تنبیہ نمبر20

زقوم کا پھل

سوال: ایک جگہ سنا ہے کہ اسٹرابیری جو ہم کھاتے ہیں یہ وہ “زقوم” ہے جو جہنمیوں کی غذا ہوگی، لہذا اسکے کھانے سے منع کیا گیا ہے… برائے کرم اس بارے میں تحقیق مطلوب ہے…
الجواب باسمه تعالی

سب سے پہلے تو جس قدر لغات کی کتابیں موجود تھیں ان سب میں “زقوم” کا معنی اسٹرابیری تلاش کیا گیا اور کروایا گیا لیکن ایسا کوئی معنی میسر نہ آسکا، بلکہ لغات عربی اردو اور انگریزی میں “زقوم” کا معنی یکسر مختلف ملا ہے جس کا اسٹرابیریفراولة سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا

زقوم کے معنی اردو لغات میں:

• ایک قسم کا خاردار پودا .
• ایک درخت جس کا پھل دوزخیوں کو کھانے کو ملےگا .

• تھوہڑ کا پودا جو خاردار، کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے .

• دوزخ کا ایک درخت جس سے دوزخی اپنی خوراک حاصل کریں گے .

• زہریلی اور مہلک غذاناگ پھنیناگ پھَنیہر کڑویہیج دھارایہ پودا ڈنٹھل دار بےبرگ اور
.خاردار ہے

زقوم کے مترادفات:

• تھوہَر

• تھوہڑ

• کیکٹس

زقوم کا معنی عربی لغات میں:
إنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعامُ الأَثيمِ [سورة الدخان] (المعجم: الغني)
• زَقُّوم:  كلّ طعام قاتل.
• شجرة الزَّقُّوم:(النبات) شجرة مرّة كريهة الطعم، ثمرُها طعام أهل النَّار في جهنّم: {إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الأَثِيمِ}. (المعجم: اللغة العربية المعاصر)
زقوم:  شجر كريه جدّا في النار. [سورة الواقعة، آية:٥٢] (المعجم: كلمات القرآن)
زَقُّوم:
١. زقوم: شجرة مرة كريهة الرائحة يأكل أهل النار في جهنم ثمرها.
٢.  زقوم: نبات في البادية زهره كزهر الياسمين.
٣.  زقوم: كل طعام ثقيل.
٤. زقوم: حلوى عملت بالتمر والزبد. (المعجم: الرائد)
.۵ الزَّقُّومَ: شجرة. (المعجم: المعجم الوسيط )
زقم:
–  الأَزهري: الزَّقْمُ الفعل من الزَّقُّوم، والازْدِقامُ كالابتلاع.
–  ابن سيده: ازْدَقَمَ الشيءَ وتَزَقَّمَهُ: ابتلعه.
–   والتَّزَقُّمُ: التَّلَقُّمُ ‏…. المزيد (المعجم: لسان العرب)
زقوم کا معنی انگریزی لغت میں:

زقوم: NOUN (Masculine) Cactus, a prickly plant, infernal tree mentioned in the Qur’an

زقوم کی تصاویر محققین کی نظر میں:

ان تمام لنکس(links) میں اہل لغت وتحقیق نے اپنے طور پر “زقوم” درخت اور اس کے پھل کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی فراولہ/اسٹرابیری کو زقوم کے معنی یا مراد میں داخل نہیں کیا ہے.

فراولہ/اسٹرابیری:

یہ ایک خوشنما اور خوش ذائقہ پھل ہے جو دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں پایا بھی جاتا ہے اور شوق سے کھایا بھی جاتا ہے.

لفظ “فراولة” لاطینی لفظ سے ماخوذ ہے اور اس کا استعمال اٹالین زبان میں بھی ہوتا ہے، البتہ یہ لفظ یونانی زبان سے عربی زبان میں داخل ہوا ہے.

الكلمة أصلها بالايطالية fragola مأخوذة من الكلمة اللاتنيةfrägula من frägum
ولكنها دخلت العربية من اليونانية Φράουλα
فراولہ:
بكسر الواو كما في نقل الأستاذ الفاضل (خزانة الأدب) عن المعجم العربي الحديث وهو كذلك في النطق اليوناني.. والله أعلم بالصواب.
خلاصہ کلام

ہماری تحقیق کے مطابق اسٹرابیری کو زقوم قرار دینا ایک ایسی لغوی غلطی ہے جس میں لغت کے ساتھ ساتھ عرف کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے،  لہذا بہت اطمینان سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ فراولہ/اسٹرابیری کا کھانا بلا کراہت و بلا تردد جائز ہے.

ایک ضروری وضاحت:

اس تحقیق کا مقصد “زقوم” کا تعین نہیں بلکہ صرف اس بات کو واضح کرنا ہے کہ فراولة/اسٹرابیری کو کسی نے بھی اس معنی میں داخل نہیں کیا ہے لہذا زقوم کا معنی اسٹرابیری کرنا لغوی طور پر غلط ہے، باقی زقوم کا اصل معنی یا مراد کیا ہے اور خصوصا جہنمی زقوم کونسا ہے اس کا علم اللہ تعالی کی ذات کو ہے، ان تفاصیل کیلئے تفاسیر کا رخ کیا جائے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں