تنبیہ نمبر 216

خصی جانور کی قربانی کرنا

ایک روایت سنی ہے کہ آپ علیہ السلام نے جانور کو خصی کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے، جبکہ ہمارے ہاں تو خصی جانور کو قربانی میں زیادہ پسند کرتے ہیں…
اس حدیث کے بارے میں وضاحت فرمادیجئے…
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت سند کے لحاظ سے صحیح ہے.

ابن عباس رضی اللہ عنہما نقل کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے جانوروں کو خصی کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے

□ ما رواه البزار، قال الشوكاني في “نيل الأوطار”: إسناده صحيح من حديث ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن صبر الروح وعن إخصاء البهائم نهيا شديدا.
علمائے امت کی نظر میں اس حدیث کی تشریح
١- پہلا قول

کسی بھی جانور کو خصی کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ تخلیق کی تبدیلی اور حدیث کے خلاف ہے… یہ قول بعض صحابہ اور تابعین کا ہے

□ وقد استدل بعض الصحابة والتابعين على عدم جواز إخصاء البهائم بقوله تعالى: {وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ الله} (النساء: 119).
٢- دوسرا قول

سواری والے جانوروں کو بلا ضرورت خصی کرنا منع ہے، البتہ کھانے کی غرض سے کسی حلال جانور کو خصی کرنا منع نہیں.

١. پہلی دلیل

آپ علیہ السلام نے خود خصی جانور کی قربانی فرمائی.

□ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِالله بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ “أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، ‏‏‏‏‏‏اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِله بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم”.

أم المؤمنین عائشہ اور ابوهریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے سینگ دار، چتکبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے، جو اللہ کی توحید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، اور دوسرا محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح فرماتے۔

تفرد به ابن ماجه، (تحفة الأشراف: ۱۴۹۶۸، ۱۷۷۳۱، ومصباح الزجاجة: ۱۰۸۳)، وقد أخرجه مسند احمد (۶/۲۲۰) (صحیح)
(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3122)
٢. دوسری دلیل

صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ خصی کرنے کی ممانعت سواری والے جانوروں میں ہے.

□ قال الحافظ ابن كثير في تفسيره: قال ابن عباس: يعني بذلك خصي الدواب، وكذا روي عن ابن عمر وأنس وسعيد بن المسيب وعكرمة وأبي عياض وقتادة وأبي صالح والثوري.
٣. تیسری دلیل

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے گھوڑے اور دوسرے سواری والے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا.

□ وذلك لما رواه أحمد (4769) عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن إخصاء الخيل والبهائم. وقال ابن عمر: فيها نماء الخلق. قال شعيب الأرنؤوط في تحقيق المسند: إسناده ضعيف وقد روي موقوفا ومرفوعا وموقوفه هو الصحيح.
٤. چوتھی دلیل

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اہل مصر کو گھوڑے خصی کرنے سے منع فرمایا.

یزید بن ابی حبیب بیان کرتے ہیں: کتب عمر بن عبدالعزیز إلی أهل مصر ینهاهم عن خصاء الخیل، وأن یجریئ الصبیان الخیل.
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمه اللہ نے اہل مصر کی طرف خط لکھا جس میں گھوڑوں کو خصّی کرنے اور بچوں کے گھوڑوں کو دوڑانے سے ان کو منع فرمایا۔ (مصنف ابن ابی شیبة: ١٢/٢٢٥، وسندہ صحیحٌ)

امام عبدالرزاق رحمه اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام اوزاعی رحمه اللہ سے جانور کو خصّی کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کانوا یکرھون خصاء کلّ شیء له نسل. اسلاف ان تمام چیزوں کو خصّی کرنا مکروہ سمجھتے تھے جن کی نسل چل سکتی ہے۔ (مصنف عبدالرزاق: ٤/٤٥٨، ح: ٨٤٤٧)

امام حسن بصری رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ بکرے اور دنبے کو خصّی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (تفسیر الطبری: ١٠٤٧٥، وسندہ صحیحٌ)

امام ہشام بن عروہ رحمه اللہ بیان کرتے ہیں: إنّ أباہ (عروۃ بن الزبیر) خصٰی بغلا له. ان کے والد عروہ بن زبیر تابعی رحمه اللہ نے اپنا ایک خچر خصّی کیا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبة: ١٢/٢٢٦، وسندہ صحیحٌ)

امام عطاء بن ابی رباح رحمه اللہ گھوڑے کو خصّی کرنے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے. (مصنف ابن ابی شیبة: ١٢/٢٢٧، وسندہ صحیحٌ)

ویحتمل جواز ذلك إذا اتّصل به غرض صحیح کما روینا عن التابعین.

جب کوئی واقعی ضرورت درپیش ہو تو خصّی کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ ہم نے تابعین کرام سے یہ بات روایت کی ہے۔ (السنن الکبری للبیهقی: ١٠/٢٤)

فقہائےکرام کے اقوال

١. امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جانوروں کو خصی کرنے میں ان کا ہی فائدہ ہے، لہذا ایسا کرنا درست ہے

□ ما جاء في “الموسوعة الفقهية” (19/112): قرر الحنفية أنه لا بأس بخصاء البهائم؛ لأن فيه منفعة للبهيمة والناس.

٢. مالکیہ کہتے ہیں کہ کھائے جانے والے جانور کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں

□ وعند المالكية: يجوز خصاء المأكول من غير كراهة؛ لما فيه من صلاح اللحم.

٣. شافعیہ کہتے ہیں کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے اس کو خصی کرنا جائز ہے اور دوسرے جانوروں کا جائز نہیں

□ والشافعية فرقوا بين المأكول وغيره، فقالوا: يجوز خصاء ما يؤكل لحمه في الصغر، ويحرم في غيره.

٤. حنابلہ کہتے ہیں کہ بکروں کو خصی کرنے میں حرج نہیں، البتہ دیگر جانوروں میں منع ہے

□ أما الحنابلة فيباح عندهم خصي الغنم لما فيه من إصلاح لحمها، وقيل: يكره كالخيل وغيرها.
دارالعلوم دیوبند کا فتوی

خصی جانور کی قربانی کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل وبہتر ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہے، عن جابر رضي اللہ عنه قال: ذبح النبي صلی اللہ علیه وسلم یوم الذبح کبشین أملحین موجوئین. (مشکاة)

وفي الهدایة: ویجوز أن یضحی بالجماء والخصي لأن لحمها أطیب.

خصی جانور نہ ہونے پر مادہ جانور کی قربانی افضل ہے، افضلیت حاصل کرنے کے لئے قربانی کے موقع پر جانور کو خصی نہ کرنا چاہیئے کیونکہ خصی جانور کی قربانی افضل وبہتر اس لئے ہے کہ وہ فربہ اور اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے، اور یہ دونوں چیزیں اس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ جانور کو پہلے سے ہی خصی کردیا جائے، بعض لوگوں کا خصی کرنے کو جانور پر مطلقا ظلم قرار دینا درست نہیں، خصی کرنا جانور پر اس وقت ظلم ہوگا جب کہ عمل خصاء سے مقصد لہو ولعب ہو، فقہاء نے اس کو ناجائز لکھا ہے، لیکن اگر جانور کو خصی کرنے سے مقصد منفعت ہو تو یہ جائز ہے اور جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہوگیا تو اب ایک مؤمن کو اس میں کیا تردّد ہونا چاہیئے.

(واللہ تعالیٰ اعلم) (دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند)

(دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند)

خلاصہ کلام

بلاوجہ نسل کشی کی نیت سے یا کھیل کود کی غرض سے جانور کو (تکلیف دیتے ہوئے) خصی کرنا شرعا ممنوع اور ناپسندیدہ ہے، البتہ جانور کو فربہ کرنے اور اس کے گوشت کو اچھا کرنے کی غرض سے خصی کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں، لہذا اس کو ممنوع قرار دینا روایةً اور درایةً دونوں طرح سے درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
 ٥ اگست ٢٠١٩ مکہ مکرمہ

اپنا تبصرہ بھیجیں