ ﺳﮯﮐﻼﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﮮ ﯾﺤﯽٰ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﻗﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﮑﮍﻭ
( ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ، ﻣﻮﺳﯽٰ، ﯾﺤﯽٰ تھے)
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﮮ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ، ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ، ﺍﮮ ﯾﺤﯽ،
تو ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ روشن چہرے والے تین ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﺮﺍٓﻣﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﻮ ۔۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻓَﺎﺑﻌﺜُﻮ ﺍَﺣَﺪَﮐُﻢ ﺑِﻮَﺭِﻗﮑﻢ ﮬٰﺬﮦٖ ﺍِﻟﯽ ﺍﻟﻤﺪِﯾﻨَۃِ ﻓَﻠﯿﻨﻈﺮ ﺍَﯾﮩﺎ ﺍﺯﮐٰﯽ ﻃﻌﺎﻣﺎً ﻓﻠﯿﺄﺗﮑﻢ ﺑﺮﺯﻕٍ ﻣﻨﮧُ۔

خود میں سے ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﮑﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﯿﺠﻮ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ پاکیزہ (اچھا )ﮨﮯ۔
( ﯾﻌﻨﯽ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ )
ﺗﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ۔

ﺑﮍﮬﯿﺎ : ﻛُﻠُﻮﺍ ﻭَﺍﺷْﺮَﺑُﻮﺍ ﻫَﻨِﻴﺌًﺎ ﺑِﻤَﺎ ﺃَﺳْﻠَﻔْﺘُﻢْ ﻓِﻲ ﺍﻷﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﺨَﺎﻟِﻴَﺔِ۔

ﮨﻨﺴﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮭﺎﺅ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺍﯾﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ
( ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﻮﺍﺯﯼ قبولﮐﯽ )
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ( ﺍﺱ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ )
ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﺑﺘﺎﺅ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﻼﯾﺎ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻭﺍﻟﺪﮦ ہیں ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ سے ﻗﺮﺍٓﻥ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﺧﻮﻑ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻂ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ۔ ﭘﺲ ﭘﺎﮎ ہے ﻭﮦ ﺫﺍﺕ ﺟﻮ ہر چیز پر قادر ہے۔
——————–

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺒﺎﺭﮎ : ﺫَﻟِﻚَ ﻓَﻀْﻞُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻳُﺆْﺗِﻴﻪِ ﻣَﻦ ﻳَﺸَﺎﺀ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﺫُﻭ ﺍﻟْﻔَﻀْﻞِ ﺍﻟْﻌَﻈِﻴﻢِ۔

ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﻓﻀﻞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﮍﮮ ﻓﻀﻞ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔

یہ اس امت کی ایک خاتون کا قصہ تھا ایسے بہت سے واقعات جن سے قرآن مجید سے عشق ٹپکتا ہو اس امت کی تاریخ میں موجود ہیں اور کیوں نہ ہوتے کہ یہ اس اللہ کا بے مثال کلام ہے جو حقیقی مرجع حمد وعشق ہے۔اللہ تعالی ہمیں بھی عشق قرآن وصاحب قرآن نصیب فرمائے آمین ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

جس تقریر کی بنیاد پر میں نے یہ مضمون لکھنا شروع کیا تھا اس میں تو تقریبا یہی کچھ تھا جو گذشتہ اقساط میں ذکر کیا جاچکا ۔لیکن اصل مضمون جو عنوان میں ذکر کیا گیا تھا یعنی قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت اس پر تو درحقیقت ابھی تک گفتگو ہی نہیں ہوئی ۔اور اب ان شاء الله ہوگی اور خوب ہوگی کہ قرآن مجید کے مفردات میں فصاحت وبلاغت کے کون کون سے مضامین پوشیدہ ہیں اس کے جملوں میں ادب وبیان کے کون سے اسرار ورموز پنہاں ہیں  الفاظ کی مناسبت جملوں کی ترتیب کے پیچھے ایک جہانِ معانی ہے جس پر مطلع ہونے سے ایک عاشق قرآن کی طبیعت لطف اٹھاتی ہے ایک طالب علم کی پیاس کو تسکین پہنچتی ہے

قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت

علم البلاغۃ کے ماہرین کہتے ہیں فصاحت کلام کا تعلق الفاظ کے ساتھ ہے  کہ الفاظ کی ادائیگی عیوب سے خالی اور محاسن کو جامع ہو جبکہ بلاغت کا تعلق معانی کے ساتھ ہے تو جو کلام ظاھری اور باطنی دونوں طرح کی خوبیوں سے متصف ہو اسے ہی فصیح وبلیغ کہا جاسکتا ہے ۔جن خرابیوں کی وجہ سے کلام کی فصاحت میں خلل پڑتا ہے ان میں  سے ایک بڑی خرابی تنافر الحروف یا تنافر الکلمات ہے یعنی کوئی آدمی کلام میں ایسے حروف یا الفاظ استعمال کرے جن کا اداء کرنا دشوار محسوس ہو اور زبان ان کلمات کو بولنے میں دقت محسوس کرے جیسے ایک اعرابی سے کسی نے پوچھا تمہاری اونٹنی کہاں ہے؟  تو اس نے جواب میں کہا

تركتها ترعى الهُعْخُعَ

یعنی میں نے اسے ھعخع گھاس کھانے کے لئے چھوڑا ہے ۔اب الھعخع کا تلفظ کرکے دیکھیں کتنا دشوار محسوس ہوگا ۔اور یہ تنافر ایک جیسے اور قریب المخرج الفاظ کے استعمال کی وجہ سے بھی پیدا ہوجاتا ہے ۔مثلا شاعر کا قول ہے 

قَبْرُ حَرْبٍ بِمَكَانِ قَفْرٍ  
وَلَيْسَ قُرْب قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ

یعنی حرب نامی شخص کی قبر ایک ویران مقام پر ہے ۔۔۔اور حرب کی قبر کے قریب دوسری کوئی قبر نہیں ہے ۔اب اس شعر میں قاف اور باء کا استعمال پے درپے ہوا ہے جس کی وجہ سے کلام میں بوجھل پن اور ادائیگی میں دشواری پیدا ہوگئی ہے ۔اب اگر قرآن مجید میں دیکھیں تو ایسے مقامات قرآن مجید میں بھی ملیں گے جہاں ایک جیسے حروف یا قریب المخرج حروف اکٹھے استعمال ہوئے ہیں لیکن کہیں ادائیگی میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی ۔عرب پڑھتے ہیں عجم پڑھتے ہیں ۔مصر کے تپتے صحراؤں میں پڑھا جاتا ہے افریقہ کے گھنے جنگلات میں لوگ پڑھتے ہیں پر کسی کو پڑھنے میں دشواری محسوس نہیں ہوتی کہ یہ قرآن کی فصاحت ہے ۔چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں ۔سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کے بیٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لأقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ

 اب اس آیت میں حرف قاف دس مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔اور قاف کا حرف دشوارترین حروف میں شمار ہوتا ہے پر پڑھ کر دیکھ لیں کوئی دشواری محسوس نہ ہوگی ۔اسی طرح سورہ ھود میں نوح علیہ السلام کے تذکرہ میں فرمایا

 قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ

اس آیت میں میم سولہ دفعہ استعمال ہوا ہے لیکن اس توجہ دلانے سے پہلے کبھی کسی کو شاید یہ گننے کی نوبت بھی نہ آئی ہو کہ کبھی کوئی دشواری مشقت محسوس ہی نہ ہوئی ۔ قرآن مجید میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جیسے

قل اللھم مالک الملک

والی آیت کہ اس میں آیت کے شروع میں ہی دس میم ہیں اسی طرح

لقد سمع اللہ قول الذین قالوا

اس آیت میں بھی دس قاف ہیں ۔لیکن یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ کسی مقام پر بھی کلام فصاحت کے بلند ترین معیارات سے نیچے نہیں اترتا۔بلکہ بعض اوقات الفاظ علیحدہ سے دیکھے جائیں تو کچھ دشوار محسوس ہوتے ہیں جیسے تَفْتَؤُ یا حَرَض کا لفظ ہے لیکن یہی الفاظ جب نظم قرآن میں استعمال ہوتے ہیں تو انتہائی نرم وسہل لگتے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں۔

قَالُوا تَاللهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينٌَ

اب حالانکہ یہاں حرف تاء کا تکرار بھی آگیا لیکن پڑھنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی ۔دوسری خرابی ضعف تالیف سے تعبیر کی جاتی ہے یعنی الفاظ کی ادائیگی تو دشوار نہیں لیکن ان کو جمع کرکے جملہ بنانے کا سلیقہ نہیں ۔دوسرے لفظوں میں کس جگہ کونسا لفظ استعمال کرنا مناسب رہے گا اس کا لحاظ نہ رکھنا کلام کو فصاحت سے دور کردیتا ہے ۔فصیح کلام تو وہ ہے جس میں الفاظ ایسے برموقع اور برمحل ہوں جیسے کسی لڑی میں موتی پروئے ہوئے ہوں ۔قرآن مجید سے چند مثالیں دیکھتے ہیں.سورۃ الشوری میں فرمایا ۔

وَمِنْ آيَاتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالأَعْلاَمِ

یعنی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں سمندر میں پہاڑوں جیسی کشتیاں (جہاز) اب یہاں کشتیوں کے لیے جوار کا لفظ استعمال کیا جو جاریۃ کی جمع ہے ۔اب یہاں الفُلک  کا لفظ بھی استعمال ہوسکتا تھا جو کہ عموما کشتی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان چل رہا ہے اور جاریۃ (یعنی چلنے والی جاری کا لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے) کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہوا جو انتہائی نرم ولطیف شئ ہے اس سے اسقدر بھاری بھرکم جہازوں کو بہتے پانیوں پر جاری رکھنا اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ۔اب اگر فلک کا لفظ استعمال ہوتا تو یہ معنی پیدا نہیں ہوسکتا تھا پھر سمندر کے لئے البحر کا لفظ استعمال کیا حالانکہ سمندر کے لئے بھی عربی میں عباب، غمر وغیرہ اور لفظ بھی استعمال ہوتے ہیں ۔لیکن وہ زیادہ معروف نہیں اور البحر ان کے مقابلے میں سہل ،سلیس اور معروف تر ہے ۔پھر پہاڑوں کے لئے اعلام کا لفظ استعمال کیا حالانکہ جبال، آکام وغیرہ الفاظ تھے ۔اصل میں عَلم کا لفظ علامت اور کسی چیز کی نشاندھی کرنے والی چیز کو کہتے ہیں اسی وجہ سے راستے کے نشان کو عَلم الطریق اور جھنڈے کو بھی عَلم کہتے ہیں پہاڑ کو عَلم کہنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ بہت دور سے نظر آجاتا ہے اور اس علاقے کی علامت ہوتا ہے تو کشتی کو پہاڑ سے تشبیہ دینے میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ دور سے یہ کشتیاں سمندر پر پہاڑ جیسی دکھتی ہیں نیز عَلم اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو طویل ہو یعنی لمبائی میں پھیلا ہوا ہو اور جبل کسی بھی  طرح کےپہاڑ کو کہہ دیتے ہیں تو کشتی یا بحری جہاز کی تشبیہ علم کے ساتھ زیادہ مناسب تھی ۔باقی یہ قرآن کی فصاحت تو درحقیقت الفاظ میں سمجھانا دشوار ہے یہ تو اس خوشبو کی طرح ہے جسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے ۔کماحقہ بیان کرنا مشکل ہے اس کے لئے تو زبان وبیان کا ذوق سلیم اور قوت وجدان درکار ہے۔پھر جب مخاطب عوام الناس ہو تو علم البلاغۃ کے مشکل مضامین کو سہل انداز میں بیان کرنے کی اضافی مشقت بھی لازم آتی ہے ۔لیکن انشاؑاللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

متنبی ایک بڑا شاعر گذرا ہے اس کا کلام ایسا فصیح وبلیغ تھا کہ ایک موقع پر اس نے نبوت کا دعوی کردیا اور معجزہ کے طور پر اپنے کلام کو پیش کیا ۔اگرچہ بعد میں اپنے اس جھوٹے دعوی سےوہ تائب ہوگیا تھا ۔لیکن اس کے دعوی سے قطع نظر اس کا کلام یقینا بے مثال تھا ۔
پھر بھی اس کا کلام چونکہ ایک انسانی کاوش تھی اس لئے اس میں بہتری کی گنجائش ملتی ہے ۔جیسے اس کا شعر ہے ۔

ان القتیل مضرجاً بدموعہ   
مثل القتیل مضرجاً بدمائہ

یعنی شہید محبت شہید جنگ کی طرح ہوتا ہے۔
   لیکن یہاں اگر مثل کے لفظ کو ہٹا کر فوق کا لفظ رکھ دیا جائے تو شعر کے حسن وخوبی میں چار چاند لگ جاتے ہیں

ان القتیل مضرجاً بدموعہ
  فوق القتیل مضرجاً بدمائہ

    شہید محبت کا مقام جنگ کے شہید سے بڑھا ہوتا ہے۔
لیکن قرآن نے لفظ ”مثل“ کو تقریباً چالیس جگہ استعمال کیا ہے۔ کسی ایک جگہ بھی اس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ استعمال نہیں کرسکتے ۔
جن علماء نے بلاغت قرآنی پر کتب لکھیں ہیں جو عموما اعجاز القرآن کے نام سے ملتی ہیں جیسے علامہ باقلانی یا رافعی رح کی اعجاز القرآن یا علوم قرآن پر جو دیگر کتب لکھی گئی ہیں جیسے علامہ خطابی رح کی مناہل العرفان یا سیوطی رح کی الاتقان یا علامہ انورشاہ کشمیری رح کی مشکلات القرآن اور حضرت بنوری رح کا اس پر مقدمہ یتیمۃ البیان وغیرہ ان حضرات نے قرآن مجید کے الفاظ کے اعجاز کا چار طرح سے جائزہ لیا ہے ۔
1 مفردات القرآن کا اعجاز
2 مرکبات یعنی قرآن مجید کے جملوں کا اعجاز
3 آیت کے ربط اور ترتیب میں اعجاز
4 مقاصد کلام اور حقائق کلام کا اعجاز
یہ چوتھی وجہ باالخصوص علامہ انورشاہ کشمیری رح کی ذکر کردہ ہے ۔
لیکن عجیب بات ہے کہ اعجاز القرآن پر لکھی ہوئی کتب میں فنی مباحث تو بہت تفصیل سے ملتی ہیں لیکن مثالوں کا موقع آتا ہے تو ایک آدھ مثال ہی ملتی ہے ۔میں نے اس مضمون میں کوشش کی ہے کہ مختلف کتب اور تفاسیر وغیرہ سے بلاغت قرآنی کی مثالیں جمع کرکے پیش کروں ۔تاکہ قرآن مجید کے معانی کی گہرائیوں اور ان کے باریک اسرار سے واقفیت حاصل ہو سکے ۔لہذا بالترتیب ہر قسم پر گفتگو کرتے ہیں ۔
مفردات القرآن کی فصاحت وبلاغت
قرآن مجید کے مفرد الفاظ میں بھی معانی کے سمندر چھپے ہوئے ہیں ۔بعض اوقات لفظ وہی ہوتا ہے پر دوسری جگہ استعمال ہوتا ہے تو نئے معنی دیتا ہے اسے وجوہ القرآن سے تعبیر کرتے ہیں ۔جیسے الھُدی کا لفظ قرآن مجید میں سترہ معانی میں استعمال ہوا ہے اسی طرح صلاۃ، رحمۃ، سؤ ،فتنہ وغیرہ الفاظ متعدد معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔
جبکہ مشکل الفاظ کی توضیح وتشریح کے لئے غریب القرآن اور مجازی معنی کی وضاحت کے لئے مجاز القرآن کے نام سے باقاعدہ کتب لکھی گئی ہیں امت محمدیۃ علی صاحبھا التحیۃ والسلام نے خدمت قرآن میں کسی گوشہ کو بھی تشنہ نہیں رہنے دیا ۔
حتی کہ اگر ایک لفظ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ایک معنی میں استعمال ہوا ہے لیکن صرف ایک جگہ کسی دوسرے معنی میں آیا ہے تو اسے افراد کہتے ہیں اس پر بھی ابن فارس رح کی کتاب ہے ۔اس میں وہ فرماتے ہیں کہ اَسف کا لفظ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی آیا ہے افسوس کے معنی میں ہے سوائے اس آیت کے

فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ

کہ یہاں یہ غصہ دلانے کے معنی میں ہے ۔اسی طرح
بروج سے مراد قرآن مجید میں ہرجگہ ستارے ہیں سوائے اس آیت کے

وَلَؤ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ

کہ یہاں بروج سے مراد مضبوط قلعے ہیں
ایسی کئی مثالوں پر انہوں نے گفتگو کی ہے۔
پھر قرآن مجید نے بعض اوقات ایسے الفاظ پیش کئے جن کی نظیر اھل عرب کے کلام میں نہ تھی جیسے موت کے بارے میں اہل عرب میں اختلاف تھا بعض کہتے تھے کہ یہ سارا نظام دنیا کی حد تک ہے جب موت آتی ہے تو روح وجسم دونوں فناء ہوجاتے ہیں جبکہ ایک دوسرے طبقے کا خیال تھا کہ جسم تو فناء ہوجاتا ہے لیکن روح باقی رہتی ہے اسی لئے عرب اپنے مقتولین کا انتقام لینے کی وصیت کرتے تھے کہ ان کا خیال تھا کہ مقتول کی روح اس وقت تک پیاسی رہتی ہے جب تک اس کا انتقام نہ لے لیا جائے ۔
اس لئے انہوں نے موت کے متعلق اپنے خیالات واحساسات کے مطابق الفاظ مقرر کررکھے تھے ۔ابن سیدہ رح نے المخصص میں 28 لفظ ذکر کئے ہیں لیکن کوئی بھی موت کے صحیح مفہوم کو اداء نہیں کرتا تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تُوُفِّی کا لفظ استعمال کیا جس کا مطلب ہے کسی چیز کا پورا پورا لے لینا۔آج کل ہم وفات کا جو لفظ استعمال کرتے ہیں وہ اسی سے ہے گویا اہل عرب کو بتلایا گیا کہ موت صرف فناء کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ کی جانب سے روح کو لے لینا ہے اور روح اور اجزاء جسم اللہ کے ہاں محفوظ ہیں جو وقت مقررہ پر دوبارہ جمع کردئیے جائیں گے ۔
اب دیکھیں ایک ہی لفظ سے کیسا وسیع مفہوم نکلتا ہے ۔
اس نکتے کی طرف حضرت علامہ کشمیری رح اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
مفردات میں قرآن مجید وہ کلمہ اختیار فرماتا ہے جس سے اوفی بالحقیقۃ واوفی بالمقام ثقلین (جن وانس) نہیں لاسکتے مثلا جاہلیت کے اعتقاد میں موت پر توفی کا اطلاق درست نہ تھا کیونکہ ان کے اعتقاد میں نہ بقاء جسد تھی نہ بقاء روح ۔قرآن مجید نے موت پر توفی کا اطلاق کیا اور بتلایا کہ موت سے وصولیابی ہوتی ہے نہ فناءمحض۔ اس حقیقت کو کلمہ سے کشف کردیا ۔انتھی
اس کے بعد ایک اور عجیب بات فرمائی کہ اسی کلمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کو اب بالکل فناء کبھی بھی نہیں آئے گی کہ توفی کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی ملکیت اور حق کو وصول کرلینا تو بندہ گویا کہ باقی رہنے والی ذات یعنی اللہ کی ملکیت میں پہنچ گیا اور باقی کی ملکیت بھی باقی رہنے والی ہوتی ہے تو کامل فناء اب بندہ کو نہیں آئے گی بلکہ قیامت میں زندہ ہونا اور پھر جنت وجھنم کی طرف جانے کا معاملہ ہوگا ۔
نیز فرمایا کہ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے جس پر چاہے موت طاری کردے ۔کہ توفی کا مطلب اپنا حق پورا پورا لے لینا کہ عرب اگر گم شدہ گھوڑا صحرا میں ڈھونڈلیں تو یوں نہیں کہتے کہ توفیت الفرس بلکہ کہتے ہیں توفیت حقی یعنی میں نے اپنا حق پورا پورا لے لیا تو
گویا زندگی بندہ کے پاس امانت ہے اور صاحب حق یعنی اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ جب چاہے واپس لے لے۔
تفصیل کے لئے حضرت کی کتاب تحیۃ الاسلام یا حضرت بنوری رح کی یتیمۃ البیان دیکھیں ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

قرآن مجید کا ہر لفظ معجز ہے ۔اس کے ہر ہر لفظ میں معانی ومفاھیم کے سمندر موجود ہیں ۔البتہ اتنا ضرور ہے کہ بعض الفاظ کی فصاحت وبلاغت واضح اور عام فھم ہے اور بعض کی مخفی اور مشکل الادراک ہے ۔عجیب بات یہ ہے کہ مفسرین نے عموما جملوں کی فصاحت پر گفتگو کی ہے ۔مفردات کے اعجاز پر گفتگو نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ صرف میرا خیال نہیں ہے بلکہ حضرت بنوری رحمہ الله نے یتیمۃ البیان میں بھی یہی رائے ظاہر کی ہے ۔میں  ایک عرصہ دراز تک دشت کتب کی خاک چھاننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر بلاغت کے اسرار ورموز جاننے ہیں تو اس کے لئے کسی ایک آدھ تفسیر یا لغت کی کتاب کا مطالعہ کافی نہ ہوگا ۔لہذا اب میں جو آپ کے سامنے رکھتا ہوں بظاہر یہ ایک دو لفظوں کے گرد ہونے والی گفتگو ہے لیکن درحقیقت ان کے پیچھے سینکڑوں بلکہ ھزاروں صفحات پر مشتمل تلاش و جستجو ہے ۔اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ کی پہلی آیت میں قرآن مجید کے شک وشبہ سے پاک ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

لا رَیْبَ فیه

 اب یہاں لفظ ریب استعمال کیا ہے یہاں یہ بھی کہاجاسکتا تھا

لاشک فیه یا لاشبھة فيه

تو ریب کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ تو شبهۃ تو کہتے ہیں کے دوچیزیں رنگ وروپ یا وصف میں ایک جیسی ہوں جس کی وجہ سے پہچان دشوار ہو اور معاملہ خلط ملط ہونے لگے تو اس کے لئے شبھۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اب یہاں معاملہ التباس یا خلط ملط کا نہ تھا بلکہ کفار کو قرآن کی حقانیت اور منجانب اللہ ہونے میں شک تھا اس لیے شبھۃ کے لفظ کا تو یہ محل ہی نہ تھا ۔البتہ شک کا لفظ یہاں استعمال کیا جاسکتا تھا بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دیگر مقامات پر قرآن مجید میں شک وشبہ کا مفہوم بتانے کے لئے شک کا لفظ استعمال کیا ہے ۔جیسے

وانھم لفی شک منہ مریب یا وان کنت فی شک مما انزلنا

وغیرہ آیات ہیں ۔تو یہاں ریب کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا اور وہاں شک کا لفظ کیوں استعمال ہوا ۔اس کو سمجھنے کے لئے شک اور ریب کی حقیقت اور ان میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے ۔شک کہتے ہیں کہ جن دو چیزوں میں شک ہے وہ دونوں جانبیں شک کرنے والے کے نزدیک بالکل برابر ہوں اور وہ ان دونوں میں سے کسی بھی ایک جانب کو اختیار کرنے اور ترجیح دینے کے قابل نہ ہو ۔اگر اس کا خیال کسی ایک جانب راجح ہوجائے تو پھر وہ شک نہیں رہتا بلکہ جس جانب خیال راجح ہوگیا اسے ظن اور دوسری جانب کو وھم کہتے ہیں ۔اھل لغت کے نزدیک شک کے لفظ کا اصل معنی تداخل یعنی ایک دوسرے میں داخل ہونا ہے ۔عرب کہتے ہیں

شککته بالرمح

یعنی میں نے نیزہ اس کے جسم میں داخل کردیا۔ اب یہاں بھی شک کرنے والا گویا کہ ایسے مقام میں داخل کردیا گیا جہاں اس کو دونوں صورتوں میں سے کونسی صورت ہے ۔اور کونسی جانب کو اختیار کرے اور کس کو چھوڑے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوگیا لہذا اسے بھی شک کہا جانے لگا ۔ریب کا لفظ ریب المنون سے نکلا ہے ۔المنون زمانے کو کہتے ہیں اور ریب سے مراد حادثات و مصائب تو زمانے کے حوادث کو بنیادی طور پر ریب کہتے تھے پھر چونکہ ان حادثات ومصائب سے طبیعت میں قلق و اضطراب اور شک پیدا ہوتا ہے ۔اور بعض اوقات مسبب کا نام سبب پر رکھ دیتے ہیں تو شک واضطراب کو ریب کہا جانے لگا ۔پھر ریب کے بارے میں بعض حضرات کا خیال تھا کہ اس میں اور شک میں کوئی فرق نہیں ہے ۔جب کہ محقیقین جیسے علامہ علامہ رازی ،ابوحیان ،العسکری ۔ابن القیم رح وغیرہ نے  مثالوں سے ثابت کیا کہ ان میں فرق ہے ۔بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ریب کا مرتبہ شک سے کم ہے ۔وھم اور التباس کو ریب کہتے ہیں ۔اس صورت میں تو بات واضح ہے کہ جب ادنی کی نفی کردی جائے تو اعلی کی نفی خودبخود ہوجاتی ہے ۔گویا آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک تو کیا وھم کی بھی گنجائش نہیں ہے ۔ابوحیان رح لکھتے ہیں کہ ریب اس شک کو کہتے ہیں جو تھمت کے ساتھ ہو ۔یعنی اس میں مخاطب پر شک کیساتھ ساتھ کوئی الزام اور تہمت لگائی جارہی ہو ۔اسی طرح علامہ رازی رح لکھتے ہیں اصل میں ریب اس شک کو کہتے ہیں جس کی بنیاد بدگمانی پر ہو ۔اسی وجہ سے اگر کسی کو سورج کے نکلنے میں یا بارش کے ہونے نہ ہونے میں شک ہو تو اسے مرتاب نہیں کہتے کہ وہاں بدگمانی اور تہمت نہیں پائی جارہی ۔اب غور کیجئے کہ کفار کو قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے میں صرف شک نہ تھا بلکہ وہ نبی اکرم صلی الله عليه وسلم پر اس بات کی تہمت لگاتے تھے کہ اسے نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے خود سے گھڑ لیا ہے ۔جسے قرآن مجید نے بل افتراہ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔اس لئے اللہ تعالیٰ اس شک وتہمت کی نفی فرماتے ہوئے لاریب کا لفظ استعمال فرماتے ہیں کہ قرآن مجید ان شکوک واتہامات کا محل نہیں ہے ۔ علامہ ابن قیم رحمہ الله نے بدائع الفوائد میں ریب اور شک میں چھ وجوہ سے فرق ذکر کیا ہے ۔ ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ریب اصل میں اس قلق، بے چینی اور اضطراب کو کہتے ہیں جو اطمینان قلب کی ضد ہے ۔جیسے نبی اکرم صلی الله عليه وسلم اور آپ کے صحابہ حالت احرام میں ایک ھرن کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

ما یریبه احد

کوئی بھی اسے بے چین اور مضطرب نہ کرے اب یہاں

مایشکه احد

کوئی اسے شک میں نہ ڈالے کہنا درست نہ ہوتا ۔اسی طرح کہا جاتا ہے

رابنی مجئیه وذهابه

اس کے آنے جانے نے مجھے مضطرب کردیا ۔اب یہاں

شککنی

کہنا درست نہیں ہے.وہ مزید لکھتے ہیں کہ شک کی ابتداء بے چینی سے ہوتی ہے لہذا ریب شک کے لئے مبداء (جس سے ابتداء ہو) کی حیثیت رکھتا ہے جیسے علم یقین کے لئے مبداء کی حیثیت رکھتا ہے ۔انتھی ۔پھر چونکہ تہمت لگانے والے کے دل میں بے چینی کی کیفیت غالب ہوتی ہے اس لئے اس شک کو جس کے ساتھ بدگمانی اور تہمت جمع ہوجائے ریب  کہا جانے لگا ۔اس پورے مفہوم کو سامنے رکھا جائے تو دیگر آیات کا مفھوم واضح ہوجاتا ہے ۔جیسے جب نبی کریم صلی الله عليه وسلم کو مخاطب کیا تو فرمایا کہ اگر آپ (بفرض محال) اس کتاب کے بارے میں شک میں ہیں تو ان لوگوں سے پوچھ لیجئے جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ۔اب یہاں شک کا لفظ استعمال کیا ریب کا نہیں کہ مخاطب نبی کریم صلی الله عليه وسلم ہیں اور نبی تردد اور حیرت میں تو ہوسکتا ہے لیکن بدگمانی اور اتہام کا شکار نہیں ہوا کرتا ۔جبکہ کفار کی بدگمانی اور تہمت سازی واضح ہے تو ان کے لئے ریب کا لفظ استعمال فرمایا ۔نیز یہ جو فرمایا

وانھم لفی شک منہ مریب

اس پر جو سؤال پیدا ہوتا ہے کہ ایک چیز کو اس کی اپنی ذات کے لئے وصف کے طور پر نہیں لاسکتے اور یہاں مریب کو شک کے وصف کے طور پر لائے ہیں ۔گذشتہ مفہوم کو سامنے رکھیں اور آپ سمجھ جائیں گے کہ یہاں کہا جارہا ہے کہ ان کا شک ایسا ہے کہ جو ان کے دلوں میں قلق واضطراب پیدا کرتا رہے گا یہاں تک کے وہ تہمت لگانے کے درجے کو پہنچ جائیں گے ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور

بعض اوقات قرآن مجید میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے اور دوسری جگہ معمولی فرق کیساتھ وہی لفظ استعمال ہوتا ہے ۔بادی النظر میں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔لیکن یہ قرآن کے الفاظ ہیں جہاں معمولی معمولی فرق کے پیچھے بھی اسرار وحِکم کے خزانے ہیں ۔
جیسے اللہ تعالیٰ شہر مکہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک جگہ مكه کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور دوسری جگہ یہی لفظ میم کے بجائے باء کیساتھ بكة استعمال ہوتا ہے ۔
ویسے تو اھل عرب میم کی جگہ باء بھی استعمال کرلیتے ہیں جیسے لازم اور لازب ۔مگر یہاں یہ معمولی فرق بھی حکمت سے خالی نہیں ہے ۔
مکّ فعل کا معنی ہوتا ہے کسی جوف والی (اندر سے کھوکھلی) چیز میں موجود شئی کو چوس کر نکالنا ۔جیسے کہاجاتا ہے

مکّ الفصیل ضرع امھا

یعنی بچھڑے نے گائے کے تھن سے دودھ چوس لیا ۔اسی طرح مکّ العظم کا مطلب ہڈی میں سے اس کا گودا نکالنا جسے ہم نلی سے تعبیر کرتے ہیں ۔لاہور کی نلی والی نہاری اور کراچی کی نلی بریانی مشہور ہے ۔
تو مکہ میں چونکہ پانی کی قلت تھی اور پانی گویا چوس کر حاصل کیا جاتا تھا یا یہ شہر نیکیوں اور نیک لوگوں کو اپنی جانب چوس لیتا تھا اس لئے اسے مکہ کہا جانے لگا ۔بعض نے لکھا ہے کہ یہ خود ساری زمین میں سے انتخاب کرکے گویا مغز کی طرح نکالی ہوئی جگہ ہے اس لئے اسے مکہ کہتے ہیں ۔
اور بکّ فعل کا معنی ہوتا ہے ھجوم کرنا اور ازدحام ہونا عرب کہتے ہیں

بکّ الناس بعضھم بعضا

لوگ ھجوم کی وجہ سے ایک دوسرے پر گرے پڑرہے تھے ۔تو یہاں چونکہ حج کے موقع پر لوگوں کا ازدحام ہوتا تھا اس لئے اسے بکّہ کہا گیا ۔
اب ان دونوں آیتوں پر غور کریں تو پتا چلتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ مکہ استعمال کیا وہ صلح حدیبیہ کا تذکرہ ہے تو معروف نام ذکر کردیا ۔اور جہاں بکہ فرمایا وہاں درحقیقت حج اور اس کے مناسک کی بات چل رہی ہے ۔اور حج چونکہ ازدحام کا موقع ہے اس لئے اس مناسبت سے بکہّ فرمایا گویا یوں کہا جارہا ہے کہ یہ تو مقام ہی وہ ہے جہاں زمانہ قدیم سے لوگ جمع ہوتے چلے آئے ہیں اور انتہائی بابرکت اور سبب ھدایت ہے لہذا تم بھی حج کے لئے اس کا قصد کرو۔
مزید دیکھیں ابراھیم علیہ السلام کی دعاء پہلے سیپارے میں مذکور ہے وہاں فرمایا

رب اجعل ھذا بلدا آمنا

اب یہاں بغیر الف لام کے لفظ بلد ذکر ہوا ہے ۔اور تیرھویں سیپارے میں یہی دعاء ہے وہاں الف لام کیساتھ البلد فرمایا ۔تو مفسرین نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پہلی دعاء اس وقت کی ہے جب شہر آباد نہیں ہوا تھا تو فرمایا اجعل ھذا اس جگہ کو بنادیجئے بلدا آمنا شہر امن والا ۔گویا یہاں صرف امن کی دعاء نہیں مانگی بلکہ اس جگہ کو شہر بنانے کی درخواست بھی کی ہے ۔اور دوسری دعاء کے وقت شہر موجود تھا تو فرمایا اجعل ھذا البلد آمنا اس شہر کو بنادیجئے امن والا ۔عربی سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ پہلی صورت میں بلدا ہذا کا مشار الیہ نہیں بلکہ اجعل کا مفعول بن رہا ہے اور دوسری صورت میں الف لام ہونے کی وجہ سے مشار الیہ بن رہا ہے اس لیے ترجمہ میں فرق آرہا ہے۔
مزید دیکھیں ۔والدین کے لئے قرآن مجید میں کہیں تو والدین کا لفظ استعمال کیا اور کہیں ابوین تو اصل میں ابوین کے لفظ کی بنیاد اب کا لفظ ہے جو باپ کو کہتے ہیں پھر اسی کی تثنیہ بنا کر ماں کو بھی ساتھ شامل کرلیا گیا ۔گویا اس لفظ میں باپ والی جانب غالب ہے ۔جبکہ والدین میں ماں کی جانب غالب ہے کہ یہ لفظ ولادۃ سے ہے ۔اور ولادت ماں کے ذریعے ہوتی ہے ۔باپ نسب کے اعتبار سے شریک ہے اس لئے اسے بھی شامل کرکے والدین کہا ۔تو والدین کے لفظ میں ماں کی جانب غالب ہے ۔
اب قرآن مجید کو دیکھیں کہ جہاں مالی معاملات کا تذکرہ آتا ہے جیسے میراث وغیرہ تو قرآن کہتا ہے ۔ وورثه ابواه اور ولابویه لكل واحد منهما السدس کہ مالی امور مردوں سے متعلق ہوتے ہیں ۔اسی طرح تخت پر بٹھانے کا تذکرہ ہے تو تخت پر بیٹھنا اور حکومت مردوں کے مناسب ہے تو فرمایا ورفع ابویه علي العرش
اور جب حسن سلوک کی بات آئی تو اس کی ماں زیادہ حقدار تھی جیسا کہ احادیث سے واضح ہے تو فرمایا وبالوالدین احسانا قرآن نے جہاں بھی حسن سلوک کا حکم دیا ہے والدین کا لفظ استعمال کیا ہے کہیں بھی ابوین کا لفظ استعمال نہیں کیا۔
گویا جو معاملات ایسے تھے جو باپ سے زیادہ تعلق رکھتے تھے ان میں وہ لفظ استعمال کیا جس میں باپ کی جہت غالب تھی اور جہاں نرمی وملاطفت اور حسن سلوک کی بات آئی تو وہ لفظ استعمال کیا جس میں ماں کی جہت غالب تھی۔
ایک اور مثال دیکھیں عربی زبان میں قوم کا لفظ بنیادی طور پر مردوں کے لئے استعمال ہوا ہے کہ یہ قائم سے ہے اور قائم بالامور (اہم امور کو انجام دینے والے) مرد ہوا کرتے ہیں ۔تو قوم اہل عرب کے ہاں باپ دادا اور ان کے مرد رشتہ داروں کو کہتے تھے ۔اگرچہ کبھی کبھار عورتوں اور بچوں کو اس میں مردوں کے تابع کر کے مراد لیتے تھے ۔لیکن اس کے اصل معنی میں باپ کے مرد رشتہ دار ہی آتے تھے ۔خود قرآن مجید نے قوم کے لفظ کو نساء یعنی عورتوں کے مقابلہ میں استعمال کیا ہے ۔فرمایا لا یسخر قوم من قوم یعنی نہ تو مرد ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں اور آگے فرمایا ولا نساء من نساء اور نہ عورتیں ایک دوسرے کا مذاق اڑائیں۔
تو اگر قوم کے مفہوم میں عورتیں داخل ہوتیں تو آگے دوبارہ ذکر کرنے کی نوبت نہ آتی ۔
اسی طرح عرب شعراء کے کلام میں بھی ہے مثلا زھیر بن ابی سلمی حصن بن حذیفۃ الفزاری کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے ۔

وما ادري وسوف أِخال ادری
اقوم آل حصن ام نساء

یعنی مجھے معلوم نہیں ہے اور میرا خیال ہے کہ میں جان لوں گا ۔
کہ یہ آل حصن کے مرد تھے یا عورتیں ۔
یعنی جس طرح جنگ میں بزدلی دکھا کر یہ لوگ بھاگے ہیں مجھے ان کے مرد ہونے پر شک ہے ۔
تو یہاں بھی اس نے نساء کے مقابلے میں قوم کا لفظ استعمال کیا جس سے واضح ہے کہ لفظ قوم مردوں کی جماعت پر بولا جاتا تھا ۔
اب قرآن مجید کا اسلوب دیکھتے ہیں ۔قرآن مجید نے جہاں بھی کسی نبی کے اپنی قوم کو دعوت دینے کا تذکرہ کیا ہے قوم کا لفظ استعمال کیا ہے جیسے

واذ قال موسی لقومه ياقوم ، ولوطا اذ قال، لقومه، لقد ارسلنا نوحا الي قومه فقال ياقوم، والي عاد اخاهم هودا فقال ياقوم،وغیرہ

لیکن جب عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ آتا ہے تو قرآن مجید قوم کا لفظ استعمال نہیں کرتا مثلا

واذ قال عیسی بن مریم یٰبنی اسرائیل اور وقال المسیح یا بنی اسرائیل

کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیرباپ کے پیدا ہوئے تھے تو بنی اسرائیل ان کی والدہ کی قوم تو تھے جیسا کہ فرمایا

فاتت به قومها تحمله

لیکن ان کی قوم نہ تھے ۔
یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ کسی بھی شخص کے لئے اتنے استحضار کے ساتھ کے ساتھ کلام کرنا دشوار ہے ۔لیکن یہ تو اللہ کا کلام ہے جو کسی بھی چیز کو بھولتا نہیں ہے ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ اسلم لاہور