تنبیہ نمبر 262

چہرے کا مساج اور فیشل

سوال
پچھلے دنوں اسلام اخبار میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں جامع الصغیر کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے فیشل کرنے اور کرانے والی عورتوں کو ملعون قرار دیا گیا تھا… تو کیا یہ روایت صحیح ہے؟ اور فیشل کرنا (چاہے گھر میں ہو) یا کرانا جائز نہیں ہے؟ اگر نہیں تو یہ حکم علماء نے کبھی صراحتا کیوں نہیں ذکر کیا اور یہ مسٸلہ معروف کیوں نہیں ہے جیسے بھنویں بنانے اور داغ لگوانے وغیرہ جیسے مسئلے معروف ہیں.. کیونکہ اب تک جتنے لوگوں سے اسکے بارے میں پوچھا سب نے حیرت ظاہر کی اور ہم نے خود بڑے بڑے دیندار گھرانے کی عورتوں کو فیشل کرتے اور کراتے دیکھا ہے… اور اگر جائز ہے تو اس روایت کا کیا جواب ہوگا؟
برائے مہربانی اسکی وضاحت فرما دیجئے…
الجواب باسمه تعالی

اس سوال کے جواب میں چند امور کو دیکھنا ضروری ہے.

١. پہلی بات:

اس باب میں مذکور روایات کی اسنادی حیثیت.

٢. دوسری بات:

ان روایات میں مذکور عمل تقشیر کی صورت.

٣. تیسری بات:
فیشل یا چہرے کے مساج کا حکم.
■ ١. روایات کی اسنادی حیثیت:

اس باب میں چند روایات منقول ہیں:

١. ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے چہرے کی کھال ہٹانے والی اور ہٹوانے والی پر لعنت فرمائی ہے.

□ فالحديث المشار إليه رواه أحمد في مسنده (43/226) عن عائشة، قالت: “كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلعن القاشرة والمقشورة، والواشمة والموتشمة، والواصلة والمتصلة”، وهو حديث صحيح دون قولها: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم “يلعن القاشرة والمقشورة”.

یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، اس میں آمنہ بنت عبداللہ مجہول راوی ہے.

¤ والحديث بتمامه إسناد ضعيف، فيه آمنة بنت عبدالله وهي مجهولة، وأخرجه الطبراني في “الدعاء” (2159) من طريق هشام بن سلمان المجاشعي، عن امرأته غفيلة، وهي مجهولة أيضًا، وأورده الهيثمي في “مجمع الزوائد” (5/169)، وقال: رواه أحمد، وفيه من لم أعرفه من النساء.

٢. دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اے عورتوں! چہرے کی کھال ہٹانے سے اجتناب کرو، کسی نے پوچھا کہ خضاب کا کیا حکم ہے؟ تو فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، لیکن آپ علیہ السلام کو اس کی بو پسند نہیں تھی.

□ روى الإمام أحمد (أيضًا) عن كريمة بنت همام، قالت: سمعتُ عائشة رضي الله عنها تقول: “يامعشر النِّساء! إيَّاكنَّ وقشر الوجه”، فسألتُها عن الخضاب، فقالت: لا بأس بالخضاب، ولكنِّي أكرهه؛ لأنَّ حبيبي صلى الله عليه وسلم كان يَكره ريحَه.
■ ٢. قاشرہ اور مقشورہ کا معنی و مطلب:

١. تقشیر کا معنی لکڑی کی چھال ہٹانا، جیسے انسانی کھال ہٹانا.

□ التقشير في اللغة: يقال: قشر العود قشرًا (من باب ضرَب): أزال قِشره؛ وهو كالجلد من الإنسان.

٢. لسان العرب میں قشر کا معنی کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑنا ہے.

□ وجاء في لسان العرب: القشر: سَحق الشَّيء عن أصله، والقشور: دواء يقشر به الوجه.

٣. اصطلاح میں قشر الوجه کا معنی یہ ہے کہ خاتون اپنے چہرے پر کچھ ایسا لگائے کہ اوپر والی کھال ہٹ جائے اور رنگ نکھر جائے. (یعنی چہرے کی اوپر والی سطح کی کھال)

□ التقشير عند الفقهاء والمحدِّثين: أن تعالِج المرأة وجهَها بطلاء مَخصوص حتى ينسحق أعلى الجلد ويصفو لونه.

٤. ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ قشر سے مراد وہ عمل ہے کہ خواتین چہرے پر کچھ ایسا لگاتی ہیں کہ اوپر والی کھال ہٹتی ہے اور نیچے کی جلد ظاہر ہوتی ہے.

□ قال أبوعبيدة: نراه أراد هذه الغمرة التي يعالج بها النساء وجوههن حتى ينسحق أعلى الجلد ويبدو ما تحته من البشرة وهو شبيه بما جاء في النامصة.

٥. قشر سے مراد اوپر والی جلد کو زائل کرنا ہے، چاہے زعفران سے ہو یا چونے سے یا دودھ اور کھجور ملا کر خاتون کے چہرے اور ہاتھوں پر لیپ لگایا جائے تاکہ جلد نرم ہو اور رنگ نکھر جائے.

□ والحاصل أن قشر الوجه هو إزالة أعلى الجلد، والغُمْرة فسر بالزعفران، أو الجص، أو التمر واللبن يطلى به وجه المرأة ويداها، حتى ترق بشرتها ويصفو لونها.
○ غمرہ کا معنی:

١. غمرہ کا معنی اپنے چہرے پر ورس کی لیپ لگانا.

□ قال أبومنصور الأزهري في تهذيب اللغة: قَالَ الْأَصْمَعِي: الغُمْرَة: الورْس، يُقَال: غمَرَ فلانٌ جاريتَه: إِذا طَلَى وَجههَا بالورْس وَغَيره.

٢. ورس پیلے رنگ کا پودا ہے جو یمن میں اگایا جاتا ہے، رنگ کیلئے.

□ الورس: نبات أصفر، يُزرع باليمن، ويصبغ به.

٣. لیث کہتے ہیں کہ غمرہ ایک لیپ ہے جو دلہن لگاتی ہیں.

□ وَقَالَ اللَّيْث: الغُمْرَةُ: طِلاءٌ يُطلى بِهِ العَرُوس.

٤. ابوسعید کہتے ہیں کہ دودھ اور کھجور کا لیپ بنا کر چہرے اور ہاتھوں پر لگایا جاتا ہے جس سے چہرے پر نکھار آتا ہے.

□ وَقَالَ أَبُوسعيد: هُوَ تمْرٌ ولبَنٌ يُطلى بِهِ وَجه الْمَرْأَة ويداها حَتَّى ترِقّ بشرَتُها.
□ احادیث میں وارد ممانعت کا حکم:

اسکے بارے میں علماء کی دو رائے ہیں:

١. حرام.

٢. مکروہ(ناپسندیدہ).

¤ ١. یہ عمل حرام ہے.

١. بعض علماء نے تقشیر کو حرام کہا ہے کہ چہرے کی کھال ہٹانا تغییر لخلق اللہ ہے اور بعد میں اس کے نقصانات ہوتے ہیں.

□ وقد حرم العلماء قشر الوجه لما فيه من تغيير خلق الله تعالى، ولما يترتب عليه من أضرار يتأذى بها الجلد فيما بعد.

٢. اس میں ایک طرح کا دھوکہ ہوتا ہے.

□ إجراء التقشير دون حاجة معتبرة شرعًا يتضمَّن نوعًا من الغشِّ والتدليس؛ لما فيه من مظهر مخادع.

٣. اس کے نتائج بعد میں کافی خطرناک ظاہر ہوتے ہیں.

□ يرى كثيرٌ من الأطبَّاء أنَّ هذه الجراحة لا تَخلو من الأضرار والمضاعفات، وأنَّ نتائجها غير مضمونة.

٤. جس طرح نمص (بال کو نوچنا) وشم (جسم گوندنا) وصل (بالوں کے ساتھ بال جوڑنا) حرام ہیں اسی طرح تقشیر بھی حرام ہے.

□ أما من ذهب إلى التحريم من السلف أو الخلف فقد احتجوا بالحديث، واحتجوا بالقياس على النمص والوشر والوشم والوصل.

¤ ٢. یہ عمل مکروہ(ناپسندیدہ) ہے.

بعض علماء کہتے ہیں کہ بعض امور دھوکے یا فاجر عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے منع کئے گئے ہیں.

□ ويمكن أن يحمل النَّهي في الحديثين على الكراهة؛ كما حَمَل بعضُ الفقهاء أحاديثَ النَّهي عن النَّمص والوشر والوشم ووصلِ الشَّعر على ما تفعله النِّساء على وجه التدليس أو بقَصد التشبه بالفاجرات.

علامہ سفارینی کہتے ہیں کہ ابن جوزی نے ان تمام اعمال کو احادیث کی بنیاد پر حرام قرار دیا ہے اور یہی قول ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی ہے.

□ قال السفاريني في غذاء الألباب في شرح منظومة الأداب (1/273): قال ابن الجوزي: فظاهر هذه الأحاديث تحريم هذه الأشياء التي قد نهي عنها على كل حال، وقد أخذ بإطلاق ذلك ابن مسعود (على ما روينا).

آگے سفارینی لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اس ممانعت کی وجہ اس عمل کا فاجر عورتوں کے ساتھ مخصوص ہونا ہو کہ یہ ان کی پہچان ہو یا یہ مردوں کو دھوکہ دینے کیلئے کیا جاتا ہو یا اس سے خلقت خداوندی میں تبدیلی آتی ہو کہ اولا تو اچھا لگے اور بعد میں کھال خراب ہو یا تکلیف ہو اور یہ تینوں وجوہات سبب حرمت ہیں.

□ ويحتمل أن يحمل ذلك على أحد ثلاثة أشياء: إما أن يكون ذلك قد كان شعار الفاجرات، فيكنَّ المقصودات به، أو يكون مفعولاً للتدليس على الرجل فهذا لا يجوز، أو يكون يتضمن تغيير خلقة الله تعالى، كالوشم الذي يؤذي اليد ويؤلمها، ولا يكاد يستحسن، وربما أثر القشر في الجلد تحسنا في العاجل، ثم يتأذى به الجلد فيما بعد.
■ ٣. فیشل یا چہرے کے مساج کا حکم:

سفارینی لکھتے ہیں کہ وہ دوائیاں جو چہرے کے میل کو ہٹائیں اور بیوی کا چہرہ شوہر کیلئے خوبصورت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں.

□ قال السفاريني: وأما الأدوية التي تزيل الكلف، وتحسن الوجه للزوج، فلا أرى بها بأساً.
○ ایک دارالافتاء سے کیا گیا سوال و جواب:

سوال: چہرے کے مساج کرانے کے بارے میں کیا حکم ہے یعنی کیا یہ جائز ہے؟

جواب: خود کر لے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر کسی اور سے کروانا ہے تو شرعی حدود و مقاصد کا خیال رکھے یعنی عورت، عورت ہی سے کروائے اور مرد، مرد ہی سے کروائے یا ایسا لڑکا جو نابالغ ہو یا اس کے ڈاڑھی مونچھ نہ آئی ہو تو اسے مردوں سے بھی نہیں کروانا چاہیئے.. وغیرہ ذلك.

خلاصہ کلام

سوال میں مذکور روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے اور اس روایت میں جس عمل سے منع کیا گیا ہے وہ چہرے کی مالش نہیں، بلکہ اپنے چہرے میں (کسی قدیم یا جدید عمل سے) ایسی تبدیلی لانا منع ہے جو کہ یا تو تغییر لخلق اللہ میں داخل ہو یا بےجا تکلیف برداشت کرنا ہو یا خود کو نقصان پہنچانا ہو، جبکہ فیشل یا چہرے سے ظاہری میل کچیل کو ہٹانا یا کسی خاتون سے سر، چہرے وغیرہ کی مالش کروانا اس ممانعت میں ہرگز داخل نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٣ جنوری ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں