تنبیہ نمبر 271

فضائل میں من گھڑت روایات

سوال
ایک روایت کی تحقیق مطلوب ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کسی شخص کو کوئی فضیلت پتہ چلی اور اس نے محض اللہ تعالی کے بھروسے اور ثواب کی امید پر اس فضیلت پر عمل شروع کردیا تو اللہ تعالی اس کو ثواب عطا فرمائینگے اگرچہ وہ فضیلت درست نہ ہو۔
کیا یہ روایت درست ہے؟
(سائل: مولانا اسماعیل بٹگرامی، سعودیہ)
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت مختلف کتب میں منقول ہے، البتہ الفاظ کا تھوڑا بہت اختلاف ہے.

١. پہلی روایت:

ابویعلی، ابن عدی اور طبرانی نے نقل کیا ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی فضیلت کا علم ہوا اور اس نے اس فضیلت کو نہ مانا تو اس کو وہ فضیلت نہیں ملےگی.

□ وأخرج أبويعلى الموصلي في مسنده (3443)، ومن طريقه ابن عدي في الكامل (2/59)، والطبراني في المعجم الأوسط (5129)، من طريق بزيع أبي الخليل عن ثابت عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “من بلغه عن الله فضيلة فلم يصدق بها، لم ينلها”.

بزیغ ابی الخلیل انتہائی کمزور راوی ہے.

◇ وبزيع ضعيف جداً.
٢. دوسری روایت:

ابن عبدالبر نے نقل کیا ہے جس کے الفاظ ہیں کہ جو شخص کسی فضیلت کو سن کر عمل کرنا شروع کردے تو وہ فضیلت اس کو ضرور حاصل ہوگی، اگرچہ بیان کرنے والا جھوٹا ہی کیوں نہ ہو.

□ وأخرجه ابن عبدالبر في جامع بيان العلم وفضله (1/22)، من طريق أبي معمر عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بلفظ: “من بلغه عن الله فضل فأخذ بذلك الفضل الذي بلغه أعطاه الله ما بلغه، وإن كان الذي حدثه كاذباً”.
١. اس سند میں ابومعمر عباد بن عبدالصمد انتہائی کمزور راوی ہے.
◇ قال أبوحاتم: أبومعمر عباد بن عبدالصمد ضعيف جداً.

٢. ابن حبان کہتے ہیں کہ اس نے حضرت انس سے ایک پوری من گھڑت کتاب نقل کی ہے.

◇ وقال ابن حبان في المجروحين: روى عن أنس نسخة أكثرها موضوعة.

٣. امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے.

◇ قال البخاري: منكر الحديث.

٤. عقیلی کہتے ہیں کہ اس کی عام طور پر روایات منکر ہوتی ہیں اور حضرت انس سے ایک پورا نسخہ منکر روایات کا نقل کیا ہے.

◇ وقال العقيلي: أحاديثه مناكير لا يعرف أكثرها إلا به، وروى عَن أَنس نسخة عامتها مناكير.
٣. تیسری روایت:

اس روایت کو حسن بن عرفہ العبدی نے نقل کیا ہے اور ان سے خطیب بغدادی نے اور ابن جوزی نے نقل کیا ہے.

□ أخرجه الحسن بن عرفة العبدي في جزئه (ص: 78/63)، قال: حدثنا أبو يزيد خالد بن حيان الرقي، عن فرات بن سليمان، وعيسى بن كثير، (كليهما) عن أبي رجاء، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة بن عبدالرحمن، عن جابر بن عبدالله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “من بلغه عن الله عزوجل شيء فيه فضل، فأخذه إيماناً به، ورجاء ثوابه، أعطاه الله عزوجل ذلك، وإن لم يكن كذلك”.
ومن طريقه الخطيب في تاريخه (8/296)، وابن الجوزي في الموضوعات (1/258).

١. اس سند میں ابورجاء نامی راوی جھوٹا ہے.

◇ وفي إسناد الحديث أبورجاء، وقد رمي بالكذب.

٢. یحيی بن معین کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے.

◇ قال يحيى بن معين: كذاب.

٣. سخاوی کہتے ہیں کہ خالد اور فرات پر علماء نے کلام کیا ہے اور ابورجاء مجہول راوی ہے.

◇ وقال السخاوي في المقاصد الحسنة (ص:405): خالد وفرات فيهما مقال، وأبورجاء لا يعرف.

٤. ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ روایت درست نہیں.

¤ قال ابن الجوزي: هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
اس روایت کی دوسری سند:

ابوالشیخ نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس سند میں بشر بن عبیداللہ متروک راوی ہے.

□ وأخرجه أبوالشيخ في مكارم الأخلاق كما في المقاصد (ص: 405)، من طريق بشر بن عبيدالله، حدثنا حماد، عن أبي الزبير، عن جابر، مرفوعاً. وبشر متروك.
¤ خلاصہ تحقیق:

اس سب تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت ثابت نہیں کیونکہ اس روایت کی تمام سندیں اور تمام متن انتہائی کمزور ہیں.

اور یہ روایت آپ علیہ السلام کی بیان کردہ صحیح روایات سے متصادم بھی ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے مجھ سے جھوٹی روایت جان بوجھ کر بیان کی تو وہ بھی جھوٹوں میں شامل ہے.

“مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ”. (أخرجه مسلم في مقدمة صحيحه).

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ جب بیان کرنے کی اتنی شدید وعید ہے تو من گھڑت پر عمل کی وعید تو اور بھی سخت ہوگی.

□ ولذلك عقبه الحافظ بقوله: فكيف بمن عمل به؟

ابن حبان کہتے ہیں کہ ہر شخص جو روایت کو نقل کرتے وقت شک میں ہو کہ پتہ نہیں یہ روایت درست ہے بھی یا نہیں وہ بھی اس وعید میں شامل ہے.

□ عن ابن حبان في القاعدة الحادية عشرة. “فكل شاك فيما يروي أنه صحيح أو غيرصحيح، داخل في الخبر”.

□ ابن قتیبہ لکھتے ہیں کہ قصہ گو واعظین من گھڑت اور منکر روایات کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور لوگ بھی ایسے ہی لوگوں کے بیان کو پسند کرتے ہیں جس کی باتیں عجیب اور انوکھی ہوں، عقل سے ماورا باتیں کریں یا ایسی من گھڑت باتیں جو دلوں کو نرم کرے

قال ابن قتيبة (ت: 276هـ) في كتاب «تأويل مختلف الحديث» (ص: 404) وهو يبين إحدى طرق أولائك القصاص، فقال رحمه الله :
«الْقُصَّاصُ عَلَى قَدِيمِ الْأَيَّامِ، فَإِنَّهُمْ يُمِيلُونَ وُجُوهَ العَوَامِّ إِلَيْهِمْ وَيَستَدِرُّونَ مَا عِندَهُم: بِالْمَناكِيرِ، وَالْغَرِيبِ، وَالْأَكَاذِيبِ مِنَ الْأَحَادِيثِ.
وَمِنْ شَأنِ الْعَوَامِّ، القُعودُ عِنْدَ الْقَاصِّ، مَا كانَ حَدِيثُهُ عَجِيبًا، خَارِجًا عَنْ فِطَرِ الْعُقُولِ، أَو كانَ رَقِيقًا يُحزِنُ الْقُلوبَ، وَيَستَغزِرُ الْعُيونَ»اهـ.
خلاصہ کلام

سوال میں مذکور روایت کی تمام سندیں اور تمام متن انتہائی کمزور ہیں جس کی بنیاد پر یہی کہا جائےگا کہ یہ روایت ثابت نہیں.

ایسی روایات کی بنیاد پر امت میں من گھڑت فضائل کو پھیلانا سخت گناہ اور محرومی کا عمل ہے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٣ فروری ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں