تنبیہ نمبر 295

 زبیدہ کا خواب اور نہرِ زبیدہ

سوال
ایک مشہور واقعہ ہے جو مفتی عبدالرؤوف سکھروی صاحب کی کتاب “اصلاحی بیانات” کے حوالے سے پڑھا ہے کہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ نے خواب دیکھا اور ابن سیرین نے اسکی یہ تعبیر دی کہ آپ کچھ بڑا کام کرینگی، پھر انہوں نے حاجیوں کیلئے نہر زبیدہ کھدوائی
کیا یہ واقعہ درست ہے؟

الجواب باسمه تعالی

زبیدہ ہارون الرشید کی بیوی کا خواب ہماری اردو کتب میں مختلف عنوانات سے موجود ہے

 ١. مرد آکر بدکاری کررہے ہیں.
 ٢. تمام مخلوقات چرند پرند تک بدکاری کررہے ہیں.
 ٣. مختلف لوگ سینوں سے دودھ پی رہے ہیں.
ان میں سے پہلا خواب زیادہ مشہور ہے۔

● خواب کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے

خلفیہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ نے ایک خواب دیکھا جو بظاہر اچھا نہ تھا، جبکہ زبیدہ بڑی عابدہ، زاہدہ، نیک اور اللہ والی خاتون تھیں، اس نے دیکھا کہ میں ایک چوراہے پر ہوں اور جو بھی شخص آرہا ہے وہ مجھ سے گناہ کا ارتکاب کرکے جا رہا ہے، ایک عابدہ زاہدہ خاتون کے لئے ایسا خواب نظر آنا بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے، چنانچہ جونہی اس نے یہ خواب دیکھا تو سخت پریشان ہوئی اور اپنی خادمہ کو کہا کہ تم میرا نام لئے بغیر اس خواب کو اپنی طرف منسوب کر کے وقت کے مایہ ناز معبر علامہ ابن سیرینؒ سے اس کی تعبیر پوچھو، زبیدہ نے اپنا نام بتانے سے اس لئے منع کیا کہ نہ معلوم اس قسم کے خواب کی کیا تعبیر ہو جو رسوائی کا سبب بن جائے۔

خادمہ حکم کے مطابق علامہ ابن سیرینؒ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ حضرت! میں نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے، اس کی کیا تعبیر ہے؟ علامہ ابن سیرینؒ نے جب خواب سنا تو فوراً فرمایا کہ یہ تمہارا خواب نہیں ہو سکتا، ایسا خواب ہر کس و ناکس نہیں دیکھ سکتا، یہ تو کسی خوش نصیب شخص کا خواب ہے، پہلے سچ سچ بتا کہ کس کا خواب ہے؟ پھر تعبیر بتاؤں گا. خادمہ نے کہا کہ حضرت! جس کا یہ خواب ہے اس نے نام بتانے سے منع کیا ہے. علامہ ابن سیرینؒ نے فرمایا کہ پہلے اس سے اجازت لو ورنہ میں خواب کی تعبیر نہیں بتاؤں گا

خادمہ زبیدہ کے پاس واپس آئی اور پوری بات نقل کی کہ ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ پہلے جس کا خواب ہے اس کا نام بتاؤ، پھر تعبیر بتاوں گا‘ زبیدہ نے خادمہ سے کہا کہ اچھا جا کر میرا نام بتا دو کہ زبیدہ نے یہ خواب دیکھا ہے، خادمہ دوبارہ علامہ ابن سیرینؒ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ یہ خواب زبیدہ نے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ کوئی عام خواب نہیں، یہ کسی خوش قسمت کا خواب ہی ہو سکتا ہے اور پھر یہ تعبیر دی کہ اللہ تعالیٰ ملکہ کے ہاتھ سے ایسا صدقہ جاریہ قائم فرما دیں گے جس سے رہتی دنیا تک لوگوں کو فائدہ پہنچےگا۔ خادمہ نے زبیدہ کو جا کر جب خواب کی تعبیر بتائی تو زبیدہ نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا کہ بظاہر خواب تو بڑا عجیب تھا لیکن تعبیر بہت اچھی پائی۔

پھر چند سالوں کے بعد ہارون الرشید نے جب حج پر جانے کا ارادہ کیا تو ملکہ زبیدہ بھی ساتھ تھی، آج سے تقریباً بارہ سو سال پہلے ہارون رشید کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں پانی کی بےحد تنگی تھی اور حاجیوں کو پانی کی دستیابی میں خاصی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جب ہارون الرشید اور ملکہ مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ملکہ زبیدہ کے نرم دل ہونے کی وجہ سے ہارون رشید کے بجائے ملکہ زبیدہ سے درخواست کی کہ مکہ مکرمہ میں پانی کی بہت تکلیف ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو یہاں باآسانی پانی ملنے کا کوئی انتظام کر دیں، ملکہ زبیدہ یہ بات سمجھ گئی کہ یہ بہت اہم جگہ ہے جہاں دوسرے ملکوں سے بھی لوگ آتے رہتے ہیں، ان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، لہٰذا ان کی یہ تکلیف کسی بھی طرح دور ہونی چاہیئے۔

زبیدہ نے ہارون الرشید سے پہلے اجازت چاہی جو اس کو جلد ہی مل گئی، اس وقت اسلام اپنے شباب پر تھا، کافر طاقتیں مسلمانوں کے زیر نگیں تھیں، مسلمان دنیا کے اندر غالب تھے اور ان کا ڈنکا بج رہا تھا، اس وقت ہر فن کے بڑے بڑے ماہرین مسلمانوں کے اندر موجود تھے، ملکہ زبیدہ نے پوری سلطنت کے اندر یہ اعلان کروا دیا کہ جہاں جہاں کوئی ماہر انجینئر ہیں وہ سب مکہ مکرمہ آجائیں، اعلان ہوتے ہی تمام بڑے بڑے شہروں کے ماہرین جمع ہو گئے اور ماہرین کی ایک بڑی جماعت وہاں حاضر ہو گئی، ملکہ زبیدہ نے ان سب کو بلا کر یہ کہا کہ مجھے مکہ مکرمہ کے کونے کونے اور گلی گلی میں پانی چاہیئے، کیسے آئےگا اور کہاں سے آئےگا؟ یہ تمہارا کام ہے۔

سارے کے سارے انجینئر سر جوڑ کر بیٹھ گئے، سب نے باہم مشورہ کرکے ایک نقشہ تیار کیا اور مکہ مکرمہ کے چاروں طرف نہر زبیدہ کا جال بچھا دیا، جہاں بھی کسی پہاڑی میں کوئی چشمہ جاری تھا یا نالی کی شکل میں پانی بہتا تھا ان سب کو نہر کے اندر شامل کر لیا گیا، تقریباً چودہ میل لمبی یہ نہر اس انداز سے تیار کی گئی کہ جگہ جگہ ایسے ٹینک بنائے گئے تاکہ اگر کوئی شہر کے باہر ہو تو ڈھکن اٹھا کر ان ذخیروں سے پانی حاصل کر سکے۔

جب نہرِ زبیدہ تیار ہوگئی تو وہ انجینئر جو اس پورے منصوبے کا ذمہ دار تھا اس نے حساب و کتاب کی فائل تیار کر کے بغداد حاضری دی اور ملکہ زبیدہ کے محل میں پہنچا، ملکہ زبیدہ اس وقت دریائے دجلہ کے کنارے تفریح کر رہی تھی، اس نے اطلاع دی کہ مکہ مکرمہ سے نہر زبیدہ کا حساب لے کر انجینئر حاضر ہوا ہے، زبیدہ نے اسی وقت انجینئر کو طلب کر لیا، اس نے فائل پیش کی اور عرض کیا کہ ملکہ صاحبہ! یہ نہر زبیدہ کے منصوبے کی تکمیل کے حساب و کتاب کی فائل ہے، آپ نے جو حکم دیا تھا وہ میں نے پورا کر دیا، مکہ مکرمہ کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں پانی کا وافر انتظام کر دیا گیا ہے، اب مکہ مکرمہ کے رہنے والوں اور حج و عمرہ کے لئے آنے والوں کو (ان شاءاللہ) کسی قسم کی پانی کی تکلیف نہیں ہوگی، یہ حساب آپ کے سامنے ہے، آپ حساب لے لیجئے اور مجھ اجازت دیجئے۔

زبیدہ نے وہ فائل لی، اس پر دستخط کئے اور اس کو درمیان سے چاک کرکے دریائے دجلہ میں ڈال دیا اور وہ مشہور جملہ کہا جو تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے، بولیں: ہم نے آخرت کے حساب کے لئے اس کا حساب چھوڑ دیا اور کہا کہ اگر ہماری طرف کوئی حساب نکلتا ہے تو لے لو، اور اگر ہمارا تمہاری طرف کچھ نکلتا ہے تو ہم نے معاف کیا۔ (اصلاحی بیانات، ص:22 تا 26، مفتی عبدالرؤوف سکھروی صاحب)

 ■ اس خواب کی صحت کی حیثیت:

چونکہ یہ واقعات دور نبوی اور دور صحابہ کرام کے بعد کے ہیں، لہذا سند کے سخت قواعد اس پر لاگو نہیں ہونگے، لیکن اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے، تو یہ خواب والا واقعہ درست معلوم نہیں ہوتا، اسکی وجہ یہ ہے کہ

 ١. یہ خواب والا واقعہ باوجود تلاش کے ہمیں کسی بھی معتبر تاریخی کتب میں نہ مل سکا

ابن سیرین رحمه اللہ کا انتقال 110 ہجری میں ہوا ہے، جبکہ زبیدہ کی پیدائش 149 ہجری میں ہوئی ہے،اور ان کی شادی 165 ہجری میں ہوئی،تاریخی اعتبار سے  زبیدہ کا اپنی خادمہ کو ابن سیرین سے تعبیر لینے کیلئے بھیجنا ممکن نہیں

□ الأميرة أم جعفر زبيدة بنت جعفر بن أبوجعفر المنصور العباسية الهاشمية القرشية (766-831م) (149-216هـ)
 ○ نہرِ زبیدہ کی تعمیر

یہ نہر زبیدہ کی یاد اور ان کی نیکیوں کی یادگار کے طور پر موجود ہے، لیکن اس کے پس منظر میں کسی خواب کا تذکرہ ہمیں نہیں ملتا.

خلاصہ کلام

وال میں مذکور واقعہ اگرچہ مشہور ہے اور مختلف اردو کتب میں اس کو نقل کیا گیا ہے، لیکن کسی بھی مستند تاریخی ماخذ میں اس کا وجود نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٧ اگست ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں