تنبیہ نمبر115

جنت کے ٹھکانے کی زیارت

سوال: ایک روایت نقل کی جاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ہزار بار درودشریف پڑھے تو وہ اس وقت تک نہ مرےگا جب تک کہ جنت میں اپنا ٹھکانہ نہ دیکھ لے… اور بعض بیانات میں سنا ہے کہ یہ فضیلت جمعے کے دن ہزار بار درودشریف پڑھنے کی ہے… اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے.؟
الجواب باسمه تعالی

یہ روایت مختلف کتب میں منقول ہے:

•  “من صلى عليَّ ألفَ صلاة لم يمت حتى يبشر بالجنة”.
■ اس روایت کی اسنادی حیثیت:

اس روایت کو علامہ سخاوی نے ابوشیخ الاصبہانی کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس روایت پر منکر ہونے کا حکم لگایا ہے اور یہی قول علامہ ابن حجر سے بھی نقل کیا ہے.

هذا الحديث رواه أبوالشيخ الأصبهاني كما عزاه إليه السخاوي في “القول البديع” (95)، وحكم عليه بالنكارة، ونقل الحكم بنكارته أيضا عن الحافظ ابن حجر.
● جمعے کے دن ہزار بار درودشریف پڑھنا:
• حدیث:  “من صلى علي في يوم الجمعة ألف مرة؛ لم يمت حتى يرى مقعده من الجنة”.

یہ روایت سند کے لحاظ سے بہت کمزور ہے.

اس کی سند میں دو راوی متکلم فیه ہیں:
١. الحكم بن عطية العيشي البصري.

اس راوی کے بارے میں محدثین کی ملی جلی رائے ہے:

١. امام احمد فرماتے ہیں:  لا باس به،البتہ ابوداود نے اس راوی سے منکر روایات نقل کی ہیں.

قال أحمد: لا بأس به إلا أن أباداود روى عنه أحاديث منكرة.

٢.  ابن معین اس کو ثقہ قرار دیتے ہیں.

وقال الدوري وغيره عن ابن معين: ثقة.

٣. امام بخاری اس کا ضعف نقل کرتے ہیں.

وقال البخاري: كان أبو الوليد يضعفه.

٤. امام ترمذی نے اس کا ضعف نقل کیا ہے.

وقال الترمذي: قد تكلم فيه بعضهم.

٥. امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ہے.

وقال النسائي: ليس بالقوي.
وقال مرة:  ضعيف.

٦.  ابن حبان کہتے ہیں کہ ابوولید اس کے بارے میں سخت رائے رکھتے تھے اور “حکم” بعض اوقات اتنے وہم میں پڑتا تھا کہ گویا من گھڑت روایات نقل کررہا ہے.

وقال ابن حبان: كان أبو الوليد شديد الحمل عليه وكان الحكم لا يدري ما يحدث به فربما وهم في الخبر حتى يجیء كأنه موضوع فاستحق الترك.
وقال البزار: لا بأس به.
٢. محمد بن عبدالعزيز بن المبارك الدينوري:

١. اس راوی کو منکر الحدیث کہا گیا.

أكثر عنه أحمد بن مروان في المجالسة له وهو منكر الحديث ضعيف.

٢. ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی روایات منکر ہیں، یہ راوی ثقہ نہیں ہے اور یہ روایات میں مصیبتیں لانے والا ہے.

ذكره ابن عَدِي وذكر له مناكير عن موسى بن إسماعيل ومعاذ بن أسد وطبقتهما وكأنه ليس بثقة يأتي ببلايا.
اس راوی کی بعض من گھڑت روایات:
ومن موضوعاته على قتادة، عَن أَنس رضي الله عنه: كان نقش خاتم النبي صلى الله عليه وسلم “صدق الله”.

امام ابن عدی نے اس کی بعض روایات نقل کی ہیں اور فرمایا کہ یہ باطل ہیں اور اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی منکر روایات موجود ہیں.

وَأورَدَ له ابن عَدِي أحاديث قال في بعضها: باطل بهذا الإسناد ثم قال: وله غير ما ذكرت من المناكير.
اس روایت کی پہلی سند:
 رواه ابن سمعون في “الأمالي” (172/1) عن محمد بن عبدالعزيز الدينوري: أخبرنا قرة بن حبيب القشيري: أخبرنا الحكم بن عطية عن ثابت عن أنس بن مالك مرفوعاً.
• ومن هذا الوجه: أخرجه ابن شاهين في “الترغيب والترهيب” (ق 261/2)؛ وإليه عزاه المنذري (2/281).
اس روایت کی دوسری سند:
لكن رواه الأصبهاني في “ترغيبه” (ص: 234) من طريق محمد بن عبدالله بن محمد بن سنان القزاز البصري: أخبرنا قرة بن حبيب به.
ومحمد بن عبدالله بن محمد؛ لم أعرفه، ولعل الأصل: “…عن محمد بن سنان”؛ فإن محمد بن سنان القزاز البصري معروف، وهو ضعيف.

اس سند میں محمد بن سنان القزاز البصری ضعیف ہیں.

● اس روایت کے بارے میں علامہ سخاوی کا قول:

علامہ سخاوی رحمه اللہ نے القول البدیع میں اس روایت کے تمام طرق اور اسکے نقل کرنے والے تمام اکابرین کا ذکر کیا اور آخر میں فرمایا کہ یہ روایت میرے شیخ علامہ ابن حجر رحمه اللہ کے نزدیک اور میرے نزدیک بھی منکر روایت ہے.

وقال السخاوي في “القول البديع” (ص 95): رواه ابن شاهين في “ترغيبه” وغيره، وابن بشكوال من طريقه، وابن سمعون في “أماليه”؛ وهو عند الديلمي من طريق أبي الشيخ الحافظ، وأخرجه الضياء في “المختارة”. وقال: لا أعرفه من حديث الحكم بن عطية.
قلت (أي السخاوي): وقد رواه غير الحكم، وأخرجه أبوالشيخ من طريق حاتم ابن ميمون عن ثابت؛ ولفظه: “لم يمت حتى يُبَشَّرَ بالجنة”.
وبالجملة فهو حديث منكر، كما قاله شيخنا يعني الحافظ ابن حجر العسقلاني رحمه الله.

علامہ ابن القیم رحمه اللہ کی بھی یہی تحقیق ہے.

وينظر: تحقيق “جلاء الأفهام” لابن القيم (ص:61،64).
■ موت سے پہلے جنت کی خوشخبری کا مطلب:

ایسی روایات جن میں موت کے وقت خوشخبری کا تذکرہ ہے ان روایات پر علمائے مفسرین اور محدثین کے اقوال:

•  حافظ ابن کثیر رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ آیت میں {تتنزل علیهم الملائکة} کا مطلب مجاہد سدی اور دیگر مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ فرشتے مؤمن سے کہیں گے کہ تم آخرت کے بارے میں فکر مت کرو اور دنیا میں جو کچھ چھوڑ کر جارہے ہو اس پر غم مت کرو، ہم تمہارے بعد ان کی خبرگیری کرینگے اور تم کو اس جنت کی خوشخبری ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور اس مردے کو اچھائی کے حصول کی خوشخبری اور مصیبتوں کے خاتمے کی خوشخبری سنائینگے.

جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ فرشتے مردے سے کہیں گے: اے پاک روح! اس پاک جسم سے نکلو اپنے مہربان اور راضی رب کی طرف.

• قال الحافظ ابن كثير رحمه الله: وقوله تعالى: {تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ} قَالَ مُجَاهِدٌ وَالسُّدِّيُّ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَابْنُهُ: يَعْنِي عِنْدَ الْمَوْتِ قَائِلِينَ أَلَّا تَخافُوا.
•  قَالَ مُجَاهِدٌ وَعِكْرِمَةُ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: أَيْ مِمَّا تُقْدِمُونَ عَلَيْهِ مِنْ أَمْرِ الآخرة وَلا تَحْزَنُوا عَلَى مَا خَلَّفْتُمُوهُ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا مِنْ وَلَدٍ وَأَهْلٍ وَمَالٍ أَوْ دَيْنٍ فَإِنَّا نَخْلُفُكُمْ فِيهِ، وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ فَيُبَشِّرُونَهُمْ بذهاب الشر وحصول الخير.
•  وهذا كما جاء في حديث البراء رضي الله عنه قال: أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ لِرُوحِ الْمُؤْمِن: اخْرُجِي أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ؛ اخْرُجِي إِلَى روح وريحان ورب غير غضبان.
■ جمعے کے دن درودشریف کی فضیلت:

جیسے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے بہترین ایام میں سے جمعے کا دن ہے پس اس دن کثرت سے درودشریف پڑھو کیونکہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں.

صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کا جسم اطہر تو بوسیدہ ہوچکا ہوگا پھر بھی آپ پر درودشریف کیسے پیش کیا جاتا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے انبیائےکرام علیہم السلام کے جسموں کو زمین پر حرام کردیا ہے.

إن خير أيامكم يوم الجمعة، فأكثروا من الصلاة علي فيها، فإن صلاتكم معروضة علي، قالوا: يارسول الله! كيف تعرض عليك وقد أرمت؟ (يعني بليت)، قال: إن الله قد حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء”.


خلاصہ کلام

سوال میں مذکور روایت اگرچہ سند کے لحاظ سے درست نہیں ہے البتہ یہ مضمون درست روایات سے ثابت ہے کہ درودشریف کا عام ایام میں پڑھنا باعث خیر وبرکت ہے اور جمعے کے دن تو خصوصی طور پر درودشریف پڑھنے کی ترغیب موجود ہے

لہذا اس فضیلت کے بیان کئے بغیر عمومی طور پر درودشریف کی ترغیب دی جاسکتی ہے

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٩ اپریل ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں