تنبیہ نمبر116

پشتون کی تاریخ اور قیس عبدالرشید

سوال: حضرت محترم مفتی صاحب!
آپ کی تحریر دین اسلام،  واٹس ایپ گروپ پر حضرت خالد بن ولید کی جورجا کے سامنے زھر پینے کے متعلق پڑھی جس سے علم میں اضافہ ہوا…
حضرت!  اس بارے میں مطلع فرمائیں کہ:
ایک روایت کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور جناب قیس بن عبدالرشید کے صاحبزادے کے نکاح کے بعد جو نسل چلی وہ آج کل پٹھان کہلاتے ہیں، کیا یہ بات درست ہے؟
اس کے بارے میں تحقیق مطلوب ہے.؟
(سائل: محمد اکبر آغا)
الجواب باسمه تعالی

واضح رہے کہ اگر کسی شخص یا واقعے کی نسبت آپ علیہ السلام کی ذات کی طرف کی جائے تو اسکا صحیح ہونا بھی ضروری ہے اور اس کیلئے لازم ہے کہ اس واقعے کا ثبوت صحیح سند کے ساتھ مستند کتابوں میں موجود ہو.

● قیس عبدالرشید:

کیا قیس المعروف عبدالرشید ایک خیالی شخص ہے یا حقیقی شخص ہے؟

اس بات پر تاریخ دانوں کے درمیان اختلاف موجود ہے لیکن تاریخ اسلام اور صحیح روایات اس شخص کے صحابی ہونے کے منکر ہیں، کیونکہ نہ اس نام کے کوئی صحابی حضور علیہ السلام کے زمانے میں موجود رہے ہیں اور نہ ہی ان کی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی ثابت ہے.

● قیس عبدالرشید کے متعلق تاریخی روایات:

پٹھانوں کی روایات میں قیس عبدالرشید (عرف پٹھان) کو ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس کی وجہ ان کو پٹھانوں کا مورث اعلیٰ قرار دینا ہے۔ انیسویں صدی تک افغان مؤرخین ان کے حقیقی شخص ہونے پر زور دیتے رہے لیکن اس کے بعد افغان سرکاری مؤرخین اور انگریز مؤرخین قیس کو ایک خیالی موجود قرار دینے لگے.

– بعض روایات کے مطابق قیس عبدالرشید، نبی محمد ﷺ کے ایک پشتون صحابی تھے.

عبدالرشید وہ پہلے پشتون تھے جنہوں نے مدینہ حاضر ہو کر وہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، اسلام قبول کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی.. (بعض روایات میں عصا عطا کرنے کا بھی ذکر ہے).

پشتون اصلا یہودی قبائل سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ساتویں صدی عیسوی میں اسلام قبول کیا.

أكد أحد كبار العلماء المختصين في التاريخ الأفغاني أن قبائل الباشتون في أفغانستان وباكستان والهند تنحدر من أصول يهودية وأنها اعتنقت الإسلام في القرن السابع الميلادي عندما التقى زعيمهم امارول قيس بالنبي محمد في الجزيرة العربية.

حضور علیہ السلام نے قیس کو بتایا کہ تم طالوت بادشاہ کی نسل میں سے ہو اسلئے ملک کا لقب عطا کیا.

وقال أباسين يوسف زئی: اجتمع النبي محمد مع قيس وقال له: أنت تنحدر من نسل الملك طالوت ثم أطلق عليه لقب الملك”.

•  قیس عبدالرشید غور افغانستان میں پیدا ہوا اور حضور علیہ السلام کی خبر پر قوم نے ان کو مدینہ بھیجا جہاں خالد بن ولید نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آپ علیہ السلام نے قیس کا یہودی نام بدل کر عبدالرشید رکھا.

وأوضح يوسفزاي أن “قيس ولد في اقليم غور في أفغانستان الحالية، وما أن سمع بظهور الإسلام، حتى أرسلته قبيلته إلى المدينة المنورة في الجزيرة العربية حيث أصبح مسلما بعد أن قدمه للنبي القائد الشهير خالد بن الوليد”… وأضاف “عند ذاك قال النبي ان قيس اسماً يهودياً فغيره إلى عبدالرشيد” حسب تعبيره.
● قیس عبدالرشید کی خالد بن ولید کی بیٹی سے شادی:

سب سے پہلے اس بات کو مشہور کیا گیا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پشتون تھے اور آپ علیہ السلام نے ان سے پشتو میں بات بھی کی، لیکن جب یہ بات واضح کی گئی کہ خالد بن ولید تو اصلا عرب تھے اور انکا پورا قبیلہ عرب تھا تو یہ کہانی بنائی گئی کہ قیس عبدالرشید کی شادی خالد بن ولید کی بیٹی سے ہوئی تو گویا پٹھان کسی نہ کسی طرح خالد بن ولید کی نسل میں سے ہیں.

● خالد بن ولید کی اولاد کا قندھار جانا:

پشتو تاریخ میں ایک اور نسبت سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے کہ خالد بن ولید کی اولاد میں سے سلیمان بن خالد کی اولاد نے قندھار کو اپنا مستقر بنایا، جب ان میں سے ایک خالد بن عبداللہ کو کابل کا والی بنایا گیا اور پھر معزول کیا گیا لیکن انہوں نے اسی جگہ رہنے کو ترجیح دی اور یوں ان کی نسل وہیں سے آگے چلی اور سلیمان خیل اور بنگش کے نام سے مشہور ہوئی.

إن قصة السليمانيين المخزومين هي إحدى هذه القصص، لقد هاجر هؤلاء الخوالد القرشيين لخراسان وفارس منارة العلم الشرقية واستوطنوا حاضرة العالم قندهار قبل أن يبدأوا قصة العودة المليئة بالتضحيات ليستقروا بمكة حيث ولد جدهم البطل وسيف الله المسلول خالد بن الوليد.
ويشير كتاب حياة الأفغان في الفصل الثالث، القسم الثاني، صفحة 52، وفي معرض حديث الكاتب عن الفتوحات الإسلامية إلى أن أساس هجرة السليمانيين كان في العام 72هـ حين عين أحدهم وهو عبدالله بن خالد واليا لكابل خلفا لعبيدالله بن زياد الذي ولاه عامل خراسان كابل ولكن أهلها ثاروا ضده وسجنوه مما حدى بطلحة بن عبيدالله أن يرسل من يدفع فديه 500000 درهم لفك أسر الوالي ثم قاتل الثوار في كابل وغور وهرات منهيا حملته بتعيين خالد بن عبدالله المخزومي كوال لكابل وهو من ذرية خالد بن الوليد إلا أن عامل خراسان سرعان ما عزله فآثر خالد ألا يعود وأستقر هو عائلته بمدينة زرمات ومنه نسل خوالد أفغانستان ومن ثم البنقش.
● تاریخی حقائق:

تاریخ کی مستند کتابیں ان سب باتوں کا انکار کرتی ہیں اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی نسل کے ختم ہونے کی خبر دیتی ہیں.

وقد انقرض ولد خالد بن الوليد فلم يبق منهم أحد، ورثهم أيوب بن سلمة دارهم بالمدينة. (نسب قريش، ص:328، تهذيب التهذيب، ج:3، ص:130)
وقد أخذ هذا عنه القول ابن أخيه الزبير بن بكار (172ــ 256هـ) فقال: وقد انقرض ولد خالد بن الوليد فلم يبق منهم أحد، وورث أيوب بن سلمة دورهم بالمدينة.
– أسد الغابة (ج:2، ص:66).
– تاريخ دمشق (ج:18، ص: 155).
– تهذيب الكمال (ج:8، ص: 175).
– اللباب في تهذيب الأنساب (ج: 3، ص:266)]
خلاصہ کلام

قیس عبدالرشید نامی کسی صحابی کا وجود یا ان کا حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونا یا خالد بن ولید کی بیٹی سے شادی کرنا کسی بھی صحیح، مستند یا ضعیف روایات سے ثابت نہیں، لہذا پشتون قوم کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہیں یہ سب تاریخی تخمینے اور اٹکل ہیں جن کی حقیقت اللہ رب العزت ہی بہتر جانتے ہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٨ مئی ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں