تنبیہ نمبر 250

جنت میں علماء کا دارالإفتاء

سوال
ایک روایت سنی ہے جس کا مفہوم ہے کہ جب اہل جنت، جنت میں جائینگے تو اللہ تعالی ان سے مزید کچھ مانگنے کا فرمائینگے تو اہل جنت کو علماء سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئےگی اور وہ علماء سے پوچھ کر اللہ تبارک و تعالی سے جنت کی نعمتیں مانگیں گے…..
      کیا یہ روایت درست ہے؟
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت مختلف کتب میں منقول ہے، جیسے: علامہ دیلمی کی مسند فردوس اور امام ابن عساکر نے حضرت جابر سے نقل کی ہے.

□ إن أهل الجنة ليحتاجون إلى العلماء في الجنة وذلك أنهم يزورون الله تعالى في كل جمعة فيقول لهم: تمنوا علي ما شئتم، فيلتفتون إلى العلماء فيقولون: ماذا نتمنى؟ فيقولون: تمنوا عليه كذا وكذا فهم يحتاجون إليهم في الجنة كما يحتاجون إليهم في الدنيا. (رواه الديلمى عن جابر في مسند الفردوس، ج:1/878).
وذكره الألبانى في ضعيف الجامع الصغير، (ج:2/1832) معزواً لابن عساكر عن جابر. ى؟
اس روایت کی اسنادی حیثیت

یہ روایت سند کے لحاظ سے درست نہیں. علامہ ابن تیمیہ، علامہ ذہبی اور علامہ ابن حجر نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے اور اس کی وجہ اس روایت کا راوی مجاشع بن عمرو (ابویوسف) ہے.

اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال:

١. ابن معین کہتے ہیں کہ میں نے اس کو دیکھا ہے یہ جھوٹوں میں تھا.

◇ قال ابن معين: قد رأيته، أحد الكذابين.

٢. عقیلی کہتے ہیں کہ اس کی روایات منکر ہیں.

◇ وقال العقيلي: حديثه منکر.

٣. امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ منکر اور مجہول راوی ہے.

◇ قال البخاري: مجاشع بن عَمْرو أبويوسف منكر مجهول.

. میزان الاعتدال اور لسان المیزان میں اسی روایت کو مجاشع کے ترجمے میں نقل کرکے اس پر موضوع (من گھڑت) ہونے کا حکم لگایا گیا ہے.

◇ موسى بن الأسود ومخلد أبومحمد الحراني قالا: حدثنا مجاشع بن عَمْرو، عَن مُحَمد بن الزبرقان عن مقاتل، عَن أبي الزبير، عَن جَابر رضي الله عنه مرفوعا: أهل الجنة محتاجون إلى العلماء وذلك بأنهم يزورون ربهم في كل جمعة فيقول: تمنوا فيلتفتون إلى العلماء فيقولون: ما نتمنى؟ فيقولون: تمنوا عليه كذا، فهم يحتاجون إليهم في الجنة.
قلت: وهذا موضوع ومجاشع هو راوي كتاب الأهوال والقيامة وهو جزءان كله خبر واحد موضوع.

٥. امام ابن حبان نے کتاب المجروحین ج 3 میں اس کو ذکر کیا اور فرمایا کہ اس کی روایات صرف اعتبار کیلئے اور لوگوں کو بتانے کیلئے نقل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں.

◇ مجاشع بن عمرو بن حسان الأسدي: يروى عن عبيدالله بن عمر. والليث ابن سعد. روى عنه العراقيون، كان ممن يضع الحديث على الثقات ويروى الموضوعات عن أقوام ثقات. لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه ولا الرواية عنه إلا على سبيل الاعتبار للخواص.
خلاصہ کلام

علمائےکرام کو قیامت کے دن اور اس کے بعد جنت میں یقینا اللہ تعالی کے ہاں اونچا مقام حاصل ہوگا، لیکن اس طرح کی کمزور اور من گھڑت روایات بیان کرنا اور اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا کسی طرح بھی درست نہیں، اس سے اجتناب کرنا چاہیئے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
 ٣١ دسمبر ٢٠١٩ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں