تنبیہ نمبر212

روضہ رسول پر بار بار سلام

سوال: جو لوگ مدینہ منورہ میں ہوں اور ایک بار سلام پیش کرچکے ہوں انکے لئے روضہ رسول پر حاضری اور سلام پیش کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا ہر نماز کے بعد یا ہر روز سلام پیش کرنا چاہیئے یا ایک بار کافی ہے؟
اس مسئلے کا جواب عنایت فرمائیں…
الجواب باسمه تعالی

جمہور امت کے نزدیک مدینہ منورہ جانا، مسجد نبوی میں نماز ادا کرنا اور آپ علیہ السلام کے روضہ اقدس پر سلام کیلئے حاضر ہونا ہر مسلمان کیلئے سعادت اور خوش نصیبی کا باعث ہے اور اس بات میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں.

البتہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کی مقدار کے متعلق امت میں مختلف معمول اور مختلف مزاج رہا ہے.

روزانہ روضہ رسول پر سلام کیلئے جانا:

دیارِ ہند و پاکستان کے علمائےکرام کا مزاج کثرت سے سلام پیش کرنے کا ہے.

١. مولانا تبریز عالم قاسمی (استاد دارالعلوم حیدرآباد) لکھتے ہیں کہ جب تک مدینہ میں قیام ہو خوب سلام پیش کیا جائے.

٢. مفتی شفیع صاحب رحمه اللہ لکھتے ہیں: جب تک مدینہ منورہ میں قیام ہو کثرت سے روضہ اقدس کے سامنے حاضر ہو کر سلام عرض کیا کرے، خصوصاً پانچ نمازوں کے بعد. (زبدہ)

مسئلہ: اگر کسی وقت خاص مواجہ شریف پر حاضری کا موقع نہ ملے تو روضہ اقدس کے کسی طرف بھی کھڑے ہو کر یا مسجد نبوی میں کسی جگہ بھی سلام عرض کرسکتا ہے، اگرچہ اس کی وہ فضیلت نہیں جو سامنے حاضر ہو کر سلام عرض کرنے کی ہے۔

اس قول کی کوئی دلیل نہ تو ذکر کی گئی ہے اور نہ ہماری نظر سے گذری ہے.

سفر سے آمد کے موقعے پر ایک بار سلام پیش کیا جائے:

١. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر سے واپسی پر روضہ رسول پر سلام پیش فرماتے تھے.

قال عبدالرزاق في المصنف عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَارَسُولَ الله، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَابَكْرٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَتَاهُ».

٢. معمر کہتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عمر سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر کے علاوہ کسی صحابی کا معمول ایسا نہیں تھا.

قَالَ مَعْمَرٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُبَيْدِالله بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: «مَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ إِلَّا ابْنَ عُمَرَ».

٣. سہل بن ابی سہل کہتے ہیں کہ مجھے حضرت علی کے پوتے حسن رحمه اللہ نے روضہ رسول کے پاس دیکھا تو مجھے بلایا اور پوچھا کیا کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ میں سلام عرض کررہا تھا، تو فرمایا کہ جب مسجد میں داخل ہو تو درود وسلام پڑھ لیا کرو اور بار بار سلام کیلئے حاضر نہ ہوا کرو، کیونکہ آپ علیہ السلام نے قبر کو عیدگاہ بنانے سے منع فرمایا ہے، البتہ درود پڑھنے کا حکم دیا ہے کہ تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے، تم اور اندلس میں موجود انسان درود کے معاملے میں برابر ہو.

٣. سہل بن ابی سہل کہتے ہیں کہ مجھے حضرت علی کے پوتے حسن رحمه اللہ نے روضہ رسول کے پاس دیکھا تو مجھے بلایا اور پوچھا کیا کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ میں سلام عرض کررہا تھا، تو فرمایا کہ جب مسجد میں داخل ہو تو درود وسلام پڑھ لیا کرو اور بار بار سلام کیلئے حاضر نہ ہوا کرو، کیونکہ آپ علیہ السلام نے قبر کو عیدگاہ بنانے سے منع فرمایا ہے، البتہ درود پڑھنے کا حکم دیا ہے کہ تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے، تم اور اندلس میں موجود انسان درود کے معاملے میں برابر ہو.

٤. زین العابدین رحمه اللہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ آپ علیہ السلام کی قبر کے پاس آکر دعا کیا کرتا تھا، تو زین العابدین رحمه اللہ نے اسکو منع فرمایا اور فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تمہارا درود ہر جگہ سے مجھ تک پہنچایا جاتا ہے.

فعن علي بن الحسين زين العابدين أنه رأى رجلاً يجيء إلى فرجة كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيدعو، فنهاه، وقال: ألا أحدثكم بحديث سمعته من أبي عن جدي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: “لا تتخذوا قبري عيدا، ولا بيوتكم قبورا، وصلوا علي؛ فإن تسليمكم يبلغني أين كنتم”. (رواه في المختارة).

٥. علامہ ابن حجر ہیتمی کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے قبر کو عید بنانے سے منع فرمایا ہے۔ (عید کا مطلب یہ ہے کہ بار بار آنا یا عادت بنانا). گویا کہ آپ علیہ السلام نے قبر مبارک پر بار بار آنے اور اسکی عادت بنا لینے سے منع فرمایا ہے.

“لا تجعلوا قبري عيدًا”. قال ابن حجر الهيتمي في شرح المشكاة: العيد اسم من الأعياد، يقال: عاده واعتاده وتعوّده صار له عادة، والمعنى: لا تجعلوا قبري محلاً لاعتياد المجيء إليه متكررًا تكرارًا كثيرًا، فلهذا قال: وصلوا عليَّ فإن صلاتكم تبلغني حيث كنتم. فإن فيها كفاية عن ذلك. (انتهى كلامه رحمه الله تعالى).

٦. ابن رشد نے نقل کیا ہے کہ امام مالک سے پوچھا گیا کہ اجنبی شخص اگر روزانہ قبر پر آئے تو اسکا کیا حکم ہے؟ امام مالک نے فرمایا کہ یہ کوئی کام نہیں، اور یہ حدیث کی مخالفت ہے.

وفي كتاب الجامع للبيان لابن رشد: سئل مالك رحمه الله تعالى عن الغريب يأتي قبر النبي كل يوم، فقال: ما هذا من الأمر، وذكر حديث: اللهم لا تجعل قبري وثنًا يُعبد. [صححه الألباني في “تحذير الساجد من اتخاذ القبور مساجد” (ص24-26)].

٧. ابن رشد کہتے ہیں کہ بار بار قبر کے پاس آنا درست نہیں جیسا کہ مسجد میں بار بار آیا جاتا ہے، کیونکہ نبی علیہ السلام نے اس سے (یعنی بار بار قبر کے پاس آنے سے) منع فرمایا ہے.

قال ابن رشد: فيُكره أن يُكثر المرور به والسلام عليه، والإتيان كل يوم إليه لئلا يُجعل القبر كالمسجد الذي يؤتى كل يوم للصلاة فيه، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك بقوله: اللهم لا تجعل قبري وثنًا.
– انظر البيان والتحصيل لابن رشد (18/444-445).

٨. علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ یہی اہل مدینہ اور اہل بیت کا مسلک ہے کہ بار بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر نہ آیا جائے کیونکہ یہ ایک طرح سے قبر کو عید بنانا ہے.

قال شيخ الإسلام ابن تيمية: فانظر إلى هذه السنة، كيف مخرجها من أهل المدينة، وأهل البيت الذين لهم قرب النسب وقرب الدار.
وقال: ما علمت أحداً رخص في ذلك؛ لأنه نوع من اتخاذه عيدا.

٩. امام مالک فرماتے ہیں کہ مسجد میں جانے والے ہر شخص کیلئے سلام پیش کرنا لازم نہیں ہے، یہ تو صرف باہر سے آنے والوں کیلئے ہے کہ وہ سلام پیش کریں، کیونکہ صحابہ اور ان کے بعد کے لوگ بار بار سلام پیش نہیں کیا کرتے تھے.

قال شيخ الإسلام ابن تيمية في الرد على الأخنائي (ص:46): قال القاضي عياض: قال مالك في المبسوط: وليس يلزم من دخل المسجد وخرج منه من أهل المدينة الوقوف للقبر؛ وإنما ذلك للغرباء. وقال فيه أيضا: ولا بأس لمن قدم من سفر أو خرج إلى سفر أن يقف على قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيصلي عليه ويدعو له ولأبي بكر وعمر. قيل له: فان ناسا من أهل المدينة لا يقدمون من سفر ولا يريدونه يفعلون ذلك في اليوم مرة أو أكثر؛ وربما وقفوا في الجمعة أو في الأيام المرة أو المرتين أو أكثر من ذلك عند القبر يسلمون ويدعون ساعة. فقال: لم يبلغني هذا عن أهل الفقه ببلدنا وتركه واسع.
سلام پیش کرنے کے بعد دعا کیلئے جالی کے سامنے کھڑا ہونا:

١. امام مالک فرماتے ہیں کہ سلام کے بعد قبر رسول کے پاس کھڑا نہ رہے، بلکہ سلام کرکے آگے بڑھ جائے.

وقال القاضي عياض أيضا في المبسوط عن مالك: لا أرى أن يَقِفَ عندَ قبرِ النبيِّ صلى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يَدعـُـو، ولكنْ يُسلِّم ويَمضِي. (الشفا 671/2-678)

٢. ابن جوزی اور ابن عقیل کہتے ہیں کہ قبر پر دعا کی غرض سے جانا مکروہ ہے.

وقال ابن عقيل وابن الجوزي: يكره قصد القبور للدعاء.

٣. امام مالک کہتے ہیں کہ قبر کے پاس (اپنے لئے) دعا مانگنا بدعت ہے جو سلف سے ثابت نہیں.

وقال مالك: هو بدعة لم يفعلها السلف.

٤. علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ دعا کیلئے قبر پر جانا یا وہاں دعا کی غرض سے کھڑا ہونا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے.

وقال شيخ الإسلام ابن تيمية: يكره قصد القبور للدعاء ووقوفه عندها أيضاً للدعاء.

٥. علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ امت میں کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں رہا کہ قبر مبارک کے پاس دعا کی قبولیت زیادہ ہوتی ہے، لہذا صرف سلام کرنا چاہیئے.

قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله: لم يكن في الصحابة والتابعين والأئمة والمشايخ المتقدمين من يقول: إن الدعاء مستجاب عند قبور الأنبياء والصالحين لا مطلقاً ولا معيناً. إنما يرخص فيما إذا سلم عليه.
● الوداعی سلام پیش کرنا:

١. عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کبھی سفر پر جاتے یا سفر سے واپس آتے تو آپ علیہ السلام کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر درود پڑھتے اور دعا کرتے

 حديث موقوف: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالله بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا، أَوْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ جَاءَ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ.

٢. امام محمد کہتے ہیں کہ مدینہ آنے والے کو ایسا ہی کرنا چاہیئے.

 قَالَ مُحَمَّدٌ: هَكَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَفْعَلَهُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ يَأْتِي قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم

۳. ابن القاسم کہتے ہیں کہ میں نے اہل مدینہ کو دیکھا کہ جب وہ مدینہ سے جاتے یا آتے تو قبر مبارک پر سلام کیلئے حاضر ہوتے.

 قال ابن القاسم: رأيت أهل المدينة اذا خرجوا منها أو دخلوها اتوا القبر فسلموا.

٤. ابن رشد کہتے ہیں کہ امام مالک سے پوچھا گیا کہ کیا قبر مبارک پر گذرنے والے کو سلام کرنا چاہیئے؟ تو فرمایا: ہاں، جب بھی قبر مبارک پر گذر ہو تو سلام کرنا چاہیئے.

وفي جامع البيان لابن رشد: سئل مالك عن المار بقبر النبي أترى ان يسلم كلما مر؟ قال: نعم، أرى ذلك كلما مر وقد أكثر الناس من ذلك.

٥. ابن رشد کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب گذرے تو سلام کرلے، لیکن بار بار سلام کیلئے نہ گذرے، البتہ مدینے سے جانے والا الوداعی سلام کیلئے حاضر ہوسکتا ہے.

قال ابن رشد: معناه ان يلزمه أن يسلم متى ما مر وليس عليه ان يمر ليسلم الا للوداع عند الخروج، ويكره ان يكثر المرور به والسلام عليه والاتيان كل يوم.

٦. یہ بھی منقول ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ حاضر ہو یا وہاں سے رخصت ہو اس کیلئے قبر مبارک پر حاضری میں کوئی حرج نہیں.

وقال أيضاً في المبسوط: لا بأس لمن قدم من سفر أو خرج أن يقف عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيصلي عليه ويدعو لأبي بكر وعمر.
خلاصہ کلام

مدینہ منورہ جانے والے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ پہلی بار ادب واحترام کے ساتھ روضہ رسول پر حاضر ہو کر سلام پیش کریں کہ آپ علیہ السلام اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں اور سلام پیش کرنے والوں کا جواب خود دیتے ہیں.لیکن بار بار جانا اور ہر نماز کے بعد اس کی عادت بنانا علمائےکرام کے درمیان اختلافی معاملہ رہا ہے، لہذا اس عمل کو نہ تو ضروری سمجھا جائے اور نہ ہی رواجی عمل بنایا جائے، بلکہ جب بھی جائیں انتہائی ادب اور احترام کی کیفیت کے ساتھ جانا چاہیئے.اسی طرح مدینے سے روانگی سے پہلے الوداعی سلام امت کے اسلاف صحابہ اور انکے بعد کے لوگوں سے ثابت ہے، لہذا رخصت ہوتے وقت الوداعی سلام کیا جائے، البتہ اس موقعے پر کوئی خاص دعا ثابت نہیں.(مولانا عبدالرحمن کوثر بن مفتی عاشق الہی صاحب رحمہ اللہ کے شکریہ کے متوجہ کرنے سے یہ روایات سامنے آئی جزاہ اللہ خیر الجزاء)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٦ جولائی ٢٠١٩ مدینہ منورہ

اپنا تبصرہ بھیجیں