تنبیہ نمبر 244

حضرت علی کی خلافت

سوال
انجینئر محمد علی مرزا کی ایک کلپ میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے حضرت علی کو اپنا ایسا خلیفہ بنایا جیسا کہ موسی علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو بنایا تھا اور یہ فضیلت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو بھی حاصل نہ تھی…
اس بات کی تحقیق مطلوب ہے

الجواب باسمه تعالی

اس سے پہلے بھی ہم یہ بتا چکے ہیں کہ محمد علی مرزا نامی شخص علمی اعتبار سے بلکل ایک سطحی شخص ہے جو اردو ترجمے پڑھ کر خود ہی مقدمات قائم کرتا ہے اور خود ہی نتائج نکال کر اس پر پھکیاں اور پھندے تیار کرتا ہے اور بزعم خود اس کے دلائل سے سب کو پھندے لگ جاتے ہیں، جبکہ درحقیقت وہ باتیں خود اس کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں.

حدیث: “أنت منی بمنزلة هارون من موسی

یہ حدیث صحاح کی کتب میں موجود ہے.

حديث: “يا علي! أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي
– صحيح البخاري: كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب علي بن أبي طالب.
– فتح الباري 7/71، ح:3706.
– وصحيح مسلم: كتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علي بن أبي طالب:4/1870، ح:2404.
– والمسند للإمام أحمد:6/438، 6/369)

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حضرت علی بمنزلہ ہارون علیہ السلام کے ہیں۔

اس روایت کا مکمل واقعہ کچھ یوں تھا

امام مسلم بن حجاج قشیری (متوفی:261ھ) روایت کرتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو (مدینہ میں اپنا) خلیفہ بنایا۔ حضرت علی نے کہا: یارسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں خلیفہ بنا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا. (صحیح مسلم، فضائل الصحابہ: 31/204، 6101).

اس مضمون کی دوسری روایت

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے علی! واپس جاؤ اسلئے کہ مدینہ منورہ میرے یا تیرے بغیر درست نہیں رہ سکتا

□ ارجع يا اخي الى مكانك، فان المدينة لا تصلح إلا بي أو بك، فأنت خليفتي في أهل بيتي ودار هجرتي وقومي، أَما ترضى ان تکون منی بمنزلة هارون من موسی. (مستدرک حاکم).
اس روایت کی اسنادی حیثیت

١. علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ یہ واضح جھوٹ ہے

¤ قال ابن تیمیة: ھذا کذب موضوع.

٢. علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ من گھڑت روایت کی طرح ہے

¤ قال ابن حجر فی الاطراف: بل هو شبه الموضوع. (جمع الجوامع:15/1)

ابن حبان المجروحین میں لکھتے ہیں

اس روایت کی سند میں

*حَفْص بْن عُمَر الْأَيْلِي (الَّذِي يُقَال لَهُ الحبطي، كنيته أَبُو إِسْمَاعِيل)* ہے.
اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال

١. یہ روایات الٹتا پلٹتا ہے اور صحیح سندوں کے ساتھ من گھڑت روایات جوڑتا ہے اور روایت کی اصل سند چھوڑ کر دوسری سند بیان کرتا ہے

◇ يقلب الْأَخْبَار وَيلْزق بِالْأَسَانِيدِ الصَّحِيحَة الْمُتُون الواهية ويعمد إِلَى خبر يعرف من طَرِيق وَاحِد فَيَأْتِي بِهِ من طَرِيق آخر لَا يعرف.

٢. یہ روایت باطل ہے اور آپ علیہ السلام نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی

◇ وَقَوْلُهُ: “الْمَدِينَة لَا تصلح إِلا بِي أَوْ بِكَ” بَاطِلٌ. مَا قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قَطُّ.

٣. ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی روایات مناکیر ہوتی ہیں

◇ قَالَ ابْن عدي: أَحَادِيثه إِمَّا مُنكرَة الْإِسْنَاد أَو مُنكرة الْمَتْن، وَهُوَ إِلَى الضعْف أقرب.

٤. عقیلی کہتے ہیں کہ یہ أئمہ سے باطل روایات نقل کرتا ہے

◇ وَقَالَ الْعقيلِيّ: هُوَ حَفْص بن عمر بن مَيْمُون مولى عَليّ بن أبي طَالب يحدث عَن الْأَئِمَّة بالأباطيل.

٥. ابوحاتم کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا تھا

◇ قَالَ أَبُوحَاتِم الرَّازِيّ: كَانَ كذابا.

یہ روایت بھی من گھڑت ہے

اس مضمون کی تیسری روایت

آپ علیہ السلام نے فرمایا اے ام سلمہ علی کا گوشت میرا گوشت ہے اور علی کا خون میرا خون ہے اور وہ میرے لئے بمنزلہ ہارون کے ہے بس میرے بعد نبی نہیں

قل ( يا أم سلمة ! إن علياً لحمه من لحمي ، ودمه من دمي ، وهو بمنزلة هارون من موسى ؛ غير أنه لا نبي بعدي ) .

عقیلی نے اس روایت کو نقل کیا اور فرمایا اس میں عبداللہ بن داہر ہے

أخرجه العقيلي في “الضعفاء” (ص 131) ، ومن طريقه ابن عساكر (12/ 66/ 1) عن عبد الله بن داهر بن يحيى الرازي

داہر کے بارے میں فرمایا یہ غالی رافضی تھا

أورده العقيلي في ترجمة داهر هذا . وقال : “كان ممن يغلو في الرفض ، لا يتابع على حديثه” .

امام ذہبی کہتے ہیں کہ بغیض رافضی تھا

ونحوه قول الذهبي : ” رافضي بغيض ، لا يتابع على بلاياه” .

ابن عدی کہتے ہیں کہ اس کی حدیثیں باطل ہوتی ہیں اور فضائل علی میں یہ متہم ہے

. وقال ابن عدي – بعد أن ساق له أحاديث أخرى ؛ صرح الذهبي بإبطال بعضها – : “وعامة ما يرويه في فضائل علي ، وهو فيه متهم” .

یہ روایت بھی من گھڑت ہے

حدیث المنزلة ائمہ حدیث کی نظر میں

١. امام نووی فرماتے ہیں کہ اس روایت میں حضرت علی کی فضیلت تو ہے لیکن وہ کسی اور سے افضل ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں

□ وقال النووي: وهذا الحديث لا حجة فيه لأحد منهم، بل فيه إثبات فضيلة لعلي، ولا تعرض فيه لكونه أفضل من غيره أو مثله. (الإمامة والرد على الرافضة، ص:221-222، شرح صحيح مسلم:13/174).

*٢. علامہ ابن حزم کہتے ہیں کہ روافض کا اس حدیث سے دیگر صحابہ کرام پر حضرت علی کی فضیلت کو ثابت کرنا درست نہیں، کیونکہ آپ علیہ السلام نے بہت سارے صحابہ کو اپنے بعد مدینہ پر خلیفہ بنا کر چھوڑا تھا.*

□ وقال ابن حزم بعد أن ذكر احتجاج الرافضة بالحديث: وهذا لا يوجب له فضلاً على من سواه، ولا استحقاق الإمامة بعده
فإنما قال له رسول الله هذا القول إذ استخلفه على المدينة في غزوة تبوك… ثم قد استخلف قبل تبوك، وبعد تبوك في أسفاره رجالاً سوى علي، فصح أن هذا الاستخلاف لا يوجب لعلي فضلاً على غيره، ولا ولاية الأمر بعده. (الفصل:4/159-160).

٣. علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے بہت سارے صحابہ کو مدینے پر خلیفہ بنایا تو کیا وہ صحابہ حضرت علی سے افضل ہوگئے؟ اگر نہیں (اور یقینا نہیں) تو پھر ایک بار کے خلیفہ بنانے سے حضرت علی سب سے افضل کیسے ہوگئے

□ وقال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله (في سياق رده على الرافضة في استدلالهم بهذا الحديث): وقد استخلف مَنْ علي أفضل منه في كثير من الغزوات، ولم تكن تلك الاستخلافات توجب تقديم المُسْتخلَف على عليّ إذا قعد معه، فكيف يكون موجباً لتفضيله على عليّ. (منهاج السنة: 7/330-332، وانظر: أيضاً 5/34 من الكتاب نفسه، ومجموع الفتاوى:4/416).

غلام رسول سعیدی صاحب تبیان القرآن میں لکھتے ہیں

علاوہ ازیں حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اصل رسالت میں شریک اور ان کے وزیر تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد وہ ان کے خلیفہ نہیں تھے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں حضرت ہارون علیہ السلام کا میدان تیه میں انتقال ہوگیا تھا، اس لئے اس حدیث سے روافض اور شیعہ کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ اس حدیث کی زیادہ سے زیادہ اس چیز پر دلالت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک جاتے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صرف مدینہ میں بچوں اور عورتوں کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنا نائب بنایا تھا اور نماز پڑھانے کے لئے ان کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا تھا بلکہ یہ منصب حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کے سپرد کیا تھا. جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی پہلی حیثیت کی طرف لوٹ آئے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ وغیرہ کو اپنا نائب بنایا تھا.

مدینہ پر خلیفہ بنائے گئے صحابہ

١. غزوہ بدر میں عبداللہ بن ام مکتوم

□ فقد استخلف في غزوة بدر: عبدالله ابن أم مكتوم.

٢. غزوہ بنی سلیم میں سباع بن عرفطہ الغفاری

□ واستخلف في غزوة بني سليم: سباع بن عُرفطة الغفاري، أو ابن أم مكتوم، على اختلاف في ذلك.

٣. غزوہ سویق میں بشیر بن عبدالمنذر

□ واستخلف في غزوة السويق: بشير بن عبدالمنذر.

٤. غزوہ بنو مصطلق میں ابوذر غفاری

□ واستعمل على المدينة في غزوة بني المصطلق: أباذر الغفاري.

٥. غزوہ حدیبیہ میں نمیلہ بن عبداللہ اللیثی

□ وفي غزوة الحديبية: نُمَيْلَةَ بن عبدالله الليثي.

٦. عمرة القضاء میں عویف بن الاضبط الدیلمی

□ وفي عمرة القضاء استعمل: عويف بن الأضبط الديلمي.

٧. فتح مکہ مکرمہ میں کلثوم بن حصین

□ وفي فتح مكة: كلثوم بن حصين بن عتبة الغفاري.

٨. غزوہ تبوک میں محمد بن مسلمہ

□ النبي لم يبق علي خليفة على اهل المدينة كاملة، بل استخلفه على اهل بيته خاصة، اما سائر المدينة من النساء والاطفال واصحاب الاعذار والمنافقون، فقد ترك عليهم محمد بن مسلمة. وهذا الذي ذكره اهل السير كإبن كثير وابن جرير وغيرهم.

٩. حجة الوداع میں ابودجانہ الساعدی

□ وفي حجة الوداع: أبا دجانة الساعدي.
ذكر هذا ابن هشام في مواطن متفرقة من السيرة.
تبیان القرآن میں ہے

امام ابن الاثیر علی بن محمد الجزری (المتوفی:630ھ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ غزوات میں حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں خلیفہ بنایا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجة الوداع کے لئے تشریف لے گئے تب بھی آپ نے ان ہی کو خلیفہ بنایا تھا. (اسد الغابة، ج:4، ص:252، رقم:4011، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

ان حوالہ جات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ مرتبہ مدینہ میں اپنا خلیفہ بنایا اور مسلمانوں کی نمازوں کا امام بنایا، جب تیرہ مرتبہ خلیفہ بننے اور مسلمانوں کی نمازوں کا امام بننے سے یہ لازم نہیں آیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد تمام امت کے امیر اور خلیفہ بن جائیں تو صرف ایک مرتبہ مدینہ میں خلیفہ بننے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے یہ کیسے لازم آئےگا کہ وہ امت کے خلیفہ بن جائیں جبکہ نمازوں کے امام اس وقت بھی حضرت ابن ام مکتوم ہی تھے۔

خلاصہ کلام

جس بات کا دعوی محمد علی مرزا نے کیا ہے یہ دعوی رافضی شیعہ صدیوں پہلے سے کرتے ہوئے آرہے ہیں اور صدیوں پہلے متقدمین اور متأخرین علمائےکرام نے اس کے جوابات دے دیئے ہیں، لہذا یہ کہنا کہ یہ کوئی نئی بات یا نیا انکشاف ہے یہ خود اس مرزا کی لاعلمی کی واضح دلیل ہے.

بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہیں لیکن اس نسبت سے حضرت علی کو حضرات شیخین پر فضیلت دینا یہ علمی خیانت ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیئے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
 ١٦ دسمبر ٢٠١٩ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں