تنبیہ نمبر148

حضور علیہ السلام سے مکھیوں کی گفتگو

سوال: ایک روایت سنی ہے کہ جلال الدین رومی نے اپنی کتاب مثنوی میں نقل کیا ہے کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کی مکھی سے دریافت فرمایا کہ تو شہد کیسے بناتی ہے؟ تو اس نے عرض کیا یاحبیب اللہ!  ہم چمن میں جاکر ہر قسم کے پھولوں کا رس چوستی ہیں پھر وہ رس اپنے منہ میں لئے ہوئے اپنے چھتوں میں آجاتی ہیں اور وہاں اگل دیتی ہیں، وہی شہد ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ رس تو پھیکا ہوتا ہے تو یہ شہد میٹھا کیسے ہوجاتا ہے؟ مکھی نے عرض کیا کہ ہم راستے میں درودشریف پڑھتے ہوئے آتے ہیں تو اللہ تعالی اس کی برکت سے شہد میں مٹھاس پیدا فرمادیتے ہیں… اس واقعے کی سند درست ہے یا نہیں؟ آپ سے اسکی تحقیق مطلوب ہے…
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعہ کسی بھی مستند (صحیح یا ضعیف) سند سے کہیں بھی منقول نہیں،  البتہ شیعوں کی بعض کتابوں میں یہ واقعہ بلاسند نقل کیا گیا ہے..

علی اکبر نہاوندی نے اپنی کتاب خزینة الجواهر (586) پر نقل کیا ہے کہ:

ایک بار جہاد کے سفر سے واپسی پر صحابہ کرام کے پاس روٹی سے کھانے کیلئے کچھ نہ تھا تو ایک مکھی بھنبھناتی ہوئی آئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ مکھی کہہ رہی ہے کہ ہمارے پاس تازہ شہد ہے لیکن ہم اٹھا کر نہیں لا سکتے، لہذا اے علی! اس مکھی کے پیچھے جاؤ اور شہد لے کر آجاؤ، حضرت علی گئے اور شہد اٹھا کر لے آئے اور صحابہ کرام نے شہد کھا لیا، تھوڑی دیر بعد وہ مکھی دوبارہ آئی اور حضور علیہ السلام سے بات کی تو صحابہ کے دریافت کرنے پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے مکھی سے اس کی غذا پوچھی تو اس نے کہا کہ ہم پہاڑوں کی چوٹیوں سے اور جنگلات سے پھولوں کا رس چوستی ہیں، پھر میں نے پوچھا کہ وہ رس تو پھیکا اور کڑوا بھی ہوتا ہے تو یہ شہد میٹھا کیسے ہوجاتا ہے؟ تو مکھی نے کہا کہ ہماری ملکہ آپ علیہ السلام پر درود و سلام پیش کرتی ہے اور دیگر تمام مکھیاں بھی اسکا ساتھ دیتی ہیں جس سے شہد میں مٹھاس اور شفا پیدا ہوجاتی ہے.

خرج النبي محمد صلى الله عليه وسلم يوما في الطريق للجهاد، وبعد اختيار موقع المعركة قال لأصحابه: كلوا مما تريدون. وما إن بدؤوا في تناول طعامهم حتى قال أحد الصحابة: يارسول الله! ليس هناك شيء نأكله مع الخبز. ثم رأى الصحابي نحلة تحوم محدثة جلبة بالقرب، فسألوا النبي صلى الله عليه وسلم: لماذا تحدث النحلة هذا الصوت؟ فأجاب النبي صلى الله عليه وسلم: إنها تقول: إن رفقاءها من النحل منزعجون، لأن الصحابة لا يجدون ما يأكلونه مع الخبز، وأن لديهم منحل عسل قريب في الكهف، لكنهم لا يستطيعون حمله للصحابة. فأشار النبي صلى الله عليه وسلم: يا علي! اتبع تلك النحلة واجلب لنا العسل. فتبعها علي، وأحضر وعاء من العسل، وبمجرد أن انتهى الصحابة من الأكل، جاءت النحلة وطافت محدثة جلبة مرة أخرى. فسأل أحد الصحابة: يارسول الله! لماذا هذا؟ فأجاب النبي صلى الله عليه وسلم: لقد سألتُ النحلة عن طعامها، فكان جوابها أن طعامها من الأزهار في التلال والغابات، فعدت وسألتها: أيتها النحلة! إن كان طعامك من الأزهار والورود وهو مر، فكيف يتحول إلى عسل حلو؟ قالت: يارسول الله! لأن من بيننا ملكة غنية تصلي وتسلم عليك، وكل النحل الباقي يصلي ويسلم عليك فيتحول الحامض والمذاق الغير حلو والمر من رحيق الأزهار إلى شراب حلو بسبب أجر الله من الدعاء، حتى يتحول هذا الشراب إلى عسل يعالج كل الأمراض عدا الموت.
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

احادیث کی تحقیق کرنے والے ایک مستند ادارے سے اس روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس روایت کو سوائے روافض کی کتابوں کے کسی نے بھی نقل نہیں کیا.

لا أصل لهذا الحديث في كتب السنة والآثار، ولم يذكره أحد من أهل العلم، لا مُقرا ولا آثرا، وإنما تتناقله بعض كتب الرافضة التي ينتشر فيها الكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ككتاب “خزينة الجواهر” (ص:586) لعلي أكبر نهاوندي، وهو كتاب مليء بالخرافات والأقاصيص التي لا سند لها ولا زمام، وإنما يبدو أنها من وضع عوام الشیعة.
خلاصہ کلام

یہ روایت بلاسند اور بےاصل ہے یہاں تک کہ اس کو گھڑنے والا بھی معلوم نہیں،  لہذا اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا ہرگز درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١١ نومبر ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں