تنبیہ نمبر113

چہرہ انور سے کمرہ روشن ہونا

سوال: ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا گھر میں سوئی سے کام کررہی تھیں کہ ان کے ہاتھ سے سوئی گر کر کھو گئی اور اندھیرے میں سوئی مل نہیں رہی تھی کہ اچانک آپ علیہ السلام کمرے میں تشریف لائے تو پورا کمرہ منور ہوگیا اور وہ سوئی مل گئی.. اس واقعے کی تحقیق مطلوب ہے.؟
الجواب باسمه تعالی
یہ واقعہ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے:
وإنما رواه ابن عساكر في “تاريخه” (3/310) من طريق مسعدة بن بكر الفرغاني أنبأنا محمد بن أحمد بن أبي عون أنبأنا عمار بن الحسن أنبأنا سلمة بن الفضل بن عبدالله عن محمد بن إسحاق بن يسار عن يزيد بن رومان وصالح بن كيسان عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت: “استعرت من حفصة بنت رواحة إبرة كنت أخيط بها ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسقطت مني الإبرة فطلبتها، فلم أقدر عليها، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتبينت الإبرة من شعاع نور وجهه، فضحكت، فقال: “ياحميراء! لم ضحكت”؟ قلت: كان كيت وكيت، فنادى بأعلى صوته: “ياعائشة! الويل ثم الويل (ثلاثا) لمن حرم النظر إلى هذا الوجه، ما من مؤمن ولا كافر إلا ويشتهي أن ينظر إلى وجهي”.
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

یہ روایت سند کے لحاظ سے درست نہیں کیونکہ اس کا راوی مسعدة بن بکر الفرغانی کو امام ذہبی نے جھوٹا اور من گھڑت روایات بنانے والا راوی قرار دیا ہے.

وهذا حديث منكر باطل.
والمتهم به مسعدة بن بكر.
قال الذهبي: مسعدة بن بكر الفرغانى، عن محمد بن أحمد ابن أبي عون: بخبر كذب. [ميزان الاعتدال (4/98)]، يعني به هذا الحديث.

حافظ ابن حجر نے امام ذہبی کی تصدیق کی اور اس راوی کی اور بھی باطل روایات کا تذکرہ کیا.

وقال الحافظ ابن حجر في “اللسان” (6/22): وجدت له حديثا آخر: قال الدارقطني في غرائب مالك: حدثنا أبوسعيد مسعدة بن بكر بن يوسف الفرغاني قدم حاجا، قال حدثنا الحسن بن سفيان، قال حدثنا أبومصعب عن مالك عن نافع عن ابن عمر رضى الله عنهما رفعه: “مثل المنافق مثل الشاة العائرة…..” الحديث…
قال الدارقطني: هذا باطل بهذا الإسناد.
خلاصہ کلام

سوال میں مذکور واقعہ سند کے لحاظ سے بلکل بھی درست نہیں، لہذا اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا صحیح نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٨ اپریل ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں