تنبیہ نمبر 302

 صحابہ کو گالی دینا (حصہ سوم)

سوال
آج کل مندرجہ ذیل دو روایات کا بہت چرچا ہے:
 ١.  جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو: اللہ کی لعنت تمہارے شر پر
 ٢.  میرے صحابہ کو گالی مت دو، کیونکہ آخری زمانے میں ایک قوم آئےگی، جو میرے صحابہ کو گالیاں دےگی، تم ان کی عیادت مت کرنا، ان کی نماز جنازہ میں شرکت مت کرنا، ان سے نکاح مت کرنا، ان کو وراثت میں حصہ مت دینا، انہیں سلام مت کرنا اور نہ ہی ان کیلئے رحمت کی دعا کرنا
 آپ سے ان دونوں روایات کی تحقیق مطلوب ہے…

الجواب باسمه تعالی

 ١. امام مالک کہتے ہیں کہ جو نبی ﷺ کے صحابہ کو گالی دیتے ہیں ان کا برائے نام بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسلام میں ان کا کوئی حصہ ہے. (السنة، للخلال، ج:2، ص:557)

□ قال مالك بن أنس رحمه الله: الذي يشتم أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس له سهم أو قال نصيب في الإسلام. (شرح الإبانة لابن بطة، ص:162).

 ٢. امام نووی رحمه اللہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو گالی دینا حرام ہے اور بدترین حرام میں سے ہے، چاہے وہ صحابہ کیوں نہ ہوں جن کی آپس میں لڑائی ہوئی، کیونکہ ان کے پاس ان لڑائیوں کی تأویل موجود تھی.

□ قال الإمام النووي رحمه الله تعالى: واعلم أن سب الصحابة رضي الله عنهم حرام من فواحش المحرمات، سواء من لابس الفتن منهم وغيره لأنهم مجتهدون في تلك الحروب متأولون.

 ٣. امام ابوزرعہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو صحابہ کی تنقیص کرتے دیکھو، تو جان لو کہ وہ زندیق ہے، کیونکہ قرآن حق ہے، رسول حق ہے، اور آپ علیہ السلام کا سارا دین حق ہے، اور اس دین کو ہم تک پہنچانے والے صحابہ ہیں، پس جو ان پر جرح و تنقید کرےگا، وہ کتاب اور سنت کو باطل کرنا چاہتا ہے، اور ایسا شخص جرح کا زیادہ مستحق ہے، اور اس شخص پر زندیق اور گمراہ کا حکم لگانا زیادہ بہتر ہے.

□ وقال أبوزرعة رحمه الله: إذا رأيت الرجل ينتقص أحداً من الصحابة فاعلم أنَّه زنديق، وذلك لأن القرآن حق، والرسول حق، وما جاء به حق، وما أدى إلينا ذلك كله إلا الصحابة، فمن جرحهم إنما أراد إبطال الكتاب والسنة فيكون الجرح به أليق، والحكم عليه بالزندقة والضلال أقوم وأحق. (الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة:2/608).

 ٤. امام ابن کثیر کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں تمام کے تمام صحابہ عادل ہیں.

□ ويقول ابن كثير: والصحابة كلهم عدول عند أهل السنة والجماعة لما أثنى الله عليهم في كتابه العزيز، وبما نطقت به السنة النبوية في المدح لهم في جميع أخلاقهم وأفعالهم.

 ٥. امام طحاوی لکھتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم تمام اصحاب رسول اللہ سے محبت کرتے ہیں، کسی کی محبت میں غلو (حد سے تجاوز) نہیں کرتے، نہ کسی سے براءت کا اعلان کرتے ہیں، ان کی محبت دین، ایمان اور احسان ہے، اور ان سے نفرت کرنا کفر، نفاق اور گمراہی ہے.

□ قال الطحاوي: ونحبُّ أصحابَ رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا نفرِّطُ في حبِّ أحدٍ منهم، ولا نتبرَّأُ من أحدٍ منهم. وحبُّهم دينٌ وإيمانٌ وإحسان. وبغضُهم كفرٌ ونفاقٌ وطغيان. (شرح العقيدة الطحاوية، ص:528).

 ٦. سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص أبوبکر، عمر، عثمان وعلی سے محبت کرے، عشرہ مبشرہ کو جنتی مانے، اور حضرت معاویہ کو رحمه اللہ کہے، تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے حساب نہیں کرینگے.

□ قال سعيد بن المسيب رحمه الله: من أحبَّ أبابكرٍ وعمرَ، وعثمانَ وعليًّا، وشهدَ للعشرة بالجنة، وترحَّم على معاويةَ كان حقًّا على الله ألا يناقشه الحساب.
 ٧. کسی نے ابن مبارک سے حضرت معاویہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ جس شخص نے آپ علیہ السلام کے ساتھ رکوع سے اٹھتے وقت ربنا لك الحمد پڑھا ہو اس کے بارے میں کیا رائے دے سکتا ہوں.
□ سُئل ابن المبارك عن معاوية، رضي الله تعالى عنه فقال: ما أقول في رجل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سمع الله لمن حمده؛ فقال خلفه: ربنا ولك الحمد.

 ٨. کسی نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا کہ معاویہ افضل ہیں یا عمر بن عبدالعزیز؟ تو فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ جو مٹی معاویہ کے ناک میں گئی وہ بھی عمر بن عبدالعزیز سے بہتر ہے.

□ أيهما أفضل؟ هو أو عمر بن عبدالعزيز؟ فقال: لترابٌ في منخري معاوية مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خيرٌ وأفضلُ من عمرَ بنِ عبدالعزيز.

 ٩. معافی بن عمران سے کسی نے پوچھا کہ معاویہ افضل ہیں یا عمر بن عبدالعزیز؟ تو فرمایا کہ تم ایک تابعی کو صحابی کے مقابلے میں لانا چاہتے ہو، جبکہ حضرت معاویہ اللہ کے نبی کے ساتھی، ان کے سسرالی رشتہ دار، ان کے کاتب اور وحی کے امین ہیں.

□ سئل المعافى بنُ عمران أيهما أفضل؛ معاوية أو عمر بن عبدالعزيز؟ فغضب وقال للسائل: أتجعل رجلا من الصحابة مثل رجل من التابعين؟ معاوية صاحبه وصهره، وكاتبه وأمينه على وحي الله.

 ١٠. أبوتوبہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ صحابہ کا پردہ ہیں، جب پردہ ہٹادیا جاتا ہے تو پھر انسان کو بقیہ پر جرأت ہوجاتی ہے.

□ وقال أبوتوبة الربيع بن نافع الحلبي: معاوية سترٌ لأصحابِ محمد صلى الله عليه وسلم، فإذا كَشَفَ الرجلُ السترَ اجترأ على ما وراءه.

 ١١. کسی نے حسن بصری سے پوچھا کہ ابوبکر اور عمر کی محبت سنت ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ ان کی محبت فرض ہے.

□ فقد سئل الحسن البصري رحمه الله تعالى: حب أبي بكر وعمر رضي الله عنهما سنة؟ قال: لا، فريضة.

 ١٢. امام بربہاری کہتے ہیں کہ جو اصحاب رسول کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے، درحقیقت وہ اللہ کے رسول کے بارے میں زبان درازی کررہا ہے، اور اللہ کے رسول کو قبر میں تکلیف پہنچاتا ہے.

□ وقال الإمام البربهاري: واعلم أن من تناول أحداً من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعلم أنه إنما أراد محمداً، وقد آذاه في قبره!!

 ١٣. علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ ہم اہلسنت والجماعت روافض اور شیعوں کے اس طریقے سے براءت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ شیعہ صحابہ سے بغض رکھتے ہیں اور ان کو گالی دیتے ہیں، اور ہم نواصب کے طریقے سے بھی براءت کا اعلان کرتے ہیں جو اہل بیت کو اپنے قول یا عمل سے ایذاء پہنچاتے ہیں.

□ قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله تعالى: ويتبرؤون من طريقة الروافض والشيعة الذين يبغضون الصحابة ويسبونهم، وطريقة النواصب والخوارج الذين يؤذون أهل البيت بقول أو عمل.

 ١٤. امام قاضی عیاض رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اماموں کو انبیاء سے زیادہ افضل قرار دینے والے غالی رافضیوں(شیعوں) کے قول کو قطعی طور پر کفر قرار دیتے ہیں.

□ نقطع بتكفير غلاة الرافضة في قولهم: إن الأئمة أفضل من الأنبياء.

 ١٥. ایک اور جگہ پر فرمایا: اسی طرح ہم اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں جس نے قرآن کا انکار کیا یا اس کے ایک حرف کا انکار کیا یا اس میں موجود کسی لفظ کو تبدیل کر ڈالا یا اس میں اضافہ کیا جیسا کہ باطنیہ اور اسماعیلیہ (شیعوں) نے کیا۔ (کتاب الشفا، ج:2، ص:1078)

□ وكذلك نُكَفّر مَن أنكر القرآن أو حرفاً منه أو غيّر شيئاً منه أو زاد فيه كفعل الباطنية والإسماعيلية.

 ١٦. امام سرخسی فرماتے ہیں کہ جو شخص صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کرتا ہے وہ ملحد اور اسلام سے نکلنے والا ہے، اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کا علاج تلوار ہے.

□ قال السرخسي رحمه الله تعالى في أصوله: “فمن طعن فيهم (أي: في أصحاب النبي عليه الصلاة والسلام) فهو ملحد منابذ للإسلام، دواه السيف إن لم يتب”.
 ١٧. جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا فتویٰ:

یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دینا، برا کہنا یا ان پر تبرّا کرنا حرام اور باعثِ فسق و گمراہی ہے، نیز اس سے ایمان ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ (فتاوی شامی، 4236، ط: ایچ ایم سعید کراچی) (واللہ اعلم)

(فتوی نمبر:143406200001

دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ محمد یوسف، بنوری ٹاؤن)

خلاصہ کلام

صحابہ کرام رضوان اللہ علیهم اجمعین نہ صرف اہلسنت والجماعت کے رہبر و رہنما ہیں، بلکہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا بنیادی حصہ ہیں، ان کی تنقیص ہمارے عقیدے کی تنقیص ہے، اسی لئے ہر زمانے میں یہی کہا گیا کہ صحابہ پر تبرا حرام ہے اور ایسا کرنے والا شخص گمراہ ہے، لیکن ہر حکم کو اپنا درجہ دینا چاہیئے اور کسی کی تردید میں حد سے تجاوز کرنا یا کمزور اور من گھڑت روایات بیان کرنا ہرگز درست نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٦ستمبر ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں