تنبیہ نمبر172

میتھی کے وزن کے بقدر سونا

سوال: ایک روایت سنی ہے کہ اگر لوگوں کو میتھی کے نفع کا پتہ چل جائے تو وہ اسکو سونے کے بھاؤ خریدینگے…
کیا یہ روایت درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

یہ روایت طبرانی نے المعجم الکبیر میں نقل کی ہے.

أخرجه الطبراني في الكبير، لو يعلم الناس ما في الحلبة لاشتروها ولو بوزنها ذهباً.
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

یہ روایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور اس کی سند میں *سلیمان الجنائزی* ہے، اس کو محدثین نے جھوٹا قرار دیا ہے.

قال في كشف الخفاء ومزيل الإلباس: رواه الطبراني في الكبير عن معاذ بن جبل مرفوعاً، وفي سنده سليمان الجنائزي كذاب.
• ١ .دوسری سند:

ابن عدی نے اس روایت کو أحمد بن عبدالرحمن حجدر سے نقل کیا اور یہ حجدر بھی روایات چوری کرنے والا شخص ہے.

ورواه ابن عدي في كامله عنه أيضا من طريق أحمد بن عبدالرحمن الملقب حجدر، كان ممن يسرق الحديث.

ان روایات کو ابن جوزی نے موضوعات میں اور سیوطی نے اللآلی المصنوعة اور الدرر المنثورة میں(جو من گھڑت روایات کی کتابیں ہیں) نقل کیا ہے.

ومن ثم ذكره ابن الجوزي في الموضوعات، وتبعه السيوطي في اللآلی المصنوعة، وفي الدرر المنثورة.
• ٢. دوسری روایت:

ابن القیم کی طرف منسوب کتاب “طب نبوی” میں ایک روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دل کا دورہ پڑا تو آپ علیہ السلام نے عجوہ کھجور کے ساتھ میتھی کے استعمال کو بھی بطور علاج تشخیص فرمایا.

وفي الطب النبوي لإبن القيم: يذكر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه عاد سعد بن أبي وقاص بمكة، فقال: ادعوا له طبيباً، فدعي الحارث بن كلدة، فنظر إليه، فقال: ليس عليه بأس، فاتخذوا له فريقة، وهي الحلبة مع تمر عجوة رطب يطبخان، فيحساهما، ففعل ذلك، فبرئ.
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیمار ہونا اور علاج کے طور پر آپ علیہ السلام کا عجوہ تجویز فرمانا تو صحیح روایات سے ثابت ہے لیکن اس روایت كی کوئی سند موجود نہیں.

بیهقی نے سفیان بن عیینہ کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے کمزوری کیلئے میتھی دانہ تجویز کیا تھا.

البيهقي في مناقب الشافعي عنه: أنه نقل عن سفيان بن عيينة أنه نظر إلى ابن أبجر وبه ضعف؛ فقال: عليك بالحلبة بالعسل.
اس روایت کی ایک اور سند:

أبونعیم نے کتاب الطب میں حسین بن علوان کی سند سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے لیکن حسین بن علوان بھی جھوٹا راوی ہے.

ولأبي نُعيم في الطب (651) من طريق الحسين بن علوان، عَن هشام بن عروة، عَن أبيه، عَن عائشة مرفوعاً مثله… والحسين كذّاب.

ابن القیم نے زاد المعاد میں خود اس کو اطباء کا قول قرار دیا ہے.

فابن القيم في “زاد المعاد” لم يره حديثاً وإنما عزاه لبعض الأطباء فقال: وقال بعض الأطباء: لو علم الناس منافعها، لاشتروها بوزنها ذهباً.
• ٣. تیسری روایت:

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میتھی دانے سے شفا حاصل کرو.

“استشفوا بالحلبة” ولكنه مرسل، ذكره ابن القيم في “زاد المعاد” فقال: ويذكر عن القاسم بن عبدالرحمن، أنه قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “استشفوا بالحلبة”.

لیکن اس کی بھی کوئی اصل اور سند موجود نہیں.

خلاصہ کلام

أطباء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میتھی دانہ مفید چیز ہے اور اس کا استعمال کرنا بہت ساری بیماریوں کا علاج بھی ہے، لیکن اس کے متعلق کسی بھی مستند (صحیح یا ضعیف) روایت میں کوئی فضیلت منقول نہیں، لہذا آپ علیہ السلام کی طرف اس کی نسبت کرنا اور اسکو پھیلانا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں