تنبیہ نمبر 234

پیاز کے فوائد و فضائل

سوال
یہ بات بار بار سننے میں آئی ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جس شہر جاؤ اس شہر میں پیاز کھا لو تو وہاں کی بیماریوں سے حفاظت ہوگی…
کیا اس طرح کی روایات درست ہیں؟
الجواب باسمه تعالی

پیاز کے فضائل اور فوائد کے متعلق کئی روایات منقول ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

١. پہلی روایت

اے علی! جب توشہ لو تو پیاز لینا مت بھولنا.

□ يا علي! اذا تزودت فلا تنسى البصل.
٢. دوسری روایت

اے علی! جب شادی کرو اور جب سفر کرو تو پیاز لینا مت بھولنا.

□ يا علي! اذا تزوجت واذا سافرت فلا تنسى البصل.
٣. تیسری روایت

پیاز ضرور کھاؤ کیونکہ اس سے نطفہ صاف ہوتا ہے اور بچہ خوبصورت ہوتا ہے.

□ عليكم بالبصل فإنه يطيب النطفة ويصبح الولد.
٤. چوتھی روایت

جب کسی شہر میں داخل ہو تو وہاں پیاز کھا لو، وہ تمہیں وہاں کی وبا سے محفوظ رکھے گی.

□ اذا دخلتم بلادا فكلوا من بصلها يطرد عنكم بلاؤها.
ان روایات کی اسنادی حیثیت
پہلی روایت

یہ روایت مسند فردوس میں بلا سند منقول ہے.

١. علامہ سخاوی نے المقاصد الحسنہ میں لکھا ہے کہ یہ باطل اور کھلا جھوٹ ہے

¤ قال العلامة السخاوی فی المقاصد الحسنة: باطل کذب بحت.

٢. الجد الحثیث للعامری میں لکھا ہے کہ یہ سراسر من گھڑت اور جھوٹ ہے

¤ وفی الجد الحثیث للعامری: کذب مختلق.

٣. اتقان مایحسن میں بھی اس کو جھوٹ قرار دیا گیا ہے

¤ وفی الاتقان ایضا: کذب.
دوسری روایت

یہ روایت بھی من گھڑت ہے، کیونکہ آپ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کبھی حضرت علی کو شادی کی ترغیب نہیں دی، بلکہ حضرت فاطمہ کے کہنے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا.

حضرت علی کے وصایا عموما حماد بن عمرو النصیبی کے گھڑے ہوئے ہیں

تیسری روایت

١. علامہ سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اسکو ذکر کرنے بعد لکھا ہے کہ یہ باطل اور جھوٹ ہے

¤ قال العلامة السخاوی فی المقاصد الحسنة: باطل مکذوب بلا اسناد عن عبداللہ بن الحارث.

٢. قاوقجی نے بھی اس کو جھوٹ اور بےاصل قرار دیا ہے

¤ وقال قاوقجی: کذب لا اصل له.
چوتھی روایت

یہ روایت کہ “جس شہر جاؤ وہاں پیاز کھاؤ” صرف شیعوں کی مخصوص کتب جیسے طب الائمہ، بحار الانوار، محاسن الکافی وغیرہ کتب میں مختلف نسبتوں سے منقول ہے، جیسے: آپ علیہ السلام کی طرف نسبت، حضرت علی کی طرف، حضرت جعفر صادق کی طرف، لیکن سند کے لحاظ سے اس کی بھی حیثیت نہیں ہے.

خلاصہ کلام

پیاز کو کھانے کے متعلق کوئی بھی صحیح روایت موجود نہیں، البتہ اس کو کھا کر مسجد نہ آنے کے متعلق صحیح روایات ضرور موجود ہیں جس کی بنیاد پر بعض محدثین نے اس كو شجرہ خبیثہ قرار دیا ہے.

ایسے ہی اطباء کے نزدیک بعض اوقات میں پیاز کا کھانا مضر ہوسکتا ہے، لیکن شرعا اس کی کوئی منفعت یا مضرت منقول نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٢ نومبر ٢٠١٩ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں