تنبیہ نمبر 305

 بابا رتن ہندی

سوال
 مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:
 سات سو سال تک زندہ رہنے والے ہندوستانی صحابی رسولﷺ:
رسول اللہﷺ کے ایک صحابی بھارت کے ایک شہر بھٹنڈہ میں آسودۂ خاک ہیں، ان کی وہاں موجودگی سے آج بھی لوگ فیض حاصل کر رہے ہیں…
بھارتی شہر بھٹنڈہ سے تعلق رکھنے والے بابا رتن ہندی کا نام رتن ناتھ ابن نصر ہے اور روایت کے مطابق وہ ایک تاجر تھے جو کہ عرب ممالک میں اپنے مال کی فروخت کے لئے جایا کرتے تھے..
بابا رتن ہندی کا تذکرہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی تصنیف ’الصحابہ، جلد اول‘ میں کیا ہے۔ علاؤالدین سمنانی نے اپنی کتاب فصل الخطاب میں ان کا ذکر کیا ہے، جبکہ شاہ ولی اللہ نے بھی ان کا تذکرہ کیا ہے، معروف مصنف اشفاق احمد نے بھی اپنی مشہور زمانہ تصنیف زاویہ میں ان سے منسوب ایک کرامت کا تذکرہ کیا ہے…
روایت ہے کہ رتن ہندی اپنی جوانی میں عرب کا سفر کر رہے تھے کہ ایک خوبصورت کمسن چرواہے کو جس کی عمر سات سال کے لگ بھگ تھی، انہوں نے مشکل میں دیکھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی تو اس حسین نقوش کے حامل بچے نے حیرت انگیز طور پر انہیں سات بار دعا دی کہ ’اللہ تمہیں طویل عمر عطا کرے‘..
رتن اس کے بعد واپس ہند لوٹ آئے اور اپنے کاروبارِ حیات میں مشغول ہوگئے، لگ بھگ 50 سال بعد ہند والوں نے شق القمر کا واقعہ دیکھا تو اس کا خوب تذکرہ ہوا، عرب سے آنے والے قافلے والوں نے بتایا کہ یہ کام وہاں قیام پذیر ایک ’اوتار‘ الہیٰ نمائندے نے کیا ہے..
یہ سن کر بابا رتن ہندی کے دل میں خواہش ہوئی کہ وہ اس اوتار کی زیارت کریں، سو ایک بار پھر سامانِ تجارت لیا اور عرب کے سفر پر روانہ ہوئے، مکہ پاک پہنچے تو پتہ چلا کہ چاند کے دو ٹکرے کرنے والی شخصیت یہاں سے جا چکی ہے اور اب مدینہ پاک میں قیام پذیر ہے..
اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے رتن ہندی مدینے پاک چلے آئے اور سیدھے مسجدِ نبویﷺ پہنچے تو دیکھا کہ آنحضرتﷺ اصحاب کے جھرمٹ میں بیٹھے انہیں تعلیم فرما رہے ہیں۔ رتن کی آمد پر وہ ان کی جانب متوجہ ہوئے اور آمد کا مقصد دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ معجزہ دیکھنا چاہتا ہوں.
ہند سے مدینہ پاک آنے والے اس تاجر کی بات پر اللہ کے رسولﷺ شفقت سے مسکرائے اور فرمایا کہ اے رتن ہندی! کیا  وہ معجزہ کافی نہیں تھا جب آپ نے مجھے اپنے کندھوں پر بٹھایا اور ندی پار کرائی، میں نے طویل عمر کی دعا دی تھی، وہ مجھ پر ایمان لانے کے لئے کافی نہیں ہے…
یہ سننا تھا کہ رتن ناتھ نے کلمہ حق بلند کیا اور حضرت رتن رضی اللہ تعالی عنہ قرار پائے…
مشہور ہے کہ رسول اللهﷺ کی بچپن میں دی دعا کی برکت سے وہ سات سو سال تک زندہ رہے اور برصغیر میں دین کی تبلیغ کرتے رہے۔ شیخ رضی الدین علی ابن سعید لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے 624 ہجری میں ہند کا دورہ کیا تو حضرت رتن ہندی حیات تھے، اور انہوں نے شیخ کو خود رسولﷺ کی مجلس کا آنکھوں دیکھا حال سنایا تھا.
کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بچپن میں رتن ہندی کو سات مرتبہ یہ دعا دی تھی کہ تمہاری عمر دراز ہو، اس کا نتیجہ تھا کہ رتن ہندی 700 سال تک زندہ رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت یہ دعا دی تھی اس وقت رتن ہندی جوان تھے.
آج ان کا مزار انڈیا کے ایک گاؤں بٹھنڈہ میں موجود ہے، انہوں نے بہت طویل عمر پائی سات سو سال، نبی کریم ﷺ کی بچپن میں دی ہوئی دعا کی بدولت.
    کیا یہ پورا واقعہ درست ہے؟

الجواب باسمه تعالی

اس واقعے کو نقل کرنے والے نے “الإصابة فی معرفة الصحابة” کا حوالہ دیا ہے، لیکن علامہ ابن حجر کا کلام مکمل نقل نہیں کیا.

 □ الإصابة في معرفة الصحابة کی مکمل عبارت:

ان کا نام رتن بن عبداللہ الہندی، البترندی بن ساہوک بن جکندریو ہے، بعض نے ان کا نام نصر بن کرنال نقل کیا ہے.

□ وقال في الإصابة: رتن بن عبدالله الهندي ثم البترندي، ويقال: المرندي، ويقال: رطن بن ساهوك بن جكندريو، ويقال: رتن بن نصر بن كربال.

 ان کی خبر بہت عرصے تک چھپی رہی، یہانتک کہ ساتویں صدی کی ابتداء میں یہ ظاہر ہوئے اور انہوں نے صحابی ہونے کا دعویٰ کیا، ان کے بیٹے اور دیگر لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں.

□ شيخ خفي خبره بزعمه دهرا طويلا إلى أن ظهر على رأس القرن السادس فادعى الصحبة فروى عنه ولداه محمود وعبدالله وموسى بن مجلي بن بندار الدنيسيري والحسن بن محمد الحسيني الخراساني.
 ○ ابن حجر لکھتے ہیں:

میں نے متقدمین کی کسی کتاب میں اس شخص کا تذکرہ صحابہ یا غیرصحابہ میں نہیں پڑھا، البتہ امام ذہبی نے اس کا تذکرہ کر کے فرمایا کہ یہ جاہلوں کا گڑھا ہوا نام ہے، اور میں نے بھی اس کو بطور تعجب ذکر کیا ہے

□ ولم أجد له في المتقدمين في كتب الصحابة ولا غيرهم ذكرا
لكن ذكره الذهبي في تجريده فقال: رتن الهندي شيخ ظهر بعد ستمائة بالشرق وادعى الصحبة فسمع منه الجهال ولا وجود له بل اختلق اسمه بعض الكذابين وإنما ذكرته تعجبا كما ذكره أبوموسى سربانك الهندي.
 ● رتن ہندی کے متعلق علامہ ذہبی کی تحقیق:

امام ذہبی نے اپنی کتابوں میں رتن ہندی کا تذکرہ کیا.

 ○ میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں:

رتن ہندی، یہ جھوٹا دجال ہے، چھ سو سال کے بعد صحابی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اللہ اور اس کے رسول پر جرأت کرتا ہے، یہ خود بھی جھوٹا تھا، اور اس کی طرف کافی جھوٹ کو منسوب کیا گیا.

رتن الهندي:  وما أدراك ما رتن! شيخ دجال بلا ريب، ظهر بعد الستمائة فادعى الصحبة، وهذا جريء على الله ورسوله، ومع كونه كذابا فقد كذبوا عليه جملة كبيرة من أسمج الكذب والمحال. (ميزال الاعتدال:45/2).
 ○ تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں:

رتن ہندی کے بارے میں دعویٰ ہے کہ یہ صحابی رسول تھے، اور راوی نے ان کے بیٹے سے روایات سنیں، اس عجوبے کی تصدیق کون کر سکتا ہے، میں (امام ذہبی) وہ پہلا شخص ہوں جس نے اس کا انکار کیا، ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی جنات میں سے ہو جو ہندوستان میں ظاہر ہوا، اور صحابی ہونے کا دعویٰ کیا، اور لوگوں نے اس کی تصدیق کی، حالانکہ یہ شخص بہت بڑا جھوٹا ہے جس نے بہت بڑا جھوٹ بولا، مجھے اللہ کی قسم یہ بہت بڑا جھوٹا ہے

□ رَتَن الهنديُّ. (المتوفى: 632هـ).
الّذِي زَعَموا أنّه صحابيٌ. وذكر النجيبُ: أنه سمع من الشيخ محمود ولد بابا رتن.
قلتُ: من صدقَ بهذه الأعجوبَة وآمَنَ ببقاءِ رتن، فليعْلَمْ أنَّني أوَّل مَنْ كذَّب بذلك، وما أبعدُ أن يكن جنيٌ تبدى بأرضِ الهند، وأدعى ما ادعى، فصدقوه؛ لأنَّ هذا شيخٌ مفترٍ كذابٌ كَذَبَ كَذْبةً ضخمةً لكي تنصَلِح خابيةُ الضياع وأتي بفضيحةٍ كبيرةٍ، فوالذي يُحْلَفُ بِهِ إنَّ رتن لكذابٌ. (تاريخ الإسلام:69/14).
 ○ سیر أعلام النبلاء میں لکھتے ہیں:

رتن ہندی نوے سال کا شخص، جس نے انتہائی جرأت کرکے دعوی کیا کہ وہ صحابی ہے، اور یہ کہ اس کی عمر ساڑھے چھ سو سال ہے، ناواقف لوگوں میں اس کی شہرت ہوگئی، میں نے اس کے بارے میں ایک رسالہ لکھا، اور اس کے باطل کو ظاہر کیا

رَتَنُ الهِنْدِيُّ  شَيْخٌ كَبِيْرٌ، مِنْ أَبْنَاءِ التِّسْعِيْنَ. تَجَرَّأَ عَلَى اللهِ، وَزَعَمَ بِقِلَّةِ حَيَاءِ أَنَّهُ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَأَنَّهُ ابْن سِتِّ مائَةِ سَنَةٍ وَخَمْسِيْنَ سَنَةً، فَرَاجَ أَمرُهُ عَلَى مَنْ لاَ يَدْرِي، وَقَدْ أَفردتُه فِي (جُزءٍ)، وَهَتَكتُ بَاطِلَه.
بَلَغَنِي أَنَّهُ تُوُفِّيَ فِي حُدُوْدِ سَنَةِ اثْنَتَيْنِ وَثَلاَثِيْنَ وَسِتِّ مائَةٍ، وَأَنَّ ابْنَه مَحْمُوْداً بَقِيَ إِلَى سَنَةِ تِسْعٍ وَسَبْعِ مائَةٍ، فَمَا أَكْثَر الكَذِبَ وَأَروجَهَ. (السير: 367/22).
 ○ رتن ہندی کا قصہ کس نے بنایا:

امام ذہبی کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے رتن ہندی کا قصہ موسی بن مجلی نے گھڑا ہے، یا کسی اور نے، لیکن یہ ایسی بات ہے جس کا کوئی وجود نہیں، یا تو یہ کوئی شیطان ہے جس نے انسانی صورت میں آکر صحابی ہونے کا دعویٰ کیا، یا کوئی بوڑھا گمراہ شخص، جس نے جھوٹ بول کر جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا

قال الذّهبي: وأظن أنّ هذه الخرافات من وضع هذا الجاهل موسى بن مجلى أو وضعها له من اختلق ذكر رتن، وهو شيء لم يخلق، ولئن صححنا وجوده وظهوره بعد سنة ستمائة فهو إما شيطان تبدّى في صورة بشر فادّعى الصّحبة وطول العمر المفرط، وافترى هذه الطامّات، وإما شيخ ضالّ أسس لنفسه بيتا في جهنم بكذبه على النبي صلّى الله عليه وآله وسلم
 ○ امام ذہبی لکھتے ہیں:

کیا عجیب بات ہے کہ چھ سو سال تک کوئی شخص اس کے بارے میں نہیں جانتا، کسی ایک شخص کی خبر پر اتنا بڑا دعوی قبول نہیں کیا جاسکتا، اور رتن ہندی کے صحابی ہونے کے دعوے کو وہی شخص تسلیم کرےگا جو محمد بن حسن (شیعوں کے غار والے مہدی) کے غار میں وجود کو تسلیم کرےگا

ثم قال الذّهبيّ: ثم مع هذا تتطاول عليه الأعمار، ويكرّ عليه الليل والنهار إلى عام ستمائة ولا ينطق بوجوده تاريخ ولا جوّال ولا سفار، فمثل هذا لا يكفي في قبول دعواه خبر واحد، ثم قال: ولعمري ما يصدّق بصحبة رتن إلا من يؤمن بوجود محمّد بن الحسن في السرداب ثم بخروجه إلى الدنيا

 ○ امام ذہبی لکھتے ہیں:  آخری انتقال ہونے والے صحابی عامر بن واثلہ ہیں، آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ سو سال بعد آج کا کوئی شخص زندہ نہ رہےگا.

وقد اتّفق أهل الحديث على أن آخر من رأى النبي صلّى الله عليه وآله وسلم موتا أبو الطفيل عامر بن واثلة. وثبت في الصّحيح أن النبي صلّى الله عليه وآله وسلم قال قبل موته بشهر أو نحوه: «أرأيتكم ليلتكم هذه، فإنّه على رأس مائة سنة منها لا يبقى على وجه الأرض ممّن اليوم عليها أحد». انتهى ما ذكره الذهبي في خبر كسر وثن رتن ملخصا. (الإصابة: 523/2-529)
خلاصہ کلام

رتن ہندی یا اس نام کا کوئی شخص صحابی نہیں ہے، جس قدر اخبار اور روایات اس شخص کے متعلق منقول ہیں وہ سب جھوٹ اور من گھڑت ہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٦ستمبر ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں