تنبیہ نمبر16

جبرائيل علیہ السلام کی چالیس ہزار سال عبادت

سوال: ایک روایت سنی ہے کہ ایک بار جب حضرت جبریل علیہ السلام نے چالیس ہزار سال کی نماز پڑھی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ امت محمدیہ کی فجر کی سنتوں کے اجر سے بھی کم ہے…
برائے مہربانی اس کی تحقیق فرما دیجئے…
الجواب باسمه تعالی

یہ روایت نہ تو کسی مستند کتاب میں موجود ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سند ہے اور نہ ہی اس میں فجر کی دو سنتوں کی فضیلت کا ذکر ہے

روایت کا مکمل متن:

ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یااللہ! میں آپ کی عبادت کرنا چاہتا ہوں، اللہ پاک نے فرمایا کرلو، انہوں نے دو رکعت نماز کی نیّت باندھی اور اس اہتمام کے ساتھ نماز ادا کی کہ چالیس ہزار(٤٠,٠٠٠) سال کے بعد سلام پھیرا، اللہ پاک نے فرمایا: تم نے بہت اچھی نماز پڑھی ہے، لیکن ایک امّت آنے والی ہے جس کی فجر کی دو سنتیں تیری ان دو رکعتوں سے بڑھ جائینگی جو وہ لوگ اپنی فکروں اور سوچوں سمیت ادا کرینگے کیونکہ ان کی نماز میرے حکم سے ہوگی اور تمہاری نماز تمہاری چاہت سے ہے. جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ یااللہ! آپ ان کو ان کی عبادت پر کیا دینگے؟ تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جنت المأوى دونگا، تو جبریل نے اللہ تعالی سے اس جنت کو دیکھنے کی اجازت مانگی تو اللہ تعالی نے اجازت دے دی تو جبریل علیہ السلام نے اپنے سارے پر کھول دیئے (حالانکہ جبریل جب صرف دو پر کھولتے ہیں تو ہر بار پر کھولنے اور بند کرنے پر  تین ہزار سال کا سفر طے کرلیتے ہیں) اور جبریل علیہ السلام تین سو سال اڑتے رہے اور تھک کر سجدے میں گر گئے اور عرض کیا
کہ میں اس جنت کے آدھے یا ایک تہائی تک پہنچ گیا ہوں یا نہیں؟ تو جواب ملا کہ اے جبریل! اگر تجھے دوگنی قوت اور پر دیئے جائیں اور تو ہزاروں سال اڑتا رہے تب بھی امت محمدیہ کو دو رکعت پر دیئے جانے والے اجر کے دسویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتا.

عن النبيﷺ أنه قال: “لما خلق الله تعالى جبرائيل عليه السلام على أحسن صورة وجعل له ستمائة جناح، طول كل جناح ما بين المشرق والمغرب نظر إلى نفسه فقال (أي: جبريل): إلهي! هل خلقت أحسن صورة مني؟ فقال الله تعالى: لا، فقام جبرائيل وصلى ركعتين شكرًا لله تعالى، فقام في كل ركعة عشرين ألف سنة، فلما فرغ من الصلاة قال الله تعالى: ياجبرائيل! عبدتني حق عبادتي ولا يعبدني أحد مثل عبادتك لكن يجيء في آخر الزمان نبي كريم حبيب إليَّ يقال له: محمد، وله أمة ضعيفة مذنبة يصلون ركعتين مع سهو ونقصان في ساعة يسيرة وأفكار كثيرة وذنوب كبيرة، فوعزتي وجلالي إن صلاتهم أحب إليَّ من صلاتك؛ لأن صلاتهم بأمري وأنت صليت بغير أمري، قال جبرائيل: يا رب! ما أعطيتهم في مقابلة عبادتهم؟ فقال الله تعالى: أعطيتهم جنة المأوى. فاستأذن من الله تعالى أن يراها، فأذن الله تعالى له، فأتى جبرائيل وفتح جميع أجنحته ثم طار؛ فكلما فتح جناحين قطع مسيرة ثلاثة آلاف سنة وكلما ضم قطع مثل ذلك، فطار على هذا ثلاثمائة عام فعجز ونزل في ظل شجرة وسجد لله تعالى فقال في سجوده: إلهي! هل بلغت نصفها أو ثلثها أو ربعها؟ فقال الله تعالى: ياجبرائيل! لو طرت ثلاثمائة ألف عام ولو أعطيتك قوة مثل قوتك وأجنحة مثل أجنحتك فطرت مثل ما طرت لا تصل إلى عشر من أعشار ما أعطيته لأمة محمد في مقابلة ركعتين من صلاتهم”.
خلاصہ کلام

یہ روایت کتب احادیث میں کہیں پر بھی موجود نہیں بلکہ یہ من گھڑت اور موضوع روایت ہے،  لہذا اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں