تنبیہ نمبر59

وطن کی محبت

سوال: گذشتہ کچھ عرصے سے جب بھی یوم آزادی کے مہینے کا آغاز ہوتا ہے تو ایک روایت کثرت سے پھیلائی جاتی ہے :”حب الوطن من الإيمان””وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے”اور  اسکو  باقاعدہ تقریروں  کا  موضوع  بنایا  جاتا ہے.

الجواب باسمه تعالی

روایت کی تحقیق:
١.   حبُّ الوطنِ منَ الإيمانِ.
المحدث: الصغاني.
المصدر: موضوعات الصغاني.
الصفحة أو الرقم: 53
خلاصة حكم المحدث: موضوع
٢.    حبِّ الوطنِ منَ الإيمانِ.
         المحدث: السخاوي.
         المصدر: المقاصد الحسنة.
 الصفحة أو الرقم: 218
 خلاصة حكم المحدث: لم أقف عليه.
٣.   حبُّ الوطنِ من الإيمانِ.
         المحدث: السيوطي.
         المصدر: الدرر المنتثرة.
         الصفحة أو الرقم: 65
         خلاصة حكم المحدث: لم أقف عليه.
٤.   حبُّ الوطنِ مِنَ الإيمانِ.
         المحدث: ملا علي قاري.
         المصدر: الأسرار المرفوعة.
         الصفحة أو الرقم: 189
خلاصة حكم المحدث: قيل لا أصل له أو بأصله موضوع.
  ☆ تمام محدثین نے اس روایت کو موضوع اور بےاصل قرار دیا ہے.

علامہ سخاوی رحمه اللہ نے البتہ اس کے معنی کو صحیح قرار دیا ہے، فرماتے ہیں کہ روایت اگرچہ صحیح نہیں لیکن اسکا معنی درست ہے.

وقال في المقاصد:  لم أقف عليه،  ومعناه صحيح.

علماء کی ایک جماعت نے علامہ سخاوی رحمه اللہ کے اس قول کو قبول نہیں کیا بلکہ ایمان اور وطن کی محبت کے درمیان تعلق سے انکار کیا ہے.

ورد القاري قوله:(ومعناه صحيح) بأنه عجيب، قال: إذ لا تلازم بين حب الوطن وبين الإيمان.
وطن کی محبت کے متعلق روایات:

اس موضوع پر جتنی روایات صراحت کے ساتھ موجود ہیں وہ تمام روایات سند کے لحاظ سے درست نہیں، البتہ مختلف روایات سے علماء نے وطن کی محبت کا نتیجہ اخذ کیا ہے:

١.     ما أطيبَكِ مِن بلدةٍ وأحَبَّك إليَّ، ولولا أنَّ قومي أخرَجوني منكِ ما سكَنْتُ غيرَكِ.
         الراوي: عبدالله بن عباس.
 المحدث: ابن حبان.
المصدر: صحيح ابن حبان.
الصفحة أو الرقم: 3709
أخرجه في صحيحه.

ہجرت کے موقعے پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ!  تو کتنا  پاکیزہ  اور  میرا  محبوب شہر ہے،  اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا.

٢.   اللَّهمَّ حبِّبْ إلينا المدينةَ كما حبَّبْتَ إلينا مكَّةَ وأشَد. اللَّهمَّ بارِكْ لنا في صاعِها ومُدِّها     وانقُلْ وباءَها إلى مَهْيَعةَ. (وهي الجُحفةُ)
 الراوي: عائشة.
         المحدث: ابن حبان.
المصدر: صحيح ابن حبان.
 الصفحة أو الرقم: 5600
         خلاصة حكم المحدث: أخرجه في صحيحه.

ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینے کیلئے دعا فرمائی کہ اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرمادے.

٣.     قال الإمام البخاري رحمه الله تعالى في صحيحه:
“كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ المَدِينَةِ، أَوْضَعَ نَاقَتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا”.
قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ: زَادَ الحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ: حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا.

امام بخاری رحمه اللہ نے روایت نقل کی ہے کہ آپ علیہ السلام جب سفر سے واپسی پر مدینہ تشریف لاتے تو مدینے کے راستے  یا مکانات نظر آتے ہی آپ علیہ السلام اپنی سواری کو مدینے کی محبت میں تیز کردیتے.

وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله تعالى في الفتح:
“فيه دلالة على فضل المدينة، وعلى مشروعية حب الوطن، والحنين إليه.”

حافظ ابن حجر رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مدینے کی فضیلت کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت اور اس کی طرف شوق کا بھی پتہ چلتا ہے.

وقال الإمام ابن بطال المالكي رحمه الله تعالى في شرحه على صحيح البخاري:
قوله: (من حبها) يعنى لأنها وطنه، وفيها أهله وولده الذين هم أحب الناس إليه، وقد جبل الله النفوس على حب الأوطان والحنين إليها، وفعل ذلك عليه السلام، وفيه أكرم الأسوة، وأمر أمته سرعة الرجوع إلى أهلهم عند انقضاء أسفاره.

•  ابن بطال رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ جہاں انسان کے گھر والے ہوتے ہیں اس وطن سے قدرتی طور پر محبت کا ہونا اور وہاں لوٹ کر آنے پر خوش ہونا فطری عمل ہے، اور اسی کی آپ علیہ السلام نے امت کو تعلیم دی ہے.

٤.   فقال له ورقة هذا الناموس الذي نزله الله به على موسى يا ليتني فيها جذع ليتني أكون حيا إذ يخرجك قومك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أو مخرجي هم؟” قال: نعم، لم يأت رجل قط بمثل ما جئت به إلا عودي وإن يدركني يومك أنصرك نصرا مؤزرا. (صحيح البخاري،  جزء: 1  صفحة:  4)
قال السهيلي: يؤخذ منه شدة مفارقة الوطن على النفس فإنه صلى الله عليه وسلم سمع قول ورقة أنهم يؤذونه ويكذبونه فلم يظهر منه انزعاج لذلك، فلما ذكر له الإخراج تحركت نفسه لذلك لحب الوطن والفته، فقال: “أو مخرجي هم؟”
(فتح الباري لابن حجر، جزء 12، صفحة: 359)
جب آپ علیہ السلام حضرت خدیجہ رضی اللہ عنها کے ساتھ ورقہ بن نوفل کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ آپ کی قوم آپ کو جھٹلائےگی اور آپ کو اذیت دےگی اور آپ علیہ السلام کو اس شہر سے نکالےگی، تو آپ علیہ السلام نے ان تمام باتوں میں سے وطن کے نکالنے پر ردعمل کا اظہار فرمایا کہ باقی تکالیف سہہ لی جاتی ہیں لیکن وطن کی جدائی سہنا مشکل ہے.
خلاصہ کلام


جیسا کہ پہلے کہا جاچکا کہ اس باب کی روایات درست نہیں اور بقیہ روایات کی تشریح میں بھی علماء کے اقوال مختلف ہیں. البتہ وطن کی محبت ایک فطری بات ہے اور انسان کا اپنے وطن کے ساتھ وفادار رہنا انسانیت کا اعلی مقام ہے. لیکن وطن کی محبت فقط کسی خاص دن کسی مخصوص حلیے میں آنے کا نام نہیں ہے، بلکہ وطن کی محبت اس وطن کے ہر ذرے سے محبت کا نام ہے. اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے وطن میں اسلامی احکامات کو زندہ کرنے کی محنت کا نام ہے، اپنے گھر کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ وطن کو ہر قسم کی گندگی اور برائی سے پاک کرنے کا نام ہے، ہر قانون جو اللہ رب العزت کے قانون سے نہ ٹکرائے اس قانون کی پاسداری کا نام وطن کی محبت ہے .اور مسلمان کیلئے پورا عالم اسلام ایک وطن اور ایک جان کی طرح ہے، لہذا پورے عالم اسلام کی حفاظت کیلئے دعا کرنے کا نام وطن کی محبت ہے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں