تنبیہ نمبر68

عاشوراء کی فضیلت

محرم الحرام سال کا پہلا مہینہ ہے اس سے ہجری سال کی ابتدا ہوتی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کی فضیلت بیان فرمائی اور اس کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ترغیب فرمائی.
حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ افضل ترین روزے رمضان کے بعد محرم کے ہیں اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے
الجواب باسمه تعالی
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله: ( أفضلُ الصيام بعد رمضان شهرُ الله المحرم ، وأفضلُ الصلاة بعد الفريضة صلاةُ الليل ) وفي رواية: ( الصلاة في جوف الليل ) أخرجه مسلم .

لیکن شوم قسمت کہ دیگر چیزوں کی طرح اس مہینے اور عاشورا کے متعلق بھی اس قدر کمزور اور من گھڑت باتیں عام کی گئ کہ اب صحیح بات اور غلط بات میں تمیز مشکل تر ہوتی جارہی ہے

عاشورا کے متعلق مشہور روایات

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل پر دس محرم کا روزہ فرض کیا تم لوگ بھی یہ روزہ رکھو اور اپنے اہل وعیال پر رزق میں فراخی کرو کیونکہ جو شخص اس میں فراخی کرے گا سارا سال اس پر فراخی کی جائیگی

1) اس دن آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئ. 2) اسی دن ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا. 3) اسی دن ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات ملی. 4) اسی دن نوح علیہ السلام کی کشتی کو نجات ملی 5) اسی دن موسی علیہ السلام پر وحی آئی 6) اسی دن اسماعیل علیہ السلام کی قربانی قبول ہوئ 7) اسی دن یوسف علیہ السلام کو جیل سے نجات ملی 8) اسی دن یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی بینآئیی واپس آئی 9) اسی دن یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی 10) اسی دن ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا ملی 11) اسی دن موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر سمندر کو پار کیا 12) یہ دن حضور علیہ السلام کو اگلے پچھلے سارے گناہوں کی معافی ملی 13) اس دن کا روزہ 40 سال کے گناہوں کا کفارہ ہے 14) اللہ تعالی نے مخلوقات میں سے سب سے پہلے اس عاشورہ کا دن بنایا 15) سب سے پہلی بارش اسی دن ہوئی 16) سب سے پہلی رحمت اس دن نازل ہوئی 17) جس نے عاشورا کا روزہ رکھا گویا پورے سال کا روزہ رکھا 18) جس نے اس رات عبادت کی گویا اس نے تمام مخلوقات کے بقدر عبادت کی

عاشورا کے بعض أعمال کے فضائل

1. چار رکعت نماز فاتحہ کے بعد پچاس مرتبہ قل ہو للہ احد پڑھے تو اللہ تعالی گذشتہ پچاس سال اور آئندہ پچاس سالوں کے گناہ معاف فرمادے

2. جس نے اس دن کسی کو کچھ پلایا تو گویا اس نے لمحہ بھر رب کی نافرمانی نہیں کی

3. اگر کسی نےعاشورا کے دن کسی غریب گھرانے کو کھلایا وہ پل صراط پر روشنی کی چمک کی طرح گزرے گا.

عاشورا کے بعض خاص اعمال

1. جو عاشورا کے دن غسل کرے گا اس کو مرض الموت کے سوا کوئی مرض لاحق نہ ہوگا 2. جو عاشورا کو سرمہ لگائے گا اس کی آنکھیں کھبی خراب نہ ہونگی 3. جس نے اس دن کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا گویا تمام یتیموں کے ساتھ بھلائی کی 4. جس نے عاشورا کا روزہ رکھا اس کیلئے ایک ہزار حج ایک ہزار عمرے اور ایک ہزار شہیدوں کا لکھا جائیگا

اس دن کے خاص دیگر واقعات:

• عاشورا کے دن ساتوں آسمان ساتوں زمینیں پہاڑ سمندر پیدا کئے گئے • اسی دن عرش بنایا گیا • اسی دن جبرائیل کی پیدائش ہوئی • اسی دن عیسی علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھایا گیا • اسی دن سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت دی گئی • اور قیامت بھی اسی دن قائم کی جائیگی

عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إن الله عز وجل افترض على بنى إسرائيل صوم يوم في السنة يوم عاشوراء وهو اليوم العاشر من المحرم، فصوموه ووسعوا على أهليكم فيه، فإنه من وسع على أهله من ماله يوم عاشوراء وسع عليه سائر سنته، فصوموه فإنه اليوم الذى تاب الله فيه على آدم، وهو اليوم الذى رفع الله فيه إدريس مكانا عليا، وهو اليوم الذى نجى فيه إبراهيم من النار، وهو اليوم الذى أخرج فيه نوحا من السفينة، وهو اليوم الذى أنزل الله فيه التوراة على موسى، وفيه فدى الله إسماعيل من الذبح، وهو اليوم الذى أخرج الله يوسف من السجن، وهو اليوم الذى رد الله على يعقوب بصره، وهو اليوم الذى كشف الله فيه عن أيوب البلاء، وهو اليوم الذى أخرج الله فيه يونس من بطن الحوت، وهو اليوم الذى فلق الله فيه البحر لبنى إسرائيل، وهو اليوم الذى غفر الله لمحمد ذنبه ما تقدم وما تأخر، وفى هذا اليوم عبر موسى البحر، وفى هذا اليوم أنزل الله تعالى التوبة على قوم يونس، فمن صام هذا اليوم كانت له كفارة أربعين سنة، وأول يوم خلق الله من الدنيا يوم عاشوراء، وأول مطر نزل من السماء يوم عاشوراء،
وأول رحمة نزلت يوم عاشوراء، فمن صام يوم عاشوراء فكأنما صام الدهر كله، وهو صوم الانبياء، ومن أحيا ليلة عاشوراء فكأنما عبدالله تعالى مثل عبادة أهل السموات السبع، ومن صلى أربع ركعات يقرأ في كل ركعة الحمد مرة وخمسين مرة قل هو الله أحد غفر الله خمسين عاما ماض وخمسين عاما مستقبل وبنى له في الملا الاعلى ألف ألف منبر من نور، ومن سقى شربة من ماء فكأنما لم يعص الله طرفة عين، ومن أشبع أهل بيت مساكين يوم عاشوراء، مر على الصراط كالبرق الخاطف.
ومن تصدق بصدقة يوم عاشوراء فكأنما لم يرد سائلا قط، ومن اغتسل يوم عاشوراء لم يمرض مرضا إلا مرض الموت، ومن اكتحل يوم عاشوراء لم ترمد عينيه تلك السنة كلها، ومن أمر يده على رأس يتيم فكأنما بر يتامى ولد آدم كلهم، ومن صام يوم عاشوراء أعطى ثواب عشرة ألف ملك، ومن صام يوم عاشوراء أعطى ثواب ألف حاج ومعتمر، ومن صام يوم عاشوراء أعطى ثواب ألف شهيد، ومن صام يوم عاشوراء كتب له أجر سبع سموات وفين خلق الله السموات و الارضين والجبال والبحار، وخلق العرش يوم عاشوراء، وخلق القلم يوم عاشوراء، وخلق اللوج يوم عاشوراء، وخلق جبريل يوم عاشوراء، ورفع عيسى يوم عاشوراء، وأعطى سليمان الملك يوم عاشوراء، ويوم القيامة يوم عاشوراء، ومن عاد مريضا يوم عاشوراء فكأنما عاد مرضى ولد آدم كلهم “.
اس روایت کا درجہ:

علامہ ابن جوزی نے اس روایت کو اپنی کتاب موضوعات میں ذکر کرکے فرمایا کہ یہ روایت من گھڑت ہے

رواه بن الجوزي في كتاب الموضوعات و قال عقب إيراده له :هذا حديث لا يشك عاقل في وضعه ولقد أبدع من وضعه وكشف القناع ولم
يستحيى وأتى فيه المستحيل وهو قوله: وأول يوم خلق الله يوم عاشوراء، وهذا تغفيل من واضعه لانه إنما يسمى يوم عاشوراء إذا سبقه تسعة. انتهى
اس روایت کے ہم معنی روایات:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مضمون کے قریب کی روایت منقول ہے

06 – عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من صام يوم عاشوراء كتب الله له عبادة ستين سنة بصيامها وقيامها، ومن صام يوم عاشوراء أعطى ثواب عشرة آلاف ملك، ومن صام يوم عاشوراء أعطى ثواب ألف حاج ومعتمر، ومن صام يوم عاشوراء أعطى ثواب عشرة آلاف شهيد، ومن صام يوم عاشوراء كتب الله له أجر سبع سموات، ومن أفطر عنده مؤمن في يوم عاشوراء فكأنما أفطر عنده جميع أمة محمد، ومن أشبع جائعا في يوم عاشوراء فكأنما أطعم جميع فقراء أمة محمد صلى الله عليه وسلم وأشبع بطونهم ومن مسح على رأس يتيم رفعت له بكل شعرة على رأسه في الجنة درجة، قال فقال عمر يا رسول الله لقد فضلنا الله عزوجل بيوم عاشوراء ؟ قال: نعم خلق الله عز وجل يوم عاشوراء والارض كمثله، وخلق الجبال يوم عاشوراء والنجوم كمثله وخلق القلم يوم عاشوراء واللوح كمثله، وخلق جبريل يوم عاشوراء وملائكته يوم عاشوراء، وخلق آدم يوم عاشوراء وولد إبراهيم يوم عاشوراء، ونجاه الله من النار يوم عاشوراء، وفداه الله يوم عاشوراء، وغرق فرعون يوم عاشوراء ورفع إدريس يوم عاشوراء، وولد في يوم عاشوراء، وتاب الله على آدم في يوم عاشوراء، وغفر ذنب داود في يوم عاشوراء، وأعطى الله الملك لسليمان يوم عاشوراء، وولد النبي صلى الله عليه وسلم في يوم عاشوراء، واستوى الرب عز وجل على العرش يوم عاشوراء، ويوم القيامة يوم عاشوراء “.
اس روایت کا حکم:

اس روایت پر بھی وضع کا حکم لگا ہے

هذا الحديث موضوع
ففي إسناده حبيب بن أبى حبيب و هو معروف بالكذب بل قال فيه الإمام أحمد رحمه الله :كان حبيب بن أبى حبيب يكذب

اس روایت کی سند میں حبیب بن ابی حبیب کو امام احمد نے جھوٹا قرار دیا ہے

. وقال ابن عدى: كان يضع الحديث

روایات گھڑتا تھا ابن عدی

وقال أبو حاتم أبو حبان: هذا حديث باطل لا أصل له.قال وكان حبيب من أهل مرو يضع الحديث على الثقاة لا يحل كتب حديثه إلا على سبيل القدح فيه

یہ شخص من گھڑت روایات نقل کرتا تھا ابوحاتم

وقال بن الجوزي بعد ذكره لهذا الحديث هذا حديث موضوع بلا شك

یہ روایت من گھڑت ہے ابن جوزی

صحیح اور ثابت اعمال:

جاہلیت میں قریش عاشورا کا روزہ رکھتے تھے

آپ علیہ السلام بھی رکھتے تھے اور مدینہ ہجرت کے بعد بھی رکھتے لیکن رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد اختیار دیا گیا جو چاہے رکھے

ان عائشة – رضي الله عنها – قالت : ( كان يوم عاشوراء تصومه قريش في الجاهلية ، وكان رسول الله r يصومه في الجاهلية ، فلما قدم المدينة صامه ، وأمر بصيامه ، فلما فُرِضَ رمضان ترك يوم عاشوراء ، فمن شاء صامه ، ومن شاء تركه ) أخرجه البخاري ومسلم

جابر بن سمرة کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے ترغیب دیتے تھے

وعن جابر بن سمرةt قال : ( كان رسول الله r يأمر بصيام يوم عاشوراء ، ويحثنا عليه ، ويتعاهدنا عليه … الحديث ) أخرجه مسلم(3) .
اس روزے کا اجر

آپ علیہ السلام سے عاشورا کے روزے کا اجر پوچھا گیا آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ امید ہے کہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے

أبي قتادة أن رسول الله r سئل عن صوم يوم عاشوراء ، فقال : ( يكفر السنة الماضية ) وفي رواية : ( … وصيام يوم عاشوراء أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله ) أخرجه مسلم(1)
اس روزے کی وجہ اور طریقہ

حضور علیہ السلام مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورا کے دن خوشی اور عید مناتے پایا جس کی وجہ یہ بیان کی گئ کہ اس دن حضرت موسی علیہ السلام کو نجات ملی تھی لہذا خوشیاں مناتے تھے

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے بنسبت ہم موسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں لیکن ہم روزہ رکھے گے

عن ابن عباس – رضي الله عنهما – قال : قدم رسول الله r المدينة فوجد اليهود يصومون يوم عاشوراء ، فسئلوا عن ذلك ، فقالوا : هذا اليوم الذي أظهر الله فيه موسى وبني إسرائيل على فرعون ، فنحن نصومه تعظيماً له ، فقال رسول الله r : ( نحن أولى بموسى منكم ، فأمر بصيامه) أخرجه البخاري ومسلم ، وفي رواية لمسلم : ( فصامه موسى شكراً ، فنحن نصومه … )
یہود کی مخالفت

جب آپ علیہ السلام نے اس دن کے روزے کا حکم دیا تو عرض کیا گیا کہ یہ دن تو یہود اور نصارٰی کی بھی تعظیم کا دن ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگلے سال ہم نو تاریخ کا روزہ بھی رکھے گے

عن ابن عباس – رضي الله عنهما – أن رسول الله r لما صام يوم عاشوراء وأمر بصيامه قالوا : يا رسول الله ، إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى ، فقال رسول الله r : ( فإذا كان العام المقبل – إن شاء الله – صمنا اليوم التاسع ) قال : فلم يأت العام المقبل حتى توفي رسول الله r . أخرجه مسلم ، وفي رواية له : ( لئن بقية إلى قابل لأصومن التاسع )(1) .

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف روایت ہے کہ عاشورا کا روزہ رکھو یہود کی مخالفت کرو اس سے ایک دن قبل یا بعد روزہ رکھو

بحديث ابن عباس مرفوعاً بلفظ : ( صوموا يوم عاشوراء ، وخالفوا فيه اليهود ، صوموا قبله يوماً ، أو بعده يوماً ) وهو حديث ضعيف
دسترخوان وسیع کرنا

اس متعلق استاد محترم مولانا طلحہ منیار صاحب کا مضمون اختصارا نقل کرونگا.

الجواب

عاشوراء کے دن وسعت علی العیال والی حدیث : پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مرفوعا ، اور حضرت عمر سے موقوفا ، اور ایک تابعی کی روایت سے مرسلامنقول ہے ،جن صحابہ کرام سے مرفوعا وارد ہے ، وہ یہ ہیں :

• حضرت جابر [شعب الإيمان 3512] • حضرت ابن مسعود [شعب الإيمان 3513] • حضرت ابو سعيد خدری [شعب الإيمان 3514] • حضرت ابو هريرہ [شعب الإيمان 3515] • حضرت ابن عمر [التوسعة على العيال لأبي زرعة (ص: 10،12)] • حضرت عمر پرموقوف روایت [ التوسعة على العيال لأبي زرعة (ص: 13) ] میں • اور ابن المنتشر تابعی کا بلاغ [شعب الإيمان 3516] میں مروی ہے ۔

بعض علماء حدیث اس حدیث کی تمام اسانید وطرق پر جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: یہ حدیث مرفوعا ثابت نہیں ہے ، اور بعض صراحتا من گھڑت ہونے کا حکم لگاتے ہیں.

[التوسعة على العيال لأبي زرعة (ص: 13) ، مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (6/ 363)]

جبکہ ان کے مقابلہ میں بعض محدثین نے ان کو قبول کیا ہے ، اور بعض اسانید کو صحیح یا حسن کا مرتبہ دیا ہے ، ان میں بالخصوص امام بیھقی ، ابن القطان ، عراقی ، ابو زرعہ بن العراقی ، ابن حجر عسقلانی ، سیوطی رحمھم اللہ ہیں،

ان کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:

اور مذاہب اربعہ کی کتابوں میں بھی اس پر عمل کرنے کی گنجائش لکھی ہے ، اور یہ کہ سال بھر کی برکت کے بارے میں یہ عمل مجرب اور پائے ثبوت کو پہنچا ہوائے ہے.

حنفیہ کےبعض فتاوی ملاحظہ فرمائیں:

• وسعت علی العیال کی روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے؛ لیکن مختلف طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے فضائل میں قابل استدلال ہے؛ لیکن اس روایت سے کھچڑے اور حلیم پکانے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ کھچڑا آج کل اہل بدعت کا شعار بن چکا ہے اور یہ لوگ روزہ رکھنے کے بجائے دن بھر کھچڑا کھاتے کھلاتے رہتے ہیں، جو منشأ نبوی کے بالکل خلاف ہے، نیز اس میں التزام مالا یلزم کے معنی بھی پائے جاتے ہیں؛ کیوں کہ وسعت پر عمل کھچڑا پکانے پر ہی منحصر نہیں؛ بلکہ کسی بھی طرح دستر خوان وسیع کرنے سے یہ فضیلت حاصل ہوسکتی ہے۔ (کتاب النوازل ج۱۷ ص ۱۸۸)۔

• عاشوراء کے روز شام کو وسعت دسترخوان ناجائز نہیں ہے ،بلکہ جائز اور باعث خیرو برکت ہے۔(فتاوی قاسمیہ ج۲ص۴۳۲)۔

• عاشوراء کے دن اہل وعیال کو اچھا اور خوب کھلانا حدیث و کتب فقہ سے ثابت ہے ، حدیث اگرچہ ضعیف بھی ہو پھر بھی فضائلِ اعمال میں اس پر عمل کرنے میں ثواب ہے ، نیز فقھاء نے بھی اس حدیث کو قابلِ عمل فرمایا ہے۔واللہ اعلم۔(فتاوی دار العلوم زکریا ج۱ص۴۱۹)۔

• عاشورا کے دن اہل وعیال پر فراوانی کی حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا جائز ہے۔(نجم الفتاوی ج۱ص۲۹۶) ۔


خلاصہ کلام


محرم کے دنوں میں عموما اور دس محرم کے دن کا روزہ خصوصا باعث اجر وثواب و کفارہ سيئات ہے اور اس دن اہل و عیال پر رزق کی وسعت بھی ایک مستحب عمل ہے لیکن اس کے علاوہ جس قدر اعمال یا نمازیں یا قصے اس دن کے حوالے سے مشہور کئے گئے ہیں وہ سب غلط اور من گھڑت روایات ہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں