تنبیہ نمبر 254

*والدین کے گناہوں کی نحوست*

سوال
آج کل یہ بات بہت چل رہی ہے کہ والدین کے گناہوں کی تاثیر اولاد پر ہوتی ہے اور مکافات عمل ہوتا ہے، اس بارے میں ایک روایت نقل کی جاتی ہے کہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب میں کسی سے ناراض ہوتا ہوں تو اس پر لعنت بھیجتا ہوں اور میری لعنت اس کی ساتویں اولاد تک پہنچتی ہے۔ (حوالہ: کتاب الزھد للامام أحمد: 69)
*کیا یہ روایت درست ہے؟*
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت نہ حدیث قدسی ہے اور نہ آپ علیہ السلام کا قول ہے بلکہ مختلف کتب میں وہب بن منبہ رحمه اللہ سے مختلف مضمون کے ساتھ منقول ہے کہ یہ تورات کا کلام ہے یا عزیر علیہ السلام کی وحی ہے.

□ وإنما روي عن وهب بن منبه بألفاظ متقاربة، رواه عنه أحمد في الزهد، وابن أبي شيبة في المصنف، وعبد بن حميد، وابن حاتم، وأبو الشيخ، وأبونعيم. وقد نسبه في بعض الروايات إلى التوراة، وذكر في بعضها أنه مما أوحي إلى عزير.
*١. پہلا مضمون:*

اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جب میری اطاعت کی جاتی ہے تو میں راضی ہوتا ہوں اور جب میں راضی ہوتا ہوں تو برکت دیتا ہوں اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں، اور جب میری نافرمانی کی جاتی ہے تو میں ناراض ہوتا ہوں.

□ حدثنا عبدالله بن محمد ثنا محمد بن يحيى بن سليمان أبوبلال الاشعري ثنا أبوهشام الصنعاني ثنا عبدالصمد قال: سمعت وهب بن منبه يقول: ان الرب تبارك وتعالى قال في بعض ما يعتب به بني اسرائيل: اني اذا أطعت رضيت، واذا رضيت باركت، وليس لبركتي نهاية، واذا عصيت غضبت. (أخرجه بن أبي نعيم في الحلية)
*٢. دوسرا مضمون:*

جب میں ناراض ہوتا ہوں تو لعنت کرتا ہوں اور میری لعنت چار نسلوں تک چلتی ہے.

□ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِالله مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، فِيمَا كَتَبَ إِلَيَّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِالْكَرِيمِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُالصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبًا، يَقُولُ: إِنَّ فِي الأَلْوَاحِ الَّتِي كَتَبَ الله عَزَّوَجَلَّ لِموسى الَّتِي قَالَ الله تَعَالَى: {وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلاً لِكُلِّ شَيْءٍ}، قَالَ لَهُ: يَاموسى! اعْبُدْنِي وَلا تُشْرِكْ مَعِيَ شَيْئًا مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ، وَلا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، فَإِنَّهُمْ خَلْقِي كُلُّهُمْ، فَإِذَا أَشْرَكَ بِي غَضِبْتُ، وَإِذَا غَضِبْتُ لَعَنْتُ، وَإِنَّ لَعْنَتِي تُدْرِكُ الرَّابِعَ مِنَ الْوَلَدِ، وَإِنِّي إِذَا أُطِعْتُ رَضِيتُ، فَإِذَا رَضِيتُ بَارَكْتُ، وَالْبَرَكَةُ مِنِّي تُدْرِكُ الأُمَّةَ بَعْدَ الأُمَّةِ. (تفسير أبي حاتم الرازي)
*٣. تیسرا مضمون:*

میں جب ناراض ہوتا ہوں تو لعنت کرتا ہوں اور میری لعنت سات نسلوں تک چلتی ہے.

□ قال في حلية الأولياء: حدثنا عبدالله بن محمد حدثنا محمد بن يحيى بن سليمان أبوبلال الأشعري حدثنا أبوهشام الصنعاني حدثنا عبدالصمد قال: سمعت وهب بن منبه يقول: إن الرب تبارك وتعالى قال في بعض ما يعتب به بني إسرائيل: إني إذا أطعت رضيت، وإذا رضيت باركت، وليس لبركته نهاية، وإذا عصيت غضبت، وإذا غضبت لعنت، وإن اللعنة تبلغ مني الولد السابع.
*■ ان روایات کی اسنادی حیثیت:*

وہب بن منبہ ان لوگوں میں سے تھے جو انتہائی کثرت سے اسرائیلی روایات کو نقل کرتے تھے

اور اسرائیلیات میں یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر اس کا مضمون ہماری شریعت کے موافق ہوا تو انکو قبول کیا جائےگا اور اگر ہماری شریعت کے موافق نہ ہوا تو قبول نہیں کیا جائےگا.

والدین کے گناہوں کے اثرات اولاد کی طرف منتقل ہونے کی بنیاد علماء نے یہ ذکر کی ہے کہ والدین اولاد کو بھی اسی گناہ کے عادی بنالیں اور وہ گناہوں کا سلسلہ چلتا رہے، باقی بڑے بڑے گناہگاروں کے ہاں نیکوکار اولاد پیدا ہوئی ہے

جیسے عکرمہ بن ابی جہل کبھی مسلمان نہ ہوتے کہ ان کے والد اسلام کے سخت مخالف تھے.

خلاصہ کلام

سوال میں مذکور روایت نہ حدیث قدسی ہے اور نہ کوئی مستند روایت اور اس کا حکم بھی عمومی نہیں بلکہ خاص حالات کے ساتھ خاص ہے لہذا اس کو حدیث کہہ کر بیان کر یا پھیلانا درست نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٤ جنوری ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں