تنبیہ نمبر 220

اوجھڑی کھانے کا حکم

سوال
السلام علیکم ورحمہ اللہ
قابل احترام مفتی صاحب
مجھے ایک خاتوں نے کہا کہ قربانی کے جانور کے گردے کھانا جائز نہیں ھے انکا کہنا ھے کہ مفتی اکمل صاحب نے کہا ھے ؟؟؟
نھوں نے ہوچھا کہ کیا یہ صحیح ھے ؟؟ اسی طرح بعض بریلوی حضرات اوجھڑی کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں آپکی رھنمائی درکار ھے جزاک اللہ خیرا
الجواب باسمه تعالی

واضح رہے کہ احناف کے نزدیک جانور کے اعضاء میں سے سات اعضاء مکروہ تحریمی قرار دئیے جاتے ہیں

وروی عن مجاهد رضی اﷲ تعالی عنه أنه قال کره رسول اﷲ من الشاة الذکر والانثيين والقبل والغدة والمررة والمثانة والدم.

مجاہد رحمہﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے یہ اجزاء مکروہ قرار دئیے۔ آلہ تناسل، خصیئے، اگلی پیشاب گاہ، گلٹی، پتہ، مثانہ اور خون

کراہت سے مراد، کراہت تحریمہ ہے دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خون کے ساتھ باقی چھ چیزیں بھی جمع فرمائیں اور بہتا خون تو حرام ہے، لہٰذا یہ بھی حرام ہیں۔

امام ابو حنیفہ رضی تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ خون حرام ہے اور میں چھ چیزوں کو مکروہ سمجھتا ہوں۔

اطلق اسم الحرام علی الدم المسفوح و سمی ما سواه مکروها.

’’آپ نے بہتے خون پر حرام کا نام بولا اور باقی چھ کو مکروہ کہا‘‘۔

لان الحرام المطلق ماثبت حرمته بدليل مقطوع به وحرمه الدم المسفوح قد ثبتت بدليل مقطوع وهو النص المفسر من الکتاب العزيز قال اﷲ تعالٰی عز شانه {قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآاُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا} اِلی قوله عز شانه {اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْر} وانعقاد الاجماع ايضا علی حرمته فأما حرمة ما سواه من الأشياء الستة فماثبتت بدليل مقطوع به بالاجتهاد او بظاهر الکتاب العزيز المحتمل للتاويل أو الحديث لذلک فصل بينهما فی الاسم فسمی ذلک حراما وذا مکروها.

اس لئے کہ حرام مطلق وہ ہے جس کی حرمت (حرام ہونا) دلیل قطعی سے ثابت ہو اور بہتے خون کا حرام ہونا تو دلیل قطعی سے ثابت ہے اور وہ کتاب عزیز (قرآن کریم) کی نص مفسّر ہے، اللہ تعالی نے فرمایا

 اے حبیب مکرم آپ فرمائیں : میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام، مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا خنزیر کا گوشت یہ وہ نجس ہے۔

(الْأَنْعَام، 6 : 145)

اور اس کی حرمت پر اجماع امت بھی ہے۔ رہا باقی چھ چیزوں کا حرام ہونا تو وہ دلیل قطعی سے ثابت نہیں بلکہ اجتہاد یا قرآن عزیز کی ظاہری نص سے (وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰئِثَ) جس میں تاویل کا احتمال ہے۔

یا مذکورہ بالا حدیث پاک سے اسی لئے دونوں میں فرق کیا گیا ہے بہتے خون کو حرام اور باقی چھ چیزوں کو مکروہ کا نام دیا گیا ہے۔

○ کیا اوجھڑی اعضائے مکروہ میں شامل ہے

● علمائے دیو بند کا فتوے

حلال جانور کی اوجھڑی اور بٹ دونوں حلال ہیں، یہ دونوں حلال جانور کے ان سات اجزاء میں شامل نہیں جو ناجائز ہیں؛ اس لیے حلال جانور کی بٹ اور اوجھڑی کا کھانا جائز ہے

(فتاوی رشیدیہ ، ص:۵۵۱،۵۵۲،باقیات فتاوی رشیدیہ، ص ۳۶۸،فتاوی دار العلوم دیوبند، ۱۵:۴۶۸، مطبوعہ: دار العلوم دیوبنداور فتاوی محمودیہ، ۱۷:۲۹۳-۲۹۶، مطبوعہ: ادارہٴ صدیق ڈابھیل وغیرہ)۔
ما یحرم من أجزاء الحیوان المأکول سبعة: الدم المسفوح والذکر والأنثیان والقبل والغدة والمثانة والمرارة ، بدائع (رد المحتار، کتاب الذبائح ۹:۴۵۱ط مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر الدر والرد (کتاب الخنثی، مسائل شتی ۱۰:۴۷۷، ۴۷۸) والفتاوی الھندیة (کتاب الذبائح، الباب الثالث فی المتفرقات ۵: ۲۹۰ط مکتبة زکریا دیوبند)، والکنز (مع التبیین ، کتاب الخنثی،مسائل شتی ۶: ۲۲۶ط المکتبة الإمدادیة، ملتان) أیضاً۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،دارالعلوم دیو بند

▪فتاویٰ رشیدیہ میں اوجھڑی کھانا جائز قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ فتاویٰ رشیدیہ کی عبارت میں واضح لکھا ہے ’’اوجھڑی کھانا حلال ہے‘‘۔

رشید احمد گنگوهی، فتاویٰ رشیدیه: 537،

¤ علمائے اہل حدیث

حلال جانور مثلا گائے،بھینس،اونٹ، بکری اور بھیڑ وغیرہ کو شرائط شرعیہ کے ساتھ ذبح کیا جائے تو اس کی اوجھڑی حلال ہے،چاہے قربانی ہو یا عام ذبیحہ ہو اور اسے حرام کہنا غلط ہے۔

خلاصہ التحقیق:شرائط شرعیہ کے ساتھ حلال جانور کی اوجھڑی حلال ہے بشرطیکہ اسے خوب دھو دھو کر،خوب صفائی کر کے پکایا جائے اور کسی قسم کی نجاست کا کوئی اثر باقی نہ رہا

(الحدیث ،شمارہ نمبر۹۰)

*شیخ زبیر علی زئی*

■ علمائے عرب کی رائے

مدونہ میں یہ بات موجود ہے کہ گوشت کے ساتھ ساتھ چربی، کلیجی، اوجھڑی،دل وغیرہ یہ سب گوشت کے حکم میں ہے اور حلال ہے

قال في “المدونة” : ” مَا أُضِيفَ إلَى اللَّحْمِ مِنْ شَحْمٍ وَكَبِدٍ وَكَرِشٍ وَقَلْبٍ وَرِئَةٍ وَطِحَالٍ وَكُلًى وَحُلْقُومٍ وَكُرَاعٍ وَرَأْسٍ وَشِبْهِهِ ، فَلَهُ حُكْمُ اللَّحْمِ ” . انتهى .
“تهذيب المدونة” ، للبراذعي (1/93) ، وانظر: مواهب الجليل (6/204) .

¤ علمائے عرب کے ایک سائٹ پر سوال ہوا کہ اوجھڑی سے بدبو آتی ہے اس کا کھانا حلال ہے؟

تو جواب دیا گیا کہ گائے، بھینس،بکری اور تمام حلال جانوروں کی اوجھڑی اور آنتڑیاں کھانا جائز ہے اور تھوڑی بہت بدبو مضر نہیں

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد؛
فيجوز أكل أمعاء البقر، والجاموس، والغنم، وسائر ما يحل أكله، والرائحة لا تؤثر، وما في داخل أمعاء ما يحل أكله طاهر على الصحيح.
● علمائے بریلوی

مفتی شبیر احمد قاسمی لکھتے ہیں

*فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ ’’اوجھڑی کھانا مکروہ ہے

* امام احمد رضا خان، فتاویٰ رضویه، 20: 238، رضا فاؤنڈیشن، لاهور

یہ کراہت جو فتاویٰ رضویہ میں بیان ہوئی ہے یہ طبعی کراہت (ناپسندیدگی) ہے

◇ مفتی عبدالقیوم ہزاروی لکھتے ہیں

بعض اعضاء سے بدبو آتی ہے جیسے اوجھڑی وغیرہ اور اگر محنت کر کے گرم پانی میں ڈال کر گندا کور (cover) اتار کر چھری وغیرہ سے رگڑ کر اس کور کو تمام آلائشوں سے پاک صاف کر لیا جائے، نمک اور بیسن لگا کر کچھ وقت پانی نچڑنے دیا جائے، میٹھا سوڈا بھی استعمال کیا جائے، پھر پکایا جائے اور چھوڑا ہوا پانی بہا دیا جائے، ڈھکن اتار کر بھاپ نکال لی جائے۔ دوبارہ صاف پانی سے تمام گوشت دھو لیا جائے۔ جو لوگ اتنی محنت نہیں کرتے اور عام گوشت سبزی وغیرہ کی طرح واجبی سا دھو کر اوجھری پکا لیتے ہیں، نہ صفائی ہوئی نہ smell ختم ہوئی نہ آلائشوں کا ازالہ ہوا، اسے کونسی نفاست پسند طبیعت پسند کرے گی؟ یہ طبعا مکروہ ہی ہوگی

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

(گویا اگر اچھی طرح صاف کرے تو حلال ہے)

■ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں

جناب احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :

”حلال جانور کے بعض اعضاء حرام ہیں، جیسے خون، پتہ، فرج، خصیہ وغیرہ۔“ [تفسير نور العرفان از نعيمي : ص 547]

گویا انہوں نے اوجھڑی کو شمار نہیں کیا

¤ اوجھڑی کو مکروہ تحریمی قرار دینے والے بریلوی حضرات اور ان کے دلائل

جانور کی اوجھڑی کھانا ناجائز و مکروہِ تحریمی (قریبِ حرام) اور گناہ ہے

رسول اللہ علیہ السلام نے حلال جانور کے جن اعضاء کو مکروہ وممنوع جانا ہے وہ سات ہیں:

(۱) پِتّہ (۲) مثانہ، (۳) شرمگاہ (۴) ذَکر، (۵) کپورے، (۶) غدود اور (۷) خون،

[المعجم الاوسط حدیث: 9486, جلد 10, صفحہ 217, مکتبۃ المعارف ریاض]

مثانہ کیونکہ پیشاب جیسی نجاست کا محل ہےجسکی وجہ سے ممنوع قرار دیا گیا. اب اگر اوجھڑی کو مثانہ پر قیاس کریں تو یہ بھی مکروہِ تحریمی ٹہرے گی کیونکہ اوجھڑی گوبر جیسی نجاست کا مستقر ہے- لہذا دونوں میں جب علت مشترکہ پائے گئ تو جس طرح مثانے کو کھانا جائز نہیں اسی طرح اوجھڑی کا کھانا بھی ناجائز ٹہرا

○ سیدی اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:

”اوجھڑی آنتیں جن کاکھانا مکروہ ہے“

فتاویٰ رضویہ جلد 14, صفحہ 705,

فقیہِ ملت مفتی محمد جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ:

”اوجھڑی اور آنتیں کھانا درست نہیں

[فتاویٰ فیضُ الرسول, جلد 2, صفحہ 433,

◇ سیدی اعلٰی حضرت امام احمدرضاخان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ:

دبر یعنی پاخانے کا مقام، کرش یعنی #اوجھڑی ،امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکم کراہت میں داخل ہیں،“

[فتاویٰ رضویہ, جلد 20, صفحہ 232

● گردے کھانا ممنوع یا مکروہ ہے

گردہ چونکہ پیشاب کی صفائی کا کام کرتا ہے اسلئے بعض علماء نے اس کو ناپسند فرمایا جیسا کہ فقہ حنفی کی بعض کتب میں لکھا ہے

 بعض لوگوں نے حلال جانور میں 22 چیزیں مکروہ یا حرام قرار دے دی ہیں

گردے کے بارے میں مولانارشید احمد گنگوی فرماتے ہیں :

”بعض (حنفی فقہ کی) روایات میں گردہ کی کراہت لکھتے ہیں اور کراہت تنزیہ پر عمل کرتے ہیں۔“ [تذكرة الرشيد : جزء 1 ص 147]

خلاصہ کلام

جانور کے جن سات اعضاء کو فقہ حنفی میں مکروہ قرار دیا گیا ہے اوجھڑی ان میں شامل نہیں اور اوجھڑی کو ان اعضاء پر قیاس کرنا قیاس فاسد سے زیادہ کچھ نہیں اور جہاں بھی اس کو مکروہ لکھا گیا ہے اس سے مراد فطری اور طبعی کراہت ہے نہ کہ شرعی کراہت اور یہی حکم گردے کا بھی ہے لہذا اس کو مکروہ تحریمی قرار دینا اور کھانے سے منع کرنا ہرگز درست نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
2اگست2019 (بمقام منی) 11 ذی الحج 1440

اپنا تبصرہ بھیجیں