تنبیہ نمبر47

گهوڑے کا گوشت

سوال :گهوڑے کے گوشت کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ حلال ہے یا حرام؟
الجواب باسمه تعالی

ابتدائے اسلام میں گهوڑے، گدهےسب کا گوشت حلال تھا اور صحابہ کرام اس کو استعمال فرماتے  تهے.

غزوہ خیبر کے موقعے پر آپ ﷺنے  “الحمر الاہلیة”  یعنی پالتو گدهےکا گوشت منع فرمایا.

“نَهَى النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يومَ خَيبَرَ عن لُحومِ الحُمُرِ.”
– الراوي: جابر بن عبدالله.
– المحدث: البخاري.
– المصدر: صحيح البخاري.
– الرقم: 5524

لیکن کیا آپ ﷺنے گهوڑے کے گوشت کو بهى منع فرمایا؟تو اس سلسلے میں دو طرح کی روایات وارد ہیں:

ایک میں گهوڑے کے حلال ہونے کا تذکرہ ہے اور دوسری روایات میں گهوڑے کے گوشت کی حرمت کا تذکرہ ہے.

حلت والی روایات:
٢. نهى رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن أن نأكل لحوم الحمر، وأمرنا أن  نأكل لحوم الخيل.
– الراوي: جابر بن عبدالله.
– المحدث: أبوداود.
– المصدر: سنن أبي داود.
– الصفحة أو الرقم: 3808.

یہ دونوں روایات سند کے لحاظ سے صحیح ہیں اور ان میں اسی موقعے پر گهوڑے کے گوشت کی حلت کا بیان ہے.

حرمت والی روایات:
١. نَهى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ عن أَكلِ لحومِ الخيلِ والبغالِ والحميرِ.
– الراوي: خالد بن الوليد.
– المحدث: الإمام أحمد.
– المصدر: العلل المتناهية.
– الصفحة أو الرقم: 2/659.
– خلاصة حكم المحدث: منكر.

اس روایت میں گهوڑے کے گوشت کو گدهےکے گوشت کے ساتھ منع فرمایا گیا.

یہ روایت سند کے لحاظ سے بہت کمزور ہے.

٢. أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ نهى عن لُحُومِ الخَيْلِ والبِغَالِ والحَمِيرِ . وفي روايةِ أبي داودَ قصةٌ، أولُها: غزوْتُ مع رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ خيبرَ.
– الراوي: خالد بن الوليد.
– المحدث: النسائي.
– المصدر: الدراية.
– الصفحة أو الرقم: 2/210.
– خلاصة حكم المحدث: يشبه –إن كان صحيحاً– أن يكون منسوخاً.

اس روایت کو امام نسائی نے منسوخ قرار دیا ہے.

فقہائے کرام کے اقوال:

جمہور فقہائے کرام اور امام صاحبین کے نزدیک گهوڑے کا گوشت حلال ہے.

امام ابوحنیفہ رحمه اللہ کے مختلف اقوال منقول ہیں:

١. مکروہ تحریمی.

٢. مکروہ تنزیہی.

في كراهة لحم الخيل على قول أبي حنيفة روايتان: تنزيه وتحريم، وصحح الثاني.
جمہور کے دلائل صحیح روایات سے:
قال في المبسوط (11/233): وَبِهَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ يَسْتَدِلُّ مَنْ يُرَخِّصُ فِي لَحْمِ الْخَيْلِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِمَنْفَعَةِ الْأَكْلِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى.

امام ابوحنیفه رحمه اللہ کی دلیل:

امام صاحب رحمه اللہ کے اقوال اس باب میں مضطرب ہیں.کہیں سے کراہت تنزیہی کا مطلب نکلتا ہے اور کہیں سے کراہت تحریمی کا. اسی طرح امام صاحب کے قول کے سبب میں بهى اختلاف ہے.بعض علماء اس روایت کو سبب قرار دیتے ہیں اور بعض علماء آلہ جہاد ہونے کو سبب قرار دیتے ہیں. 

وَأَمَّا أَبُوحَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَی فَإِنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ  لَحْمَ الْخَيْلِ، فَظَاهِرُ اللَّفْظِ فِي كِتَابِ الصَّيْدِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْكَرَاهَةَ لِلتَّنْزِيهِ، فَإِنَّهُ قَالَ: رَخَّصَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ فِي لَحْمِ الْخَيْلِ، فَأَمَّا أَنَا لَا يُعْجِبُنِي أَكْلُهُ، وَمَا قَالَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ أَكْرَهُ لَحْمَ الْخَيْلِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَرَاهَةُ التَّحْرِيمِ، فَقَدْ رُوِيَ أَنَّ أَبَايُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى قَالَ لِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إذَا قُلْتُ فِي شَيْءٍ أَكْرَهُهُ فَمَا رَأْيُكَ فِيهِ قَالَ: التَّحْرِيمُ. 
وقال في لسان الحكام (ص: 381(
وحمار الْوَحْش يُؤْكَل بِخِلَاف الأهلي والبغل لَا يؤكل. وَيكرهُ لحم الْخَيل عِنْد أبي حنيفَة رَحمَه الله، وَفِي الْكَرَاهَة رِوَايَتَانِ، وَالأَصَح كَرَاهَة التحریم.

اگر انکے نزدیک ممانعت والی روایت کی وجہ سے کراہت ہے تو وہ روایت محدثین کے نزدیک متفق علیہ روایت کی وجہ سے منسوخ ہے.

وَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلَى تَحْرِيمِهِ، رُوِيَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ.
قَالَ النَّوَوِيُّ: وَاحْتَجَّ أَبُوحَنِيفَةَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى، وَبِحَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ». (رَوَاهُ أَبُوداودِ(
وَعَنِ الْحَدِيثِ بِأَنَّ عُلَمَاءَ الْحَدِيثِ اتَّفَقُوا عَلَى أَنَّهُ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ. قَالَ أَبُودَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ: حَدِيثُ الْإِبَاحَةِ أَصَحُّ، وَيُشْبِهُ إِنْ كَانَ هَذَا صَحِيحًا أَنْ يَكُونَ مَنْسُوخًا، وَاحْتَجَّ الْجُمْهُورُ بِأَحَادِيثِ الْإِبَاحَةِ الَّتِي ذَكَرَهَا مُسْلِمٌ وَغَيْرُهُ، وَهِيَ صَحِيحَةٌ صَرِيحَةٌ، وَلَمْ يَثْبُتْ فِي النَّهْيِ صَحِيحٌ اهـ. وَلَا يَخْفَى أَنَّ مَا نَقَلَهُ عَنْ أَنَّ دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيَّ مُخَالِفٌ لِدَعْوَاهُ مِنِ اتِّفَاقِ الْمُحَدِّثِينَ عَلَى أَنَّهُ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ ضَعِيفًا لَمَا احْتَاجُوا إِلَى الْقَوْلِ بِنَسْخِهِ، مَعَ أَنَّ قَوْلَ النَّسَائِيِّ: “حَدِيثُ الْإِبَاحَةِ أَصَحُّ” صَرِيحٌ.
)مرقاة المفاتيح(

اور اگر وجہ کراہیت آلہ جہاد ہونا تھا تو موجودہ زمانے میں یہ علت تقریبا ناپید ہوچکی ہے. اسی وجہ سے اب فقہ حنفی کے عظیم دارلافتاء بهى گهوڑے کے گوشت کی حلت کے فتوے جاری کررہے ہیں.

دارالعلوم دیوبند کا فتوی

سوال # 68175

۱  .میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا  ہوں کہ گهوڑے کا گوشت اسلام میں حلال ہے یا حرام ہے؟

Published on: Jul 3, 2016

جواب # 68175

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 707-707/B=9/1437

۱ .گهوڑے کا گوشت اسلام میں حلال ہے.صرف اس کے فوجی نظام میں کام میں آنے کی وجہ سے اس کو ذبح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔  

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

جامعہ بنوری ٹاون کا فتوی

سوال :گہوڑا کھانا حلال ہے یا حرام یا مکروہ؟ اور گہوڑی کے دودھ کا کیا حکم ہے، حلال ہے یا حرام ؟

جواب :صورت مسئولہ میں گہوڑا حلال جانور ہے، اس کا گوشت کھانا اور دودھ پینا حلال اور جائز ہے۔ یہاں طبعی ناپسندیدگی کی وجہ سے اس کا گوشت اور دودھ کھانے پینے میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ فقط. واللہ اعلم. دارالافتاء، بنوری ٹاؤن

خلاصہ کلام

گهوڑے کا گوشت حلال اور طیب ہے اور فقہ حنفی میں اس کی ممانعت کی وجہ آلہ جہاد ہونا بیان کیا گیا ہے کہ کھانے میں اسکے استعمال ہوجانے سے جہاد میں کمی واقع نہ ہوجائے.موجودہ دور میں جہاں جہاں اس کا گوشت استعمال ہوتا ہے اسکا کھانا حلال اور بلاکراہت جائز ہے.

زبدہ الفقه:

گهوڑا حلال ہے لیکن جہاد کا جانور ہونے کی وجہ سے امام صاحب نے اس کے گوشت کومکروہ فرمایا ہے۔ زبدۃ الفقه

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
14شوال 1438

اپنا تبصرہ بھیجیں