تنبیہ نمبر103

کاتب وحی کا مرتد ہوجانا

سوال: ایک صاحب نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص وحی لکھتا تھا پھر بعد میں مرتد ہوکر مرگیا. کیا یہ واقعہ درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

آپ علیہ السلام کی زندگی میں دو افراد ایسے گذرے ہیں جن کو کاتب وحی ہونے کا درجہ ملا لیکن بعد میں وہ مرتد ہوگئے، البتہ ان میں سے ایک شخص دوبارہ مسلمان ہوا اور دوسرا شخص اسی کفر کی حالت میں مرگیا.

ایک شخص کا نام عبداللہ بن سعد بن ابی سرح القرشی العامری ہے اور دوسرے شخص کا نام روایات میں مذکور نہیں، البتہ وہ ایک نصرانی تھا جو مسلمان ہوا تھا.

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا واقعہ:

یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے،  یہ مسلمان ہوئے اور وحی لکھتے تھے،  ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

ولقد خلقنا الإنسان من سلالة من طين

آپ علیہ السلام نے ان کو بلا کر یہ آیت لکھوائی، پھر جب اس آیت پر پہنچے:

ثم أنشأناه خلقا آخر

تو عبداللہ بن سرح بےاختیار کہہ اٹھا:

فتبارك اللہ احسن الخالقین

تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں یہی مکمل آیت نازل ہوئی ہے، اس بات سے عبداللہ کے دل میں شک پیدا ہوا اور دل میں کہنے لگا کہ اگر یہ وحی ہے تو یہ وحی مجھ پر بھی نازل ہوئی ہے اور اگر محمد علیہ السلام جھوٹ بول رہے ہیں تو میں نے بھی ان کی طرح کہہ دیا ہے اور مرتد ہوکر مشرکین کا ساتھی بن گیا.

والمراد عبدالله بن أبي سرح الذي كان يكتب الوحي. وسبب ذلك فيما ذكر المفسرون أنه لما نزلت الآية التي في “سورة المؤمنون”: {ولقد خلقنا الإنسان من سلالة من طين} (المؤمنون:12) دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فأملاها عليه؛ فلما انتهى إلى قوله {ثم أنشأناه خلقا آخر} (المؤمنون: 14) عجب عبدالله في تفصيل خلق الإنسان فقال: {تبارك الله أحسن الخالقين} (المؤمنون: 14). فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وهكذا أنزلت علي، فشك عبدالله حينئذ وقال: لئن كان محمد صادقا لقد أوحي إلي كما أوحي إليه، ولئن كان كاذبا لقد قلت كما قال. فارتد عن الإسلام ولحق بالمشركين، فذلك قوله تعالی: {ومن قال سأنزل مثل ما أنزل الله}. (رواه الكلبي عن ابن عباس).
– وذكره محمد بن إسحاق قال حدثني شرحبيل قال: نزلت في عبد الله بن سعد بن أبي سرح {ومن قال سأنزل مثل ما أنزل الله} ارتد عن الإسلام.

١. آپ علیہ السلام نے فتح مکہ کے موقعے پر جن چار افراد کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ جہاں بھی ملیں انکو قتل کردو ان میں سے ایک عبداللہ بن سرح بھی تھا، لیکن یہ چھپ گئے اور جاکر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے امان لی، وہ ان کو حضور علیہ السلام کی خدمت میں لے کر آئے اور انہوں نے توبہ کی اور پھر بہترین مسلمان بن کر زندگی بسر کی.

الأول:
 فهو عبدالله بن سعد بن أبي سرح، أبويحيى القرشي العامري، أخو عثمان بن عفان من الرضاعة، وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد أهدر دمه، ثم استأمن له عثمان فأمَّنه النبي صلى الله عليه وسلم، وأسلم وحسن إسلامه.
• عَنْ سَعْد بن أبي وقَّاص قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَسَمَّاهُمْ وَابْنُ أَبِي سَرْحٍ، قَالَ: وَأَمَّا ابْنُ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَانَبِيَّ الله!ِ بَايِعْ عَبْدَاللہ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: “أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ؟” فَقَالُوا: مَا نَدْرِي يَارَسُولَ اللهِ مَا فِي نَفْسِكَ، أَلَا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: “إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ”.
[رواه النسائي (4067)، وأبوداود (2683)، وصححه الألباني في “صحيح النسائي”].
– قال عنه الإمام الذهبي رحمه الله: لم يتعدَّ، ولا فعل ما يُنقم عليه بعدها (أي: بعد فتح مكة) وكان أحد عقلاء الرجال وأجوادهم”. (سير أعلام النبلاء 3/34).
ولينظر “الاستيعاب في معرفة الأصحاب” لابن عبدالبر  (3/52)، و”الإصابة في تمييز الصحابة” (4/110).

٢. دوسرا شخص ایک نصرانی تھا، اس کا قصہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے لیکن اس کا نام کہیں لکھا ہوا نہیں ہے، یہ مسلمان ہوا اور وحی لکھتا تھا، پھر مرتد ہوا اور یہ بات مشہور کی کہ میں وحی میں تبدیلی کیا کرتا تھا، اللہ تعالی نے اس سے ایسا انتقام لیا کہ جب یہ مرگیا اور لوگوں نے اس کو دفن کردیا تو دوسرے دن صبح کو اس کی لاش باہر پڑی تھی تو عیسائی کہنے لگے کہ یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ اس کی لاش قبر سے نکال دی ہے، مزید گہری قبر کھود کر دفن کیا لیکن اگلے دن پھر لاش باہر پڑی تھی، کہنے لگے کہ یہ مسلمان اس سے انتقام لے رہے ہیں، پھر اور گہری قبر کھود کر دفن کردیا، لیکن اگلی صبح پھر لاش باہر پڑی تھی تو کہنے لگے کہ یہ انسانی کام نہیں لگتا، اور اس کو چھوڑ دیا.

أما الثاني:
 فهو الرجل الذي كان نصرانيّاً ثم أسلم وارتدَّ على عقبه، وكان يقول: إنه كان يغيِّر ما كان يلقيه عليه النبي صلى الله عليه وسلم من كلام، فأهلكه الله تعالى هلاكاً يكون فيه عبرة لغيره من الشاتمين للرسول صلى الله عليه وسلم والطاعنين في دينه.
• عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه قَالَ: كَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، فَكَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَادَ نَصْرَانِيًّا فَكَانَ يَقُولُ: مَا يَدْرِى مُحَمَّدٌ إِلاَّ مَا كَتَبْتُ لَهُ، فَأَمَاتَهُ اللهُ فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ فَقَالُوا: هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقوهُ، فَحَفَرُوا لَهُ فَأَعْمَقُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ، فَقَالُوا: هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ، فَحَفَرُوا لَهُ وَأَعْمَقُوا لَهُ فِى الأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوا، فَأَصْبَحَ قَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ. [رواه البخاري (3421) ومسلم (2781)].

علامہ ابن تیمیہ رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ رب العزت کا اس شخص کے مرنے کے بعد اس سے انتقام تھا کہ جس نے دین محمدی کو بدنام کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالی نے اس کے مرنے کے بعد خود اسی کو رسوا کردیا.

قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله: فهذا الملعون الذي افترى على النبي صلى الله عليه وسلم أنه ما كان يدري إلا ما كتب له قصمه الله وفضحه بأن أخرجه من القبر بعد أن دفن مراراً، وهذا أمر خارج عن العادة يدل كل أحد على أن هذا كان عقوبة لما قاله وأنه كان كاذباً إذ كان عامَّة الموتى لا يصيبهم مثل هذا، وأن هذا الجرم أعظم من مجرد الارتداد؛ إذ كان عامة المرتدين يموتون ولا يصيبهم مثل هذا، وأن الله منتقم لرسوله صلى الله عليه وسلم ممن طعن عليه وسبَّه، ومظهر لدينه ولكذب الكاذب إذ لم يمكن الناس أن يقيموا عليه الحد. (الصارم المسلول:1/122)
خلاصہ کلام

صحابہ کرام سارے کے سارے پڑھے لکھے نہیں تھے بلکہ ان میں سے اکثر لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، اسلئے اگر کوئی نومسلم لکھنا جانتا تو اس کو وحی لکھنے کی ذمہ داری دی جاتی تھی، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو شخص بھی چاہتا وہ قرآن مجید میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرلیتا (ایسا ہرگز نہیں ہے) بلکہ اس کتاب کی .حفاظت کا وعدہ اللہ تعالی نے خود فرمایا اور یہ کتاب ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ ہے

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

١٤ مارچ ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں