تنبیہ نمبر 291

 جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتوی اور علمی اشکال

محترم مفتی صاحب!!
عید کی نماز کے متعلق جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فتوے میں لکھا ہے کہ ایک امام اور ایک مقتدی بھی نماز کی صحت کیلئے کافی ہے جبکہ آپ نے فتویٰ دیا تھا کہ کم از کم چار افراد لازم ہیں…
 اس تعارض کی وضاحت مطلوب ہے…

الجواب باسمه تعالی

واضح رہے کہ عید کی نماز کیلئے فقہائے احناف نے وہی شرائط ذکر کی ہیں جو جمعے کی شرائط ہیں سوائے خطبے کے (کہ خطبہ جمعے میں واجب، عید میں مسنون ہوتا ہے)

پس جس طرح جمعے کیلئے امام کے علاوہ تین افراد کا ہونا شرط ہے اسی طرح عید کیلئے بھی شرط ہوگا.

■ مولانا یوسف شبیر احمد البریطانی کے مضمون سے کچھ اقتباسات:

١. عید کی تمام شرائط وہی ہیں جو جمعے کی شرائط ہیں.

٢. علامہ سرخسی رحمة اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

والحاصل أنه يشترط لصلاة العيد ما يشترط لصلاة الجمعة إلا الخطبة فإنها من شرائط الجمعة، وليست من شرائط العيد. (المبسوط: ٢/٣٧).

٣. علامہ سرخسی ارشاد فرماتے ہیں:

ثم المصر كما يشترط لإقامة الجمعة يشترط لإقامة صلاة العيد. (المبسوط: ٢/١٢١)

٤. اسی طرح علامہ علاء الدین سمرقندی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

أما بيان شرائط وجوبها فكل ما هو شرط وجوب الجمعة فهو شرط وجوب صلاة العيدين من الإمام والمصر والجمعة، إلا الخطبة فإنها سنة بعد الصلاة بإجماع الصحابة، وشرط الشيء يكون سابقا عليه أو مقارنا له. (تحفة الفقهاء: ١/١٦٦، وراجع البدائع: ١/٢٧٥)
٥. علامہ ابن نجیم مصری رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:  وفي المجتبى: الأصح أنها سنة مؤكدة، وأفاد أن جميع شرائط الجمعة وجوبا وصحة شرائط للعيد، إلا الخطبة فإنها ليست بشرط. (البحر الرائق: ٢/١٧٠)

٦. علامہ شرنبلالی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

 (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) وقد علمته، فلابد من شرائط الوجوب جميعها وشرائط الصحة، (سوى الخطبة). (مراقي الفلاح، ص: ٢٠٠).

٧. علامہ ابن عابدین شامی رحمة اللہ علیہ نے باب الامامة میں تصریح کی ہے:  کہ صلاۃ الجمعہ کی طرح صلاۃ العید کیلئے بھی امام کے علاوہ تین آدمیوں کا ہونا ضروری ہے، چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:

قوله (وأقلها اثنان) لحديث: اثنان فما فوقهم جماعة، أخرجه السيوطي في الجامع الصغير، ورمز لضعفه. قال في البحر: لأنها مأخوذة من الاجتمع، وهما أقل ما تتحقق به، وهذا في غير جمعة، أي فإن أقلها فيها ثلاثة صالحون للإمامة سوى الإمام، مثلها العيد، لقولهم: يشترط لها ما يشترط للجمعة صحة وأداء سوى الخطبة، فافهم. (رد المحتار:١/٥٥٣)

٨. ان سے قبل علامہ حموی رحمة اللہ علیہ نے بھی شرح اشباہ میں اس کی تصریح کی ہے:

قوله (واشتراط الجمعة لها) أي لصلاة الجمعة، وفيه أن الجمعة كما هي شرط لها شرط لصلاة العيدين. قوله (وكونها) بالجر عطف على الجمعة، أي: واشتراط كون الجمعة ثلاثة سوى الإمام، وفيه أن كونها ثلاثة سوى الإمام ليس شرطا خاصا بالجمعة، بل كذلك صلاة العيدين. (غمز عيون البصائر: ٤/٦٦)

٩. علامہ ابن نجیم رحمة اللہ علیہ نے صلاۃ العید اور صلاۃ الجمعہ کے درمیان جو فرق بیان کئے ہیں  ان میں جماعت کی عدد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، انکا کلام ملاحظہ ہو:

ما افترق فيه الجمعة والعيد: الجمعة فرض والعيد واجب، وقتها وقت الظهر، ووقته بعد طلوع الشمس إلى زوالها. وشرطها الخطبة وكونها قبلها بخلافه فيهم. وأن لا تتعدد في مصر على قول مرجوح بخلافه، ويستحب في عيد الفطر أن يطعم قبل خروجه إلى المصلى بخلافها. (الأشباه والنظائر، ص: ٣٢٣).

 (مولانا یوسف شبیر کا کلام مکمل ہوا)

○ النهر الفائق کی وہ عبارت جس سے اشتباہ ہوا ہے:

 کہ اس کی شرائط میں سے جماعت بھی ہے اور ایک شخص کا امام کے ساتھ موجود ہونا جماعت قرار دیا جائےگا تو یہ کہنا کہ اس کی شرائط جمعے والی شرائط ہیں یہ بات درست کیسے ہوسکتی ہے.

□ نعم بقي أن يقال من شرائطها الجماعة التي هي جمع والواحد هنا مع الإمام جماعة فكيف يصح أن يقال من شروطه شروط الجمعة.

یہ وہ عبارت ہے جس سے اشتباہ  ہوا ہے، اور اسی عبارت کو علامہ طحطاوی اور علامہ ابن عابدین نے ذکر بھی کیا ہے.

● مولانا یوسف شبیر صاحب لکھتے ہیں:

علامہ طحطاوی رحمة اللہ علیہ نے الدر المختار کے حاشیہ میں صاحب النہر کے حوالہ سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دیگر نمازوں کی طرح صلاۃ العید کی جماعت میں دو آدمی کافی ہیں۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:

قوله (بشرائطها)… حتى الإذن العام كما في النهر، وفيه أن من شرائطها الجمعة التي هي جمع، والواحد هنا مع الإمام جماعة، فكيف يصح أن يقال: بشرائطها. (حاشية الطحطاوي على الدر: ١/٣٥١).

اسی کو علامہ ابن عابدین نے نقل کیا ہے:

اعترض ما ذكره المصنف بأن الجمعة من شرائطها الجمعة التي هي جمع والواحد هنا مع الإمام، كما في النهر (رد المحتار ٢/١٦٦).

علامہ ابن عابدین نے یہاں باب العیدین میں اسکو نقل کرنے بعد سکوت اختیار کیا ہے، نہ تو اس پر کچھ کلام کیا اور نہ ہی اس قول کی صراحةً تائيد کی، بظاہر آپکا سکوت تأیید کیلئے قرینہ ہے، لیکن باب الامامۃ کی ذکر کردہ تصریح کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرنا یا حکم لگانا مشکل ہے، بلکہ ذکر کردہ تصریح ہی کی طرف آپ کا میلان معلوم ہوتا ہے.. (واللہ اعلم)

 (انتہی کلام الشیخ)

●  النهر الفائق کی عبارت کا اصل مقصد:

اگر اس عبارت سے کچھ مقدم  عبارت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ دراصل یہ تکبیرات تشریق کی بحث چل رہی ہے اور اسی کی شرائط کا تذکرہ ہے.

○ مکمل عبارت یوں ہے:

وسن بعد فجر عرفة إلى ثمان مرة الله أكبر… الخ، بشرط إقامة، ومصر، ومكتوبة وجماعة مستحبة (قوله:) وجماعة (فلا يكبر المنفرد) مستحبة (فلا يكبر النسوة ولو صلين جماعة في المصر، فلو كبرن كان بدعة. كذا في غاية البيان. وفي جامع قاضي خان: وإذا ثبت اختصاص التكبير بالمصر علم أنه من الشعائر بمنزلة الخطبة، فيشترط له ما يشترط للجمعة، إلا ما سقط اعتباره من السلطان والحرية في الأصح والخطبة. (كذا في المعراج) وعليه جرى الشارح. قال في البحر: وليس بصحيح إذ ليس الوقت والإذن العام من شروطه. وأقول: بل هو الصحيح، إذ من شرائطه الوقت أعني أيام التشريق، حتى لو فاتته الصلاة في أيامه فقضاها في غير أيامه أو في أيامه من القابل لا يكبر، بخلاف ما إذا قضاها في أيامه من تلك السنة حيث يكبر، لأنه لم يفت عن وقته من كل وجه. وإذا لم يشترط السلطان أو نائبه فلا معنى لاشتراط الإذن العام، وكأنهم استغنوا بذكر السلطان عنه، على أنا قدمنا أن الإذن العام لم يذكر في الظاهر. نعم بقي أن يقال: من شرائطها الجمعة التي هي جمع، والواحد هنا مع الإمام جماعة، فكيف يصح أن يقال: إن شروطه الجمعة. وهذا كله قول الإمام، وقالا: هو على كل من يصلي المكتوبة، لأنه تبع له، والفتوى على قولهما في هذا أيضا كما في السراج. (النهر الفائق: ١/٣٧٣).

 ترجمہ:

عرفہ کے دن فجر کے بعد آٹھ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا سنت ہے، بشرطیکہ مقیم ہو، شہر ہو، فرض نماز اور جماعت اس کیلئے مستحب ہے.

قاضی خان میں ہے کہ جب تکبیرات تشریق کی تخصیص شہر کے ساتھ واضح ہوگئی تو گویا یہ بھی خطبے کی طرح شعائر میں سے شمار ہوگا اور اس کیلئے وہی شرائط ہونگی جو جمعے کی شرائط ہوتی ہیں، البتہ سلطان، آزادی اور خطبے کی شرائط کو چھوڑ کر…

 بحر میں لکھا ہے:  کہ وقت اور اذن عام (تکبیرات تشریق کیلئے) شرط نہیں

 شارح لکھتے ہیں:  وقت تو تکبیرات کیلئے شرط ہے کیونکہ تکبیرات صرف ایام تشریق میں ہی پڑھی جاتی ہیں، کیونکہ اگر ان ایام کی نماز کی قضا کرےگا تو پھر اس کے ذمے تکبیرات کی قضا لازم نہیں.

اور بادشاہ اور نائب کا ہونا بھی شرط نہیں تو اذن عام بھی شرط نہیں۔۔۔۔۔۔۔

اب یہ بات رہ گئی کہ تکبیرات کے پڑھنے کی شرائط میں سے جماعت کا ہونا ہے اور ایک آدمی بھی امام کے ساتھ جماعت شمار کیا جائےگا تو یہ کہنا کہ تکبیرات کے پڑھنے کی شرائط جمعے والی شرائط ہیں یہ بات درست نہیں، اور یہ سب اقوال امام ابوحنیفہ رحمه اللہ کے ہیں.. اور صاحبین کا قول ہے کہ تکبیرات ہر اس شخص کے ذمے لازم ہے جو فرض نماز ادا کرے اور اس مسئلے میں فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے.

● مولانا یوسف شبیر لکھتے ہیں:

بندہ نے النهر الفائق کے ایک مخطوطہ کو بھی دیکھا، اس میں بھی دونوں جگہ عبارت اسی طرح ہے جیسے اوپر نقل کی گئی۔ علامہ طحطاوی (متوفی ۱۲۳۱ھ) سے قبل فقہائےکرام کے کلام میں ہمیں کہیں یہ تصریح نہیں ملی کہ صلاۃ العید کیلئے دو آدمی کی جماعت کافی ہے. بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامہ طحطاوی رحمة اللہ علیہ کو صاحب النہر کی طرف نسبت کرنے میں سہو یا غلط فہمی واقع ہوئی ہے.

چنانچہ علامہ محمد السعود المصری کے کلام سے سبب اشتباہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے، نیز دونوں مسئلوں کا الگ ہونا بھی ثابت ہوجاتا ہے، علامہ محمد السعود فرماتے ہیں:

بشرائطها: أي الجمعة سوى الخطبة، وهي المصر والسلطان والجمع والإذن العام. (حموي) وفيه مخالفة لما سيأتي آخر هذا الباب من عدم اشتراط الإذن
العام، وكذا السلطان أو نائبه ليس بشرط أيضا كما سيأتي، ثم ظهر أن ما سيأتي بالنسبة لتكبير التشريق، وما هنا بالنسبة لصلاة العيد، فلا إشكال. (فتح الله
المعين على شرح الكنز لملا مسكين، ١/٣٢٤).

پھر آگے تکبیر تشریق کے مسئلہ میں علامہ محمد السعود صاحب النہر کی مذکورہ عبارت کا حوالہ دے کر اسکو نقل کیا ہے۔

 • جامعہ بنوری ٹاؤن کا عید کی نماز کے متعلق ایک سابقہ فتوے

سوال

  لاک ڈاؤن کے دوران نماز عید گھر پر ادا کرنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

جواب

اللہ تعالیٰ سے خوب تضرع کے ساتھ دعا کرنی چاہیے کہ رمضان المبارک میں ہی یہ حالات بہتر ہوجائیں اور تمام عبادات بشمول عید کی نماز باجماعت کی اجازت مل جائے، تاہم اگر عید کے موقع پر بھی یہی صورتِ حال رہی یعنی عید  کی نماز  مساجد یا عیدگاہ میں ادا کرنے پر پابندی ہوئی تو اس صورت میں لوگوں کو  چاہیے کہ شہر یا بڑی بستی میں مساجد کے علاوہ جہاں چار یا چار سے زیادہ بالغ مرد جمع ہوسکیں اور ان لوگوں کی طرف سے دوسرے لوگوں کی نماز میں شرکت کی ممانعت نہ ہو، عید کی نماز قائم کرنے کی کوشش کریں۔

  شہر، فنائے شہر یا قصبہ میں عید کی نماز میں چوں کہ مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے؛ لہٰذا امام کے علاوہ کم از کم تین مرد مقتدی ہوں تو  بھی عید کی نماز صحیح ہوجائے گی؛ چناں چہ عید کی نماز کا وقت (یعنی اشراق کا وقت) داخل ہوجانے کے بعد امام دو رکعت نماز پڑھا دے اور خطبہ مسنونہ دے،  چاہے گھر میں ہوں یا کسی اور جگہ جمع ہو کر نمازِ عید پڑھ لیں، عربی خطبہ اگر یاد نہ ہو تو  کوئی خطبہ دیکھ کر پڑھے، ورنہ عربی زبان میں حمد و صلاۃ اور قرآنِ پاک کی چند آیات پڑھ کر دونوں خطبے دے دیں۔ (امام کے بیٹھنے کے لیے اگر منبر موجود ہو تو بہتر، ورنہ کرسی پر بیٹھ جائے اور زمین پر کھڑے ہوکر خطبہ دے  دے۔)

اگر شہر یا فنائے شہر یا قصبہ میں چار  بالغ افراد جمع نہ ہوسکیں تو عید کی نماز ادا نہ کریں۔

واضح رہے کہ مذکورہ حکم مجبوری کی حالت کا ہے، ورنہ عید کی نماز میں یہی مطلوب ہے کہ مسلمانوں کا جتنا بڑا اجتماع ہو اور عید گاہ یا جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کی جائے اتنا ہی زیادہ بہتر ہے، نیک لوگوں کا جتنا بڑا مجمع ہوگا اتنا ہی دعا کی قبولیت میں مؤثر ہوگا، رسول اللہ ﷺ نے بھی عید کے اجتماع کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ فرمایا کہ مسلمانوں کی دعا کا موقع ہوتاہے، نیز عید کی نماز کے اس مجمع پر اللہ تعالیٰ بھی فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں۔ لہٰذا صرف مجبوری کی صورت میں عید کی مختصر جماعتیں قائم کرنے کی اجازت ہوگی، حالات بہتر ہونے کے بعد اس فتوے کی بنیاد پر گھر گھر عید کی نماز قائم کرنا درست نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 166):

“(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها”. فقط و الله أعلم

فتوی نمبر : 144109200980

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

خلاصہ کلام

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فتوے میں جس حوالے کی بنیاد پر عید کی جماعت کیلئے ایک امام اور ایک مقتدی کی موجودگی کو کافی قرار دیا گیا ہے، اسی طرح اذن عام کی شرط کے عدم وجوب کی جو بات کی گئی ہے وہ ہمارے علم کے مطابق علمی غلطی ہے جو “النهر الفائق” کی عبارت سے واقع ہوئی ہے اور وہ عبارت عید کے متعلق نہیں بلکہ تکبیرات تشریق کے متعلق ہے.

ہماری رائے میں عید کی نماز کیلئے وہ تمام شرائط لازم ہونگی جو جمعے کیلئے ہوتی ہیں، لہذا عید کی جماعت کیلئے بھی کم از کم چار افراد کا ہونا لازم ہوگا.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٣مئی ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں