تنبیہ نمبر162

اہل ایمان کی جرأت

سوال :ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے تو فرمایا کہ اے لوگوں! اگر تم ہم میں کوئی کوتاہی دیکھو تو ہمیں آگاہ کردینا، تو ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا کہ اے عمر! اگر آپ میں کوئی کوتاہی آئی تو ہم آپ کو تلوار سے سیدھا کرینگے، تو حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے مجھے ایسی امت میں بنایا ہے جو عمر کو تلوار سے سیدھا کرینگے …اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے…
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعہ کسی بھی مستند کتاب میں موجود نہیں، البتہ نضرة النعیم نامی کتاب میں اس کی نسبت ابن جوزی کی تاریخ الخلفاء کی طرف کی گئی ہے اور باوجود تلاش بسیار کے اس کا کوئی مستند حوالہ نہیں مل سکا بلکہ احادیث کی تحقیق کرنے والے بعض اداروں نے اس واقعہ کے متعلق علامہ ابن تیمیہ کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کو باطل اور بےاصل قرار دیا ہے.

قصة تقويم اعوجاج عمر رضي الله عنه بالسيف» خبر منكر ظاهر البطلان من وضع الخوارج، وهو لا أصل له، أي لا سند له، حيث قال ابن تيمية رحمه الله معنى لا أصل له، أي ليس له إسناد.

اسی طرح ایک اور ادارے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی اس کے مستند وجود کا انکار کیا.

صحة ما يروى عن الخليفة عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال: أيها الناس من رأى منكم فيّ اعوجاجاً فليقوّمه، فقام له رجل وقال: والله لو رأينا فيك اعوجاجاً لقومناه بسيوفنا، فقال عمر: الحمدلله الذي جعل في هذه الأمة من يقوّم اعوجاج عمر بسيفه.
فلم نجد هذه الرواية في كتاب مسند، وقد عزوها في موسوعة نضرة النعيم لكتاب تاريخ الخلفاء لابن الجوزي.
اس مضمون کی کچھ درست روایات:

١ .آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ لوگ جب کسی ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں گے مگر اس کو ظلم سے نہیں روکیں گے تو بہت ممکن ہے کہ اللہ ان سب پر اپنا عذاب نازل کردے.

وفي صحيح الترمذي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن الناس إذا رأوا الظالم ولم يأخذوا على يديه أوشك أن يعمّهم الله بعقاب من عنده.

٢ .حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ سے دریافت فرمایا کہ آپ مجھے کیسا پاتے ہیں؟ تو محمد نے کہا کہ خدا کی قسم! جیسا میں چاہتا ہوں آپ ویسے ہی ہیں، اور جو آپ کی بھلائی چاہتے ہیں آپ ان کی چاہت کے جیسے ہیں، آپ مال جمع تو کرتے ہیں لیکن خود کو اس سے دور رکھتے ہیں اور اسکی تقسیم میں عدل سے کام لیتے ہیں، اور اگر آپ ادھر ادھر ہونے لگیں تو ہم آپ کو ایسا سیدھا کرینگے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، تو حضرت عمر نے فرمایا کہ الحمدللہ میں اس قوم میں ہوں جو مجھے سیدھا کرےگی.

أخرجه الإمام ابن المبارك في الزهد فقال: أخبرنا سفيان بن عيينة عن موسى بن أبي عيسى قال: أتى عمر بن الخطاب رضي الله عنه مشربة ابن حارثة فوجد محمد بن مسلمة فقال عمر: كيف تراني يامحمد؟ فقال: أراك والله كما أحب، وكما يُحب من يحب لك الخير، أراك قوياً على جمع المال، عفيفاً عنه، عادلاً في قسمه، ولو ملت عدلناك كما يعدل السهم في الثقاف، فقال عمر: هاه، فقال: ولو ملت عدلناك كما يعدل السهم في الثقاف، فقال: الحمدلله الذي جعلني في قوم إذا ملت عدلوني.

٣ .امام بخاری نے تاریخ کبیر میں نقل کیا ہے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین اور انصار کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے تو فرمایا کہ اگر میں کچھ معاملات میں نرمی اختیار کرلوں تو تم لوگ کیا کروگے؟ تو ساتھی خاموش ہوگئے، حضرت عمر نے اس بات کو دہرایا تو بشیر بن سعد نے کہا کہ اگر آپ ایسا کرینگے تو ہم آپ کو تیر کی طرح سیدھا کرینگے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ تم لوگ ہی ایسا کرسکتے ہو.

وقال الإمام البخاري في التاريخ الكبير في ترجمة بشير بن سعد الأنصاري قال: أخبرني محمد بن النعمان بن بشير، أن أباه أخبره، أن عمر قال يوما في مجلس، وحوله المهاجرون والأنصار: أرأيتم لو ترخصت في بعض الأمر، ما كنتم فاعلين؟ فسكتوا، فعاد مرتين، أو ثلاثا، قال بشير بن سعد: لو فعلت قَوَّمناك تقويم القدح، قال عمر: أنتم إذن أنتم.

٤ .حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جمعے کا خطبہ دیا اور فرمایا کہ مال ہمارا ہے اور غنیمت بھی ہماری ہے، ہم جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہے نہ دیں، تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، اگلے جمعے بھی یہی بات کہی، جب تیسرے جمعے بھی یہی بات کہی تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یہ مال ہمارا ہے اور غنیمت بھی ہماری ہے اور جو ہمارے اور مال کے درمیان آئےگا ہم تلوار سے اس کا فیصلہ کرینگے تو حضرت معاویہ نے اس کا اکرام کیا اور فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ لوگ کچھ غلط کہینگے اور کوئی بھی ان کو نہیں روکےگا، یہ سب جہنم میں بندروں کی طرح شور مچا رہے ہونگے تو مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں میں ان لوگوں میں شامل تو نہیں ہوگیا، لیکن آج اس کے جواب سے تسلی ہوگئی.

ما رواه أبويعلى والطبراني عن أبي قبيل قال: خطبنا معاوية في يوم جمعة فقال: إنما المال مالنا والفيء فيئنا، من شئنا أعطينا، ومن شئنا منعنا، فلم يرد عليه أحد، فلما كانت الجمعة الثانية قال مثل مقالته، فلم يرد عليه أحد، فلما كانت الجمعة الثالثة قال مثل مقالته، فقام إليه رجل ممن شهد المسجد فقال: كلا! بل المال مالنا والفيء فيئنا، من حال بيننا وبينه حاكمناه بأسيافنا، فلما صلى أمر بالرجل فأدخل عليه، فأجلسه معه على السرير، ثم أذن للناس فدخلوا عليه، ثم قال: أيها الناس، إني تكلمت في أول جمعة فلم يرد عليّ أحد، وفي الثانية فلم يرد عليّ أحد، فلما كانت الثالثة أحياني هذا أحياه الله، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سيأتي قوم يتكلمون، فلا يرد عليهم، يتقاحمون في النار تقاحم القردة فخشيت أن يجعلني الله منهم، فلما رد هذا عليّ أحياني، أحياه الله، ورجوت أن لا يجعلني الله منهم.
خلاصہ کلام

دورانِ خطبہ کسی کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس طرح ٹوکنا اور جواب دینا کسی بھی مستند (صحیح یا ضعیف) روایات سے ثابت نہیں، البتہ یہ مضمون درست ہے جو دیگر درست روایات سے معلوم ہوتا ہے، لہذا دورانِ بیان احتیاط کی جائے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں