تنبیہ نمبر 223

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قصہ

سوال
مندرجہ ذیل واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے عبداللہ سے درخواست کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے میرے لئے میرے دونوں ساتھیوں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت طلب کرو، بیٹے نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جاکر اجازت طلب کی، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی تو بیٹے نے آکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اجازت مل جانے کی خوشخبری سنائی…
انتقال کے بعد جنازے کو حجرہ شریف کے پاس لے جاکر (حسب وصیت) دوبارہ اجازت طلب کی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عمر كو اپنے ساتھيوں كے ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت پیش آنے والے واقعات سے متعلق روایات میں جو کچھ مذکور ہے کیا وہ پورا واقعہ درست ہے؟ نیز کیا اس کے آخر میں مذکور مبارکباد والی بات بھی درست ہے؟
(سائل: (ریٹائرڈ کرنل) انیس الرحمن صاحب، کراچی).
الجواب باسمه تعالی

موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر مختلف واقعات کو عام کیا جاتا ہے جبکہ حقیقتًا وہ واقعات یا تو سرے سے ثابت ہی نہیں ہوتے یا پھر اس شخصیت سے متعلق مختلف واقعات کو جوڑ کر ایک نیا (من گھڑت) واقعہ بنا کر عام کیا جاتا ہے.

سوال میں مذکور واقعہ بھی حضرت عمر کی زندگی کے مختلف واقعات کو جوڑ کر ان کی وفات کا واقعہ بنا کر پیش کیا گیا ہے.

واقعے کی جزئیات کی تحقیق
١. پہلا جزء

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مار کر زخمی کیا تو آپ رضى اللہ عنہ كو دودھ پلايا گيا جو پسليوں كى طرف سے باہر نكل گيا۔۔۔

طبيب نے كہا: اے امير المؤمنين! وصيت كر ديجئے اس لئے كہ اب آپ مزيد زندہ نہيں رہ سكتے.

تحقیق

روایات کا یہ حصہ ثابت ہے.

٢. دوسرا جزء

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ نے اپنے بيٹے عبداللہ كو بلايا اور كہا: ميرے پاس حذيفہ بن يمان كو لاؤ، حذيفہ بن يمان وہ صحابى تھے جن كو رسول اللہﷺ نے منافقين كے ناموں كى فہرست بتائى تھى، جس كو اللہ، اللہ كے رسول اور حذيفہ كے علاوہ كوئى نہ جانتا تھا۔۔۔

حذيفہ رضى اللہ عنہ حاضر ہوئے تو امير المؤمنين سيدنا عمر رضى اللہ عنہ گويا ہوئے (جبكہ خون آپ كى پسليوں سے رس رہا تھا)، فرمایا: حذيفہ! ميں تجھے اللہ كى قسم ديتا ہوں، كيا رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين ميں ليا ہے یا نہيں؟

حذيفہ رضى اللہ عنہ روتے ہوئے كہنے لگے: اے امير المؤمنين! يہ ميرے پاس رسول اللہﷺ كا راز ہے، ميں اس كو مرتے دم تک كسى كو نہيں بتا سكتا۔۔۔

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كہنے لگے: حذيفہ! بلاشبہ يہ رسول اللہﷺ كا راز ہے، بس مجھے اتنا بتا ديجئے كہ رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين كے جدول ميں شمار كيا ہے يا نہيں؟

حذيفہ كى ہچكى بندھ گئى، روتے ہوئے كہنے لگے: اے عمر! ميں صرف آپ كو يہ بتا رہا ہوں، اگر آپ كے علاوہ كوئى اور ہوتا تو ميں كبھى بھى اپنى زبان نہ كھولتا، وہ بھى صرف اتنا بتاؤں گا كہ رسول اللہﷺ نے آپ كا نام منافقين كى فہرست ميں شمار نہيں فرمايا۔

تحقیق

روایات کا یہ حصہ وفات کے موقعے پر ثابت نہیں.

        صحیح واقعہ

اس سے قبل حضرت حذیفہ نے کسی منافق کے جنازے میں شرکت نہیں کی تو حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ شخص منافقین میں سے تھا؟ تو حضرت حذیفہ نے کہا: جی، تو حضرت عمر نے ان کو قسم دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا میرا نام منافقین میں شامل ہے؟ تو حضرت حذیفہ نے فرمایا: نہیں.

□ أخرجه ابن أبي شيبة “مصنفه” (7/481)، والفسوي «تاريخه» (3/87-88)، والخلال «السنة» (1314) ثلاثتهم من طريق أبي معاوية قال: حدثنا الأَعْمَشِ عن زَيْدِ بن وَهْبٍ قال: مَاتَ رَجُلٌ من الْمُنَافِقِينَ فلم يُصَلِّ عليه حُذَيْفَةُ، فقال له عُمَرُ: أَمِنْ الْقَوْمِ هو؟ قال: نعم، فقال له عُمَرُ: بِاللهِ منهم أنا؟ قال: لاَ، وَلَنْ أُخْبِرَ بِهِ أَحَدًا بَعْدَك… ورجاله ثقات.
– وقال الهيثمي في المجمع (3/42): رواه البزار ورجاله ثقات.
٣. تیسرا جزء

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے بيٹے عبداللہ سے كہنے لگے: عبداللہ! اب صرف ميرا ايک معاملہ دنيا ميں باقى ہے۔۔۔ پِسر جانثار كہنے لگا: اباجان بتایئے وہ كون سا معاملہ ہے؟ سيدنا عمر رضى اللہ گويا ہوئے: بيٹا! میں رسول اللہ اور ابوبكر رضى اللہ عنہ كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہوں۔۔۔

اے ميرے بيٹے! ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كے پاس جاؤ اور ان سے اجازت طلب كرو كہ عمر اپنے ساتھيوں كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہے۔۔۔ ہاں بيٹا، عائشہ رضى اللہ عنہا كو يہ نہ كہنا كہ امير المؤمنين كا حكم ہے، بلكہ كہنا كہ آپ كا بيٹا عمر آپ سے درخواست گذار ہے۔۔۔

ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كہنے لگيں، ميں نے يہ جگہ اپنى قبر كے لئے مختص كر ركھى تھى، ليكن آج ميں عمر كے لئے اس سے دستبردار ہوتى ہوں۔۔۔

عبداللہ خوش خوش لوٹے اور اپنے اباجان كو اجازت كى خوشخبرى سنائى.

□ وأرسل ابنه عبدالله إلى عائشة، قال: انطلق إلى عائشة أمِّ المؤمنين؛ فقُلْ: يقرأ عليكِ عمرُ السَّلامَ ولا تَقُلْ: أميرَ المؤمنين، فإنِّي لست اليوم للمؤمنين أميرًا، وقُلْ: يستأذن عمر بن الخطاب أن يُدْفَنَ مع صاحبَيْه.
فسلَّم عبدالله بن عمر واستأذن على عائشة، فوجدها قاعدةً تبكي، فقال: يقرأ عليكِ عمر بن الخطاب السَّلام، ويستأذن أن يُدْفَن مع صاحبَيْه. فقالت: كنتُ أريده لنفسي، ولأوثرنَّه به اليوم على نفسي. فلما أقبل قيل: هذا عبدالله بن عمر قد جاء. قال: ارفعوني. فأسنده ابن عباس إليه، فقال: ما لديكَ؟ قال: الذي تحبُّ يا أمير المؤمنين، أَذِنَتْ. قال: الحمدلله، ما كان من شيءٍ أهمّ إليَّ من ذلك، فإذا أنا قضيتُ فاحملوني؛ ثم سلِّم فقل: يستأذن عمر بن الخطاب، فإن أَذِنَتْ لي فأدخلوني، وإن ردَّتني ردُّوني إلى مقابر المسلمين.
تحقیق

یہ حصہ بھی روایات سے ثابت ہے.

٤. چوتھا جزء

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ نے يہ سن كر اپنے رخسار كو زمين پر ركھ ديا، آداب فرزندى سے معمور بيٹا آگے بڑھا اور باپ كے چہرے كو اپنی گود ميں ركھ ليا، باپ نے بيٹے كى طرف ديكھا اور كہا: اس پيشانى كو زمين سے كيوں اٹھايا؟ اس چہرے كو زمين پر واپس ركھ دو، ہلاكت ہوگى عمر كے لئے اگر اس كے رب نے اس كو قيامت كے دن معاف نہ كيا۔۔۔! رحمك اللہ يا عمر.

□ وكان ابن عباس يُثني عليه وهو مسندٌ له، فلما انتهى من ثنائه قال عمر: ألْصِقْ خدِّي بالأرض يا عبدالله بن عمر. قال ابن عباس: فوضعتُه من فَخِذِي على ساقي؛ فقال: ألْصِقْ خدِّي بالأرض! فوضعتُه حتى وضع لحيته وخدَّه بالأرض؛ فقال: ويلكَ عمرُ إن لم يغفر الله لكَ.
تحقیق

یہ حصہ روایات سے ثابت ہے.

٥. پانچواں جزء

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ نے اس دار فانى سے كوچ كرنے سے پہلے اپنے بيٹے عبداللہ كو يہ وصيت فرمائی: جب ميرے جنازے كو اٹھايا جائے اور مسجد نبوى ميں ميرا جنازہ پڑھا جائے، تو حذيفہ پر نظر ركھنا كيونكہ اس نے وعدہ توڑنے ميں تو شايد مجھ سے حيا کی ہو، لیکن دھيان ركھنا کہ وہ ميرا جنازہ بھى پڑھتا ہے يا نہيں؟

اگر تو حذيفہ ميرا جنازہ پڑھے تو ميرى ميت كو رسول اللہ ﷺ كے گھر كى طرف لے كر جانا، اور دروازے پر كھڑے ہو كر كہنا: يا ام المؤمنين! اے مؤمنوں كى ماں، آپ كے بيٹے عمر كا جسد خاكی آيا ہے۔۔۔ ہاں يہاں بھی ياد ركھنا امير المؤمنين نہ كہنا، عائشہ مجھ سے بہت حيا كرتى ہیں۔۔۔ اگر تو عائشہ رضى اللہ عنہا اجازت مرحمت فرما ديں تو ٹھيک، اگر اجازت نہ ملے تو مجھے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفنا دينا۔

عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہ كہتے ہيں کہ جب ابا جان كا جنازہ اٹھايا گيا تو ميرى نظريں حذيفہ پر تھيں، حذيفہ آئے اور انہوں نے اباجان كا جنازہ پڑھا۔۔۔ ميں يہ ديكھ كر خوش ہوگيا.

تحقیق

روایات کا یہ حصہ ثابت نہیں.

٦. چھٹا جزء

اور اباجان كى ميت كو عائشہ رضى اللہ عنہا كے گھر كى طرف لے كر چلے جہاں اباجان كے دونوں ساتھى آرام فرما تھے۔۔

دروازے پر كھڑے ہو كر ميں نے كہا: يا أمّنا! ولدك عمر في الباب، هل تأذنين له؟

اماں جان! آپ كا بيٹا عمر دروازے پر كھڑا ہے، كيا آپ اس كو دفن كى اجازت ديتى ہيں؟

اماں عائشہ رضى اللہ عنہا نے كہا: مرحبا! امير المؤمنين كو اپنے ساتھيوں كے ساتھ دفن ہونے پر مبارك ہو۔

تحقیق

مذکورہ الفاظ بعینه تو ثابت نہیں اور نہ ہی ساتھیوں کے ساتھ دفن کی مبارکباد ثابت ہے، البتہ یہ بات درست ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اجازت مانگی اور حضرت عائشہ نے ساتھیوں کے ساتھ دفن کی اجازت دی.

خلاصہ کلام

سوال میں مذکور واقعہ فیس بک پر شیئر کئے جانے والے کسی عرب کے پوسٹ کا ترجمہ ہے جو کہ مکمل درست نہیں، لہذا تمام علمائےکرام اور مسلمانوں سے درخواست ہے کہ کسی بھی واقعے کو بغیر تحقیق نہ ترجمہ کریں اور نہ اس کو پھیلائیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٣ ستمبر ٢٠١٩ کراچی

تنبیہ نمبر 223” ایک تبصرہ

Leave a Reply to طہٰ Cancel reply