تنبیہ نمبر107

دو گروہ کی اصلاح

سوال: ایک بیان میں سنا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کے دو طبقے اگر درست ہوجائیں تو پوری امت کی اصلاح ہوجائےگی. اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے
الجواب باسمه تعالی

یہ روایت سرسری تلاش کرنے پر دو سندوں سے ملی ہے.

١. پہلی سند:
حديث مرفوع: أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ شُعَيْبٍ مِنْ وَلَدِ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ أَنَسٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السِّجْزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ الأُبُلِّيُّ، ثنا مَحمد بْنُ زِيَادٍ الْمَيْمُونِيُّ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي إِذَا صَلحَا صَلحَ النَّاسُ، وَإِذَا فَسَدَا فَسَدَ النَّاسُ: السُّلْطَانُ، وَالْعُلَمَاءُ”.
٢. دوسری سند:
حديث مرفوع:  ثنا عَبْدُاللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الأَيْلِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الأَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “اثْنَانِ مِنَ النَّاسِ إِذَا صَلحَا صَلحَ النَّاسُ، وَإِذَا فَسَدَا فَسَدَ النَّاسُ: العلماء والامراء.
ان روایات کی اسنادی حیثیت:

ان دونوں سندوں میں محمد بن زیاد المیمونی الیشکری  ہے،  اس راوی کے متعلق محدثین کے اقوال کافی سخت ہیں:

أخرجه أبونعيم في الحلية (4/96)، وابن عبدالبر في (جامع بيان العلم:1/184)
من طريق محمد بن زياد اليشكري عن ميمون بن مهران عن ابن عباس مرفوعاً
وهذا السند موضوع.
محمد بن زياد:
اس کے بارے میں محدثین کے اقوال:

١.  امام احمد رحمه اللہ نے فرمایا کہ یہ جھوٹا راوی ہے،  روایات گھڑتا تھا.

قال أحمد: كذاب أعور يضع الحديث.

٢.  امام ابن معین، دارقطنی اور امام ابوزرعہ نے اس کو جھوٹا قرار دیا ہے.

وقال ابن معين والدارقطني: كذاب.
وكذبه أبوزرعه وغيره.

٣.  یحیی ابن معین فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹا اور بےحیثیت راوی ہے.

قال يحيى بن معين: كذاب، ليس بشيء.

٤.  امام ابن ابی شیبہ نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ بغداد میں باقاعدہ ایک جماعت تھی جو روایات گھڑتی تھی،  ان میں سے ایک محمد بن زیاد المیمونی ہے.

وقال مُحَمَّد بن عثمان بن أبي شيبة: سمعت يحيى بن معين، يقول: كان ببغداد قوم كذابين يضعون الحديث، منهم: مُحَمَّد بن زياد، كان يضع الحديث.

٥.  عمرو بن علي فرماتے ہیں کہ یہ راوی جھوٹا اور متروک ہے.

وقال عمرو بن علي: متروك الحديث؛ كذاب؛ منكر الحديث؛ سمعته يقول: حَدَّثَنَا ميمون بن مهران عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صَلَّى اللهُ عليه وسلم: “زينوا مجالس نسائكم بالمغزل”.

٦.  امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ متروک ناقابل اعتبار راوی ہے.

وقال البخاري: متروك الحديث.

٧.  امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ انتہائی ضعیف راوی ہے.

وقال الترمذي: ضعيف في الحديث جدا.

٨.  امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ راوی متروک اور جھوٹا ہے.

قال النسائي: متروك الحديث.
وقال في موضع آخر: كذاب.

 (ان تمام اقوال کا حوالہ:  تہذیب الکمال للمزی)

خلاصہ کلام

یہ روایت اگرچہ مواعظ کی کتابوں میں مذکور ہے لیکن سند کے لحاظ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے،  لہذا اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں