تنبیہ نمبر 251

حضرت علی کی ایک اور فضیلت

سوال
مندرجہ ذیل پوسٹ پر روافض کی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے، اس لئے ماہرینِ فن سے گذارش ہے کہ اسکی تحقیق بیان کریں…اس پوسٹ کے عربی الفاظ اس طرح ہیں:ﻳﺎ ﻋﻠﻲ! ﻟﻮ ﺃﻥ ﻋﺒﺪﺍ ﻋَﺒَﺪَ ﺍﻟﻠﻪَ ﻣﺜﻞ ﻣﺎ ﻗﺎﻡ ﻧﻮﺡ ﻓﻲ ﻗﻮﻣﻪ ﻭﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﻣﺜﻞ ﺟﺒﻞ ﺃﺣﺪ ﺫﻫﺒﺎ ﻓﺄﻧﻔﻘﻪ ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻞ ﺍﻟﻠﻪ ﻭﻣﺪ ﻓﻲ ﻋﻤﺮﻩ ﺣﺘﻰ ﺣﺞ ﺃﻟﻒ ﻋﺎﻡ ﻋﻠﻰ ﻗﺪﻣﻴﻪ ﺛﻢ ﻗﺘﻞ ﺑﻴﻦ ﺍﻟﺼﻔﺎ ﻭﺍﻟﻤﺮﻭﺓ ﻣﻈﻠﻮﻣﺎ ﺛﻢ ﻟﻢ ﻳﻮﺍﻟﻚ ﻳﺎ ﻋﻠﻲ ﻟﻢ ﻳﺸﻢ ﺭﺍﺋﺤﺔ ﺍﻟﺠﻨﺔ ﻭﻟﻢ ﻳﺪﺧﻠﻬﺎ.
      مندرجہ بالا پوسٹ کی تحقیق مطلوب ہے…
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت شیخ اخطب خوارزم کی کتاب المناقب میں منقول ہے:اے علی! اگر کوئی شخص ہزار سال اللہ تعالی کی عبادت کرے (بعض روایات میں ہے کہ نوح علیہ السلام کی عمر جتنی) اور اس کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کو وہ اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرے اور ایک ہزار سال پیدل حج کرے اور پھر صفا مروہ کے درمیان شہید کردیا جائے لیکن وہ تجھ سے محبت نہ کرے وہ نہ تو جنت میں داخل ہوگا اور نہ ہی جنت کی خوشبو پاسکےگا۔

اس روایت کی اسنادی حیثیت

یہ روایت سند کے لحاظ سے درست نہیں کیونکہ اس روایت کا راوی محمد بن عبداللہ البلوی انتہائی جھوٹا راوی ہے.

محمد بن عبداللہ البلوی :
اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال:

١. امام دارقطنی کہتے ہیں کہ یہ حدیث گھڑتا تھا.

قال الدارقطني: يضع الحديث.

٢. امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں اس کی یہی روایت نقل کرکے لکھا ہے کہ ابن جوزی نے اس روایت کو نقل کرکے اس کو جھوٹ کہا ہے.

قال الامام الذهبي فی میزان الاعتدال (ج:3، ص:597): محمد بن عبدالله بن محمد البلوي.عن عمارة بن زيد بخبر منكر.ذكره ابن الجوزي وكذبه.ومن أباطيله: حدثنا إبراهيم، عن عبيدالله بن العلاء، عن أبيه، عن زيد بن علي، عن أبيه، عن جده، عن علي مرفوعا: يا علي! لو أن عبدا عبد الله ألف عام، وكان له مثل أحد ذهبا فأنفقه في سبيل الله وحج ألف سنة على قدميه، ثم قتل بين الصفا والمروة مظلوما ثم لم يوالك لم يرح رائحة الجنة ولم يدخلها. (رواه أخطب خوارزم).
□ شیخ اخطب خوارزم کی کتاب المناقب:

شیخ اخطب خوارزم کی کتاب المناقب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ایسی روایات منقول ہیں جن پر علماء محدثین کا کلام کافی سخت ہے.

١. علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ خطیب خوارزم کی کتاب المناقب میں ایسی روایات منقول ہیں کہ انکو دیکھ کر علم حدیث کا ادنی علم رکھنے والا شخص بھی جان جائےگا کہ یہ روایات من گھڑت ہیں.

¤ أَخْطَبَ خَوَارِزْمَ هَذَا لَهُ مُصَنَّفٌ فِي هَذَا الْبَابِ فِيهِ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْمَكْذُوبَةِ مَا لَا يَخْفَى كَذِبُهُ عَلَى مَنْ لَهُ أَدْنَى مَعْرِفَةٍ بِالْحَدِيثِ، فَضْلًا عَنْ عُلَمَاءِ الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ هُوَ مِنْ عُلَمَاءِ الْحَدِيثِ وَلَا مِمَّنْ يُرْجَعُ إِلَيْهِ فِي هَذَا الشَّأْنِ الْبَتَّةَ. وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ مِمَّا يَعْلَمُ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ أَنَّهَا مِنَ الْمَكْذُوبَاتِ. (المصدر: منهاج السنة النبوية. (ج:5، ص:41-42)

٢. ایک جگہ لکھتے ہیں کہ فضائل میں ایسی کتابیں جس میں صحیح غلط ہر چیز جمع ہو ایک خطیب خوارزم کی کتاب بھی ہے جس میں بہت ساری من گھڑت روایات موجود ہیں.

¤ وَالْكُتُبِ الَّتِي صَنَّفَهَا فِي الْفَضَائِلِ مَنْ يَجْمَعُ الْغَثَّ وَالسَّمِينَ لَاسِيَّمَا خَطِيبُ خُوَارَزْمَ، فَإِنَّهُ مِنْ أَروَى النَّاسِ لِلْمَكْذُوبَاتِ، وَلَيْسَ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ. (ج:7، ص:355)

٣. امام ذہبی کہتے ہیں کہ ان کی کتاب میں واضح من گھڑت روایات موجود ہیں.

¤ وَقد حَشا تأليفه بالموضوعات الَّتِي يتعجب مِنْهَا الْمُحدث الصادق وَيَقُول: سُبْحَانَكَ هَذَا بهتان عَظِيم. (المنتقى من منهاج الاعتدال، للامام الذهبي، ص:477)
خلاصہ کلام

سوال میں مذکور روایت سند کے لحاظ سے بلکل بھی درست نہیں، لہذا اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
یکم جنوری ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں