تنبیہ نمبر183

آدمی کے تین باپ

سوال: حدیث نبوی صلی الله علیہ وسلم ہے: ایک دفعہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ آدمی کے کتنے باپ ہوتے ہیں؟ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے تین باپ ہوتے ہیں: ایک والد جس کے نطفہ سے یہ پیدا ہوا، دوسرا سُسر جس نے اس کو اپنی بیٹی نکاح میں دی اور تیسرا استاذ جس نے اس کو دین سکھایا، پھر پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟ صحابہ کرام نے لاعلمی ظاہر کی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تینوں میں سے استاذ کا حق زیادہ ہے، کیونکہ اس نے اس کو دینی تعلیم دی اور دین کا تعلق روح سے ہے اور روح جسم کے مقابلے میں اصل ہے. کیا یہ روایت درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت اس سیاق کے ساتھ کسی بھی مستند (صحیح یا ضعیف) سند سے کہیں بھی نہ مل سکی. البتہ شیعہ کی کتب اور ان کے علماء کے بیانات میں اس روایت کو آپ علیہ السلام کی طرف منسوب کرکے بیان کیا جاتا ہے، لیکن اس میں بھی اس قدر تفصیل (جو سوال میں مذکور ہے وہ) نہ مل سکی۔ ان کتب میں فقط اتنا منقول ہے کہ باپ کا رشتہ تین افراد کا ہے: حقیقی باپ، سسر اور استاد.

قال نبينا الاكرم محمد صلى الله عليه واله وسلم: «الآباء ثلاثة: أبٌ ولَّدك، وأبٌ زوَّجك، وأبٌ علّمك».
– الغدير في الكتاب والسنّة والأدب «للأميني»
– المجلّد: ۱
– الصفحة: ٦٥۰
– الناشر: مركز الغدير للدراسات الإسلامية.
● اس مضمون کے قریب کے بعض جملے:

بعض کتب میں یہ روایت منقول ہے:

• “خَیرُ الآباءِ مَن عَلَّمَكَ”

یعنی بہترین باپ وہ ہے جو تجھ کو سکھائے.

لیکن اس کی بھی کوئی سند نہ مل سکی.

صحیح روایات میں یہ مضمون:

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمہارے لئے والد کی طرح ہوں، تمہیں سکھاتا ہوں کہ دورانِ قضائے حاجت نہ قبلے کی طرف رُخ کرو نہ ہی اسکی طرف پیٹھ کرو.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إنما أنا لكم بمنزلة الوالد أعلمكم فإذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها ولا يستطب بيمينه” وكان يأمر بثلاثة أحجار، وينهى عن الروث والرمة. [رواه أبوداود: 8 (1/49)، والنسائي: 40 (1/38)].

ایک روایت میں ہے کہ میں تمہارے لئے اس طرح ہوں جیسے والد اپنی اولاد کیلئے ہوتا ہے.

ورواه أحمد (7368، 12/326) من نفس الطريق بلفظ: إنما أنا لكم مثل الوالد لولده..، وكذا رواه ابن ماجه (313، 1/114)
● بزرگانِ دین کے کلام میں اس مضمون کا تذکرہ:

١. بعض علماء فرماتے ہیں کہ مشائخ دینی والد ہوتے ہیں.

وَقَدْ قَالَ عُلَمَاءُ الْمُصْطَلَحِ: الْأَشْيَاخُ آبَاءٌ فِي الدِّينِ.

٢. شیخ عبدالقادر التغلبی کہتے ہیں کہ استاد تیرے والد کی طرح ہے، بلکہ تیرے والد سے بھی زیادہ حقدار ہے.

وَقَالَ لِي أَبُو التَّقِيِّ الشَّيْخُ عَبْدُالْقَادِرِ التَّغْلِبِيُّ الشَّيْبَانِيُّ أَغْدَقَ الله الرَّحْمَةَ عَلَى رَمْسِهِ: “شَيْخُك أَبُوك؛ بَلْ أَعْظَمُ حَقًّا مِنْ وَالِدِك؛ لِأَنَّهُ أَحْيَاك حَيَاةً سَرْمَدِيَّةً وَلَا كَذَلِكَ وَالِدُك” أَوْ كَلَامًا هَذَا مَعْنَاهُ.

٣. ایک جگہ ایک استاد نے فرمایا کہ لوگ میرے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ انکی اولاد نہیں ہے، حالانکہ میری تو (شاگردوں کی صورت میں) اولاد موجود ہے.*

وَقَالَ لِي: النَّاسُ يَقُولُونَ فُلَانٌ (يَعْنِي: نَفْسَهُ) لَا وَلَدَ لَهُ، وَهَلْ لِأَحَدٍ مِنْ الْوَلَدِ مِثْلُ مَا لِي؟ يَعْنِي: تَلَامِذَتَهُ رِضْوَانُ الله عَلَيْهِ. (غذاء الألباب:1/390).
خلاصہ کلام

اگرچہ یہ مضمون تو درست ہے کہ استاد والد کی طرح ہوتے ہیں، لیکن سوال میں مذکور روایت کا ثبوت کسی بھی مستند (صحیح یا ضعیف) روایت سے ثابت نہیں، لہذا آپ علیہ السلام کی طرف اس کی نسبت کرنا اور اسکو پھیلانا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں