تنبیہ نمبر 276

حضرت بلال کی اذان پر مدینے میں کہرام

سوال
ایک واقعہ سے متعلق معلوم کرنا ہے (جسے فضائل أعمال میں بھی ذکر کیا گیا ہے) کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے جب حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ تشریف آوری کے موقعے پر اذان کی فرمائش کی تو لاڈلوں کی فرمائش میں انکار کی گنجائش کہاں… جب اذان شروع کی تو مدینہ میں کہرام مچ گیا…
اس واقعہ کو بہت سے محققین نے من گھڑت اور موضوع قرار دیا ہے.
اس واقعے کی تحقیق مطلوب ہے…
(سائل: خالد خان، تخصص فی الإفتاء، سال سوم.. جامعہ دارالعلوم کراچی).
الجواب باسمه تعالی

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا قصہ مختلف حصوں میں منقسم ہے، کچھ حصے ثابت ہیں اور کچھ حصے ثابت نہیں.

● ١. حضرت بلال کا مدینہ چھوڑ کر جہاد کیلئے شام جانا:

آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد حضرت بلال اذان نہیں دے رہے تھے اور انہوں نے جہاد کیلئے حضرت ابوبکر سے اجازت چاہی لیکن حضرت ابوبکر صدیق نے روکنا چاہا تو حضرت بلال نے عرض کیا کہ اگر مجھے اللہ کی رضا کیلئے آزاد کیا ہے تو مجھے جانے دو، تو ابوبکر صدیق نے ان کو شام جانے کی اجازت دے دی.

□ وساقه الذهبي في سير أعلام النبلاء (1/357-358) من طرق أخرى؛ قال: محمد بن نصر المروزي حدثنا أحمد بن عبدالرحمن القرشي حدثنا الوليد بن مسلم أخبرني سعيد بن عبدالعزيز وابن جابر وغيرهما أن بلالاً لم يؤذن لاحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأراد الجهاد فأراد أبوبكر منعه. فقال: إن كنت أعتقتني لله فخل سبيلي. قال: فكان بالشام.
– قال شعيب الأرناؤوط في تحقيق السير: سنده منقطع وعلي بن زيد ضعيف.
■ اسنادی حیثیت:

اس سند کو اگرچہ ضعیف اور منقطع کہا گیا ہے لیکن تاریخی واقعہ ہونے کی نسبت اتنا ضعف قابل قبول ہے.

● ٢. حضرت بلال کا ملک شام میں صحابہ کے اصرار پر اذان دینا:

حضرت بلال شام میں ہی تھے کہ حضرت عمر شام تشریف لائے اور ساتھیوں کے اصرار پر انہوں نے حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا، جب حضرت بلال نے اذان دی تو آپ علیہ السلام کے زمانے کی اذان سن کر سب لوگ بہت روئے.

□ حتى قدم عمر الجابية فسأل المسلمون عمر أن يسأل لهم بلالا يؤذن لهم فسأله فأذن يوما فلم ير يوماً كان أكثر باكيا من يومئذ ذكرا منهم للنبي صلى الله عليه وسلم. قال الوليد: فنحن نرى أن أذان أهل الشام عن أذانه يومئذ. هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: قدمنا الشام مع عمر فأذن بلال فذكر الناس النبي صلى الله عليه وسلم فلم أر يوما أكثر باكيا منه.
□ أخرجه البخاري في التاريخ الصغير (1/78) وعنه ابن عساكر في تاريخ دمشق وابوداود في الزهد قال: حدثنا يحيى بن بشر ثنا قراد أنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: قدمنا الشام مع عمر؛ فأذَّن بلال؛ فذكَّر الناس النبي صلى الله عليه وسلم؛ فلم أرَ يوماً أشدَّ باكياً منه.
■ اس روایت کی اسنادی حیثیت:

یہ روایت سند كے لحاظ سے قابل قبول ہے.

● ٣. حضرت بلال کا خواب دیکھنا اور مدینے میں اذان:

حضرت بلال نے خواب میں آپ علیہ السلام کی زیارت کی جس میں آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اے بلال! یہ کیا بےوفائی ہے کہ ہمارے پاس آتے ہی نہیں؟ یہ خواب دیکھ کر بلال مدینہ منورہ آئے اور وہاں اذان دی جس سے سب لوگ رونے لگے…الخ

□ ثم إن بلالا رأى النبي صلى الله عليه وسلم في منامه وهو يقول: ما هذه الجفوة يابلال؟ أما آن لك أن تزورني، فانتبه حزينا وركب راحلته وقصد المدينة، فأتى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يبكي عنده، ويمرغ وجهه عليه، فأقبل الحسن والحسين، فجعل يضمهما ويقبلهما فقالا له: يا بلال! نشتهي أن نسمع أذانك ففعل، وعلا السطح ووقف، فلما أن قال: الله أكبر الله أكبر، ارتجت المدينة، فلما أن قال: أشهد أن لا إله إلا الله ازدادت رجتها، فلما قال: أشهد أن محمدا رسول الله خرجت العواتق من خدورهن، وقالوا: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم فما رؤي يوم أكثر باكيا ولا باكية بالمدينة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك اليوم.
■ اس روایت کی اسنادی حیثیت:

اس واقعے کی سند جو ابن عساکر نے نقل کی ہے اس میں دو راوی ہیں

ابراہیم بن محمد بن سلیمان اور سلیمان بن بلال

فإنه عند ابن عساكر كما سبق – من رواية إبراهيم بن محمد بن سليمان عن أبيه سليمان بن بلال وهذا إسناد مظلم فيه مجهولان:
○ سلیمان بن بلال

حافظ ابن عبدالہادی کہتے ہیں کہ یہ راوی غیر معروف اور مجہول الحال ہے

جبکہ شیخ البانی نے ان کو مجہول العین قرار دیا ہے

اس راوی کے حالات امام بخاری ، ابن ابی حاتم، امام ذہبی اور ابن حجر میں سے کسی نے نقل نہیں کی

الأول: سليمان بن بلال قال الحافظ ابن عبد الهادي: (غير معروف بل هو مجهول الحال (كذا الأصل) قليل الرواية لم يشتهر بحمل العلم ونقله ولم يوثقه أحد من الأئمة فيما علمنا ولم يذكر البخاري ترجمته في كتابه وكذلك ابن أبي حاتم ولا يعرف له سماع من أم الدرداء)
قلت: فهو مجهول العين وما في الأصل (مجهول الحال) لعله خطأ مطبعي أو سبق قلم من المؤلف رحمه الله تعالى وتبعا للبخاري وابن أبي حاتم لم يذكره الذهبي في (الميزان) ولا الحافظ في (اللسان)
■ ابراہیم بن محمد بن سلیمان

ابن عبدالہادی کہتے ہیں کہ اس شیخ کی عدالت امانت اور ضبط کا پتہ نہیں، مجہول راوی ہے اور اس سے محمد بن الفیض نے یہ منکر روایت نقل کی ہے (بلال کی آذان والی)

والآخر: إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال قال الحافظ ابن عبد الهادي (شيخ لم يعرف بثقة وأمانة ولا ضبط وعدالة بل هو مجهول غير معروف بالنقل ولا مشهور بالرواية ولم يرو عنه غير محمد بن الفيض روى عنه هذا الأثر المنكر)

■ امام ذہبی نے اس راوی ابراہیم کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا اس کو کوئی نہیں جانتا ، یہ مجہول ہے اس سے محمد بن الفیض الغسانی نے روایت نقل کی ہے

وأورده الذهبي في (الضعفاء) وقال: (لا يعرف) وقال في (الميزان) (فيه جهالة حدث عنه محمد بن الفيض الغساني)
■ ابن حجر نے اس راوی کو اور حضرت بلال کے آذان والے واقعے کو ذکر کرکے فرمایا کہ یہ واقعہ بلکل واضح من گھڑت ہے
وأقره الحافظ ابن حجر في (اللسان) وزاد عليه فقال:
(ترجمه ابن عساكر ثم ساق روايته عن أبيه عن جده عن أم الدرداء عن أبي الدرداء في قصة رحيل بلال إلى الشام وفي قصة مجيئه إلى المدينة وأذانه بها وارتجاج المدينة بالبكاء لأجل ذلك وهي قصة بينة الوضع)

■ شیخ البانی لکھتے ہیں کہ اس واقعے کو حافظ ابن کثیر اور حافظ مزی نے بھی ضعیف قرار دیا ہے

قلت: وقد أشار إلى ضعف هذه القصة كل من الحافظين المزي وابن كثير. أما الأول ففي ترجمة بلال في كتابه (تهذيب الكمال) والآخر في ترجمته من كتابه (البداية) (2 / 102) فهؤلاء خمسة من الحفاظ المشهورين –
– الراوي: أبوالدرداء.
– المحدث: الذهبي.
– المصدر: سير أعلام النبلاء.
– الصفحة أو الرقم: 1/358.
– خلاصة حكم المحدث: إسناده لين، وهو منكر.

¤ علامہ ذہبی کہتے ہیں کہ اس کی سند کافی کمزور ہے اور یہ متن منکر ہے.

¤ محمد بن عبدالہادی کہتے ہیں کہ یہ روایت غریب بھی ہے، منکر بھی ہے، اس کی سند میں مجہول راوی بھی ہیں اور انقطاع بھی ہے.

– الراوي: أبوالدرداء.
– المحدث: محمد ابن عبدالهادي.
– المصدر: الصارم المنكي.
– الصفحة أو الرقم: 382.
– خلاصة حكم المحدث: غريب منكر، وإسناده مجهول وفيه انقطاع.

¤ شیخ البانی نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے.

خلاصہ کلام

ملک شام میں حضرت بلال کے اذان دینے پر لوگوں کے

رونے کا واقعہ تو درست ہے اور غالبا اسی واقعے کو کسی راوی نے بدل کر مدینے کا واقعہ بنا دیا ہے.

بہرحال حضرت بلال کا مدینہ آنا اور اذان دینا اور اہل مدینہ کا رونا یہ سب کسی بھی مستند روایت سے ثابت نہیں، لہذا اس کے بیان سے احتراز کیا جائے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٤ فروری ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں